Narrated Abdullah Ibn Amr Ibn al-As رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Knowledge has three categories; anything else is extra; a precise verse, or an established sunnah (practice), or a firm obligatory duty.
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن زیاد نے بیان کیا، وہ عبدالرحمٰن بن رافع التنوخی کی سند سے, عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اصل ) علم تین ہیں اور ان کے علاوہ علوم کی حیثیت فضل ( زائد ) کی ہے: آیت محکمہ ، یا سنت قائمہ ، یا فریضہ عادلہ ۔
Narrated Jabir:
I fell ill, and the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and Abu Bakr رضی اللہ عنہ came to me on foot to visit me. As I was unconscious, I could not speak to him. He performed ablution and sprinkled water on me ; so I became conscious. I said: Messenger of Allah, how should I do in my property, as I have sisters? Thereafter the verse about inheritance was revealed: They ask thee for legal decision. Say: Allah directs (thus) about those who leave no descendants or ascendants as heirs.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن المنکدر رضی اللہ عنہ سے سنا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں بیمار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے دیکھنے کے لیے پیدل چل کر آئے، مجھ پر غشی طاری تھی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہ کر سکا تو آپ نے وضو کیا اور وضو کے پانی کا مجھ پر چھینٹا مارا تو مجھے افاقہ ہوا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنا مال کیا کروں اور بہنوں کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے، اس وقت میراث کی آیت«يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» آپ سے فتوی پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ ( خود ) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے ( سورۃ النساء: ۱۷۶ ) ، اتری ۔
Narrated Jabir iIn Abdullah:
I fell ill, and I had seven sisters. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to me and blew on my face. So I became conscious. I said: Messenger of Allah, may I not bequeath one-third of my property to my sisters? He replied: Do good. I asked: Half? He replied: Do good. He then went out and left me, and said: I do not think, Jabir, you will die of this disease. Allah has revealed (verses) and described the share of your sisters. He appointed two-thirds for them. Jabir used to say: This verse was revealed about me: They ask thee for a legal decision. Say: Allah directs (thus) about those who leave no descendants or ascendants as heirs.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے کثیر بن ہشام نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ہم سے الدستوی نے بیان کیا، ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں بیمار ہوا اور میرے پاس سات بہنیں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے چہرے پر پھونک ماری تو مجھے ہوش آ گیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی بہنوں کے لیے ثلث مال کی وصیت نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نیکی کرو ، میں نے کہا آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکی کرو ، پھر آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! میرا خیال ہے تم اس بیماری سے نہیں مرو گے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام اتارا ہے اور تمہاری بہنوں کا حصہ بیان کر دیا ہے، ان کے لیے دو ثلث مقرر فرمایا ہے ۔ جابر کہا کرتے تھے کہ یہ آیت «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» میرے ہی متعلق نازل ہوئی ہے۔
Narrated Al-Bara bin Azib رضی اللہ عنہما :
The last verse revealed about the decease who left no descendants or ascendants: They ask thee for the legal decision. Say: Allah directs (thus) about those who leave no descendants or ascendants as heirs.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابواسحاق کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
کلالہ کے سلسلے میں آخری آیت جو نازل ہوئی ہے وہ: «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ہے ۔
Narrated Al-Bara Ibn Azib رضی اللہ عنہما :
A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: Messenger of Allah, they ask thee for a legal decision about a kalalah. What is meant by kalalah? He replied: The verse revealed in summer is sufficient for you. I asked Abu Ishaq: Does it mean a person who dies and leaves neither children nor father? He said: This is so. The people think it is so.
ہم سے منصور بن ابی مزاحم نے بیان کیا، ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، ابو اسحاق کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول!«يستفتونك في الكلالة» میں کلالہ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: آیت «صيف» تمہارے لیے کافی ہے۔ ابوبکر کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے کہا: کلالہ وہی ہے نا جو نہ اولاد چھوڑے نہ والد؟ انہوں نے کہا: ہاں، لوگوں نے ایسا ہی سمجھا ہے۔
Narrated Huzail bin Shurahbil al-Awadi:
A man came to Abu Musa al-Ashari رضی اللہ عنہ and Salman bin Rabiah, and asked about a case where there were a daughter, a son's daughter and full sister. They replied: The daughter gets half and the full gets half. The son's daughter gets nothing. Go to Ibn Masud and you will find that he agrees with me. So the man came to him and informed him about their opinion. He said: I would then be in error and not be one of those who are rightly guided. But I decide concerning the matter as the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did: The daughter gets half, and the son's daughter gets a share which complete thirds (i.e. gets a sixth), and what remain to the full sister.
