This hadith has been reported on the authority of `Ubaidullah with the same chain of transmitters.
ہم سے ابن المثنی اور عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: یحییٰ نے عبید اللہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
A hadith like this has been reported on the authority of Nafi` with the same chain of transmitters (and the words are):
I think Ibn `Umar رضی اللہ عنہ said: The seventieth part from Prophecy.
ہم سے قتیبہ اور ابن رومح نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ہم سے ابن رافع نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی فدائک نے بیان کیا، انہیں ضحاک نے خبر دی، یعنی ابن عثمان دونوں , نافع نے کہا : میں سمجھتا ہوں کہ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے " نبوت کےستر حصوں میں سے ایک حصہ کہا تھا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who saw me in a dream in fact saw me, for the satan does not appear in my form.
ہم سے ابو الربیع سلیمان بن داؤد العتکی نے بیان کیا، ان سے حماد نے بیان کیا، ان سے ابن زید نے بیان کیا، ہم سے ایوب اور ہشام نے بیان کیا، محمد ( بن سیرین ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو اس نے مجھی کو دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who saw me in a dream would soon see me in the state of wakefulness, or as if he saw me in a state of wakefulness, for the satan does not appear in my form.
مجھ سے ابو الطاہر اور حرملہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ئے سنا ، " جس شخص نے خواب میں مجھے دیکھا وہ عنقریب بیداری میں بھی مجھے دیکھ لے گا یا ( فرما یا : ) گو یا اس نے مجھ کو بیداری کے عالم میں دیکھا ، شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔ "
Abu Qatada رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who saw me in dream in fact saw the truth (what is true).
( ابن شہاب نے ) کہا : ابو سلمہ نے کہا : حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس نے مجھے دیکھا اس نے سچ مچ ( سچا خواب ) دیکھا ۔ "
The above two hadith have been narrated likewise through another chain of transmitters.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے میرےزہری کے بھتیجے نے کہا : مجھے میرے چچا نے حدیث بیان کی ، پھر دونوں احادیث اکٹھی ان کی دونوں سندوں سمیت بیان کیں ، بالکل یونس کی حدیث کی طرح ۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who saw me in sleep in fact saw me, for it is not possible for the satan to appear in my form; and he also said: When any one of you sees a hulm he should not inform anyone, for it is a sort of vain sport of devil in the state of sleep.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, لیث نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھی کو دیکھا ، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ بھی ) فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص برا خواب دیکھے تو وہ نیند کے عالم میں اپنے ساتھ شیطان کے کھیلنے کی کسی دوسرے کوخبر نہ دے ۔ "
Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who saw me in a dream in fact saw me, for the satan cannot assume my form.
اور مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، ہم سے ایک روح نے بیان کیا، زکریا بن اسحاق نے کہا : مجھے ابو زبیر نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے نیند میں مجھے دیکھا تو اس نے مجھی کو دیکھا کیونکہ شیطان کے بس میں نہیں کہ وہ میری مشابہت اختیار کرسکے ۔ "
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There came to him (the Holy Prophet) a desert Arab and said: I saw in a dream that I had been beheaded and I had been following it (the severed head). Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) reprimanded him saying: Do not inform about the vain sporting of devil with you during the night.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے حذیفہ نے، اور ہم سے ابن روم نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
اعرابی ( بدوی ) نے ، جو آپ کے پاس آیا تھا ، آپ سے عرض کی : میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سرکٹ گیا ہے اور میں اس کے پیچھے بھاگ رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اورفرمایا : " نیند کے عالم میں اپنے ساتھ شیطان کے کھیلنے کے بارے میں کسی کو مت بتاؤ ۔ "
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
There came to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) a desert Arab and said: Allah's Messenger, I saw in the state of sleep as if my head had been cut off and I had been moving on haltingly after it. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to that desert Arab: Do not narrate to the people the vain sporting of satan with you in your sleep and (the narrator) also said: I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in his subsequent address: None amongst you should narrate the vain sporting of devil with him in the dream.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا, جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سر کو تلوار کا نشان بنایا گیا ، وہ لڑکھتا ہواجارہا ہے اور میں اس کے پیچھے د وڑ رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی سے فرمایا : "" نیند کی حالت میں شیطان تمہارے ساتھ جو چھیڑ خوانی کرے وہ لوگوں کو نہ بتاؤ ۔ "" ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" خواب میں شیطان تمہارے ساتھ جو چھیڑ خوانی کرے تم میں سے کوئی اس کے بارے میں لوگوں کے ساتھ باتیں نہ کرے ۔ ""
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
A person came to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Allah's Messenger, I have seen in the state of sleep as if my head had been cut off. Thereupon Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) laughed and said: When the satan plays with any one of you in the state of sleep, do not mention it to the people; and in the hadith transmitted by Abu Bakr (the words are): If one of you is played with, and he did not make any mention of the word: Satan.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو سعید اشج نے کہا : ہمیں وکیع نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نےحضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں د یکھا کہ میر اسر کاٹ دیا گیا ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا؛ " جب خواب میں شیطان تم میں سے کسی کے ساتھ چھیڑ خوانی کرے تو وہ لوگوں کو نہ بتاتا پھرے ۔ " ابو بکر کی روایت میں ہے : " جب تم میں سے کسی کے ساتھ چھیڑ خوانی کی جائے ۔ " اور انھوں نے شیطان کا ذکر نہیں کیا ۔
