Sa'id bin Jubair رضی اللہ عنہ reported:
'Abdul Rahman bin Azdi commanded me that I should ask Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ about these two verses: He who slays a believer intentionally his requital shall be Hell where he would abide for ever (iv. 92). So, I asked him and he said: Nothing has abrogated it. And as for this verse: And they who call not upon another god with Allah and slay not the soul which Allah has forbidden, except in the cause of justice (xxv. 68), he (Ibn Abbas) said: This has been revealed in regard to the polytheists.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا, منصور نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا
مجھ سے عبد الرحمٰن بن ایزدی نے کہا : کہ میں ( ان کے لیے ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ان دوآیتوں کے متعلق دریافت کروں : " اور جو شخص جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کر دے ، اس کی سزا جہنم ہے ور اس میں ہمیشہ رہے گا ۔ " میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا : اس کو کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا ۔ اور اس آیت کے متعلق ( پوچھا ) اور جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے اور نہ حق کے بغیر کسی شخص کو قتل کرتے ہیں جس کے قتل کواللہ نے حرام کیا ہے ۔ " تو انھوں نے کہا : مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ said:
This verse was revealed in Mecca: And they who call not upon another god with Allah and slay not the soul which Allah has forbidden except in the cause of justice up to the word Muhdana (abased). Thereupon the polytheists said: Islam is of no avail to us for we have made peer with Allah and we killed the soul which Allah had forbidden to do and we committed debauchery, and it was (on this occasion) that Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse: Except him who repents and believes and does good deeds up to the end Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ says: He who enters the fold of Islam and understands its command and then kills the soul there is no repentance for him.
مجھ سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے ابو الندر ہاشم بن القاسم لیثی نے بیان کیا, ابو معاویہ شیبان نے منصور بن معتمر سے انھوں نے سعید بن جیبر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا
یہ آیت : " جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے " سے لے کر " ذلت کے عالم میں ( ہمیشہ رہے گا ) تک مکہ میں نازل ہوئی ۔ مشرکوں نے کہا : ہمیں اسلام کس بات کا فائدہ دے گا ۔ جبکہ ہم اللہ کے ساتھ ( دوسروں کو ) شریک بھی ٹھہراچکے ہیں اور اللہ کی حرام کردہ جانوں کو قتل بھی کر چکے ہیں اور فواحش کا ارتکاب بھی کر چکے ہیں ؟اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " سوائے اس شخص کے جس نے تو بہ کی ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے " آیت کے آخری حصے تک ۔ انھوں نے ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) نے کہا : لیکن جو شخص اسلام میں داخل ہو گیا اور اس کو سمجھ لیا پھر اس نے ( عمداً کسی مومن کو ) قتل کیا تو اس کے لیے کوئی توبہ نہیں ۔
Sa'id bin Jubair رضی اللہ عنہ reported:
I said to Ibn Abbas رضی اللہ عنہ : Will the repentance of that person be accepted who kills a believer intentionally? He said: No. I recited to him this verse of Sura al-Furqan (xix.): And those who call not upon another god with Allah and slay not the soul which Allah has forbidden except in the cause of justice to the end of the verse. He said: This is a Meccan verse which has been abrogated by a verse revealed at Medina: He who slays a believer intentionally, for him is the requital of Hell-Fire where he would abide for ever, and in the narration of Ibn Hisham (the words are): I recited to him this verse of Sura al-Furqan: Except one who made repentance.
عبد اللہ بن ہاشم اور عبد الرحمٰن بن بشر عبدی نے مجھے حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید قطان نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے قاسم بن ابی بزہ نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا
میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : کیا جس شخص نے کسی مومن کو عمدا قتل کر دیا اس کے لیے توبہ ( کی گنجائش ) ہے؟انھوں نے کہا : نہیں ( سعید بن جبیرنے ) کہا : پھر میں نے ان کے سامنے سورہ فرقان کی یہ آیت تلاوت کی ۔ " وہ لوگ جو اللہ کے سواکسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے حق کے بغیر قتل نہیں کرتے " آیت کے آخر تک انھوں نے کہا : یہ مکی آیت ہےاس کو اس مدنی آیت نے منسوخ کر دیا : " اور جو کسی مومن کو عمدا قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا ۔
Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utba reported:
Ibn Abbas رضی اللہ عنہ said to me: Do you know-and in the words of Harun (another narrator): Are you aware of-the last Sura which was revealed in the Qur'an as a whole? I said: Yes, When came the help from Allah and the victory (cx.). Thereupon, he said: You have told the truth. And in the narration of Abu Shaiba (the words are): Do you know the Sura? And he did not mention the words the last one .