ہزیل بن شرحبیل اودی کہتے ہیں
ایک شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سلیمان بن ربیعہ کے پاس آیا اور ان دونوں سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ایک بیٹی ہو اور ایک پوتی اور ایک سگی بہن ( یعنی ایک شخص ان کو وارث چھوڑ کر مرے ) تو اس کی میراث کیسے بٹے گی؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ بیٹی کو آدھا اور سگی بہن کو آدھا ملے گا، اور انہوں نے پوتی کو کسی چیز کا وارث نہیں کیا ( اور ان دونوں نے پوچھنے والے سے کہا ) تم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی جا کر پوچھو تو وہ بھی اس مسئلہ میں ہماری موافقت کریں گے، تو وہ شخص ان کے پاس آیا اور ان سے پوچھا اور انہیں ان دونوں کی بات بتائی تو انہوں نے کہا: تب تو میں بھٹکا ہوا ہوں گا اور راہ یاب لوگوں میں سے نہ ہوں گا، لیکن میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، اور وہ یہ کہ بیٹی کا آدھا ہو گا اور پوتی کا چھٹا حصہ ہو گا دو تہائی پورا کرنے کے لیے ( یعنی جب ایک بیٹی نے آدھا پایا تو چھٹا حصہ پوتی کو دے کر دو تہائی پورا کر دیں گے ) اور جو باقی رہے گا وہ سگی بہن کا ہو گا۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہما :
We went out with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and came to a woman of the Ansar in al-Aswaf. The woman brought her two daughters, and said: Messenger of Allah, these are the daughters of Thabit Ibn Qays رضی اللہ عنہ who was killed as a martyr when he was with you at the battle of Uhud, their paternal uncle has taken all their property and inheritance, and he has not left anything for them. What do you think, Messenger of Allah? They cannot be married unless they have some property. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah will decide regarding the matter. Then the verse of Surat an-Nisa was revealed: Allah (thus) directs you as regards your children's (inheritance). Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Call to me the woman and her husband's brother. He then said to their paternal uncle: Give them two-thirds and their mother an eighth, and what remains is yours. Abu Dawud said: The narrator Bishr made a mistake. They were the daughters of Saad bin al-Rabi for Thabit bin Qais رضی اللہ عنہ was killed in the battle of Yamamah.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے بشر بن المفضل نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن محمد بن عقیل نے بیان کیا، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو اسواف ( مدینہ کے حرم ) میں ایک انصاری عورت کے پاس پہنچے، وہ عورت اپنی دو بیٹیوں کو لے کر آئی، اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! یہ دونوں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیٹیاں ہیں، جو جنگ احد میں آپ کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں، ان کے چچا نے ان کا سارا مال اور میراث لے لیا، ان کے لیے کچھ بھی نہ چھوڑا، اب آپ کیا فرماتے ہیں؟ اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! ان کا نکاح نہیں ہو سکتا جب تک کہ ان کے پاس مال نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ فرمائے گا ، پھر سورۃ نساء کی یہ آیتیں «يوصيكم الله في أولادكم»نازل ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کو اور اس کے دیور کو بلاؤ ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں لڑکیوں کے چچا سے کہا: دو تہائی مال انہیں دے دو، اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دو، اور جو انہیں دینے کے بعد بچا رہے وہ تمہارا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں بشر نے غلطی کی ہے، یہ دونوں بیٹیاں سعد بن ربیع کی تھیں، ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ تو جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The wife of Saad bin al-Rabi said: Messenger of Allah, Saad died and left two daughters. He then narrated the rest of the tradition in a similar way. Abu Dawud said: This is the most correct tradition.