It is reported either on the authority of Ibn `Abbas or on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
A person came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Allah's Messenger, I saw while I was sleeping during the night (this vision) that there was a canopy from which butter and honey were trickling and I also saw people collecting them in the palms of their hands, some more, some less, and I also saw a rope connecting the earth with the sky and I saw you catching hold of it and rising towards the heaven; then another person after you catching hold of it and rising towards (Heaven); then another person catching hold of it, but it was broken while it was rejoined for him and he also climbed up. Abu Bakr said: Allah's Messenger, may my father be sacrificed for you, by Allah, allow me to interpret it. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Well, give its interpretation. Thereupon Abu Bakr said: The canopy signifies the canopy of Islam and that what trickles out of it in the form of butter and honey is the Holy Qur'an and its sweetness and softness and what the people get hold of it in their palms implies major portion of the Qur'an or the small portion; and so far as the rope joining the sky with the earth is concerned, it is the Truth by which you stood (in the worldly life) and by which Allah would raise you (to Heaven). Then the person after you would take hold of it and he would also climb up with the help of it. Then another person would take hold of it and climb up with the help of it. Then another person would take hold of it and it would be broken; then it would be rejoined for him and he would climb up with the help of it. Allah's Messenger, may my father be taken as a ransom for you, tell me whether I have interpreted it correctly or I have made an error. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: You have interpreted a part of it correctly and you have erred in interpreting a part of it. Thereupon he said: Allah's Messenger, by Allah, tell me that part where I have committed an error. Thereupon he said: Don't take an oath.
ہم سے حاجب بن ولید نے بیان کیا, محمد بن حرب نے یونس زبیدی سے روایت کی ، انھوں نےکہا : مجھے زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے خبر دی کہ ابن عباس یا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور ابن وہب نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے یونس ( زبید ) نے ابن شہاب سے خبر دی کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے انھیں بغیر شک کےبتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ بادل کے ٹکڑے سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے ، لوگ اس کو اپنے لپوں سے لیتے ہیں کوئی زیادہ لیتا ہے اور کوئی کم ۔ اور میں نے دیکھا کہ آسمان سے زمین تک ایک رسی لٹکی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پکڑ کر اوپر چڑھ گئے ۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اس کو تھاما ، وہ بھی چڑھ گیا ۔ پھر ایک اور شخص نے تھاما وہ بھی چڑھ گیا ۔ پھر ایک اور شخص نے تھاما تو وہ ٹوٹ گئی ، پھر جڑ گئی اور وہ بھی اوپر چلا گیا ۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ آپ پر قربان ہو مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا بیان کر ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ بادل کا ٹکڑا تو اسلام ہے اور گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت اور نرمی مراد ہے اور لوگ جو زیادہ اور کم لیتے ہیں وہ بھی بعضوں کو بہت قرآن یاد ہے اور بعضوں کو کم اور وہ رسی جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہے وہ دین حق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ پھر اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی دین پر اپنے پاس بلا لے گا آپ کے بعد ایک اور شخص ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ) اس کو تھامے گا وہ بھی اسی طرح چڑھا جائے گا پھر اور ایک شخص تھامے گا اور اس کا بھی یہی حال ہو گا ۔ پھر ایک اور شخص تھامے گا تو کچھ خلل پڑے گا لیکن وہ خلل آخر مٹ جائے گا اور وہ بھی چڑھ جائے گا ۔ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھ سے بیان فرمائیے کہ میں نے ٹھیک تعبیر بیان کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے کچھ ٹھیک کہا کچھ غلط کہا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم یا رسول اللہ! آپ بیان کیجئے کہ میں نے کیا غلطی کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم مت کھا ۔
Ibn `Abbas رضی اللہ عنہ reported:
There came to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) a person as he was returning from Uhud and he said: Allah's Messenger, I saw in sleep during the night a canopy trickling butter and honey; the rest of the hadith is the same.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا, سفیان نے زہری سے ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
احد سے واپسی پر ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اورکہا : اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آج رات خواب میں بادل کے ایک ٹکڑے کو سایہ فگن دیکھا ہے جو شہد اور گھی ٹپکا رہا تھا ، یونس کی حدیث کے مفہوم کے مطابق ( حدیث بیان کی ۔ )
It is reported either on the authority of Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ or on that of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
A person came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Verily I saw during the night a canopy; the rest of the hadith is the same.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا, عبدالرزاق نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی انھوں نےعبیداللہ بن عبداللہ سے بن عتبہ سے ( آگے ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ یا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، عبدالرزاق نے کہا کہ معمر کبھی کہتے تھے : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اور کبھی کہتے تھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : میں نے آج رات ایک بادل کو سایہ فگن دیکھا ہے ۔ ان سب کی بیان کردہ حدیث کے مفہوم کے مطابق ۔
Ibn `Abbas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to say to his Companions: He who amongst you sees a vision should narrate it and I would interpret it for him, and a person came and said: Allah's Messenger, I saw a canopy. The rest of the hadith is the same.
