Narrated Jabir Ibn Abdullah:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A cow serves for seven, and a camel serves for seven.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، قیس کی سند سے، عطاء کی سند سے,جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گائے سات کی طرف سے کفایت کرتی ہے اور اونٹ بھی سات کی طرف سے ۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہما :
We sacrificed along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at al-Hudaybiyyah a camel for seven and a cow for seven people.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے اور ابو الزبیر المکی کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم نے حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات آدمیوں کی طرف سے اونٹ نحر کئے، اور گائے بھی سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہما :
I witnessed sacrificing along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at the place of prayer. When he finished his sermon, he descended from his pulpit, and a ram was brought to him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم slaughtered it with his hand, and said: In the name of Allah, Allah, is Most Great. This is from me and from those who did not sacrifice from my community.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب نے، یعنی اسکندرانی نے، ہم سے عمرو کی سند سے، انہوں نے المطلب کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں عید الاضحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید گاہ میں موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے چکے تو منبر سے اترے اور آپ کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «بسم الله والله أكبر هذا عني وعمن لم يضح من أمتي» اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے، یہ میری طرف سے اور میری امت کے ہر اس شخص کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی ہے کہہ کر اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to slaughter his sacrificial animal at the place of prayer. Ibn Umar رضی اللہ عنہما used to do so.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہ ان سے ابو اسامہ نے اسامہ کی سند سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قربانی عید گاہ میں ذبح کرتے تھے۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
Some people of desert came at the time of sacrifice in the time of Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Store up for three days and give the rest as sadaqah (alms). After than the people said to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم: Messenger of Allah, the people used to benefit from their sacrifices, take and dissolve fat from them, and make water-bags (from their skins). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: What is that ? or whatever he said: They said: Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, you have prohibited to preserve the meat of sacrifice after three days. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: I prohibited you due to a body of people who came to you. Now eat, give it as sadaqah (alms), and store up.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے اور عبداللہ بن ابی بکر کی سند سے بیان کیا, عمرہ بنت عبدالرحمٰن کہتی ہیں کہ, میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قربانی کے موقع پر ( مدینہ میں ) کچھ دیہاتی آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین روز تک کا گوشت رکھ لو، جو باقی بچے صدقہ کر دو ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو اس کے بعد جب پھر قربانی کا موقع آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! لوگ اس سے پہلے اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے، ان کی چربی محفوظ رکھتے تھے، ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بات کیا ہے؟ یا ایسے ہی کچھ کہا، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس وقت اس لیے منع کر دیا تھا کہ کچھ دیہاتی تمہارے پاس آ گئے تھے ( اور انہیں بھی کچھ نہ کچھ کھانے کے لیے ملنا چاہیئے تھا ) ، اب قربانی کے گوشت کھاؤ، صدقہ کرو، اور رکھ چھوڑو ۔
Narrated Nubayshah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: We forbade you to eat their meat for more than three days in order that you might have abundance; now Allah has produced abundance, so you may eat, store up and seek reward. Beware, these days are days of eating, drinking and remembrance of Allah, Most High.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ہم سے خالد الحدہ نے بیان کیا، ابو الملیح رضی اللہ عنہ سے, نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے منع کیا تھا کہ وہ تم سب کو پہنچ جائے، اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور بچا ( بھی ) رکھو اور ( صدقہ دے کر ) ثواب ( بھی ) کماؤ، سن لو! یہ دن کھانے، پینے اور اللہ عزوجل کی یاد ( شکر گزاری ) کے ہیں ۔
Narrated Shaddad bin Aws رضی اللہ عنہ :