ہم سے ابن سرح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے داؤد بن قیس اور دیگر اہل علم نے بیان کیا، عبداللہ بن محمد بن عقیل کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
سعد بن ربیع کی عورت نے کہا: اللہ کے رسول! سعد مر گئے اور دو بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔
Narrated Al-Aswad bin Yazid:
Muadh bin Jabal رضی اللہ عنہ gave shares of inheritance to a sister and a daughter. He gave each of them half. He was at Yemen while the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was alive.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابان نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوالحسن نے بیان کیا, اسود بن یزید کہتے ہیں کہ
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بہن اور بیٹی میں اس طرح ترکہ تقسیم کیا کہ آدھا مال بیٹی کو ملا اور آدھا بہن کو ( کیونکہ بہن بیٹی کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہے ) اور وہ یمن میں تھے، اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت باحیات تھے۔
Narrated Qabisah Ibn Dhuwayb:
A grandmother came to Abu Bakr رضی اللہ عنہ asking him for her share of inheritance. He said: There is nothing prescribed for you in Allah's Book, nor do I know anything for you in the Sunnah of the Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم Go home till I question the people. He then questioned the people, and al-Mughirah Ibn Shubah رضی اللہ عنہ said: I had been present with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم when he gave grandmother a sixth. Abu Bakr رضی اللہ عنہ said: Is there anyone with you? Muhammad Ibn Maslamah stood and said the same as al-Mughirah Ibn Shubah رضی اللہ عنہ had said. So Abu Bakr رضی اللہ عنہ made it apply to her. Another grandmother came to Umar Ibn al-Khattab رضی اللہ عنہ asking him for her share of inheritance. He said: Nothing has been prescribed for you in Allah's Book. The decision made before you was made for a grandmother other than you. I am not going to add in the shares of inheritance; but it is that sixth. If there are two of you, it is shared between you, but whichever of you is the only one left gets it all.
ہم سے القعْنبی نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، عثمان بن اسحاق بن خرشہ سے روایت کی ہے, قبیصہ بن ذویب کہتے ہیں کہ
میت کی نانی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس میراث میں اپنا حصہ دریافت کرنے آئی تو انہوں نے کہا: اللہ کی کتاب ( قرآن پاک ) میں تمہارا کچھ حصہ نہیں ہے، اور مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی تمہارے لیے کچھ نہیں معلوم، تم جاؤ میں لوگوں سے دریافت کر کے بتاؤں گا، پھر انہوں نے لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ نے اسے چھٹا حصہ دلایا ہے، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے ( جو اس معاملے کو جانتا ہو ) تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی وہی بات کہی جو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہی تھی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے اسی کو نافذ کر دیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں دادی عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا میراث مانگنے آئی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں تمہارے حصہ کا ذکر نہیں ہے اور پہلے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ) جو حکم ہو چکا ہے وہ نانی کے معاملے میں ہوا ہے، میں اپنی طرف سے فرائض میں کچھ بڑھا نہیں سکتا، لیکن وہی چھٹا حصہ تم بھی لو، اگر نانی بھی ہو تو تم دونوں ( «سدس» ) کو بانٹ لو اور جو تم دونوں میں اکیلی ہو ( یعنی صرف نانی یا صرف دادی ) تو اس کے لیے وہی چھٹا حصہ ہے۔
Narrated Buraydah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم appointed a sixth to a grandmother if no mother is left to inherit before her.
ہم سے محمد بن عبدالعزیز بن ابی رزمہ نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ ابو المنیب العتکی نے بیان کیا, بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نانی کا چھٹا حصہ مقرر فرمایا ہے اگر ماں اس کے درمیان حاجب نہ ہو ( یعنی اگر میت کی ماں زندہ ہو گی تو وہ نانی کو حصے سے محروم کر دے گی ) ۔
Narrated Imran Ibn Husayn:
A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: My son has died; what do I receive from his estate? He replied: You receive a sixth. When he turned away he called him and said: You receive another sixth. When he turned away, he called him and said: The other sixth is an allowance (beyond what is due). Qatadah said: They (the Companions) did not know the heirs with whom he was given (a sixth). Qatadah said: The minimum share given to the grandfather was a sixth.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے، قتادہ کی سند سے، حسن کی سند سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا پوتا مر گیا ہے، مجھے اس کی میراث سے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے چھٹا حصہ ہے ، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ نے اس کو بلایا اور فرمایا: تمہارے لیے ایک اور چھٹا حصہ ہے ، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے بلایا اور فرمایا: یہ دوسرا «سدس» تمہارے لیے تحفہ ہے ۔ قتادہ کہتے ہیں: معلوم نہیں دادا کو کس کے ساتھ سدس حصہ دار بنایا؟ ۔ قتادہ کہتے ہیں: سب سے کم حصہ جو دادا پاتا ہے وہ «سدس» ہے۔
Al-Hasan reported:
Umar رضی اللہ عنہ asked: Which of your knows what share the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had given to the grandfather from the estate? Maqil Ibn Yasar رضی اللہ عنہ said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave him a sixth. He asked: Along with whom? He replied: I do not know. He said: You do not know; what is the use then?
