Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The slaughter of embryo is included when its mother is slaughtered.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بیان کیا، ہم سے عتاب بن بشیر نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن ابی زیاد القدعۃ المکی نے بیان کیا، ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیٹ کے بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے ( یعنی ماں کا ذبح کرنا پیٹ کے بچے کے ذبح کو کافی ہے ) ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
(the narrator Musa did not mention the words from Aishah رضی اللہ عنہا in his version from Hammad, and Malik (two of the narrators) did not mention: "from Aishah رضی اللہ عنہا" that they (the people) said: Messenger of Allah, there are people here, recent converts from polytheism, who bring us meat and we do not know whether or not they mentioned Allah's name over it. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Mention Allah's name and eat.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا, ہم سےقعنبی نے مالک کی سند سے بیان کیا, ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے سلیمان بن حیان اور محدث المعنی نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا، حماد اور مالک کی روایت سے، عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا:لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہیں جو جاہلیت سے نکل کر ابھی نئے نئے ایمان لائے ہیں، وہ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں تو کیا ہم اس میں سے کھائیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بسم الله» کہہ کر کھاؤ ۔
Narrated Nubayshah رضی اللہ عنہ :
A man called the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم: We used to sacrifice Atirah in pre-Islamic days during Rajab; so what do you command us? He said: Sacrifice for the sake of Allah in any month whatever; obey Allah, Most High, and feed (the people). He said: We used to sacrifice a Fara in pre-Islamic days, so what do you command us? He said: On every pasturing animal there is a Fara which is fed by your cattle till it becomes strong and capable of carrying load. The narrator Nasr said (in his version): When it becomes capable of carrying load of the pilgrims, you may slaughter it and give its meat as charity (sadaqah). The narrator Khalid's version says: You (may give it) to the travellers, for it is better. Khalid said: I asked Abu Qilabah: How many pasturing animals? He replied: One hundred.
ہم سے مسدد نے بیان کیا اور ہم سے نصر بن علی نے بشر بن المفضل المعنا کی سند سے بیان کیا، ہم سے خالد الحدہ نے ابو قلابہ سے اور ابو ملیح کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکار کر کہا: ہم جاہلیت میں رجب کے مہینے میں «عتيرة» ( یعنی جانور ذبح ) کیا کرتے تھے تو آپ ہم کو کیا حکم کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جس مہینے میں بھی ہو سکے اللہ کی رضا کے لیے ذبح کرو، اللہ کے لیے نیکی کرو، اور کھلاؤ ۔ پھر وہ کہنے لگا: ہم زمانہ جاہلیت میں «فرع» ( یعنی قربانی ) کرتے تھے، اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چرنے والے جانور میں ایک «فرع» ہے، جس کو تمہارے جانور جنتے ہیں، یا جسے تم اپنے جانوروں کی «فرع» کھلاتے ہو، جب اونٹ بوجھ لادنے کے قابل ہو جائے ( نصر کی روایت میں ہے: جب حاجیوں کے لیے بوجھ لادنے کے قابل ہو جائے ) تو اس کو ذبح کرو پھر اس کا گوشت صدقہ کرو - خالد کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا: مسافروں پر صدقہ کرو - یہ بہتر ہے ۔ خالد کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: کتنے جانوروں میں ایسا کرے؟ انہوں نے کہا: سو جانوروں میں۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم saying: There is no Fara and 'atirah.
