The Book of Shortening the Prayer When Traveling
كتاب تقصير الصلاة فى السفر
Chapter 15
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم that:
The Messenger of Allah (ﷺ) stayed in Makkah (for fifteen days), praying each prayer with two rak'ahs.
ہم سے عبدالرحمٰن بن اسود البصری نے بیان کیا: ہم سے محمد بن ربیعہ نے عبد الحمید بن جعفر سے، یزید بن ابی حبیب کی سند سے، عرک بن مالک نے عبید اللہ بن عبد اللہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پندرہ دن ٹھہرے رہے اور آپ دو دو رکعتیں پڑھتے رہے۔
Al-'Ala bin Al-Hadrami رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The Muhajir may stay for three days after completing his rituals.'
ہمیں محمد بن عبد الملک بن زنجویہ نے عبد الرزاق کی سند سے، ابن جریج کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھے اسماعیل بن محمد بن سعد نے خبر دی کہ انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ انہیں سائب بن یزید نے خبر دی, العلاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہاجر حج و عمرہ کے ارکان و مناسک پورے کرنے کے بعد ( مکہ میں ) تین دن تک ٹھر سکتا ہے ۔
It was narrated that Al-'Ala bin Al-Hadrami رضی اللہ عنہ said:
The Prophet (ﷺ) said: 'The Muhajir may stay for three days after his rituals.'
ہم سے ابوعبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہیں حارث بن مسکین نے بیان کیا، جب میں ان سے حدیث سن رہا تھا، وہ سفیان کی روایت سے، عبدالرحمٰن بن حمید سے اور سائب بن یزید کی سند سے, علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہاجر اپنے نسک ( حج و عمرہ کے ارکان ) پورے کرنے کے بعد مکہ میں تین دن ٹھر سکتا ہے ۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا that:
She performed Umrah with the Messenger of Allah (ﷺ), traveling from Al-Madinah to Makkah. Then, when she came to Makkah, she said: O Messenger of Allah (ﷺ), may my father and mother be ransomed for you, you shortened you prayers and I offered them in full, you did not fast and I fasted. He said: 'Well done, O 'Aishah!' and he did not criticize me.
مجھ سے احمد بن یحییٰ الصفی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے علاء بن زہیر الازدی نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن بن اسود نے بیان کیا,ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مدینہ سے مکہ کے لیے نکلیں یہاں تک کہ جب وہ مکہ آ گئیں، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے نماز قصر پڑھی ہے، اور میں نے پوری پڑھی ہے، اور آپ نے روزہ نہیں رکھا ہے اور میں نے رکھا ہے تو آپ نے فرمایا: عائشہ! تم نے اچھا کیا ، اور آپ نے مجھ پر کوئی نکیر نہیں کی۔
Wabarah bin Abdur-Rahman said:
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم did not offer more than two rak'ahs when traveling, and he did not offer any prayer before or after that. It was said to him: 'What is this?' He said: 'This is what I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing.'
مجھ سے احمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے علاء بن زہیر نے بیان کیا، کہا:وبرہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہم سفر میں دو رکعت پر اضافہ نہیں کرتے تھے، نہ تو اس سے پہلے نماز پڑھتے اور نہ ہی اس کے بعد، تو ان سے کہا گیا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
Eisa bin Hafs bin 'Asim said: My father told me:
'I was with Ibn Umar رضی اللہ عنہم on a journey, and he prayed Zuhr and 'Asr with two rak'ahs each, then he went and sat on his carpet. He saw some people offering voluntary prayers and said: What are these people doing? I said: They are offering voluntary prayers. He said: If I had wanted to pray before and after (the obligatory prayer) I would have offered it in full. I accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) and he did not pray more than two rak'ahs when traveling, and Abu Bakr (did likewise) until he died, as did 'Umar and 'Uthman رضی اللہ عنہم .
مجھ سے نوح بن حبیب نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا: حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بتایا، اس نے کہا
میں ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو انہوں نے ظہر اور عصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں، پھر اپنے خیمے کی طرف لوٹنے لگے، تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے پوچھا: یہ لوگ ( اب ) کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ لوگ سنت پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: اگر میں اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز پڑھنے والا ہوتا تو میں فرض ہی کو پورا کرتا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا، آپ سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، ابوبکر کے ساتھ رہا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی رہا یہ سب لوگ اسی طرح کرتے تھے۔