ہم سے وہب بن بقیہ نے خالد کی سند سے اور یونس سے, حسن بصری کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادا کو ترکے میں سے جو دلایا ہے اسے تم میں کون جانتا ہے؟ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ( جانتا ہوں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھٹا حصہ دلایا ہے، انہوں نے پوچھا: کس وارث کے ساتھ؟ وہ کہنے لگے: یہ تو معلوم نہیں، اس پر انہوں نے کہا: تمہیں پوری بات معلوم نہیں پھر کیا فائدہ تمہارے جاننے کا؟ ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Divide the property among those whose share have been prescribed in the Book of Allah, and what remains from the prescribed shares goes to the nearest male heirs.
ہم سے احمد بن صالح اور مخلد بن خالد نے بیان کیا اور یہ مخلد کی حدیث ہے اور یہ سب سے مکمل ہے۔ انہوں نے کہا: ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے بیان کیا، ابن طاؤس نے اپنے والد سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذوی الفروض میں مال کتاب اللہ کے مطابق تقسیم کر دو اور جو ان کے حصوں سے بچ رہے وہ اس مرد کو ملے گا جو میت سے سب سے زیادہ قریب ہو ۔
Narrated Al-Miqdam رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone leaves a debt or a helpless family I shall be responsible-and sometimes the narrator said: Allah and His Messenger will be responsible-but if anyone leaves property, it goes to his heirs. I am the heirs of him who has none, paying blood-wit for him and inheriting from him; and a maternal uncle is the heir of him who has none, paying blood-wit for him and inheriting from him.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے بدیل کی سند سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ کی سند سے، وہ راشد بن سعد کی سند سے، انہوں نے ابوعامر الحوثانی عبداللہ بن لحیٰ سے, مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بوجھ ( قرضہ یا بال بچے ) چھوڑ جائے تو وہ میری طرف ہے، اور کبھی راوی نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جس کا کوئی وارث نہیں اس کا میں وارث ہوں، میں اس کی طرف سے دیت دوں گا اور اس شخص کا ترکہ لوں گا، ایسے ہی ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں وہ اس کی دیت دے گا اور اس کا وارث ہو گا۔
Narrated Al-Miqdam al-Kindi رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: I am nearer to every believer than himself, so if anyone leaves a debt or a helpless family, I shall be responsible, but if anyone leaves property, it goes to his heirs. I am patron of him who has none, inheriting his property and freeing him from his liabilities. A maternal uncle is patron of him who has none, inheriting his property and freeing him from his liabilities. Abu Dawud said: da'iah means dependants or helpless family. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Zubaidi from Rashid bin Saad from Ibn 'A'idh on the authority of al-Miqdam. It has also been transmitted by Muawiyah bin Salih from Rashid who said: I heard al-Miqdam (say).
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا اور دوسروں نے کہا, ہم سے حماد نے بدیل کی سند سے، یعنی ابن میسرہ نے علی بن ابی طلحہ سے، راشد بن سعد کی سند سے، ابو عامر الحوزنی کی سند سے, مقدام کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مسلمان سے اس کی ذات کی نسبت قریب تر ہوں، جو کوئی اپنے ذمہ قرض چھوڑ جائے یا عیال چھوڑ جائے تو اس کا قرض ادا کرنا یا اس کے عیال کی پرورش کرنا میرے ذمہ ہے، اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے، اور جس کا کوئی والی نہیں اس کا والی میں ہوں، میں اس کے مال کا وارث ہوں گا، اور میں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا، اور جس کا کوئی والی نہیں، اس کا ماموں اس کا والی ہے ( یہ ) اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو زبیدی نے راشد بن سعد سے، راشد نے ابن عائذ سے، ابن عائذ نے مقدام سے روایت کیا ہے اور اسے معاویہ بن صالح نے راشد سے روایت کیا ہے اس میں «عن المقدام» کے بجائے «سمعت المقدام» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «ضيعة» کے معنی «عیال» کے ہیں۔
Narrated Al-Miqdam رضی اللہ عنہ from his father:
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: I am the heirs of Him who has none, freeing him from his liabilities, and inheriting what he possesses. A maternal uncle is the heir of Him who has none, freeing him from his liabilities, and inheriting his property.
