Ibn Abbas رضی اللہ عنہ reported:
The name of Juwairiya رضی اللہ عنہا (the wife of the Holy Prophet ﷺ) was Barra (Pious). Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) changed her name to Juwairiya and said: I did not like that it should be said: He had come out from Barra (Pious). The hadith transmitted on the authority of Ibn Abi 'Umar is slightly different from it.
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی ۔ الفاظ عمرو کے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں سفیان نے آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن عبدالرحمان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کریب سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
( پہلے ام المومنین حضرت ) جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام " برہ " تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا ۔ آپ کو پسند نہ تھا ۔ کہ اس طرح کہا جائے کہ آپ برہ ( نیکیوں و الی ) کے ہاں سے نکل گئے ۔ ابن ابی عمر کی حدیث میں ہے : کریب سے روایت ہے ، کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The name of Zainab was Barra. It was said of her: She presents herself to be innocent. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave her the name of Zainab.
ابو بکر بن ابی شیبہ ، محمد بن مثنیٰ اورمحمد بن بشار نے کہا , ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، محمد بن جعفر اورعبیداللہ کے والد معاذ نے شعبہ سے ، انھوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے ، انھوں نے ابو رافع سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
حضرت زینب ( بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کا نام برہ تھا تو کہا گیا کہ وہ ( نام بتاتے وقت خود ) اپنی پارسائی بیان کرتی ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھ دیا ۔ حدیث کے الفاظ ابن بشار کے علاوہ باقی سب کے ( بیان کردہ ) ہیں ۔ ابن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے شعبہ سے حدیث بیان کی ۔
Zainab, daughter of Umm Salama رضی اللہ عنہا reported:
My name first was Barra. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave me the name of Zainab رضی اللہ عنہا. Then there entered (into the house of Allah's Prophet as a wife) Zainab, daughter of Jahsh, and her name was also Barra, and he gave her the name of Zainab.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ولید بن کثیر نے کہا : مجھے محمد بن عمرو بن عطاء نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا ، کہا
میرا نام برہ تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام زینب رکھ دیا ۔ انھوں نے کہا : جب زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا آپ کے حبالہ عقد میں داخل ہوئیں تو ان کا نام بھی برہ تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بھی زینب رکھا ۔
Muhammad bin 'Amr bin 'Ata' reported:
I had given the name Barra to my daughter. Zainab, daughter of Abu Salama رضی اللہ عنہا told me that Allah's' Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had forbidden me to give this name. (She said): I was also called Barra, but Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Don't hold yourself to be pious. It is God alone who knows the people of piety among you. They (the Companions) said: Then, what name should we give to her? He said: Name her as Zainab.
ہم سے عمرو الناقد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہاشم بن القاسم نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا, یزید بن ابی حبیب نے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی ، کہا
میں نے اپنی بیٹی کانام برہ رکھا تو حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔ اور ( بتایا کہ ) میرا نام بھی پہلے برہ رکھا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم لوگ اپنی پارسائی بیان کرو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیکو کار کون ہے ۔ "" ( گھرکے ) لوگوں نے کہا : پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کا نام زینب رکھ دو ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The vilest name in Allah's sight is Malik al-Amidh (King of Kings). The narration transmitted on the authority of Shaiba (contains these words): There is no king but Allah, the Exalted and Glorious. Sufyan said: Similarly, the word Shahinshah (is also the vilest appellation). Ahmad bin Hanbal said: I asked Abu 'Amr about the meaning of Akhna. He said: The vilest.
سعید بن عمرو اشعشی ، احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اورابو بکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ امام احمد کے ہیں ، اشعشی نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے خبر دی جبکہ دیگر نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ابوزناد سے ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا؛ "" اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے قابل تحقیر نام اس شخص کا ہے جو شہنشاہ کہلائے ۔ "" اور ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا : "" اللہ عزوجل کے سوا کوئی ( بادشاہت کا ) مالک نہیں ہے ۔ "" اشعشی کا قول ہے : سفیان نے کہا : جیسے شاہان شاہ ( شہنشاہ ) ہے ۔ اور احمد بن حنبل نے کہا : میں نے ابو عمرو ( اسحاق بن مرار شیبانی ، نحوی ، کوفی ) سے "" اخنع "" کے بارے میں پوچھا توانھوں نے کہا : ( اس کے معنی ہیں ) اوضع ( انتہائی حقیر ).
