This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ through other chains of narrators and there is no mention of:
Miserliness would be put (in the hearts of the people).
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، یعنی ابن جعفر نے, العلاء کے والد عبدالرحمٰن ، سالم ، ہمام بن منبہ اور ابویونس سب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ، جس طرح زہری نے حمید سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی مگر انہوں نے یہ بیان نہیں کیا
" اور ( دلوں میں ) بخل اور حرص ڈال دیا جائے گا ۔ "
Abdullah bin 'Amr bin al-'As رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Verily, Allah does not take away knowledge by snatching it from the people but He takes away knowledge by taking away the scholars, so that when He leaves no learned person, people turn to the ignorant as their leaders; then they are asked to deliver religious verdicts and they deliver them without knowledge, they go astray, and lead others astray
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, جریر نے ہشام بن عروہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے چھینتے ہوئے نہیں اٹھائے گا بلکہ وہ علماء کو اٹھا کر علم کو اٹھا لے گا حتی کہ جب وہ ( لوگوں میں ) کسی عالم کو ( باقی ) نہیں چھوڑے گا تو لوگ ( دین کے معاملات میں بھی ) جاہلوں کو اپنے سربراہ بنا لیں گے ۔ ان سے ( دین کے بارے میں ) سوال کیے جائیں گے تو وہ علم کے بغیر فتوے دیں گے ، اس طرح خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہ through other chains of transmitters, but in the hadith transmitted by Umar bin 'Ali there is an addition of these words: , I met 'Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہ at the end of the year and I asked him about it, and he narrated to us the hadith as he had narrated before that he had heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying.... (The rest of the hadith is the same).
ہمیں ابو الربیع العتاکی نے بیان کیا, حماد بن زید ، عباد بن عباد ، ابومعاویہ ، وکیع ، ابن ادریس ، ابواسامہ ، ابن نمیر ، عبدہ ، سفیان ( بن عیینہ ) ، یحییٰ بن سعید ، عمر بن علی اور شعبہ بن حجاج ، سب نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جریر کی روایت کردہ حدیث کے مطابق روایت کی اور عمر بن علی کی حدیث میں مزید یہ ہے : پھر میں ایک سال بعد حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے وہ حدیث مجھے دوبارہ اسی طرح سنائی جیسے ( پہلے ) بیان کی تھی ۔ کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah bin Amr bin al-'As رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن حمران نے بیان کیا، ان سے عبدالحمید بن جعفر نے بیان کیا، مجھ سےجعفر نے عمر بن حکم سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہشام بن عروہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Urwa bin Zubair reported that 'A'isha رضی اللہ عنہا said to him:
O son of my sister, This news has reached me that 'Abdullah bin 'Amr al-'As رضی اللہ عنہ would pass by us during the Hajj season, so you meet him and ask him (about religious matters) as he has acquired great knowledge from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). I thus met him and asked him about things which he narrated from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). And amongst these the one he mentioned was that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Verily, Allah does not take away knowledge from people directly but he takes away the scholars and consequently takes away (knowledge) along with them and leaves amongst persons the ignorant as their leaders who deliver religious verdicts without (adequate) knowledge and themselves go astray and lead others astray. 'Urwa said: When I narrated this to 'A'isha رضی اللہ عنہا , she deemed it too much (to believe) and thus showed reluctance to accept that (as perfectly true) and said to, 'Urwa: Did he ('Abdullah bin 'Amr) say to you that he had heard Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: ('Urwa had forgotten to ask this from 'Abdullah bin 'Amr). So when it was the next year, she ('A'isha رضی اللہ عنہا ) said to him ('Urwa): Ibn Amr رضی اللہ عنہ has come (for Hajj), so meet him. talk to him and ask him about this hadith that he narrated to You (last year on the occasion of the Hajj) pertaining to knowledge. He ('Urwa), said: So I met him, and asked about it and he narrated to me exactly like one that he had narrated (to me) for the first time. So when I informed her ('A'isha رضی اللہ عنہا ) about that, she said: I do not think but this that he has certainly told the truth and I find that be has neither made any addition to it, nor missed anything from it.
