Maimunah, the wife of the Prophet narrated: The Messenger of Allah was upset one morning and Maimunah said to him: O Messenger of Allah, you look upset today., He said: 'Jibril, peace be upon him, had promised to meet me last night but he did not come, and by Allah, he never failed to keep an appointment,; The day passed, then he thought of a puppy that was beneath a table of ours. He ordered that it be taken out, and then he took some water In his hand and sprinkled it over the place where it had been. That evening, Jibril, peace be upon him, came and met him. The Messenger of Allah said to him: 'You [promised to meet me last night,; He said: 'Yes, but we do not enter a house in which there is a dog or a picture,; the next day the Messenger of Allah Commanded that dogs be killed.
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ایک روز صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غمگین اور اداس اٹھے، میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے آپ کی حالت آج کچھ بدلی بدلی عجیب و غریب لگ رہی ہے، آپ نے فرمایا: ”جبرائیل نے مجھ سے رات میں ملنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ ملنے نہیں آئے، اللہ کی قسم! انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی“، آپ اس دن اسی طرح ( غمزدہ ) رہے، پھر آپ کو کتے کے ایک بچے ( پلے ) کا خیال آیا جو ہمارے تخت کے نیچے تھا، آپ نے حکم دیا تو اسے نکالا گیا پھر آپ نے اپنے ہاتھ میں پانی لے کر اس سے اس جگہ پر چھینٹے مارے، پھر جب شام ہوئی تو آپ کو جبرائیل علیہ السلام ملے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”آپ نے مجھ سے گزشتہ رات ملنے کا وعدہ کیا تھا؟“ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا ہو یا تصویر ( مجسمہ ) ہو، پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا۔
It was narrated that Ibn'Umar said: The Messenger of Allah said: 'whoever keeps a dog, two Qirats will be detracted from his reward each day, except a trained hunting dog, or a dog for herding livestock.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کے اجر سے دو قیراط اجر کم ہو گا، سوائے شکاری یا جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے کے“۔
As-Saib bin Yazid narrated that Surfyan bin Abi Zuhair Ash-Shanai I came to visit them and said: The Messenger of Allah said: 'Whoever keeps a dog which he does not need for farming or livestock, one Qirt will be deducted from his (good) deeds each day.' It was said to him: 'did you hear this from the Messenger of Allah He said: 'Yes, by the Lord of this Masjid. '
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
سفیان بن ابی زہیر شنائی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس نے ایسا کتا پالا جو نہ کھیت کی حفاظت کرے اور نہ جانوروں کی تو اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا“، میں نے عرض کیا: سفیان! کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس مسجد کے رب کی قسم! ۱؎۔
It was narrated that Ibn 'Umar said: The Messenger of Allah said:' whoever keeps a dog except one that is trained for hunting or a dog for herding livestock, two Qirats will be deducted from his reward each day.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شکار کرنے والے کتے یا جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کا اجر دو قیراط کم ہو گا“۔
It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah said: Whoever keeps a dog. Escept a dog for hunting or herding livestock, two Qirats will be deducted form his reward eachday.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شکاری کتے یا جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کا اجر دو قیراط کم ہو گا“۔
It was narrated from 'Abdullah bin Mughaffal that the Prophet said: Whoever keeps a dog, except a dog for hunting, herding livestock or farming, one Qurat will be deducted from his reward each day.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شکاری کتے، یا جانوروں یا کھیت کی رکھوالی کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کا اجر ایک قیراط کم ہو گا“۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: Whoever keep s dog except a dog for hunting, farming or herding livestock, on e Qurat will be deducted from his good deeds each day.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شکاری کتے یا کھیتی اور جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو اس کے عمل ( اجر ) میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہو گا“۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: Whoever keeps a dog that is not a dog used for hunting, herding livestock or guarding land, two qirats will be deducted from his reward each day.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی ایسے کتے کو پالا جو نہ تو شکاری ہو نہ جانوروں کی نگرانی کے لیے ہو اور نہ ہی زمین ( کھیتی ) کی رکھوالی کے لیے، تو روزانہ اس کا اجر دو قیراط کم ہو گا“۔