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) so many a hadith and one of them was this:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The most wretched person in the sight of Allah on the Day of Resurrection and the worst person and target of His wrath would of the person who is called Malik al-Amlak (the King of Kings) for there is no king but Allah.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, ہمیں معمر ہمام بن منبہ سے خبر دی ، کہا : یہ احادیث ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں ، پھر انھوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ حدیث ( بھی ) ہے اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کےدن سب سےزیادہ گندا اورغضب کامستحق شخص وہ ہوگا جوشہنشاہ کہلاتا ہوگا ، اللہ کے سوا کوئی اور بادشاہ نہیں ہے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
I took 'Abdullah bin Abi Talha Ansari to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) at the time of his birth. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was at that time wearing a woollen cloak and besmearing the camels with tar. He said: Have you got with you the dates? I said: Yes. He took hold of the dates and put them in his mouth and softened them, then opened the mouth of the infant and put that in it and the child began to lick it. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The Ansar have a liking for the dates, and he (the Holy Prophet) gave him the name of 'Abdullah.
ہم سے عبد الاعلی بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا, ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
جب عبداللہ بن ابی طلہ پیدا ہوئے تو میں انھیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دھاری دارعبا ( چادر ) زیب تن فرمائے اپنے ایک اونٹ کو ( خارش سے نجات دلانے کے لئے ) گندھک ( یاکول تار ) لگارہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کچھ کھجور ساتھ ہے؟میں نے عرض کی : جی ہاں ، پھر میں نے آپ کو کچھ کھجوریں پیش کیں ، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا ، انھیں چبایا ، پھر بچے کامنہ کھول کر ان کو اپنے دہن مبارک سے براہ راست اس کے منہ میں ڈال دیا ۔ بچے نے زبان ہلاکر اس کاذائقہ لینا شروع کردیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ انصار کی کھجوروں سے محبت ہے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھا ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The son of Abu Talha رضی اللہ عنہ had been ailing. Abu Talha رضی اللہ عنہ set out (on a journey) and his son breathed his last (in his absence). When Abu Talha رضی اللہ عنہ came back, he said (to his wife): What about my child? Umm Sulaim (the wife of Abu Talha رضی اللہ عنہ) said: He is now in a more comfortable state than before. She served him the evening meal and he took it. He then came to her (and had sexual intercourse with her) and when it was all over she said: Make arrangements for the burial of the child. When it was morning. Abu Talha رضی اللہ عنہ came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and informed him, whereupon he said: Did you spend the night with her. He said: Yes. He (the Holy Prophet) then said: O Allah, bless both of them (and as a result of blessing) she gave birth to a child. Abu Talha رضی اللہ عنہ said to me (Anas b. Malik) to take the child, (so I took him) and came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). She (Umm Sulaim) also had sent some dates (along with the child). Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) took him (the child) (in his lap) and said: Is there anything with you (for Tahnik). They (the Companions) said: Yes. Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) took hold of them (dates and chewed them). He then put them (the chewed dates) in the mouth of the child and then rubbed his palate and gave him the name of 'Abdullah.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, یزید بن ہارون نے کہا , ہمیں ابن عون نے ابن سیرین سے خبر دی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا؛ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا بیمار تھا ، وہ باہر گئے ہوئے تھے کہ وہ لڑکا فوت ہو گیا ۔ جب وہ لوٹ کر آئے تو انہوں نے پوچھا کہ میرا بچہ کیسا ہے؟ ( ان کی بیوی ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اب پہلے کی نسبت اس کو آرام ہے ( یہ موت کی طرف اشارہ ہے اور کچھ جھوٹ بھی نہیں ) ۔ پھر ام سلیم شام کا کھانا ان کے پاس لائیں تو انہوں نے کھایا ۔ اس کے بعد ام سلیم سے صحبت کی ۔ جب فارغ ہوئے تو ام سلیم نے کہا کہ جاؤ بچہ کو دفن کر دو ۔ پھر صبح کو ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب حال بیان کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے رات کو اپنی بیوی سے صحبت کی تھی؟ ابوطلحہ نے کہا جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ان دونوں کو برکت دے ۔ پھر ام سلیم کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو ابوطلحہ نے مجھ سے کہا کہ اس بچہ کو اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جا اور ام سلیم نے بچے کے ساتھ تھوڑی کھجوریں بھی بھیجیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو لے لیا اور پوچھا کہ اس کے ساتھ کچھ ہے؟ لوگوں نے کہا کہ کھجوریں ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کو لے کر چبایا ، پھر اپنے منہ سے نکال کر بچے کے منہ میں ڈال کر اسے گٹھی دی اور اس کا نام عبداللہ رکھا ۔
This hadith has been reported on the authority of Anas رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا, حماد بن مسعدہ نے کہا : ہمیں ابن عون نے محمد ( ابن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی قصے کے ساتھ یزید کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
A child was born in my house and I brought him to Allah's Apostle (ﷺ) and he gave him the name of Ibrahim and he rubbed his palate with dates.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن براد اشعری اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو اسامہ نے ابو کی سند سے بیان کیا, پردہ , حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ، میں اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور اس کو ایک کھجور ( کے دانے ) سے گھٹی دی ۔
Urwa bin Zubair and Fatima daughter of Mandhir bin Zubair, reported:
Asma' رضی اللہ عنہا daughter of Abu Bakr was at the time of migration in the family way with 'Abdullah bin Zubair (in her womb). She came to Quba' and gave birth to 'Abdullah at that place and then sent him to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) so that he should rub his palate with chewed dates. Allah's Messenger (may peace he upon him) took hold of him (the child) and he placed him in his lap and then called for dates. 'A'isha رضی اللہ عنہا said: Some time was spent before we were able to find them. He (the Holy Prophet ﷺ) chewed them and then put his saliva in his mouth. The first thing that entered his stomach, was the saliva of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Asma' رضی اللہ عنہا said: He then rubbed him and blessed him and gave him the name of Abdullah. He ('Abdullah) went to him (the Holy Prophet ﷺ) when he had attained the age of seven or eight years in order to pledge allegiance to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as Zubair رضی اللہ عنہ had commanded him to do. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) smiled when he saw him coming towards him and then accepted his allegiance.