ابو بکر بن ابی شیبہ ہارون بن عبد اللہ اور عبد بن حمید نے ہمیں ھدیث بیان کی ، عبد نے کہا : ہمیں خبر دی اور دوسروں نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ، جعفر بن عون نے انھوں نے کہا : ہمیں ابو عمیس نے عبد المجید بن سہیل سے خبردی ۔ انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ عتبہ سے روایت کی کہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ قرآن مجید کی آخری سورت جو یکبارگی مکمل نازل ہوئی کون سی ہے؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ إِذَا جَاء نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ انھوں نے فرمایا : تم نے سچ کہا ۔ اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے ۔ تم جانتے ہو کہ کون سی سورت ہے اور "" آخری "" ( کالفظ ) نہیں کہا ۔
This hadith has been reported on the authority of Abu 'Umais through the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, ابو معاویہ نے کہا , ہمیں ابو عمیس نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور کہا : " آخری سورت " اور انھوں نے ( راوی کا نام لیتے ہوئے ) عبدالمجید ( سے مروی ) کہا : اور ابن سہیل ( عبد المجید بن سہیل ) نہیں کہا ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہ reported:
Some Muslims met a person with a small flock of sheep. He said: As-Salam-o-'Alaikum. They caught hold of him and killed him and took possession of his flock. Then this verse was revealed: He who meets you and extends you salutations, don't say: You are not a Muslim (iv. 94). Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ , however, recited the word as-Salam instead of as-Salam .
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم اور احمد بن عبدہ الدبی نے بیان کیا، اور قول ابن ابی شیبہ کا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم سے اس نے بیان کیا، اور دوسرے دو نے کہا: ہمیں سفیان نے عمرو کی سند سے خبر دی, عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا
مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ایک شخص کو کو ملے جو بکریوں کے ایک چھوٹے سے ریوڑ میں تھا اس نے ( ان کو دیکھ کر ) کہا : السلام علیکم ۔ تو ( اس کے باوجود ) انھوں نے اس کو پکڑا اسے قتل کیا اور بکریوں کا وہ چھوٹا ساریوڑ لے لیا ۔ تو یہ آیت اتری : "" اور اسے جو تم سے سلام کہے یہ مت کہو کہ تم مومن نہیں ہو ۔ "" اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس ( السلم ) کو السلام پڑھا ۔
Bara' رضی اللہ عنہ reported:
When the Ansar performed the Pilgrimage, they did not enter their houses but from behind. A person from the Ansar came and he began to enter from his door but it was said to him (why he was doing something in contravention to the common practice of coming to the houses from behind). Then this verse was revealed. Piety is not that you come to the doors from behind (ii. 189).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے غندر نے شعبہ کی سند سے بیان کیا، اور ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا - اور اس کا قول ابن المثنیٰ کا ہے، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے شعبہ کی سند سے بیان کیا،ابو اسحاق سے روایت ہے کہا : میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا
انصار جب حج کر کے واپس آتے تو گھروں میں ( دروازوں کے بجائے ) ان کے پچھواڑے ہی سے داخل ہوتے انصار میں سے ایک شخص آیا اور اپنے دروازے سے ( گھر کے اندر ) داخل ہوا تو اس کے بارے میں اس پر باتیں کی گئیں تو یہ آیت اتری : " اور یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم گھروں کے اندران کے پچھواڑوں سے آؤ ۔ "
Ibn Mas'ud رضی اللہ عنہ said:
"There was no more than four years between the time when we became Muslim, and the time when Allah rebuked us with this Verse: Has not the time come for the hearts of those who believe to be effected by Allah's reminder..." ..