ہم سے حرملہ بن یحییٰ التجیبی نے بیان کیا, عبداللہ بن وہب نے کہا : مجھے ابوشر یح نے حدیث بیان کی کہ انہیں ابواسود نے عروہ بن زبیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا
بھانجے! مجھے خبر ملی ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں ( مدینہ ) سے گزر کر حج پر جانے والے ہیں ۔ تم ان سے ملو اور ان سے سوال کرو ۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا علم حاصل کر کے محفوظ کر رکھا ہے ۔ ( عروہ نے ) کہا : میں ان سے ملا اور بہت سی چیزوں کے بارے میں ، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے ، ان سے پوچھا ۔ عروہ نے کہا : انہوں نے جو کچھ بیان کیا اس میں یہ بھی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے یک لخت چھین نہیں لے گا بلکہ وہ علماء کو اٹھا لے گا اور ان کے ساتھ علم کو بھی اٹھا لے گا ۔ اور لوگوں میں جاہل سربراہوں کو باقی چھوڑ دے گا جو علم کے بغیر لوگوں کو فتوے دیں گے ، اس طرح خود بھی گمراہ ہوں گے اور ( لوگوں کو بھی ) گمراہ کریں گے ۔ "" عروہ نے کہا : جب میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے اسے ایک بہت بڑی بات سمجھا اور اس کو غیر معروف ( ناقابل قبول ) قرار دیا ۔ اور فرمایا : کیا انہوں نے تمہیں بتایا تھا کہ انہوں نے ( خود ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ، آپ نے یہ بات کہی تھی؟ عروہ نے کہا : یہاں تک کہ جب اگلا سال ہوا تو انہوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے ان سے کہا : ( عبداللہ ) بن عمرو رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں ، ان سے ملو ، ان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرو ، یہاں تک کہ ان سے اسی حدیث کے بارے میں پوچھو جو انہوں نے علم کے حوالے سے تمہیں بیان کی تھی ۔ ( عروہ نے ) کہا : میں ان سے ملا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے وہ حدیث میرے سامنے ( بالکل ) اسی طرح بیان کر دی جس طرح پہلی بار بیان کی تھی ۔ عروہ نے کہا : جب میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات بتائی تو انہوں نے فرمایا : میں سمجھتی ہوں کہ انہوں نے سچ کہا ، میں دیکھ رہی ہوں کہ انہوں نے اس میں نہ کوئی چیز بڑھائی ہے نہ کم کی ہے ۔
Jarir bin Abdullah reported:
Some desert Arabs clad in woolen clothes came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He saw them in sad plight as they had been hard pressed by need. He (the Holy Prophet) exhorted people to give charity, but they showed some reluctance until (signs) of anger could be seen on his face. Then a person from the Ansar came with a purse containing silver. Then came another person and then other persons followed them in succession until signs of happiness could be seen on his (sacred) face. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who introduced some good practice in Islam which was followed after him (by people) he would be assured of reward like one who followed it, without their rewards being diminished in any respect. And he who introduced some evil practice in Islam which had been followed subsequently (by others), he would be required to bear the burden like that of one who followed this (evil practice) without their's being diminished in any respect.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، وہ موسیٰ بن عبداللہ بن یزید کی سند سے اور ابو الدوحہ نے عبد کی سند سے۔ الرحمٰن بن ہلال العبسی کے حوالے سے, سیدنا جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ
کچھ دیہاتی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ کمبل پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا برا حال دیکھا اور ان کی محتاجی دریافت کی تو لوگوں کو رغبت دلائی صدقہ دینے کی۔ لوگوں نے صدقہ دینے میں دیر کی یہاں تک کہ اس بات کا رنج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر معلوم ہوا، پھر ایک انصاری شخص ایک تھیلی روپیوں کی لے کر آیا، پھر دوسرا آیا یہاں تک کہ تار بندھ گیا (صدقے اور خیرات کا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی معلوم ہونے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اسلام میں اچھی بات نکالے (یعنی عمدہ بات کو جاری کرے جو شریعت کی رو سے ثواب ہے) پھر لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو اس کو اتنا ثواب ہو گا جتنا سب عمل کرنے والوں کو ہو گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہو گی اور جو اسلام میں بری بات نکالے (مثلاً بدعت یا گناہ کی بات) اور لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ اس پر لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہو گا۔“
Jarir رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) delivered an address in which he exhorted people to give charity" -a hadith lie that of Jarir (no. 6800).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، ابو معاویہ کی سند سے، الاعمش کی سند سے، مسلم کی سند سے، عبد کی سند سے۔ رحمن بن ہلال کی سند پر, جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا اور لوگوں کو ترغیب دی صدقہ دینے کی پھر بیان کیا اسی طرح جیسے اوپر گزرا .
Jarir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The servant does not introduce good practice which is followed after him.... The rest of the hadith is the same.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، یعنی ابن سعید نے, محمد بن ابی اسماعیل نے کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن ہلال عبسی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو بندہ بھی کسی نیک کام کا آغاز کرے جس پر اس کے بعد عمل کیا جائے ۔ " پھر پوری حدیث بیان کی ۔
This Hadith was narrated from Al-Mundir Jarir, from his father, from the prophet ﷺ (a narration similar to no. 6800).
مجھ سے عبید اللہ بن عمر القواریری ، ابو کامل اور محمد بن عبد الملک امیہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو عونہ نے بیان کیا, عبدالملک بن عمیر اور عون بن ابی الجحیفہ نے مُنذِر بن جریر سے ، انہوں نے اپنے والد ( جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who called (people) to righteousness, there would be reward (assured) for him like the rewards of those who adhered to it, without their rewards being diminished in any respect. And he who called (people) to error, he shall have to carry (the burden) of its sin, like those who committed it, without their sins being diminished in any respect.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید اور ابن حجر نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، یعنی ہم سے ابن جعفر نے علاء کی سند سے، اپنے والد کی سند سے, حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس شخص نے کسی گمراہی کی دعوت دی ، اس پر اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ ( کا بوجھ ) ہو گا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔ "