It was narrated from Abu Hurairah that: The Prophet [SAW] said: Modesty (Al-Haya') is a branch of Faith.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء ( شرم ) ایمان کی ایک شاخ ہے“۔
It was narrated from 'Amr bin Shurahbil,: That one of the Companions of the Prophet [SAW] said: The Messenger of Allah [SAW] said: 'Ammar's heart overflows with Faith.'
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمار کا ایمان ہڈیوں کے پوروں تک بھر گیا ہے“ ۱؎۔
Abu Sa'eed said: I heard the Messenger of Allah [SAW] say: 'Whoever among you sees an evil, let him change it with his hand; if he cannot, then with his tongue; if he cannot, then with his heart- and that is the weakest of Faith.'
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی جب بری بات دیکھے تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ کے ذریعہ دور کر دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنے دل کے ذریعہ اس کو دور کر دے، یہ ایمان کا سب سے کمتر درجہ ہے“ ۱؎۔
It was narrated that Tariq bin Shihab said: Abu Sa'eed Al-Khudri said: 'I heard the Messenger of Allah [SAW] say: Whoever among you sees an evil and changes it with his hand, then he has done his duty. Whoever is unable to do that, but changes it with his tongue, then he has done his duty. Whoever is unable to do that, but changes it with his heart, then he has done his duty, and that is the weakest of Faith.'
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس کسی نے برائی دیکھی پھر اسے اپنے ہاتھ سے دور کر دیا تو وہ بری ہو گیا، اور جس میں ہاتھ سے دور کرنے کی طاقت نہ ہو اور اس نے زبان سے دور کر دی ہو تو وہ بھی بری ہو گیا، اور جس میں اسے زبان سے بھی دور کرنے کی طاقت نہ ہو اور اس نے اسے دل سے دور کیا ۱؎ تو وہ بھی بری ہو گیا اور یہ ایمان کا سب سے ادنیٰ درجہ ہے“۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: The Messenger of Allah [SAW] said: 'No one of you disputes more intensely for something that is rightly his in this world, than the believers will dispute with their Lord for their brothers who have entered the Fire. They will say: 'Our Lord, our brothers used to pray with us and fast with us, and perform Hajj with us, and you have caused them to enter the Fire?' He will say: 'Go and bring forth whomever you recognize among them.' So they will go to them, and will recognize them by their appearances. Among them will be those who have been seized by the Fire up to the middle of their shins, and some among them those whom it has taken up to his ankles. They will bring them forth, then they will say: 'Our Lord, we have brought forth those whom You commanded us (to bring forth).' He will say: 'Bring forth everyone in whose heart is faith the weight of a Dinar.' Then He will say: 'Everyone in whose heart is faith the weight of half a Dinar,' until He will say: 'In whose heart is faith the weight of the smallest speck.' Abu Sa'eed said: Whoever does not believe this, let him read the Verse: 'Verily, Allah forgives not that partners should be set up with Him (in worship), but He forgives except that (anything else) to whom He wills up to a tremendous (sin).'
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا دنیاوی حق کے سلسلے میں جھگڑا اس جھگڑے سے زیادہ سخت نہیں جو مومن اپنے رب سے اپنے ان بھائیوں کے سلسلے میں کریں گے جو جہنم میں داخل کر دیے گئے ہوں گے، وہ کہیں گے: ہمارے رب! ہمارے بھائی ہمارے ساتھ نماز ادا کرتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، ہمارے ساتھ حج کرتے تھے پھر بھی تو نے انہیں جہنم میں ڈال دیا۔ وہ کہے گا: جاؤ اور ان میں سے جنہیں تم جانتے ہو نکال لو، چنانچہ وہ ان کے پاس آئیں گے اور انہیں ان کی شکلوں سے پہچان لیں گے، ان میں سے بعض ایسے ہوں گے جو آدھی پنڈلی تک جلے ہوئے ہوں گے اور بعض ایسے کہ ٹخنوں تک جلے ہوں گے، چنانچہ وہ انہیں نکالیں گے تو وہ کہیں گے: ہمارے رب! جنہیں نکالنے کا تو نے ہمیں حکم دیا تھا ہم نے انہیں نکال لیا، وہ کہے گا: جس کے دل میں ایک دینار برابر ایمان ہو اسے بھی نکال لو، پھر کہے گا: جس کے دل میں آدھا دینار برابر ایمان ہو یہاں تک کہ کہے گا: جس کے دل میں ذرے کے وزن بھر ایمان ہو“۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں: جسے یقین نہ ہو تو وہ یہ آیت: «إن اللہ لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشائ» سے «عظيما» ”یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے علاوہ جسے چاہے بخش دیتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا“ ( النساء: ۴۸ ) تک پڑھے۔
Abu Sa'eed Al-Khudri said: The Messenger of Allah [SAW] said: 'While I was sleeping, I saw the people being shown to me, and they were wearing shirts. Some reached the breast and some reached lower than that. And 'Umar bin Al-Khattab was shown to me, and he was wearing a shirt that he was dragging;' They said: 'How do you interpret that, O Messenger of Allah?' He said: 'The religion.'