There are two characteristics that I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Allah has decreed that everything should be done in a good way, so when you kill use a good method. The version of the narrators other than Muslim says: "So kill in a good manner." And when you slaughter, you should use a good method, for one of you should sharpen his knife, and give the animal as little pain as possible.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ خالد ہدہ سے، ابو قلابہ سے، ابو اشعث کی سند سے، وہ شداد بن اوس سے، انہوں نے کہ
دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ایک یہ کہ : ” اللہ نے ہر چیز کو اچھے ڈھنگ سے کرنے کو فرض کیا ہے لہٰذا جب تم ( قصاص یا حد کے طور پر کسی کو ) قتل کرو تو اچھے ڈھنگ سے کرو ( یعنی اگر خون کے بدلے خون کرو تو جلد ہی فراغت حاصل کر لو تڑپا تڑپا کر مت مارو ) “ ، ( اور مسلم بن ابراہیم کے سوا دوسروں کی روایت میں ہے ) ” تو اچھے ڈھنگ سے قتل کرو ، اور جب کسی جانور کو ذبح کرنا چاہو تو اچھی طرح ذبح کرو اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے “ ۔
Narrated Hisham bin Zaid:
I entered upon al-Hakam bin Ayyub along with Anas رضی اللہ عنہ . He saw some youths or boys who had set up a hen and shooting at it. Anas رضی اللہ عنہ said: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to kill an animal in confinement.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا, ہشام بن زید کہتے ہیں کہ
میں انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس گیا ، تو وہاں چند نوجوانوں یا لڑکوں کو دیکھا کہ وہ سب ایک مرغی کو باندھ کر اسے تیر کا نشانہ بنا رہے ہیں تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے ۔
Narrated Hisham bin Zaid:
I entered upon al-Hakam bin Ayyub along with Anas رضی اللہ عنہ . He saw some youths or boys who had set up a hen and shooting at it. Anas رضی اللہ عنہ said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade to kill an animal in confinement.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے حماد بن خالد الخیاط نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے معاویہ بن صالح نے ابو الظاہریہ سے، جبیر بن نفیر سے، ثوبان رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: ہشام بن زید کہتے ہیں کہ
میں انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس گیا، تو وہاں چند نوجوانوں یا لڑکوں کو دیکھا کہ وہ سب ایک مرغی کو باندھ کر اسے تیر کا نشانہ بنا رہے ہیں تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The verse: So eat of (meats) on which Allah's name hath been pronounced and the verse: Eat not of (meats) on which Allah's name hath not been pronounced were abrogated, meaning an exception was made therein by the verse: The food of the people of the Book is lawful unto you and yours is lawful unto them.
ہم سے احمد بن محمد بن ثابت المروازی نے بیان کیا، مجھ سے علی بن حسین نے اپنے والد سے، یزید النحوی سے، عکرمہ کی سند سے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ «فكلوا مما ذكر اسم الله عليه» سو جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ ( سورۃ الانعام: ۱۱۸ ) «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ( سورۃ الانعام: ۱۲۱ ) تو یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے، اس میں سے اہل کتاب کے ذبیحے مستثنیٰ ہو گئے ہیں ( یعنی ان کے ذبیحے درست ہیں ) ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وطَعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم وطعامكم حل لهم» اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے ( سورۃ المائدہ: ۵ ) ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
Regarding the verse: But the evil ones ever inspire their friend to contend with you They used to say: Do not eat which Allah killed, but eat which you slaughtered. So Allah revealed the verse: Eat not of (meats) on which Allah's name hath not been pronounced . . . to the end of the verse.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سماک نے بیان کیا، عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اللہ عزوجل نے جو یہ فرمایا ہے: «وإن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم» اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں ( سورۃ المائدہ: ۱۲۱ ) تو اس کا شان نزول یہ ہے کہ لوگ کہتے تھے: جسے اللہ نے ذبح کیا ( یعنی اپنی موت مر گیا ) اس کو نہ کھاؤ، اور جسے تم نے ذبح کیا اس کو کھاؤ، تب اللہ نے یہ آیت اتاری «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» ان جانوروں کو نہ کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ( سورۃ الانعام: ۱۲۱ ) ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Jews came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: We eat which we kill but we do not eat which Allah kills? So Allah revealed: Eat not of (meats) on which Allah's name hath not been pronounced. to the end of the verse.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عمران بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عطاء بن السائب نے، وہ سعید بن جبیر کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم اس جانور کو کھاتے ہیں جسے ہم ماریں اور جسے اللہ مارے اسے ہم نہیں کھاتے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade to eat (the meat of animals) slaughtered by the bedouins for vainglory and pride. Abu Dawud said: The narrator Ghundar narrated this tradition as a saying of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما (and not of the Prophet).
