It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم that:
The Messenger of Allah (ﷺ) would not pray after jumu'ah until he had left, then he would pray two rak'ahs. (Sahih)
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد نماز نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ گھر لوٹ آتے، پھر دو رکعتیں پڑھتے۔
It was narrated from Salim that: His father said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray two rak'ahs in his house after jumu'ah.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی، کہا: ہم سے معمر نے زہری سے، سالم سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم that:
He used to pray two rak'ahs after jumu'ah, making them lengthy, and he said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to do this.
ہم سے عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا، وہ یزید جو کہ ابن ہارون ہیں، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے ایوب کی سند سے اور نافع کی سند سے خبر دی, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
وہ جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور ان کو لمبی کرتے تھے اور کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
I went out to At-Tur and met Ka'b رضی اللہ عنہ . He and I spent a day together, when I narrated things to him from the Messenger of Allah (ﷺ) and he narrated things to me from the Tawrah. I said to him: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The best day on which the sun rises is Friday. On this day, Adam was created, on this day he was sent down, on it repentance was accepted, on this day he died, and on this day the Hour will begin. There is no living creature on Earth that does not listen out from Friday morning until the sun rises, fearing the onset of the Hour, except the son of Adam. On (Friday) there is an hour in which, if a believer prays and asks Allah (SWT) for something, He will give it to him. Ka'b said: Is than one day in every year? I said: No, it is every Friday.' Then Ka'b read in the Tawrah and said: The Messenger of Allah (ﷺ) spoke the truth; it is every Friday. Then I went out and met Basrah bin Abi Basrah Al-Ghifari رضی اللہ عنہ . He said: From where have you come? I said: From At-Tur. He said: If I had met you before you went there, you would not have gone. I said to him: Why? He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Do not travel especially to visit a masjid except three: Al Masjid Al Haram (in Makkah), my masjid (in Al-Madinah) and the Masjid of Bait Al-Maqdis (in Jerusalem). Then I met 'Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ and said: 'If you had only seen me, I went to At-Tur and met Ka'b, and he and I spent the day together, when I narrated things to him from the Messenger of Allah (ﷺ) and he narrated things to me from the Tawrah. I said to him: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The best day on which the sun rises is Friday. On this day, Adam was created, on this day he was sent down, on it repentance was accepted, on this day he died, and on this day the Hour will begin. There is no living creature on Earth that does not listen out from Friday morning until the sun rises, fearing the onset of the Hour, except the son of Adam. On (Friday) there is an hour in which, if a believer prays and asks Allah (SWT) for something, He will give it to him. Ka'b said: That is one day in every year. 'Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ said: Ka'b is not telling the truth. I said: Then Ka'b read (in the Tawrah) and said: The Messenger of Allah (ﷺ) spoke the truth; it is every Friday. 'Abdullah رضی اللہ عنہ said: Ka'b spoke the truth; I know when that time is. I said: O my brother, tell me about it. He said: It is the last hour of Friday, before the sun sets. I said: Did you hear the Messenger of Allah (ﷺ) say: If a believer prays, but that is not a time for prayer. He said: Did you not hear the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever prays and sits waiting for the (next) prayer, is in a state of prayer until the next prayer comes? I said: Of course. He said: That is what it is.