ہم سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا, سلمان بن کثیر نے زہری سے ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے رویت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین سے یہ فرمایا کرتے تھے : " تم میں سے جس شخص نے خواب دیکھا ہے ، وہ بیان کرے ، میں اس کی تعبیر بتاؤں گا ۔ " کہا : تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے ایک بادل کو سایہ فگن دیکھا ۔ جس طرح ان سب ( بیان کرنے والوں ) کی حدیث ہے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: I saw during the night that which a person sees during the sleep as if we are in the house of `Uqba bin Rafi` that there was brought to us the fresh dates of Ibn Tab. I interpreted it as the sublimity for us in the world and good ending in the Hereafter and that our religion is good.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ثابت البنانی کی سند سے, سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے ایک رات کو نیند کی حالت میں دیکھنے والے کی طرح ( خواب ) دیکھا کہ جیسے ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں ، پس ہمارے آگے تر کھجوریں لائی گئیں ، جس کو ابن طاب کی کھجور کا نام دیا جاتا ہے ۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ ہمارا درجہ دنیا میں بلند ہو گا ، آخرت میں نیک انجام ہو گا اور یقیناً ہمارا دین بہتر اور عمدہ ہے ۔
Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: I saw in a dream that I was using miswak and two persons contended to get it from me, one being older than the other one. I gave the miswak to the younger one. It was said to me to give that to the older one and I gave it to the older one.
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا, صخر بن جویریہ نے ہمیں نافع سے حدیث سنائی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں بتایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے خواب میں خودکو دیکھا کہ میں ایک مسواک سے دانت صاف کررہا ہوں ، اس و قت دو آدمیوں نے ( مسواک حاصل کرنے کےلیے ) میری توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ۔ ان میں ایک دوسرے سے بڑا تھا ، میں نے وہ مسواک چھوٹے کو دے دی ، پھر مجھ سے کہا گیا : بڑے کو دین تو میں نے وہ بڑے کو دی ۔ "
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: I dreamt (while asleep) that I was about to migrate from Mecca to a land abounding in palm trees and I guessed that it would be Yamama or Hajar, but it was the city of Yathrib (the old name of Medina), and I saw in this dream of mine that I was brandishing a sword and its upper end was broken and this is what fell (in the form of misfortune to the believers on the Day of Uhud). I brandished (the sword) for the second time and it became all right and this is what came to be true when Allah granted us victory and solidarity of the believers. And I saw therein cows also and Allah is the Doer of good. These meant the group from amongst the believers on the Day of Uhud and the goodness which Allah brought after that and the reward of attestation of his Truth which Allah brought to us after the Day of Badr.