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے حماد بن مساعد نے بیان کیا، انہوں نے عوف کی سند سے، وہ ابو ریحانہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کے کھانے سے منع فرمایا ہے جنہیں اعرابی تفاخر کے طور پر کاٹتے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوریحانہ کا نام عبداللہ بن مطر تھا، اور راوی غندر نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف کر دیا ہے۔
Narrated Rafi bin Khadij:
I came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: Messenger of Allah, we shall meet the enemy tomorrow and we have no knives with us. May we kill with a sharp-edged white stone (flint) and with splinter of a staff ? The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Hasten in slaughtering it. When Allah's name is mentioned you may eat what is killed by anything which causes the blood to flow except tooth and claw. I shall tell you about it. The tooth is a bone, and the claw is the knife of Abyssinians. Some people hastened and went forward, they made haste and got booty, while the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was in the rear and they setup cooking pots. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم passed by over the cooking pots. He ordered to turn them over. He then divided (the spoils of war) between them, and gave them a camel for ten goats in equation. One of the camels of the people ran away, and they had no horses with them at that time. A man shot an arrow at it, and Allah prevented it from escaping. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Among animals (i.e. camels) there are some which bolt like wild animals ; so when any of them does so, do with it like this.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاحواص نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن مسروق نے بیان کیا، ان سے عبایہ بن رفاعہ نے اپنے والد سے, رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمنوں سے مقابلہ کرنے والے ہیں، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں کیا ہم سفید ( دھار دار ) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے ( بانس کی کھپچی ) سے ذبح کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جلدی کر لو جو چیز کہ خون بہا دے اور اللہ کا نام اس پر لیا جائے تو اسے کھاؤ ہاں وہ دانت اور ناخن سے ذبح نہ ہو، عنقریب میں تم کو اس کی وجہ بتاتا ہوں، دانت سے تو اس لیے نہیں کہ دانت ایک ہڈی ہے، اور ناخن سے اس لیے نہیں کہ وہ جبشیوں کی چھریاں ہیں ، اور کچھ جلد باز لوگ آگے بڑھ گئے، انہوں نے جلدی کی، اور کچھ مال غنیمت حاصل کر لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پیچھے چل رہے تھے تو ان لوگوں نے دیگیں چڑھا دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دیگوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے انہیں پلٹ دینے کا حکم دیا، چنانچہ وہ پلٹ دی گئیں، اور ان کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت ) تقسیم کیا تو ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا، ایک اونٹ ان اونٹوں میں سے بھاگ نکلا اس وقت لوگوں کے پاس گھوڑے نہ تھے ( کہ گھوڑا دوڑا کر اسے پکڑ لیتے ) چنانچہ ایک شخص نے اسے تیر مارا تو اللہ نے اسے روک دیا ( یعنی وہ چوٹ کھا کر گر گیا اور آگے نہ بڑھ سکا ) اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان چوپایوں میں بھی بدکنے والے جانور ہوتے ہیں جیسے وحشی جانور بدکتے ہیں تو جو کوئی ان جانوروں میں سے ایسا کرے تو تم بھی اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ۔
Narrated Muhammad Ibn Safwan or Safwan Ibn Muhammad:
I hunted two hares and slaughtered them with a flint. I asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم about them. He permitted me to eat them.