It was narrated from Salim bin 'Abdullah that his father said: The Messenger of Allah said: Whoever keeps a dog for herding livestock or a dog for hunting, one Qirat Will be deducted from his reward each day. 'Abdullah said: Abu Hurairah said: 'Or a dog for farming. '
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے یا شکاری کتے کے علاوہ کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کے عمل ( اجر ) میں سے ایک قیراط کم ہو گا“، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا: ”یا کھیتی کا کتا“۔
It was narrated from Abu Bakr bin 'Abdur-Rahman bin Al-Harith bin Hisham that her heard Abu Mas ud 'Uqbah say: The Messenger of Allah forbade the price of a dog, the gift of a female fornicator and the fees of a fortuneteller. ( Sahih)
ابومسعود عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ۱؎ زانیہ عورت کی کمائی ۲؎ اور کاہن کی اجرت ۳؎ سے منع فرمایا ہے۔
Abu Hurairah said: The Prophet said: 'The price of a dog, the fees of a fortuneteller and the gift of a female fornicator are not permissible. '
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتے کی قیمت حلال نہیں، نہ ہی کاہن کی اجرت، اور نہ ہی زانیہ عورت کی کمائی“۔
It was narrated that Waqi bin Khadij said: The Messenger of Allah said: 'The worst of earnings arte the gift of a female fornicator, the price of a dog and the earnings of a cupper.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بری کمائی زانیہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت، اور پچھنا لگانے کی اجرت ہے“ ۱؎۔
It was narrated from Jabir that: the Prophet forbade the price of cats and dogs, except hunting. (Da if) Abu Abdur-Rahman (An-Nasa I) said: The Hadith of Hajjaj from Hammad bin Salamah is not authentic:
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی ۱؎ اور کتے کی قیمت لینے سے منع فرمایا، سوائے شکاری کتے کے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: حماد بن سلمہ سے حجاج ( حجاج بن محمد ) نے جو حدیث روایت کی ہے وہ صحیح نہیں ہے ۲؎۔
It was narrated from 'Arm bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that: a man came to the Prophet and said: O Messenger of Allah, I have trained dogs; advise me concerning them. He said: Whatever your dogs catch for you, eat, I side: Even if they kill it? He said: Even if they kill it. He said: Advise me about my bow. He said: Whatever your arrow returns to you, eat. He said: Even if it gets away from you, so long as you do not find the mark of an arrow other than yours on it, or you find that it has gone rotten. (Another chain).
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس کچھ شکاری کتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تمہارے لیے تمہارے کتے جو پکڑ کر لائیں اسے کھاؤ“۔ میں نے عرض کیا: اگرچہ وہ اسے قتل کر ڈالیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ قتل کر ڈالیں“، اس نے کہا: ( میں اپنے تیر کمان سے فائدہ اٹھاتا ہوں لہٰذا ) مجھے تیر کمان کے سلسلے میں بتائیے، آپ نے فرمایا: ”جو شکار تمہیں تیر سے ملے تو اسے کھاؤ“، اس نے کہا: اگر وہ ( شکار تیر کھا کر ) غائب ہو جائے؟ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ وہ غائب ہو جائے، جب تک کہ تم اس میں اپنے تیر کے علاوہ کسی چیز کا نشان نہ پاؤ یا اس میں بدبو نہ پیدا ہوئی ہو“ ۱؎۔ ابن سواء کہتے ہیں: میں نے اسے ابو مالک عبیداللہ بن اخنس سے سنا ہے وہ اسے بسند عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما عن النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرتے ہیں۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: While we were with the Messenger of Allah at Dhul-Hulaifah in Tihamanb, they acquired some camels and sheep (as spoils of war). The Messenger of Allah was among the last of the people, and the first of them hastened to slaughter (the animals) and set up pots (For cooking the meat). The Messenger of Allah came and ordered that the pots be came and ordered that the pots be overturned, then he divided it making ten sheep equivalent to one camel. While they were like that, a camel ran away. The people had only a few horses, so they went after fit and it and it got away from them. A man shot an arrow at it and stopped it. The Messenger of Allah said: 'Some of these animals arte untamed like wild animals, so if one of them goes out of your control, do the same.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
