It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah, the Mighty and Sublime, said: I have never sent down My favor to My slaves but a group of them became disbelievers who say; The stars and by stars.'
ہم سے عمرو بن سواد بن اسود بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن وہب نے خبر دی، کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب کی سند سے خبر دی، کہا: مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے خبر دی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب بھی میں نے اپنے بندوں کو بارش کی نعمت سے نوازا تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا، وہ لوگ کہتے رہے: فلاں ستارے نے ایسا کیا ہے، اور فلاں ستارے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ۔
It was narrated that Zaid bin Khalid Al-Juhani رضی اللہ عنہ said:
It rained during the time of the Prophet (ﷺ) and he said: 'Have you nt heard what your Lord said this night? He said: I have never sent down any blessing upon My slaves but some of them become disbelievers thereby, saying: 'We have been given rain by such and such a star.' As for the one who believes in Me and praises Me for giving rain, that is the one who believes in Me and disbelieves in the stars. But the one who says: 'We have been given rain by such and such a star' he has disbelieved in Me and believed in the stars.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ کی سند سے, زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بارش ہوئی تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے سنا نہیں کہ تمہارے رب نے آج رات کیا فرمایا؟ اس نے فرمایا: میں نے جب بھی بارش کی نعمت اپنے بندوں پر کی تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا، وہ کہتا رہا: فلاں و فلاں نچھتر کے سبب ہم پر بارش ہوئی، تو رہا وہ شخص جو مجھ پر ایمان لایا، اور میرے بارش برسانے پر اس نے میری تعریف کی، تو یہ وہی شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا، اور ستاروں کا انکار کیا، اور جس نے کہا: ہم فلاں فلاں نچھتر کے سبب بارش دیئے گئے، تو یہ وہ شخص ہے جس نے میرے ساتھ کفر کیا، اور ستاروں پر ایمان رکھا ۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If Allah (SWT) were to withhold rain from His slaves for five years and then send it, some of the people would become disbelievers, saying: We have been given rain by the star of Al-Mijdah.
ہم سے عبدالجبار بن العلاء نے سفیان کی سند سے، عمرو کی سند سے، عتاب بن حنین سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے پانچ سال تک بارش روکے رکھے، پھر اسے چھوڑے تو بھی لوگوں میں سے ایک گروہ کافر ہی رہے گا، کہے گا: ہم تو مجدح ستارے کے سبب برسائے گئے ہیں۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
There was no rain for a year, so some of the Muslims went to the Prophet (ﷺ) one Friday and said: 'O Messenger of Allah, there has been no rain; the land has become bare and our wealth has been destroyed.' He raised his hands, and we did not see any cloud in the sky. He stretched forth his hands until I could see the whiteness of his armpits, praying to Allah (SWT) for rain. When we finished praying Jumu'ah, even a young man whose house nearby was worried about how he would get home. That lasted for a week, then on the following Friday they said: 'O Messenger of Allah, houses have been destroyed and all travel has been ceased.' The Messenger of Allah (ﷺ) smiled at how quickly the sons of Adam become weary, and he said with his hands raised: 'O Allah, around us and not on us,' and it dispersed from Al-Madinah.
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے حمید نے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک سال بارش نہیں ہوئی تو کچھ مسلمان جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! بارش نہیں ہو رہی ہے، زمین سوکھ گئی ہے، اور جانور ہلاک ہو گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، اور اس وقت آسمان میں ہمیں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو خوب دراز کیا یہاں تک کہ مجھے آپ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی، آپ اللہ تعالیٰ سے پانی برسنے کے لیے دعا کر رہے تھے۔ ابھی ہم جمعہ کی نماز سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے ( کہ بارش ہونے لگی ) یہاں تک کہ جس جوان کا گھر قریب تھا اس کو بھی اپنے گھر جانا مشکل ہو گیا، اور برابر دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی، جب اگلا جمعہ آیا تو لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! گھر گر گئے، اور سوار محبوس ہو کر رہ گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن آدم ( انسان ) کے جلد اکتا جانے پر مسکرائے، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی: «اللہم حوالينا ولا علينا» اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا اور ( اب ) ہم پر نہ برسا تو مدینہ سے بادل چھٹ گئے۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
There was a drought during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). While the Messenger of Allah (ﷺ) was giving the Khutbah on the minbar one Friday, a Bedouin stood up and said: 'O Messenger of Allah wealth has been destroyed and our children are hungry; pray to Allah for us.' The Messenger of Allah (ﷺ) raised his hands, and we could not see even a wisp of a cloud in the sky, but by the One in Whose hand is my soul, he did not lower (his hands) before clouds like mountains appeared, and he did not come down from his minbar before we saw the rain dripping from his beard. It rained that day and the next day, and the day after, until the following Friday. Then that Bedouin - or he said, Someone else - stood up and said: 'O Messenger of Allah, buildings have been destroyed and wealth has drowned; pray to Allah (SWT) for us. The Messenger of Allah (ﷺ) raised his hands and said: 'O Allah, around us and not on us.' He did not point in any direction but the clouds dispersed, until Al-Madinah became like a hole. And the valleys ran with water and no one came from any direction but he told us of the heavy rains.
ہم سے محمود بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا: ہمیں ابو عمرو اوزاعی نے اسحاق بن عبداللہ کی سند سے خبر دی, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کو قحط سالی سے دو چار ہونا پڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک اعرابی ( بدو ) کھڑا ہوا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! مال ( جانور ) ہلاک ہو گئے، اور بال بچے بھوکے ہیں، لہٰذا آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، اس وقت ہمیں آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ آپ نے اپنے ہاتھوں کو ابھی نیچے بھی نہیں کیا تھا کہ بادل پہاڑ کے مانند امنڈنے لگا، اور آپ ابھی اپنے منبر سے اترے بھی نہیں کہ میں نے دیکھا بارش کا پانی آپ کی داڑھی سے ٹپک رہا ہے، ہم پر اس دن، دوسرے دن اور اس کے بعد والے دن یہاں تک کہ دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی، تو وہی اعرابی یا کوئی اور شخص کھڑا ہوا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! عمارتیں منہدم ہو گئیں، اور مال و اسباب ڈوب گئے، لہٰذا آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، اور آپ نے یوں دعا کی: «اللہم حوالينا ولا علينا» اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا اور ( اب ) ہم پر نہ برسا چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ سے بادل کی جانب جس طرف سے بھی اشارہ کیا، وہ وہاں سے چھٹ گئے یہاں تک کہ مدینہ ایک گڈھے کی طرح لگنے لگا، اور وادی پانی سے بھر گئی، اور جو بھی کوئی کسی طرف سے آتا یہی بتاتا کہ خوب بارش ہوئی ہے۔