Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
A man died leaving no heir but a slave whom he had emancipated. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم asked: Has he any heir? They replied: No, except a slave whom he had emancipated. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم assigned his estate to him (the emancipated slave).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، انہیں عمرو بن دینار نے اوصجہ کی سند سے خبر دی، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مر گیا اور ایک غلام کے سوا جسے وہ آزاد کر چکا تھا کوئی وارث نہ چھوڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کوئی اس کا وارث ہے؟ لوگوں نے کہا: کوئی نہیں سوائے ایک غلام کے جس کو اس نے آزاد کر دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو اس کا ترکہ دلا دیا۔
Narrated Wathilah Ibn al-Asqa رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A woman gets inheritance from the three following: one she has set free, a foundling, and her child about whom she has invoked a curse on herself if she was untrue in declaring he was not born out of wedlock.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا، ان سے عمر بن رباح اتغلبی نے بیان کیا، ان سے عبد الواحد بن عبد اللہ النصری نے بیان کیا, واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں
آپ نے فرمایا: عورت تین شخص کی میراث سمیٹ لیتی ہے: اپنے آزاد کئے ہوئے غلام کی، راہ میں پائے ہوئے بچے کی، اور اپنے اس بچے کی جس کے سلسلہ میں لعان ہوا ہو ( یعنی جس کے نسب سے شوہر منکر ہو گیا ہو ) تو عورت اس کی وارث ہو گی ۔
Narrated Makhul:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم assigned the estate of a child of a woman about whom she had invoked a curse to her mother, and to her heirs after her.
ہم سے محمود بن خالد اور موسیٰ بن عامر نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، ہمیں ابن جابر نے خبر دی, مکحول کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان والی عورت کے بچے کی میراث اس کی ماں کو دلائی ہے پھر اس کی ماں کے بعد ماں کے وارثوں کو دلائی ہے ۔
Narrated Amr bin Shuaib: On his father's authority, said that his grandfather reported from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم something similar.
ہم سے موسیٰ بن عامر نے بیان کیا، ہم سے الولید نے بیان کیا، مجھے عیسیٰ ابو محمد نے خبر دی، انہیں علاء بن حارث نے، عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے، اپنے دادا سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی۔
Narrated Usamah bin Zaid رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: A Muslim may not inherit from an infidel nor an infidel from a Muslim.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے، زہری سے، علی بن حصین سے، عمرو بن عثمان کی سند سے, اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا ۔
Narrated Usamah bin Zaid رضی اللہ عنہما :
I said: O Messenger of Allah, where will you stay tomorrow ? This (happened) during his Hajj. He replied: Has Aqil left any house for us ? He then said: We shall stay at the valley of Banu Kinarah where the Quraish took an oath on unbelief. This refers to al-Muhassab. The reason is that Banu Kinarah made an alliance with the Quraish against Banu Hashim that they would have no marital connections with them, nor will have commercial transactions with them, not will give them any refuge. Al-Zuhri said: Khalf means valley.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے، علی بن حسین سے، عمرو بن عثمان سے, اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کل آپ ( مکہ میں ) کہاں اتریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی جائے قیام چھوڑی ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بنی کنانہ کے خیف یعنی وادی محصب میں اتریں گے، جہاں قریش نے کفر پر جمے رہنے کی قسم کھائی تھی ۔ بنو کنانہ نے قریش سے عہد لیا تھا کہ وہ بنو ہاشم سے نہ نکاح کریں گے، نہ خرید و فروخت، اور نہ انہیں اپنے یہاں جگہ ( یعنی پناہ ) دیں گے۔ زہری کہتے ہیں: خیف ایک وادی کا نام ہے ۔
Narrated Abdullah Ibn Amr Ibn al-As:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: people of two different religions would not inherit from one another.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے حبیب المعلم کی سند سے، عمرو بن شعیب سے اپنے والد سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دین والے ( یعنی مسلمان اور کافر ) کبھی ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے ۔
Narrated Abdullah bin Buraidah:
Two brothers (brought their) dispute to Yahya bin Yamar, a jew and a Muslim. He made the Muslim heir among them. He (Yahya) said: "Abu Al-Aswad narrated to him that Mua'd said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم saying: Islam increases (one) and does not decrease (one)." So he made the Muslim heir (of a non-Muslim).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبد الوارث نے بیان کیا، عمرو بن ابی حکیم الواسطیٰ سے عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ
دو بھائی اپنا جھگڑا یحییٰ بن یعمر کے پاس لے گئے ان میں سے ایک یہودی تھا، اور ایک مسلمان، انہوں نے مسلمان کو میراث دلائی، اور کہا کہ ابوالاسود نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ ان سے ایک شخص نے بیان کیا کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اسلام بڑھتا ہے گھٹتا نہیں ہے پھر انہوں نے مسلمان کو ترکہ دلایا۔
Narrated Abu Al-Aswad al-Dili:
Muadh رضی اللہ عنہ bought the property of a Jew whose heir was a Muslim. He then narrated from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to the same effect.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے شعبہ کی سند سے، وہ عمرو بن ابی حکیم کی سند سے، وہ عبداللہ بن بریدہ سے، وہ یحییٰ بن یامر سے, ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ
معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی کا ترکہ لایا گیا جس کا وارث ایک مسلمان تھا، اور اسی مفہوم کی حدیث انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: An estate which was divided in pre-Islamic period may follow the division in force then, but any estate in Islamic times must follow the division laid down by Islam.