ہم سے ابوعامر عبداللہ بن براد اشعری اور ابو کریب محمد بن الاعلٰی نے بیان کیا اور وہ الفاظ میں ایک جیسے تھے، انہوں نے کہا: ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، بریدید کی سند سے، ابو بردہ کے دادا سے، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے اس زمین کی طرف ہجرت کرتا ہوں جہاں کھجور کے درخت ہیں ، میرا گمان یمامہ اور حجر کی طرف گیا لیکن وہ مدینہ نکلا ، جس کا نام یثرب بھی ہے اور میں نے اپنے اسی خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو ہلایا تو وہ اوپر سے ٹوٹ گئی ، اس کی تعبیر احد کے دن مسلمانوں کی شکست نکلی ۔ پھر میں نے تلوار کو دوسری بار ہلایا تو آگے سے ویسی ہی ثابت اور اچھی ہو گئی ۔ اس کی تعبیر یہ نکلی کہ اللہ تعالیٰ نے فتح نصیب کی اور مسلمانوں کی جماعت قائم ہو گئی ( یعنی جنگ احد کے بعد خیبر اور مکہ فتح ہوا اور اسلام کے لشکر نے زور پکڑا ) اور میں نے اسی خواب میں گائیں دیکھیں ( جو کاٹی جاتی تھیں ) اور اللہ تعالیٰ بہتر ہے ( جیسے یہ جملہ بولا جاتا ہے اللہ خیر ) اس سے مسلمانوں کے وہ لوگ مراد تھے جو احد میں شہید ہوئے اور خیر سے مراد وہ خیر تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد بھیجی اور سچائی کا ثواب جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بدر کے بعد عنایت کیا ۔
Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما reported:
Musailima al-Kadhdhab (the greater liar) (who claimed prophethood after the death of the Holy Prophet) came during the lifetime of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) to Medina and said: If Muhammad assigns his caliphate to me after him I would follow him, and there came along with him a large body of persons of his tribe, and there came to him Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) along with Thabit bin Qais bin Shammas رضی اللہ عنہ and the Prophet of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had a piece of wood in his hand until he came in front of Musailima in the company of his companions and said: If you were to ask even this (wood), I would never give it to you. I am not going to do anything against the will of God in your case, and if you turn away (from what I say) Allah will destroy you. And I find you in the same state which I was shown (in the dream) and here is Thabit and he would answer you on my behalf. He (the Holy Prophet) then went back. Ibn `Abbas رضی اللہ عنہ said: I asked the (meaning of the) words of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ): You are the same what I was made to see about you in my dream. and Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: While I was sleeping I saw in my hands two gold bangles. This had a disturbing effect upon me and I was given a suggestion in the sleep that I should blow over them, so I blew over them and they were no more. And I interpreted these (two bangles) as the two great liars who would appear after me and the one amongst them was Al-`Anasi the inhabitant of San`a' and the other one Musailima the inhabitant of Yamama.
ہم سے محمد بن سہل تمیمی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن ابی حصین سے، ہم سے نافع بن جبیر نے بیان کیا, سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
مسیلمہ کذاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینہ منورہ میں آیا اور کہنے لگا کہ اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھے اپنے بعد خلافت دیں تو میں ان کی پیروی کرتا ہوں ۔ مسیلمہ کذاب اپنے ساتھ اپنی قوم کے بہت سے لوگ لے کر آیا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں لکڑی کا ایک ٹکڑا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسیلمہ کے لوگوں کے پاس ٹھہرے اور فرمایا کہ اے مسیلمہ! اگر تو مجھ سے یہ لکڑی کا ٹکڑا مانگے تو بھی تجھ کو نہ دوں گا اور میں اللہ کے حکم کے خلاف تیرے بارے میں فیصلہ کرنے والا نہیں اور اگر تو میرا کہنا نہ مانے گا تو اللہ تعالیٰ تجھ کو قتل کرے گا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا صحیح ہو گیا ) اور یقیناً تجھے وہی جانتا ہوں جو مجھے تیرے بارہ میں خواب میں دکھایا گیا ہے اور یہ ثابت تجھے میری طرف سے جواب دے گا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے گئے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا کہ تو وہی ہے جو مجھے خواب میں تیرے بارے دکھلایا گیا ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں سو رہا تھا کہ میں نے ( خواب میں ) اپنے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن دیکھے ، وہ مجھے برے معلوم ہوئے اور خواب ہی میں مجھ پر القا کیا گیا کہ ان کو پھونک مارو ، میں نے پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے ۔ میں نے ان کی تعبیر یہ کی کہ اس سے مراد دو جھوٹے ہیں ، جو میرے بعد نکلیں گے ۔ ان میں سے ایک عنسی صنعاء والا اور دوسرا یمامہ والا ( مسیلمہ کذاب ) ہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: While I was sleeping, the treasures of the earth were presented to me and I was made to wear in my hands two gold bangles. I felt a sort of burden upon me and I was disturbed and it was suggested to me that I should blow over them, so I blew and both of them disappeared. I interpreted them as two great liars who would appear at any time, one is the inhabitant of San`a' and the other is that of Yamama.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا, ہمام بن منبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ۔ انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب میں سو رہا تھا تو زمین کے خزانے میرے پاس لائے گئے ۔ اس ( خزانے کو لانے والے ) نے سونے کے دو کنگن میرے ہاتھوں میں ڈال دیے ، یہ دونوں مجھ پر گراں گزرے اور انھوں نے مجھے تشویش میں مبتلا کردیا ، تو میری طرف وحی کی گئی کہ ان دونوں پھونک ماریں ، میں نے دونوں کو پھونک ماری تو وہ چلے گئے ۔ میں نے ان سے مراد دو کذب لئے ، میں ان کے وسط میں ( مقیم ) ہوں ۔ ایک ( دائیں ہاتھ پر واقع ) صنعاء کا رہنے والا اور دوسرا بائیں ہاتھ پر ) یمامہ کارہنے والا ۔ "