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مرتبہ میں سو رہا تھا کہ اسی دوران میں نے خواب دیکھا کہ لوگ مجھ پر پیش کئے جا رہے ہیں اور وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں، بعض کی قمیص چھاتی تک ہے، بعض کی اس سے نیچے ہے اور میرے سامنے عمر بن خطاب کو پیش کیا گیا، وہ ایسی قمیص پہنے ہوئے تھے جسے وہ گھسیٹ رہے تھے“۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی تعبیر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”دین“ ۱؎۔
It was narrated that Tariq bin Shihab said: A Jewish man came to 'Umar bin Al-Khattab and said: 'O Commander of the Believers! There is a Verse in your Book which you recite; if it had been revealed to us Jews we would have taken that day as a festival.' He said: 'Which Verse is that?' He said: 'This day, I have perfected your religion for you, completed My favor upon you, and have chosen for you Islam as your religion.' 'Umar said: 'I know the place where it was revealed and the day on which it was revealed. It was revealed to the Messenger of Allah [SAW] at 'Arafat, on a Friday.'
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ
یہود کا ایک یہودی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر بولا: امیر المؤمنین! آپ کی کتاب ( قرآن ) میں ایک آیت ہے، اگر وہ ہم یہودیوں پر اترتی تو ( جس روز اترتی ) ہم اسے عید کا دن بنا لیتے، کہا: کون سی آیت؟ یہودی بولا: «اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا» ”آج کے دن میں نے تمہارا دین پورا کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کیا“ ( المائدہ: ۳ ) ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے وہ مقام جہاں یہ اتری وہ مقام معلوم ہے، وہ دن معلوم ہے جب یہ نازل ہوئی، یہ جمعہ کے دن عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔
It was narrated from Qatadah that: He heard Anas say: The Messenger of Allah [SAW] said: 'None of you has believed until I am dearer to him than his son, his father and all the people.'
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے اپنے بال بچوں، اس کے ماں باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ اسے محبوب نہ ہو جاؤں“ ۱؎۔
It was narrated that Anas said: The Messenger of Allah [SAW] said: 'None of you has believed until I am dearer to him than his family, his wealth and all the people.'
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے بیوی بچوں، اس کے مال اور تمام لوگوں سے زیادہ اسے محبوب نہ ہو جاؤں“۔
Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah [SAW] said: By the One in Whose hand is my soul, none of you has believed until I am dearer to him than his son or his father.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے بال بچے اور اس کے ماں باپ سے زیادہ اسے محبوب نہ ہو جاؤں“۔
It was narrated that Qatadah said: I heard Anas say: 'The Messenger of Allah [SAW] said (Humaid bin Mas'dah said in his Hadith: 'The Prophet of Allah [SAW] said): None of you has believed until he loves for his brother what he loves for himself.'
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے“۔
It was narrated from Anas that : The Messenger of Allah [SAW] said: By the One in Whose hand is the soul of Muhammad, none of you has believed until he loves for his brother what he loves for himself of goodness.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی بھلائی نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے“۔
It was narrated that Zirr said: 'Ali said: The Unlettered Prophet [SAW] made a covenant with me, that none but a believer would love me, and none but a hypocrite would hate me.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی امّی صلی اللہ علیہ وسلم نے سے مجھ سے عہد کیا کہ ”تم سے صرف مومن ہی محبت کرے گا، اور تم سے صرف منافق ہی بغض رکھے اور نفرت کرے گا“۔
It was narrated from Anas that: The Prophet [SAW] said: Love for Ansar is a sign of Faith, and hatred for Ansar is a sign of hypocrisy.
انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے، اور انصار سے نفرت نفاق کی نشانی ہے“۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that: The Prophet [SAW] said: There are four (traits), whoever has them is a hypocrite and whoever has one of them, then has one of the traits of hypocrisy, until he gives it up: When he speaks, he lies; when he makes a promise, he breaks it; when he makes a covenant, he betrays it; and when he argues, he resorts to foul language.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میں چار چیزیں ہوں، وہ منافق ہے، یا ان چار میں سے کوئی ایک خصلت ( عادت ) ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، عہد و پیمان کرے تو توڑ دے، اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے“۔
It was narrated from Abu Hurairah that : The Messenger of Allah [SAW] said: The signs of the hypocrite are three: When he speaks, he lies; when he makes a promise he breaks it; and when he is entrusted with something, he betrays (that trust).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفاق کی تین علامتیں ( نشانیاں ) ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے“۔
It was narrated that 'Ali said: The Prophet [SAW] made a covenant with me that none would love me but a believer, and none would hate me but a hypocrite.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد کیا کہ ”مجھ سے محبت صرف مومن کرے گا، اور مجھ سے بغض و نفرت صرف منافق کرے گا“۔
It was narrated that Abu Wa'il said: Abdullah said: 'There are three (traits), whoever has them is a hypocrite: When he speaks, he lies; when he is entrusted with something, he betrays that trust; and when he makes a promise, he breaks it. Whoever has one of these (traits) then a trait of hypocrisy has not ceased in him, until he leaves it.' (Sahih Mawquf)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
تین باتیں جس شخص میں ہوں، وہ منافق ہے: جب بات چیت کرے تو جھوٹ بولے، جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، اور جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک عادت ہو تو اس میں نفاق کی ایک عادت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔
It was narrated from Abu Hurairah that : The Messenger of Allah [SAW] said: Whoever stands (in he voluntary night prayer of) the Ramadan out of faith and in the hope of reward, his previous sins will be forgiven.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کیا ( یعنی تراویح پڑھی ) کی تو اس کے تمام گزرے ہوئے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے“۔
It was narrated from Abu Hurairah that : The Prophet [SAW] said: Whoever stands (in the voluntary night prayer of) Ramadan out of faith and in hope of reward, his previous sins will be forgiven.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رمضان کے مہینے میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے تراویح پڑھے تو اس کے تمام گزرے ہوئے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے“۔