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے، وہ سعید کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اسلام میں ) نہ «فرع» ہے اور نہ «عتیرہ» ۔
Narrated Saeed:
Fara was the first animal born to them (the Arabs) which they sacrificed.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، زہری کی سند سے, سعید بن مسیب کہتے ہیں
«فرع» پہلوٹے بچے کو کہتے ہیں جس کی پیدائش پر اسے ذبح کر دیا کرتے تھے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to sacrifice goat out of every fifty goats. Abu Dawud said: Fara means the first baby camel born (to the Arabs). They used to sacrifice it for their idols, and then eat it, and its skin was thrown on a tree. 'Atira was a sacrifice made during the first ten days of Rajab.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے، یوسف بن مہک سے، حفصہ بنت عبدالرحمٰن کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر پچاس بکری میں سے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بعض حضرات نے «فرع» کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اونٹ کے سب سے پہلے بچہ کی پیدائش پر کفار اسے بتوں کے نام ذبح کر کے کھا لیتے، اور اس کی کھال کو درخت پر ڈال دیتے تھے، اور «عتیرہ» ایسے جانور کو کہتے ہیں جسے رجب کے پہلے عشرہ میں ذبح کرتے تھے۔
Narrated Umm Kurz al-Kabiyyah رضی اللہ عنہا :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Two resembling sheep are to be sacrificed for a boy and one for a girl. Abu Dawud said: I heard Ahmad (Ibn Hanbal) say: The Arabic word mukafiAtani means equal (in age) or resembling each other.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے عمرو بن دینار سے، عطاء کی سند سے، حبیبہ بنت میسرہ رضی اللہ عنہا سے, ام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے: ( عقیقہ ) میں لڑکے کی طرف سے دو بکریاں برابر کی ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد نے «مكافئتان» کے معنی یہ کئے ہیں کہ دونوں ( عمر میں ) برابر ہوں یا قریب قریب ہوں۔
Narrated Umm Kurz رضی اللہ عنہا :
I heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم say: Let the birds stay in their roosts. She said: I also heard him say: Two sheep are to be sacrificed for a boy and one for a girl, but it does you no harm whether they are male or female.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ بن ابی یزید سے، اپنے والد سے، سباع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے, ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں بیٹھے رہنے دو ( یعنی ان کو گھونسلوں سے اڑا کر تکلیف نہ دو ) ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے: لڑکے کی طرف سے ( عقیقہ میں ) دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے، اور تمہیں اس میں کچھ نقصان نہیں کہ وہ نر ہوں یا مادہ ۔
Narrated Umm Kurz رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Two sheep which resemble each other are to be sacrificed for a boy and one for a girl. Abu Dawud said: This is a sound tradition, and the tradition narrated by Sufyan is misunderstanding.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ بن ابی یزید کی سند سے، وہ سبا ع بن ثابت کی سند سے, ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( عقیقے میں ) لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہی دراصل حدیث ہے، اور سفیان کی حدیث ( نمبر: ۲۸۳۵ ) وہم ہے ۔
Narrated Samurah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A boy is in pledge for his Aqiqah. Sacrifice is made for him on the seventh day, his head is shaved and is smeared with blood. When Qatadah was asked about smearing with blood, how that should be done, he said: When you cut the head (i. e. throat) of the animal (meant for Aqiqah), you may take a few hair of it, place them on its veins, and then place them in the middle of the head of the infant, so that the blood flows on the hair (of the infant) like a threat. Then its head may be washed and shaved off. Abu Dawud said: In narrating the word is smeared with blood (yudamma) there is a misunderstanding on the part of Hammam. Abu Dawud said: Hammam has been opposed in narrating the words is smeared with blood . This is misunderstanding of Hammam. They narrated he word he is given a name (yusamma) and Hammam narrated it is smeared with blood (yudamma). Abu Dawud said: This tradition is not followed.
ہم سے حفص بن عمر النمری نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے بیان کیا، ہم سے قتادہ نے حسن کی سند سے بیان کیا, سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے میں گروی ہے ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے اور عقیقہ کا خون اس کے سر پر لگایا جائے ۱؎ ۔ قتادہ سے جب پوچھا جاتا کہ کس طرح خون لگایا جائے؟ تو کہتے: جب عقیقے کا جانور ذبح کرنے لگو تو اس کے بالوں کا ایک گچھا لے کر اس کی رگوں پر رکھ دو، پھر وہ گچھا لڑکے کی چندیا پر رکھ دیا جائے، یہاں تک کہ خون دھاگے کی طرح اس کے سر سے بہنے لگے پھر اس کے بعد اس کا سر دھو دیا جائے اور سر مونڈ دیا جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «يدمى» ہمام کا وہم ہے، اصل میں «ويسمى» تھا جسے ہمام نے «يدمى» کر دیا، ابوداؤد کہتے ہیں: اس پر عمل نہیں ہے۔
Narrated Samurah Ibn Jundub:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A boy is in pledge for his Aqiqah, Sacrifice is made for him on the seventh day, his head is shaved and he is given name. Abu Dawud said: The word wa yusamma is sounder as narrated by Salam bin Abi Muti' from Qatadah, and narrated by Iyas bin Daghfal and Ashath from al-Hassan who narrated wa yusamma (and he is given a name).