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے بکر یعنی ابن مضر نے بیان کیا، انہوں نے ابن الحاد کی سند سے، محمد بن ابراہیم کی سند سے، ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں طور پہاڑی پر آیا تو وہاں مجھے کعب ( کعب احبار ) رضی اللہ عنہ ملے تو میں اور وہ دونوں ایک دن تک ساتھ رہے، میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بیان کرتا تھا، اور وہ مجھ سے تورات کی باتیں بیان کرتے تھے، میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: بہترین دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم پیدا کئے گئے، اسی میں ( دنیا میں ) اتارے گئے، اسی میں ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی میں ان کی روح نکالی گئی، اور اسی دن قیامت قائم ہو گی، زمین پر رہنے والی کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو جمعہ کے دن قیامت کے ڈر سے صبح کو سورج نکلنے تک کان نہ لگائے رہے، سوائے ابن آدم کے، اور اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کسی مومن کو یہ گھڑی مل جائے اور نماز کی حالت میں ہو اور وہ اللہ سے اس ساعت میں کچھ مانگے تو وہ اسے ضرور دے گا ، کعب نے کہا: یہ ہر سال میں ایک دن ہے، میں نے کہا: نہیں، بلکہ یہ گھڑی ہر جمعہ میں ہوتی ہے، تو کعب نے تورات پڑھ کر دیکھا تو کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے، یہ ہر جمعہ میں ہے۔ پھر میں ( وہاں سے ) نکلا، تو میری ملاقات بصرہ بن ابی بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو انہوں نے پوچھا: آپ کہاں سے آ رہے ہیں؟ میں نے کہا: طور سے، انہوں نے کہا: کاش کہ میں آپ سے وہاں جانے سے پہلے ملا ہوتا، تو آپ وہاں نہ جاتے، میں نے ان سے کہا: کیوں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ فرما رہے تھے: سواریاں استعمال نہ کی جائیں یعنی سفر نہ کیا جائے مگر تین مسجدوں کی طرف: ایک مسجد الحرام کی طرف، دوسری میری مسجد یعنی مسجد نبوی کی طرف، اور تیسری مسجد بیت المقدس ۱؎ کی طرف۔ پھر میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا: کاش آپ نے مجھے دیکھا ہوتا، میں طور گیا تو میری ملاقات کعب سے ہوئی، پھر میں اور وہ دونوں پورے دن ساتھ رہے، میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بیان کرتا تھا، اور وہ مجھ سے تورات کی باتیں بیان کرتے تھے، میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنوں میں بہترین دن جمعہ کا دن ہے جس میں سورج نکلا، اسی میں آدم پیدا کئے گئے، اسی میں دنیا میں اتارے گئے، اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی، اسی میں ان کی روح نکالی گئی، اور اسی میں قیامت قائم ہو گی، زمین پر کوئی ایسی مخلوق نہیں ہے جو قیامت کے ڈر سے جمعہ کے دن صبح سے سورج نکلنے تک کان نہ لگائے رہے سوائے ابن آدم کے، اور اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جس مسلمان کو وہ گھڑی نماز کی حالت میں مل جائے، اور وہ اللہ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز ضرور دے گا، اس پر کعب نے کہا: ایسا دن ہر سال میں ایک ہے، تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کعب نے غلط کہا، میں نے کہا: پھر کعب نے ( تورات ) پڑھی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے، وہ ہر جمعہ میں ہے، تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کعب نے سچ کہا، پھر انہوں نے کہا: میں اس گھڑی کو جانتا ہوں، تو میں نے کہا: اے بھائی! مجھے وہ گھڑی بتا دیں، انہوں نے کہا: وہ گھڑی جمعہ کے دن سورج ڈوبنے سے پہلے کی آخری گھڑی ہے، تو میں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ آپ نے فرمایا: جو مومن اس گھڑی کو پائے اور وہ نماز میں ہو جبکہ اس گھڑی میں کوئی نماز نہیں ہے، تو انہوں نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص نماز پڑھے پھر بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرتا رہے، تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ، میں نے کہا: کیوں نہیں سنا ہے؟ اس پر انہوں نے کہا: تو وہ اسی طرح ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: On Friday, there is an hour when, if a Muslim slave asks Allah (SWT) for something at that time, He will give it to him. Abu Abdur Rahman (An-Nasa'i) said: We do not know of anyone who narrated this hadith other than Rabah from Ma'mar from Az-Zuhri from Saeed رضی اللہ عنہ and Abi Salamah, and Ayyub bin Suwaid is Matruk Al-Hadith.
مجھ سے محمد بن یحییٰ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابراہیم بن خالد نے رباح کی سند سے، معمر کی سند سے، زہری کی سند سے، کہا: مجھ سے سعید نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ اس گھڑی کو پا لے، اور اس میں اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور دے گا ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ہم کسی کونہیں جانتے جس نے اس حدیث کو عن معمر، عن الزهري، عن سعيد ( المقبري ) کے طریق سے روایت کیا ہو، سوائے رباح کے، البتہ ایوب بن سوید نے اس کو عن يونس، عن الزهري، عن سعيد وأبي سلمة کے طریق سے روایت کیا ہے، لیکن ایوب بن سوید متروک الحدیث ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
Abu Al-Qasim (ﷺ) said: 'On Friday, there is an hour when, if a Muslim slave stands in prayer and asks Allah (SWT) for something at that time, He will give it to him.' He was reducing it: lessening it.
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں اسماعیل نے ایوب کی سند سے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے خبر دی۔ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں اسماعیل نے ایوب کی سند سے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے خبر دی, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ والے دن ایک گھڑی ایسی ہے کہ کوئی مسلمان بندہ اسے نماز میں کھڑا پا لے، پھر اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے، تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دے گا ، اور آپ اسے ہاتھ کے اشارے سے کم کر کے بتا رہے تھے۔