ہم سے الحکم بن موسیٰ ابوصالح نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن اسحاق نے بیان کیا، مجھ سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، مجھ سے عروہ بن الزبیر نے بیان کیا۔ اور فاطمہ بنت المنذر بن الزبیر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ( مکہ سے ) ہجرت کی نیت سے جس وقت نکلیں ، ان کے پیٹ میں عبداللہ بن زبیر تھے ( یعنی حاملہ تھیں ) جب وہ قباء میں آ کر اتریں تو وہاں سیدنا عبداللہ بن زبیر پیدا ہوئے ۔ پھر ولادت کے بعد انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو گھٹی لگائیں ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے لے لیا اور اپنی گود میں بٹھایا ، پھر ایک کھجور منگوائی ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم ایک گھڑی تک کھجور ڈھونڈتے رہے ، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو چبایا ، پھر ( اس کا جوس ) ان کے منہ میں ڈال دیا ۔ یہی پہلی چیز جو عبداللہ کے پیٹ میں پہنچی ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک تھا ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لئے دعا کی اور ان کا نام عبداللہ رکھا ۔ پھر جب وہ سات یا آٹھ برس کے ہوئے تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے اشارے پر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے لئے آئے ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آتے دیکھا تو تبسم فرمایا ۔ پھر ان سے ( برکت کے لئے ) بیعت کی ( کیونکہ وہ کمسن تھے ) ۔
Asma' رضی اللہ عنہا reported:
She had become pregnant at Mecca with Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہ (in her womt) and she (further) said: I set out (for migration to Medina) as I was in the advanced stage of pregnancy. I came to Medina and got down at the place known as Quba' and gave birth to a child there. Then I came to Allah's Messenger (may peace he upon him). He placed him (the child) in his lap and then commanded for the dates to be brought. He chewed them and then put the saliva in his mouth. The first thing which went into his stomach was the saliva of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He then rubbed his palate with dates and then invoked blessings for him and blessed him. He was the first child who was born in Islam (after Migration).
ہم سے ابو کریب محمد بن الاعلٰی نے بیان کیا, ابو اسامہ نے ہشام سے ، انھوں نے ا پنے والد سے ، انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
وہ مکہ میں حاملہ ہوئیں ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پیٹ میں تھے ، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہاکہ جب میں ( مکہ سے ) نکلی تو میں پورے دنوں سے تھی ، پھر میں مدینہ آئی اورقباء میں ٹھہری اور قباء میں نے اسے ( عبداللہ ) کو جنم دیا ، پھر میں ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے اسے اپنی گود میں لے لیا ، پھر آپ نے کھجور منگوائی ، اسے چبایا ۔ پھر اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈال دیا ، پہلی چیز جو اس کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کالعاب دہن تھا ، پھر آپ نے ( چبائی ہوئی ) کھجور کی گھٹی اس کے تالو کولگائی ، پھر میں کے لئے دعا کی ، برکت مانگی ، ( ہجرت مدینہ کے بعد ) یہ پہلا بچہ تھا جو اسلام میں پیدا ہوا ۔
Asma' daughter of Abu Bakr رضی اللہ عنہا reported:
When she migrated to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in Medina she was in the family way with Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہ in her womb. A hadith like that of Abu Usamah (no. 5417).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا, علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
انھوں نے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی ، اس وقت وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سےحاملہ تھیں ، پھر ابو اسامہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
A'isha reported:
The new-born infants were brought to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He blessed them and rubbed their palates with dates.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا، یعنی ابن عروہ نے اپنے والد سے, حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچے لائے جاتے ، آپ ان کے لئے برکت کی دعا کرتے اور انھیں گھٹی دیتے ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
We took 'Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہ to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) so that he should put saliva in his mouth and we had to make a good deal of effort in order to procure them.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، انہوں نے ہشام کی سند سے، اپنے والد سے,حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہے ، کہا
ہم گھٹی دلوانے کے لئے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے ، ہم نے کھجور حاصل کرنی چاہی تو ہمارے لیے اس کا حصول دشوار ہوگیا ۔
Sahl bin Sa'd رضی اللہ عنہ reported:
Mundhir bin Aba Usaid رضی اللہ عنہ was brought to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) at the time of his birth Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) placed him on his thigh and Abu Usaid kept sitting there. Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had been occupied with something else before him. Abu Usaid رضی اللہ عنہ commanded his child to be lifted from the lap of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and so he was lifted. When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had finished the work he said: Where is the child? Abd Usaid said: Allah's Messenger, we took him away. He said: What is his name? He said; Allah's Messenger, it is so and so, whereupon he (the Holy Prophet ﷺ) said: Nay, his name is Mundhir, and named him Mundhir on that day.