ہم سے عبدالسلام بن عتیق الدمشقی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن المبارک نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، ان سے یزید بن حجر نے، صالح بن یحییٰ بن مقدام رضی اللہ عنہ کی سند سے، انہوں نے اپنے والد کی سند سے کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس کا کوئی وارث نہیں اس کا وارث میں ہوں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا، اور اس کے مال کا وارث ہوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں وہ اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا، اور اس کے مال کا وارث ہو گا۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
A client of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم died and left some property, but he left no child or relative. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Give what he has left to a man belonging to his village. Abu Dawud said: The tradition of Sufyan is more perfect. Musaddad said: Thereupon the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Is there anyone belonging to his land ? They replied: Yes. He said: Then give him what he has left.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا, ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع بن الجراح نے بیان کیا، ان سب سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے ابن اصبہانی سے، انہوں نے مجاہد بن وردان سے، انہوں نے عروہ سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام مر گیا، کچھ مال چھوڑ گیا اور کوئی وارث نہ چھوڑ ا، نہ کوئی اولاد، اور نہ کوئی عزیز، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا ترکہ اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی روایت سب سے زیادہ کامل ہے، مسدد کی روایت میں ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہاں کوئی اس کا ہم وطن ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا ترکہ اس کو دے دو ۔
Narrated Buraydah رضی اللہ عنہ :
A man came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: I have property left by a man of Azd. I do not find any man of Azd to give it to him. He said: Go and look for man of Azd for a year. He then came to him after one year and said: Messenger of Allah, I did not find any man of Azd to give it to him. He said: Look for a man of Khuzaah whom you meet first and give it to him. When he turned away, he said; Call the man to me. When he came to him, he said: Look for the leading man of Khuzaah and give it to him.
ہم سے عبداللہ بن سعید الکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے المحاربی نے بیان کیا، ان سے جبریل بن احمر نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: قبیلہ ازد کے ایک آدمی کا ترکہ میرے پاس ہے اور مجھے کوئی ازدی مل نہیں رہا ہے جسے میں یہ ترکہ دے دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک کسی ازدی کو تلاش کرتے رہو ۔ وہ شخص پھر ایک سال بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ازدی نہیں ملا کہ میں اسے ترکہ دے دیتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ کسی خزاعی ہی کو تلاش کرو، اگر مل جائے تو مال اس کو دے دو ، جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کو میرے پاس بلا کے لاؤ ، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اس کو یہ مال دے دینا ۔
Narrated Buraydah رضی اللہ عنہ from his father:
A man of Khuzaah died and his estate was brought to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He said: Look for his heir or some relative. But they found neither heir nor relative. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Give it to the leading man of Khuzaah. The narrator Yahya said: Sometimes I heard him (al-Husayn ibn Aswad) say in this tradition: Look for the greatest man of Khuzaah.
ہم سے حسین بن اسود عجلی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ہم سے شارق نے بیان کیا، جبریل بن احمر ابوبکر سے، ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
خزاعہ ( قبیلہ ) کے ایک شخص کا انتقال ہو گیا، اس کی میراث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو آپ نے فرمایا: اس کا کوئی وارث یا ذی رحم تلاش کرو تو نہ اس کا کوئی وارث ملا، اور نہ ہی کوئی ذی رحم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خزاعہ میں سے جو بڑا ہو اسے میراث دیدو ۔ یحییٰ کہتے ہیں: ایک بار میں نے شریک سے سنا وہ اس حدیث میں یوں کہتے تھے: دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اسے دے دو۔