ہم سے حجاج بن ابی یعقوب نے بیان کیا، ہم سے موسیٰ بن داؤد نے بیان کیا، ہم سے محمد بن مسلمہ نے بیان کیا، وہ عمرو بن دینار سے، انہوں نے ابو الشعثاۃ کی سند سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں جو ترکہ تقسیم ہو گیا ہو وہ زمانہ اسلام میں بھی اسی حال پر باقی رہے گا، اور جو ترکہ اسلام کے زمانہ تک تقسیم نہیں ہوا تو اب اسلام کے آ جانے کے بعد اسلام کے قاعدہ و قانون کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
Aishah, mother of believers ( رضی اللہ عنہا ), intended to buy a slave-girl to set her free. Her people said: We shall sell her to you on one condition that we shall inherit from her. Aishah رضی اللہ عنہما mentioned it to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He said: That should not prevent you, for the right of inheritance belongs to the one who has set a person free.
قتیبہ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے اسے مالک کے سامنے پڑھ کر سنایا۔ مالک نے کہا: نافع نے اسے میرے سامنے پیش کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خرید کر آزاد کرنا چاہا تو اس کے مالکوں نے کہا کہ ہم اسے اس شرط پر آپ کے ہاتھ بیچیں گے کہ اس کا حق ولاء ہمیں حاصل ہو، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: یہ خریدنے میں تمہارے لیے رکاوٹ نہیں کیونکہ ولاء اسی کا ہے جو آزاد کرے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The right of inheritance belongs to only to the one who paid the price (of the slave) and patronised him by doing an act of gratitude.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولاء اس شخص کا حق ہے جو قیمت دے کر خرید لے اور احسان کرے ( یعنی خرید کر غلام کو آزاد کر دے ) ۔
Narrated Amr bin Suhaib, from his father, said that his grandfather reported:
Rabab bin Hudhayfah married a woman and three sons were born to him from her. Their mother then died. They inherited her houses and had the right of inheritance of her freed slaves. Amr Ibn al-As رضی اللہ عنہ was the agnate of her sons. He sent them to Syria where they died. Amr Ibn al-As رضی اللہ عنہ then came. A freed slave of hers died and left some property. Her brothers disputed with him and brought the case to Umar Ibn al-Khattab رضی اللہ عنہ . Umar رضی اللہ عنہ reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Whatever property a son or a father receives as an heir will go to his agnates, whoever they may be. He then wrote a document for him, witnessed by Abdur Rahman Ibn Awf, Zayd Ibn Thabit رضی اللہ عنہ and one other person. When Abdul Malik became caliph, they presented the case to Hisham Ibn Ismail or Ismail Ibn Hisham (the narrator is doubtful). He sent them to Abdul-Malik رضی اللہ عنہ who said: This is the decision which I have already seen. The narrator said: So he (Abdul-Malik) made the decision on the basis of the document of Umar Ibn al-Khattab رضی اللہ عنہ, and that is still with us till this moment.