اسی دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے ذی الحلیفہ میں تھے تو لوگوں کو کچھ اونٹ ملے اور کچھ بکریاں ( بطور مال غنیمت ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کے پیچھے تھے، تو آگے کے لوگوں نے جلدی کی اور ( تقسیم غنیمت سے پہلے ) انہیں ذبح کیا اور ہانڈیاں چڑھا دیں، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے، آپ نے حکم دیا تو ہانڈیاں الٹ دی گئیں، پھر آپ نے ان کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیا، ابھی وہ اسی میں مصروف تھے کہ اچانک ایک اونٹ بھاگ نکلا، لوگوں کے پاس گھوڑے بہت کم تھے، وہ اس کو پکڑنے دوڑے تو اس نے انہیں تھکا دیا، ایک شخص نے ایک تیر پھینکا تو اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا ( تیر لگ جانے سے ) اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان چوپایوں میں بعض وحشی ہو جاتے ہیں جنگلی جانوروں کی طرح، لہٰذا جو تم پر غالب آ جائے ( یعنی تمہارے ہاتھ نہ آئے ) اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ۱؎“۔
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said: I asked the Messenger of Allah about hunting and he said: 'When you shoot your arrow, mention the name of Allah, and if you find that it (the game) has been killed, the eat it, unless you find that it fell into some water, and you do not know whether the water killed it or your arrow. '
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: ”جب تم اپنا تیر چلاؤ تو اللہ کا نام لو پھر اگر تم دیکھو کہ وہ اس تیر سے مر گیا تو اسے کھاؤ إلا یہ کہ وہ پانی میں گر جائے، اس لیے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ وہ پانی سے مرا ہے یا تیر سے“۔
It was narrated from 'Adiyy bin Hatim that he asked the Messenger of Allah about hunting and he said: When you release your arrow or your dog, mentioned the name of Allah, and when your arrow kills (the game), then eat. He said: What if it gets away form me for a night, O Messenger of Allah? He said: If you find your arrow and you do not find the mark of anything else, then eat it. But if it falls into the water, do not eat it.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: ”جب تم اپنا تیر چلاؤ یا کتا دوڑاؤ اور اس پر اللہ کا نام لے لو پھر وہ تمہارے تیر سے مر جائے تو اسے کھاؤ“، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر وہ ایک رات میری پہنچ سے باہر رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اپنا تیر پاؤ اور اس کے علاوہ کسی اور چیز کا اثر نہ پاؤ تو اسے کھاؤ اور اگر وہ پانی میں گر جائے تو نہ کھاؤ“۔
It was narrated tht 'Adiyy bin Hatim said: I said: 'O Messenger of Allah, we are a people who hunt, and one of us may shoot his arrow but (the game) gets way form him for a night or two. What if he follows its tracks, and finds it dead with his arrow in it? He said: 'If you find the arrow in it, and you do not find any sign of predators, and you know that your arrow killed it, then eat it. ( Sahih)
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ شکاری ہیں، ہم میں سے ایک شخص شکار کو تیر مارتا ہے تو وہ ایک رات یا دو رات غائب ہو جاتا ہے، وہ اس کا پتا لگاتا ہے یہاں تک کہ اسے مردہ پاتا ہے اور اس کا تیر اس کے اندر ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: ”جب تم اس میں تیر پاؤ اور اس میں کسی درندے کا نشان نہ ہو اور تمہیں یقین ہو جائے کہ وہ تمہارے تیر سے مرا ہے تو اسے کھاؤ“۔
It was narrated from 'Adiyy bin Hatim that the Messenger of Allah said: If you see your arrow in it. And you do not see any other mark, and you know that (Your arrow) killed it, then eat it.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنا تیر اس ( شکار ) میں دیکھو اور اس کے علاوہ اس میں کوئی نشان نہ دیکھو اور تمہیں یقین ہو جائے کہ اسی سے وہ مرا ہے تو اسے کھاؤ“۔
it was narrated that 'Adiyy bin Hatim said: I said: 'O Messenger of Allah, I shoot game and I follow its tracks after of night. He said: 'If you find your arrow in it, and no predator has eaten from it, then eat it.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار کو تیر مارتا ہوں پھر میں ایک رات کے بعد اس کے نشانات ڈھونڈتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”جب تم اس کے اندر اپنا تیر پاؤ اور اس میں سے کسی درندے نے نہ کھایا ہو تو تم کھاؤ“۔