مجھ سے یونس بن عبد الاعلیٰ الصدفی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، مجھ سے عمرو بن حارث نے سعید بن ابی ہلال کی سند سے بیان کیا, عون بن عبداللہ کے والد سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نےکہا
ہمارے اسلام لانے اور ہم پر اس آیت کے ذ ریعے سے اللہ تعالیٰ کے عتاب کے درمیان چار سال سے زیادہ کا وقفہ نہ تھا : " کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یادکرتے ہوئے گڑگڑائیں ۔ "
Ibn Abbas رضی اللہ عنہ reported:
During the pre-Islamic days women circumambulated the Ka'ba nakedly, and said: Who would provide cloth to cover the one who is circumambulating the Ka'ba so that she would cover her private parts? And then she would say: Today will be exposed the whole or the part and what is exposed I shall not make it lawful. It was in this connection that the verse was revealed: Adorn yourself at every place of worship (vii. 31).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، اور مجھ سے ابوبکر بن نافع نے بیان کیا، اور یہ قول ان کا ہے، ہم سے غندر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن کلہیل نے بیان کیا، وہ مسلم البطین کی سند سے، جوبیر بن سعید رضی اللہ عنہ نے, حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
( جاہلی دور میں ) ایک عورت برہنہ ہوکر بیت اللہ کاطواف کرتی تھی اور کہتی تھی : کون مجھے طواف کرنے والا ایک کپڑا دے گا؟کہ وہ اس کو اپنی شرمگاہ پر ڈالے ، اور ( یہ شعر ) کہتی : آج ( بدن کا ) کچھ حصہ یا پورے کا پورا کھل جائےگا اور اس میں سے جو بھی کھل گیا میں اسے ( دیکھنا کسی کے لئے ) حلال نہیں کررہی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : " ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو ۔ "
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
'Abdullah bin Ubayy bin Salul used to say to his slave-girl: Go and fetch something for us by committing prostitution. It was in this connection that Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse: And compel not your slave-girls to prostitution when they desire to keep chaste in order to seek the frail goods of this world's life, and whoever compels them, then surely after their compulsion Allah is Forgiving, Merciful (xxiv. 33).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا, ابو معاویہ نے کہا , ہمیں اعمش نے ابو سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
عبداللہ بن ابی سلول اپنی ایک باندی سے کہتا تھا : جا اور ( بذریعہ بدکاری ) ہمارے لیے کچھ کما کرلا ، تو اللہ عزوجل نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی؛ " اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ ( خصوصاً ) اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں تاکہ تم دنیا کی زندگی کا سازوسامان حاصل کرو اور جو کوئی انھیں مجبور کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کا بعد " ان کے لیے " بڑا بخشنے والا ، بڑا رحم کرنے والا ہے ۔ "
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
'Abdullah bin Ubayy bin Salul had two slave-girls; one was called Musaika and the other one was called Umaima and he compelled them to prostitution (for which'Abdullah bin Ubayy bin Salul compelled them). They made a complaint about this to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and it was upon this that this verse was revealed: And compel not your slave-girls to prostitute up to the words: Allah is Forgiving, Merciful.
ابو کامل الجہداری نے مجھ سے کہا, ابو عوانہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
عبداللہ بن ابی ابن سلول کی ایک باندی تھی ، اس کا نام مسیکہ تھا ، اوردوسری ( باندی ) کو امیمہ کہا جاتا تھا ۔ وہ ان دونوں سے ( زبردستی ) زنا کرانا چاہتا تھا ۔ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس بات کی شکایت کی تو اللہ عزوجل نے آیت : " اور اپنی نوجوان لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں ۔ " اس ( اللہ ) کے فرمان : " بڑا بخشنے والا ، ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ۔ " تک نازل فرمائی ۔
Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ reported in connection with the words of Allah, the Exalted and Glorious:
Those to whom they call upon, themselves seek the means or access to their Lord as to whoever of them becomes nearest (xvii. 57) that it related to a party of Jinn who were being worshipped and they embraced Islam but those who worshipped them kept on worshipping them (though the Jinn whom the misguided people worshipped had become Muslims). It was then that this verse was revealed.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, عبداللہ بن ادریس نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق روایت کی
" وہ لوگ جنھیں یہ ( کافر ) پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کو ن زیادہ نزدیک ہوگا ۔ " ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوگئی تھی اور ( اس سے پہلے ) ان کی پوجاکی جاتی تھی ، تو جو ان کی عبادت کیاکرتے تھے ، ان کی عبادت پرقائم رہے جبکہ جنوں کی یہ جماعت خود اسلام لے آئی ۔
Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ reported in connection with the verse:
Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord, that it related to a group of people who worshipped a party amongst the Jinn. The group from amongst the Jinn embraced Islam, but the people kept worshipping them as they did before, and it was (on this occasion) that the verse was revealed: Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord.