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہ ان سے عبد الواحد بن زیاد اور حماد نے عاصم کی سند سے اور شعبی کی سند سے یہی معنی بیان کیا, محمد بن صفوان یا صفوان بن محمد کہتے ہیں
میں نے دو خرگوش شکار کئے اور انہیں ایک سفید ( دھار دار ) پتھر سے ذبح کیا، پھر ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے مجھے ان کے کھانے کا حکم دیا۔
Narrated Ata Ibn Yasar:
A man of Banu Harith was pasturing a pregnant she-camel in one of the ravines of Uhud, (he saw that) it was about to die; he could find nothing to slaughter it; he took a stake and stabbed it in the upper part of its breast until he made its blood flow. He then came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and informed him about that, and he ordered him to eat it.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے زید بن اسلم سے، وہ عطاء بن یسار کی سند سے
بنو حارثہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ وہ احد پہاڑ کے دروں میں سے ایک درے پر اونٹنی چرا رہا تھا، تو وہ مرنے لگی، اسے کوئی ایسی چیز نہ ملی کہ جس سے اسے نحر کر دے، تو ایک کھوٹی لے کر اونٹنی کے سینہ میں چبھو دی یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ نے اسے اس کے کھانے کا حکم دیا۔
Narrated Adi Ibn Hatim رضی اللہ عنہ :
I said: Messenger of Allah, tell me when one of us catches game and has no knife; may he slaughter with a flint and a splinter of stick. He said: Cause the blood to flow with whatever you like and mention Allah's name.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، سماک بن حرب نے مری بن قطری کی سند سے, عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کسی کو کوئی شکار مل جائے اور اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا وہ سفید ( دھار دار ) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے سے ( اس شکار کو ) ذبح کر لے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بسم اللہ اکبر کہہ کر ( اللہ کا نام لے کر ) جس چیز سے چاہے خون بہا دو ۔
Narrated AbulUshara' reported on the authority of his father:
He asked: Messenger of Allah, is the slaughtering to be done only in the upper part of the breast and the throat? The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم replied: If you pierced its thigh, it would serve you. Abu Dawud said: This is the way suitable for slaughtering an animal which has fallen into a well or runs loose.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا, ابوالعشراء اسامہ کے والد مالک بن قہطم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ذبح سینے اور حلق ہی میں ہوتا ہے اور کہیں نہیں ہوتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کے ران میں نیزہ مار دو تو وہ بھی کافی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ «متردی» اور «متوحش» کے ذبح کا طریقہ ہے۔
Narrated Ibn Isa added: (Ibn Abbas) and Abu Hurairah رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade the devil's sacrifice. Abu Isa added in his version: This refers to the slaughtered animal whose skin cut off, and is then left to die without its jugular veins being severed.
ابن المبارک کے مؤکل ہناد بن سری اور حسن بن عیسیٰ نے ہم سے ابن مبارک کی سند سے، معمر کی سند سے، عمرو بن عبداللہ کی سند سے، عکرمہ کی سند سے بیان کیا ہے, عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «شريطة الشيطان» سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ ابن عیسیٰ کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے: اور وہ یہ ہے کہ جس جانور کو ذبح کیا جا رہا ہو اس کی کھال تو کاٹ دی جائے لیکن رگیں نہ کاٹی جائیں، پھر اسی طرح اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ وہ ( تڑپ تڑپ کر ) مر جائے۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri:
I asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم about the embryo. He replied: Eat it if you wish. Musaddad's version says: we said: Messenger of Allah, we slaughter a she-camel, a cow and a sheep, and we find an embryo in its womb. Shall we throw it away or eat it? He replied: Eat it if you wish for the slaughter of its mother serves its slaughter.
ہم سے القعْنبی نے بیان کیا، ہم سے ابن المبارک نے بیان کیا, ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے، مجالد کی سند سے، ابو الوداک کی سند سے,ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بچے کے بارے میں پوچھا جو ماں کے پیٹ سے ذبح کرنے کے بعد نکلتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو اسے کھا لو ۔ مسدد کی روایت میں ہے: ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اونٹنی کو نحر کرتے ہیں، گائے اور بکری کو ذبح کرتے ہیں اور اس کے پیٹ میں مردہ بچہ پاتے ہیں تو کیا ہم اس کو پھینک دیں یا اس کو بھی کھا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو اسے کھا لو، اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کا بھی ذبح کرنا ہے ۔