It was narrated from Abu Umamah that : The Messenger of Allah [SAW] said: Whoever seizes the wealth of a Muslim unlawfully by means of his (false) oath, Allah makes the Fire required for him, Paradise unlawful for him. A man said to him: O Messenger of Allah, even if it is something small? He said: Even if it is a twig of an Arak tree.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی کسی مسلمان آدمی کا حق قسم کھا کر مار لے گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا اور جنت اس پر حرام کر دے گا“، ایک شخص نے آپ سے کہا: اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”گرچہ وہ پیلو کی ایک ڈال ہو“ ۱؎۔
It was narrated that 'Aishah said: Hind came to the Messenger of Allah [SAW] and said : 'O Messenger of Allah, Abu Sufyan is a stingy man who does not spend enough on my child and I. Can I take from his wealth without him realizing?' He said: 'Take what is sufficient for you and your child on a reasonable basis.'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ہند رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! ابوسفیان بخیل شخص ہیں، وہ مجھ پر اور میرے بچوں پر اس قدر نہیں خرچ کرتے ہیں جو کافی ہو، تو کیا میں ان کے مال میں سے کچھ لے لیا کروں اور انہیں پتا بھی نہ چلے؟ آپ نے فرمایا: ”بھلائی کے ساتھ اس قدر لے لو کہ تمہارے لیے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو“ ۱؎۔
It was narrated that 'Abdullah bin Abi Bakrah, who was a governor in Sijistan, said: Abu Bakrah wrote to me, saying: 'I heard the Messenger of Allah [SAW] say: No one should pass two judgments on one issue, and no one should pass judgment between two disputing parties while he is angry.'
عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ (سجستان کے گورنر تھے) کہتے ہیں کہ
مجھے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کوئی ایک قضیہ میں دو فیصلے نہ کرے ۱؎، اور نہ کوئی دو فریقوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ کرے“۔
It was narrated that Umm Salamah said: The Messenger of Allah [SAW] said: 'You refer your disputes to me, but I am only human. And some of you may be more eloquent in arguing their case than others, and I may pass judgment on the basis of what I hear. If I pass judgment in favor of one of you against his brother's rights, then it is a piece of the fire that I am giving him.'
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو، حالانکہ میں ایک انسان ہوں، اور ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے سے دلیل دینے میں چرب زبان ہو۔ میں تو صرف اس کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں جو میں سنتا ہوں، اب اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں ( اور وہ حقیقت میں اس کا نہ ہو ) تو گویا میں اس کو جہنم کا ٹکڑا دلا رہا ہوں“۔
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah [SAW] said: 'The most hated of men to Allah is the most quarrelsome of opponents.'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ بغض و نفرت لڑاکے اور جھگڑالو شخص سے ہے“ ۱؎۔
It was narrated from Abu Musa: That two men referred a dispute to the Prophet [SAW] concerning an animal, and neither of them had any evidence, so he ruled that it be shared equally between them.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
دو لوگ ایک جانور کے بارے میں جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، ان میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو آپ نے اس کے آدھا کیے جانے کا فیصلہ کیا۔
It was narrated from Nafi' bin 'Umar, that Ibn Abi Mulaikah said: There were two female neighbors who used to do leatherwork (with an awl) in At-Ta'if. One of them came out with her hand bleeding and claimed that her companion had injured her, but the other one denied it. I wrote to Ibn 'Abbas concerning that. He wrote, (saying) that the Messenger of Allah [SAW] ruled that the person against whom the claim was made should swear an oath. For if people were to be given what they claimed was theirs, then people would make claims against the wealth and blood of others. So he called her and recited this Verse to her: Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths, they shall have no portion in the Hereafter... until the end of the Verse. He called her and recited that to her, and she confessed to that. News of that reached him and he was happy.
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ
دو لڑکیاں طائف میں موزے ( خف ) بنایا کرتی تھیں، ان میں سے ایک باہر نکلی، تو اس کے ہاتھ سے خون نکل رہا تھا، اس نے بتایا کہ اس کی سہیلی نے اسے زخمی کیا ہے، لیکن دوسری نے انکار کیا، تو میں نے اس سلسلے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا تو انہوں نے جواب لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ قسم تو مدعا علیہ سے لی جائے گی، اگر لوگوں کو ان کے دعوے کے مطابق ( فیصلہ ) مل جایا کرے تو بعض لوگ دوسرے لوگوں کے مال اور ان کی جان کا بھی دعویٰ کر بیٹھیں، اس لیے اس عورت کو بلا کر اس کے سامنے یہ آیت پڑھو: «إن الذين يشترون بعهد اللہ وأيمانهم ثمنا قليلا أولئك لا خلاق لهم في الآخرة» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور قسموں کو معمولی قیمت سے بیچ دیتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں“ ( آل عمران: ۷۷ ) یہاں تک کہ آیت ختم کی، چنانچہ میں نے اسے بلایا اور یہ آیت اس کے سامنے تلاوت کی تو اس نے اس کا اعتراف کیا، جب انہیں ( ابن عباس کو ) یہ بات معلوم ہوئی تو خوش ہوئے۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: Mu'awiyah, (may Allah be pleased with him,) said: 'The Messenger of Allah [SAW] went out to a circle - meaning, of his Companions - and said: 'What are you doing?' They said: 'We have come together to pray to Allah and praise Him for guiding us to His religion, and blessing us with you.' He said: 'I ask you, by Allah, is that the only reason?' They said: 'By Allah, we have not come together for any other reason.' He said: 'I am not asking you to swear to an oath because of any suspicion; rather Jibril came to me and told me that Allah, the Mighty and Sublime, is boasting of you to the angels.'
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے حلقے کی طرف نکل کر آئے اور فرمایا: ”کیوں بیٹھے ہو؟“ وہ بولے: ہم بیٹھے ہیں، اللہ سے دعا کر رہے ہیں، اس کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے دین کی ہدایت بخشی اور آپ کے ذریعے ہم پر احسان فرمایا، آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ۲؎ تم اسی لیے بیٹھے ہو؟“ وہ بولے: اللہ کی قسم! ہم اسی لیے بیٹھے ہیں، آپ نے فرمایا: ”سنو، میں نے تم سے قسم اس لیے نہیں لی کہ تمہیں جھوٹا سمجھا، بلکہ میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں پر تمہاری وجہ سے فخر کرتا ہے“۔
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah [SAW] said: 'Isa bin Mariam, peace be upon him, saw a man stealing, and said to him: Are you stealing? He said: No, by Allah besides Whom there is no other God! 'Isa, peace be upon him, said: I believe in Allah and I disbelieve my eyes.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا، تو اس سے پوچھا: کیا تم نے چوری کی؟ وہ بولا: نہیں، اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۱؎، عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں نے یقین کیا اللہ پر اور جھوٹا سمجھا اپنی آنکھ کو۔