ہم سے عبداللہ بن عمرو بن ابی الحجاج ابو معمر نے بیان کیا، ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین المعلم نے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
رئاب بن حذیفہ نے ایک عورت سے شادی کی، اس کے بطن سے تین لڑکے پیدا ہوئے، پھر لڑکوں کی ماں مر گئی، اور وہ لڑکے اپنی ماں کے گھر کے اور اپنی ماں کے آزاد کئے ہوئے غلاموں کی ولاء کے مالک ہوئے، اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ان لڑکوں کے عصبہ ( یعنی وارث ) ہوئے اس کے بعد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہیں شام کی طرف نکال دیا، اور وہ وہاں مر گئے تو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ آئے اور اس عورت کا ایک آزاد کیا ہوا غلام مر گیا اور مال چھوڑ گیا تو اس عورت کے بھائی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اس عورت کے ولاء کا مقدمہ لے گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ولاء اولاد یا باپ حاصل کرے تو وہ اس کے عصبوں کو ملے گی خواہ کوئی بھی ہو ( اولاد کے یا باپ کے مر جانے کے بعد ماں کے وارثوں کو نہ ملے گی ) پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس باب میں ایک فیصلہ نامہ لکھ دیا اور اس پر عبدالرحمٰن بن عوف اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اور ایک اور شخص کی گواہی ثابت کر دی، جب عبدالملک بن مروان خلیفہ ہوئے تو پھر ان لوگوں نے جھگڑا کیا یہ لوگ اپنا مقدمہ ہشام بن اسماعیل یا اسماعیل بن ہشام کے پاس لے گئے انہوں نے عبدالملک کے پاس مقدمہ کو بھیج دیا، عبدالملک نے کہا: یہ فیصلہ تو ایسا لگتا ہے جیسے میں اس کو دیکھ چکا ہوں۔ راوی کہتے ہیں پھر عبدالملک نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ دیا اور وہ ولاء اب تک ہمارے پاس ہے۔
Narrated Tamim ad-Dari رضی اللہ عنہ :
I asked: O Messenger of Allah! what is the sunnah about a man who accepts Islam by advice and persuasion of a Muslim? He replied: He is the nearest to him in life and in death.
ہم سے یزید بن خالد بن موہب رملی اور ہشام بن عمار نے بیان کیا : ہم سے یحییٰ نے بیان کیا , ابوداؤد، جو ابن حمزہ کہتے ہیں, عبد العزیز بن عمر کی روایت سے، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن موہب کو سنا,عمر بن عبدالعزیز نے قبیصہ بن ذویب سے روایت کی ہے کہ ہشام نے کہا,تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کے بارے میں شرع کا کیا حکم ہے جو کسی مسلمان شخص کے ہاتھ پر ایمان لایا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص دوسروں کی بہ نسبت اس کی موت و حیات کے زیادہ قریب ہے ( اگر اس کا کوئی اور وارث نہ ہو تو وہی وارث ہو گا ) ۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade selling or giving away the right to inheritance by a manumitted slave.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، عبداللہ بن دینار سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When an infant has raised its voice (and then dies), it will be treated as an heir.
ہم سے حسین بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے عبد الاعلی نے بیان کیا، ان سے محمد نے، یعنی ہم سے ابن اسحاق نے، ہم سے یزید بن عبداللہ بن قسیط نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بچہ آواز کرے تو وراثت کا حقدار ہو جائے گا ۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
To those also, to whom your right hand was pledged, give their due portion. A man made an agreement with another man (in early days of Islam), and there was no relationship between the; one of them inherited from the other. The following verse of Surat Al-Anfal abrogated it: But kindred by blood have prior right against each other.