ہم سے ابن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے سعید کی سند سے، قتادہ کی سند سے اور حسن کی سند سے, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے، ساتویں روز اس کی طرف سے ذبح کیا جائے، اس کا سر منڈایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لفظ «يسمى» لفظ «يدمى» سے زیادہ صحیح ہے، سلام بن ابی مطیع نے اسی طرح قتادہ، ایاس بن دغفل اور اشعث سے اور ان لوگوں نے حسن سے روایت کی ہے، اس میں«ويسمى» کا لفظ ہے، اور اسے اشعث نے حسن سے اور حسن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس میں بھی «ويسمى»ہی ہے۔
Narrated Salman bin Amir al-Dabbi رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Along with a boy there is an 'Aqiqah, so shed blood on his behalf, and remove injury from him.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن حسن نے بیان کیا، ان سے حفصہ بنت سیرین نے، وہ رباب کی سند سے, سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکے کی پیدائش کے ساتھ اس کا عقیقہ ہے تو اس کی جانب سے خون بہاؤ، اور اس سے تکلیف اور نجاست کو دور کرو ( یعنی سر کے بال مونڈو اور غسل دو ) ۔
Narrated Al-Hasan:
To remove the injury is the shaving of the head.
ہم سے یحییٰ بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا, حسن سے روایت ہے، وہ کہتے تھے
تکلیف اور نجاست دور کرنے سے مراد سر مونڈنا ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sacrificed a ram for both al-Hasan and al-Husayn each.
ہم سے ابو معمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے عکرمہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین کی طرف سے ایک ایک دنبہ کا عقیقہ کیا۔
Narrated Amr bin Suhaib from his father's:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was asked about the aqiqah. He replied: Allah does not like the breaking of ties (uquq), as though he disliked the name. And he said: If anyone has a child born to him and wishes to offer a sacrifice on its behalf, he may offer two resembling sheep for a boy and one for a girl. And he was asked about Fara. He replied: Fara is right. If you leave it (i.e. let it grow till it becomes a healthy camel of one year or two years, then you give it to a widow or give it in the path of Allah for using it as a riding beast, it is better than slaughtering it at the age when its meat is stuck to its hair, and you turn over your milking vessel and annoy your she-camel.
ہم سے القعنبی نے بیان کیا، ہم سے داؤد بن قیس نے بیان کیا، وہ عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے کہ ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ,ہم سے محمد بن سلیمان الانباری نے بیان کیا، ان سے عبد الملک نے، یعنی ہم سے ابن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے داؤد کی سند سے، عمرو بن شعیب کے واسطہ سے، اپنے والد سے، میرا خیال ہے کہ ایسا ہی تھا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ«عقوق» ( ماں باپ کی نافرمانی ) کو پسند نہیں کرتا گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کو ناپسند فرمایا، اور مکروہ جانا، اور فرمایا: جس کے یہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اپنے بچے کی طرف سے قربانی ( عقیقہ ) کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں کرے، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «فرع» کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: «فرع» حق ہے اور یہ کہ تم اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ اونٹ جوان ہو جائے، ایک برس کا یا دو برس کا، پھر اس کو بیواؤں محتاجوں کو دے دو، یا اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے دے دو، یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کو ( پیدا ہوتے ہی ) کاٹ ڈالو کہ گوشت اس کا بالوں سے چپکا ہو ( یعنی کم ہو ) اور تم اپنا برتن اوندھا رکھو، ( گوشت نہ ہو گا تو پکاؤ گے کہاں سے ) اور اپنی اونٹنی کو بچے کی جدائی کا غم دو ۔
Narrated Buraydah رضی اللہ عنہ :
When a boy was born to one of us in the pre-Islamic period, we sacrificed a sheep and smeared his head with its blood; but when Allah brought Islam, we sacrificed a sheep, shaved his head and smeared his head with saffron.
ہم سے احمد بن محمد بن ثابت نے بیان کیا، ہم سے علی بن حسین نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
زمانہ جاہلیت میں جب ہم میں سے کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا تو وہ ایک بکری ذبح کرتا اور اس کا خون بچے کے سر میں لگاتا، پھر جب اسلام آیا تو ہم بکری ذبح کرتے اور بچے کا سر مونڈ کر زعفران لگاتے تھے ( خون لگانا موقوف ہو گیا ) ۔