مجھ سے ابوبکر بن نافع العبدی نے بیان کیا کہ ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا, سفیان نے اعمش سے انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ( اس آیت کے متعلق ) روایت کی
" وہ لوگ جنھیں یہ ( کافر ) پکارتے ہیں ، وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں ۔ " ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : انسانوں کی ایک جماعت جنوں کی ایک جماعت کی پرستش کرتی تھی ، تو جنوں کی جماعت نے اسلام قبول کرلیا اور انسان بدستور ان کی عبادت سے لگے رہے ۔ اس پر ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " وہ لوگ جنھیں یہ پکارتے ہیں ، وہ خود اپنے رب کی طرف ( کسی نیک عمل کا ) وسیلہ تلاش کرتے ہیں ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman with the same chain of transmitters.
اور مجھ سے بشر بن خالد نے کہا, ہم سے محمد نے بیان کیا، یعنی ابن جعفر نے, شعبہ نے سلیمان ( اعمش ) سے اسی سندکے ساتھ یہی روایت کی ۔
Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ said in connection with the verse:
Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord, that that verse was revealed in connection with a party of Arabs who used to worship a group amnogst the jinn; the jinn embraced Islam but the people kept worshipping them without being conscious of it. Then this verse was revealed: Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord.
مجھ سے حجاج بن شعر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الصمد بن عبد الوارث نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے حسین نے قتادہ کی سند سے اور عبداللہ بن معبد الزمانی کی سند سے, عبداللہ بن عتبہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ( اس آیت کے متعلق ) روایت کی
" وہ لوگ جنھیں یہ ( کافر ) پکارتے ہیں ، وہ خود اپنے رب کی طرف ( کسی نیک عمل کا ) و سیلہ ڈھونڈتے ہیں ہیں ۔ " انھوں نے کہا : یہ ( آیت ) عربوں کے ایک ایسے گروہ کے بارے میں نازل ہوئی جو جنوں کے ایک گروہ کی عبادت کیا کرتے تھے ۔ جنوں نے اسلام قبول کرلیا جبکہ وہ انسان جو ان کی عبادت کیا کرتے تھے ، انھیں پتہ تک نہ چلا ۔ اس پر یہ آیت اتری : " وہ لوگ جنھیں یہ ( کافر ) پکارتے ہیں ، وہ خود ا پنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کر تے ہیں ۔ "
Sa'id bin Jubair reported:
I said to Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما about Sura Tauba, whereupon he said: As for Sura Tauba, it is meant to humiliate (the non-believers and the hypocrites). There is constantly revealed in it (the pronoun) minhum (of them) and minhom (of them, i. e. such is the condition of some of them) till they (the Muslims) thought that none would be left unmentioned out of them who would not be blamed (for one fault or the other). I again said: What about Sura Anfal? He said: It pertains to the Battle of Badr. I again asked him about Sura al-Hashr. He said: It was revealed in connection with (the tribe) of Banu Nadir.