ہم سے احمد بن محمد بن ثابت نے بیان کیا، مجھ سے علی بن حصین نے، اپنے والد سے، یزید النحوی سے، عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
اللہ تعالیٰ کے فرمان: «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» جن لوگوں سے تم نے قسمیں کھائی ہیں ان کو ان کا حصہ دے دو ( سورۃ النساء: ۳۳ ) کے مطابق پہلے ایک شخص دوسرے شخص سے جس سے قرابت نہ ہوتی باہمی اخوت اور ایک دوسرے کے وارث ہونے کا عہد و پیمان کرتا پھر ایک دوسرے کا وارث ہوتا، پھر یہ حکم سورۃ الانفال کی آیت:«وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض» اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں ( سورۃ الانفال: ۷۵ ) سے منسوخ ہو گیا۔
Narrator Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
Regarding the following Quranic verse: To those also, to whom your right hand was pledged, give your portion. When the Emigrants came to Madina. they inherited from the Helpers without any blood-relationship with them for the brotherhood which the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم established between them. When the following verse was revealed: To (benefit) everyone we have appointed shares and heirs to property left by parent and relatives. it abrogated the verse: To those also, to whom your right hand was pledged, give their due portion. This alliance was made for help, well wishing and cooperation. Now a legacy can be made for him. (The right to)inheritance was abolished.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اللہ تعالیٰ کے قول: «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» کا قصہ یہ ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے تو اس مواخات ( بھائی چارہ ) کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے درمیان کرا دی تھی وہ انصار کے وارث ہوتے ( اور انصار ان کے وارث ہوتے ) اور عزیز و اقارب وارث نہ ہوتے، لیکن جب یہ آیت«ولكل جعلنا موالي مما ترك» ماں باپ یا قرابت دار جو چھوڑ کر مریں اس کے وارث ہم نے ہر شخص کے مقرر کر دیے ہیں ( سورۃ النساء: ۳۳ ) نازل ہوئی تو «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» والی آیت کو منسوخ کر دیا، اور اس کا مطلب یہ رہ گیا کہ ان کی اعانت، خیر خواہی اور سہارے کے طور پر جو چاہے کر دے نیز ان کے لیے وہ ( ایک تہائی مال ) کی وصیت کر سکتا ہے، میراث ختم ہو گئی۔
Narrated Dawud bin al-Husain:
I used to learn the reading of the Quran from Umm Saad, daughter of al-Rabi. She was an orphan in the guardianship of Abu Bakr رضی اللہ عنہ. I read the Quranic verse To those also to whom your right hand was pledged. She said: Do not read the verse; To those also to whom your right hand was pledged. This was revealed about Abu Bakr رضی اللہ عنہ and his son Abdur-Rahman when he refused to accept Islam. Abu Bakr رضی اللہ عنہ took an oath that he would not give him a share from inheritance. When he embraced Islam Allah Most High commanded His Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to give him the share. The narrator Abdul-Aziz added: He did not accept Islam until he was urged on Islam by sword. Abu Dawud said: He who narrated the word 'aqadat means a pact ; and he who narrated the word 'aaqadat means the party who made a pact. The correct is the tradition of Talhah ('aaqadat).
ہم سے احمد بن حنبل اور عبد العزیز بن یحییٰ المعنی نے بیان کیا - احمد نے کہا - ہم سے محمد بن سلمہ نے ابن اسحاق کی سند سے بیان کیا, داود بن حصین کہتے ہیں کہ
میں ام سعد بنت ربیع سے ( کلام پاک ) پڑھتا تھا وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زیر پرورش ایک یتیم بچی تھیں، میں نے اس آیت «والذين عقدت أيمانكم» کو پڑھا تو کہنے لگیں: اس آیت کو نہ پڑھو، یہ ابوبکر اور ان کے بیٹے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما کے متعلق اتری ہے، جب عبدالرحمٰن نے مسلمان ہونے سے انکار کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھا لی کہ میں ان کو وارث نہیں بناؤں گا پھر جب وہ مسلمان ہو گئے تو اللہ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ ( ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہیں ) کہ وہ ان کا حصہ دیں۔ عبدالعزیز کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ عبدالرحمٰن تلوار کے دباؤ میں آ کر مسلمان ہوئے ( یعنی جب اسلام کو غلبہ حاصل ہوا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جس نے «عقدت» کہا اس نے اس سے «حلف» اور جس نے «عاقدت» کہا اس نے اس سے«حالف» مراد لیا اور صحیح طلحہ کی حدیث ہے جس میں «عاقدت» ہے۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
Referring to the verse: Those who believed and adopted exile. . . As to those who believed but came not into exile : A bedouin (who did not migrate to Madina) did not inherit from an emigrant, and an emigrant did no inherit from him. It was abrogated by the verse: But kindred by blood have prior rights against each other.
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، ہم سے علی بن حسین نے، اپنے والد سے، یزید النحوی سے، عکرمہ کی سند سے،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
پہلے اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا تھا: «والذين، آمنوا وهاجروا» ، «والذين آمنوا ولم يهاجروا» جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی تو وہ ان کے وارث نہیں ہوں گے ( سورۃ الانفال: ۷۲ ) تو اعرابی ۱؎ مہاجر کا وارث نہ ہوتا اور نہ مہاجر اس کا وارث ہوتا اس کے بعد «وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض» اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں ( سورۃ الانفال: ۷۵ ) والی آیت سے یہ حکم منسوخ ہو گیا۔