مجھ سے محمد بن سہل تمیمی اور ابوبکر بن اسحاق نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، محمد نے جو ابن مطرف ابو ہیں۔ مجھ سے غسان ابوحازم نے بیان کیا, حضرت سہل بن سعد ( بن مالک رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے ، کہا : کہ
ابواسید رضی اللہ عنہ کا بیٹا منذر ، جب پیدا ہوا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی ران پر رکھا اور ( اس کے والد ) ابواسید ۔ بیٹھے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز میں اپنے سامنے متوجہ ہوئے تو ابواسید نے حکم دیا تو وہ بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ران پر سے اٹھا لیا گیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا تو فرمایا کہ بچہ کہاں ہے؟ سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم نے اس کو اٹھا لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا نام کیا ہے؟ ابواسید نے کہا کہ فلاں نام ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ، اس کا نام منذر ہے ۔ پھر اس دن سے انہوں نے اس کا نام منذر ہی رکھ دیا ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had the sublimest character among mankind. I had a brother who was called Abu 'Umair. I think he was weaned. When Allah's Messenger (may peace he upon him) came to our house he saw him, and said: Abu 'Umair, what has the sparrow done? He (Anas) said that he had been playing with that.
ہم سے ابو الربیع سلیمان بن داؤد العتکی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا, ابوتیاح نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں سے بڑھ کر خوش ا خلاق تھے ، میرا ایک بھائی تھا جسے ابو عمیر کہا جاتا تھا ۔ ( ابوالتیاح نے ) کہا : میرا خیال ہے ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا تھا : اس کا دودھ چھڑایا جاچکا تھا ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور اسے دیکھتے تو فرماتے : ابو عمیر!نغیر نے کیا کیا " وہ بچہ اس ( پرندے ) سے کھیلا کرتا تھا ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) addressed me: O My Son.
ہم سے محمد بن عبید الغبری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، ابو عثمان کی سند سے, حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " اے میرے بیٹے! "
Mughira bin Shu'ba رضی اللہ عنہ reported:
None else had asked more questions from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about the Dajjal than I, but he simply said in a slight mood): O, my son, why are you worried because of him? He will not harm you. I said: The people think that he would have with him rivers of water and mountains of bread, whereupon he said: He would be more insignificant in the sight of Allah than all these things (belonging to him).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن ابی عمر نے بیان کیا اور یہ قول ابن ابی عمر سے ہے, یزید بن ہارون نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انھوں نے قیس بن ابی حازم سے ، انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے متعلق جتنے سوالات میں نے کیے اتنے کسی اور نے نہیں کیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا؛ " میرے بیٹے!تمھیں اس ( دجال ) سے کیا بات پریشان کررہی ہے؟تمھیں اس سے ہر گز کوئی نقصان نہ پہنچے گا ۔ " کہا : میں نے عرض کی : لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کے ساتھ پانی کی نہریں اور ر وٹی کے پہاڑ ہوں گے ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی نسبت زیادہ ذلیل ہے ۔ "
It was narrated from Ismail with this chain of narrators (a hadith similar to no. 5624), but it does not mention in the Hadith of any of them the words of the prophet ﷺ to Al-Mughirah رضی اللہ عنہ : "O my son," except the hadith of Yazid (no. 5624).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: وکیع ، ہشیم ، جریر اور ابو اسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ان میں سے تنہا یزید کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مغیرہ رضی اللہ عنہ کے لیے " اے میرے بیٹے " کے الفاظ ہیں اور کسی کی حدیث میں نہیں ہیں ۔