مجھ سے عبداللہ بن مطیع نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا, ابو بشر نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، کہا : کہ
میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ سورۃ التوبہ؟ انہوں نے کہا کہ سورۃ التوبہ؟ اور کہا کہ بلکہ وہ سورت تو ذلیل کرنے والی ہے اور فضیحت کرنے والی ہے ( کافروں اور منافقوں کی ) ۔ اس سورت میں برابر اترتا رہا کہ ”اور ان میں سے“ ”اور ان میں سے“ یہاں تک کہ منافق لوگ سمجھے کہ کوئی باقی نہ رہے گا جس کا ذکر اس سورت میں نہ کیا جائے گا ۔ میں نے کہا کہ سورۃ الانفال؟ انہوں نے کہا کہ وہ سورت تو بدر کی لڑائی کے بارے میں ہے ( اس میں مال غنیمت کے احکام مذکور ہیں ) ۔ میں نے کہا کہ سورۃ الحشر؟ انہوں نے کہا کہ وہ بنی نضیر ( کے انجام ) کے بارے میں نازل ہوئی ۔
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Umar رضی اللہ عنہ delivered a sermon on the pulpit of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he praised Allah and lauded Him and then said: Now coming to the point. Behold I when the command pertaining to the prohibition of wine was revealed, it was prepared from five things: from wheat, barley, date, grape, honey; and wine is that which clouds the intellect; and O people, I wish Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) could have explained to us in (more) detail the laws pertaining to the inheritance of the grandfather, about one who dies leaving no issue, and some of the problems pertaining to interest.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, علی بن مسہر نے ابو حیان سے ، انھوں نے شعبی سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر ( کھڑے ہوکر ) خطبہ دیا ، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی ، پھر کہا : اس کے بعد : سنو !شراب کی حرمت نازل ہوئی ، جس دن وہ نازل ہوئی ( اس وقت ) وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی ۔ گندم ، جو ، خشک کھجور ، انگور اور شہد سے ، خمر وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے ۔ اورلوگو!تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں شدت سے چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ہمیں اور زیادہ قطعیت سے بتایا ہوتا : دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کے ابواب میں سے چند ابواب ۔
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
I heard 'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ delivering sermon on the pulpit ol Allah's messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and saying': Now, coming to the point, O people, there was revealed (the command pertaining to the prohibition of wine) and it was prepared (at that time) out of five things: grape, date, honey, wheat, barley, and wine is that which clouds the intellect, and, O people, I wish Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had explained to us in greater detail three things: the inheritance of the grandfather, of one who dies without leaving any issue, and some of the problems of interest.
ابو کریب نے ہم سے کہا, ابن ادریس نے کہا , ہمیں ابو حیان نے شعبی سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر فرماتے ہوئے سنا : حمد وثنا کےبعد ، لوگو!شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی ، انگور ، کھجور ، شہد ، گندم اور جو سے اور خمر ( شراب ) وہ ہے جو عقل کو ڈھانک دے ۔ لوگو!تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں چاہتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اور زیادہ قطیعت سے واضح فرمادیتے : دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کی صورتوں میں سے چند صورتیں ۔
A similar hadith (as no. 7560) was narrated from Abu Hayyan with this chain of narrators, except that in his hadith Ibn 'Ulayyah say grapes, as Ibn Idris said, and in the hadith of 'Eisa it says rasins, as Ibn Mushir said.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, اسماعیل بن علیہ اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے ابوحیان سے اسی سند کے ساتھ ان دونوں کی حدیث کے مانند روایت کی ، البتہ ابن علیہ کی حدیث میں ہے : انگور ، جس طرح ابن ادریس نے کہا ہے ۔ اور عیسیٰ کی روایت میں کشمش ہے ۔ جس طرح ابن مسہر نے کہا ہے ۔
It was narrated that Qais bin 'Ubad said:
I heard Abu Dharr رضی اللہ عنہ took an oath that this verse: These two adversaries who dispute about their Lord (xxii. 19) was revealed in connection with those who on the Day of Badr came out (of rows to fight against the non-believers and they were) Hamza, 'Ali, 'Ubaida bin Harith رضی اللہ عنہ (from the side of the Muslims) and 'Utba and Shaiba, both of them the sons of Rabi'a and Walid bin 'Utba (from the side of the non-believers of Mecca).
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا, ہشیم نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے اور انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا
میں نے حضرت ابو زر رضی اللہ عنہ کو قسم کھا کر کہتے ہوئے سنا کہ ( آیت ) : " یہ دو جھگڑنے والے ہیں جنھوں نے اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا کیا ۔ " ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جنھوں نے بدر کے دن مبارزت ( رودرودسیدھی لڑائی ) کی : حضرت حمزہ ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور ( دوسری طرف سے ) ربیعہ کے دو بیٹے : عتبہ اور شیبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید ۔