Tribute, Spoils, and Rulership (Kitab Al-Kharaj, Wal-Fai' Wal-Imarah)
كتاب الخراج والإمارة والفىء
Chapter 20
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما reported:
“When Khaibar was conquered, the Jews asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم to confirm that they would do all the cultivation and have half the produce. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said “I shall confirm you on that condition as long as we wish. So they were confirmed on that (condition). The dates from half the produce of Khaibar were divided into a number of portions. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would take the fifth. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to contribute from the fifth one hundred wasqs of dates and twenty wasqs of wheat to each of his wives. When Umar intended to expel the Jews from Khaibar he sent a message to the wives of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said to them “If any of you wishes that I divide the palm trees for her by their assessment that amounts one hundred wasqs (of dates) and to her belongs their root, their land and their water and (likewise) twenty wasqs from the produce of the cultivated land by assessment, I shall (do that). And if any of you wishes that we take out her portion from the fifth, we shall do (that).
ہم سے سلیمان بن داؤد مہری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے اسامہ بن زید لیثی نے بیان کیا، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ: آپ ہمیں اس شرط پر یہیں رہنے دیں کہ ہم محنت کریں گے اور جو پیداوار ہو گی اس کا نصف ہم لیں گے اور نصف آپ کو دیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا ہم تمہیں اس شرط پر رکھ رہے ہیں کہ جب تک چاہیں گے رکھیں گے،، چنانچہ وہ اسی شرط پر رہے، خیبر کی کھجور کے نصف کے کئی حصے کئے جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے پانچواں حصہ لیتے، اور اپنی ہر بیوی کو سو وسق کھجور اور بیس وسق جو ( سال بھر میں ) دیتے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ نے یہود کو نکال دینے کا ارادہ کر لیا تو امہات المؤمنین کو کہلا بھیجا کہ آپ میں سے جس کا جی چاہے کہ میں اس کو اتنے درخت دے دوں جن میں سے سو وسق کھجور نکلیں مع جڑ کھجور اور پانی کے اور اسی طرح کھیتی میں سے اس قدر زمین دے دوں جس میں بیس وسق جو پیدا ہو، تو میں دے دوں اور جو پسند کرے کہ میں خمس میں سے اس کا حصہ نکالا کروں جیسا کہ ہے تو میں ویسا ہی نکالا کروں گا۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم attacked Khaibar and we captured it by conquest. He then gathered the captives of war. ”
ہم سے داؤد بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، اور ہم سے یعقوب بن ابراہیم اور زیاد بن ایوب نے بیان کیا کہ ان سے اسماعیل بن ابراہیم نے عبدالعزیز بن صہیب کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے جہاد کیا، ہم نے اسے لڑ کر حاصل کیا، پھر قیدی اکٹھا کئے گئے ( تاکہ انہیں مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے ) ۔
Sahl bin Abi Hathmah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم divide Khaibar into two halves. One half was reserved for his emergency and needs, the other half was meant for the Muslims. He divided among them into eighteen portions. ”
ہم سے ربیع بن سلیمان الموذن نے بیان کیا، ہم سے اسعد بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن زکریا نے بیان کیا، مجھ سے سفیان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، وہ بشیر بن یسار کی سند سے, سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو دو برابر حصوں میں تقسیم کیا: ایک حصہ تو اپنی حوائج و ضروریات کے لیے رکھا اور ایک حصہ کے اٹھارہ حصے کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔
Bashir bin Yasar رضی اللہ عنہ said:
He heard a number of the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم say. He then narrated the tradition (mentioned above). He said “One half comprised the portions of the Muslims and the portion of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He separated the other half for the Muslims for any calamity that befalls him and for emergent needs. ”
ہم سے حسین بن علی بن اسود نے بیان کیا کہ ان سے یحییٰ بن آدم نے ابو شہاب کی سند سے اور یحییٰ بن سعید کی سند سے, بشیر بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے سنا، انہوں نے کہا، پھر راوی نے یہی حدیث ذکر کی اور کہا کہ نصف میں سب مسلمانوں کے حصے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی حصہ تھا اور باقی نصف مسلمانوں کی ضروریات اور مصائب و مشکلات کے لیے رکھا جاتا تھا جو انہیں پیش آتے۔
Narrated A Group of Companions of the Prophet: Bashir ibn Yasar, the client of the Ansar, reported on the authority of a group of the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم: When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم conquered Khaybar, he divided it into thirty-six lots, each lot comprising one hundred portions. One half of it was for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and for the Muslims; and he separated the remaining half for the deputations which came to him, other matters and emergent needs of the people.
ہم سے حسین بن علی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، وہ یحییٰ بن سعید کی سند سے, بشیر بن یسار جو انصار کے غلام تھے بعض اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر پر غالب آئے تو آپ نے اسے چھتیس حصوں میں تقسیم فرمایا، ہر ایک حصے میں سو حصے تھے تو اس میں سے نصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے ہوا اور باقی نصف آنے والے وفود اور دیگر کاموں اور اچانک مسلمانوں کو پیش آنے والے حادثات و مصیبتوں میں خرچ کرنے کے لیے الگ کر کے رکھ دیا۔
Bashir bin Yasar رضی اللہ عنہ said:
“When Allah bestowed Khaibar on His Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as fai’ (spoils), he divided it into thirty six lots. Each lot comprised one hundred portions. He separated its half for his emergent needs and whatever befalls him. Al Watih and Al Kutaibah and Al Salalim and whatever acquired with them. He separated the other half and he divided Al Shaqq and Nata’ and whatever acquired with them. The portion of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم lay in the property acquired with them.
ہم سے عبداللہ بن سعید الکندی نے بیان کیا، ان سے ابوخالد نے، یعنی سلیمان نے، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا, بشیر بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
جب اللہ تعالیٰ نے خیبر اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور غنیمت عطا فرمایا تو آپ نے اس کے ( ۳۶ چھتیس ) حصے کئے اور ہر حصے میں سو حصے رکھے، تو اس کے نصف حصے اپنی ضرورتوں و کاموں کے لیے رکھا اور اسی میں سے وطیحہ وکتیبہ اور ان سے متعلق جائیداد بھی ہے اور دوسرے نصف حصے کو جس میں شق و نطاۃ ہیں اور ان سے متعلق جائیداد بھی شامل تھی الگ کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ان دونوں گاؤں کے متعلقات میں تھا۔
Narrated Bashir Ibn Yasar:
When Allah bestowed Khaybar on the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as fay (spoils of war without fighting), he divided the whole into thirty six lots. He put aside a half, i. e. eighteen lots, for the Muslims. Each lot comprised one hundred shares, and the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was with them. He received a share like the share of one of them. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم separated eighteen lots, that is, half, for his future needs and whatever befell the Muslims. These were al-Watih, al-Kutaybah, as-Salalim and their colleagues. When all this property came in the possession of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and of the Muslims, they did not have sufficient labourers to work on it. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم called Jews and employed them on contract.
ہم سے محمد بن مسکین الیمامی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن حسان نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، یعنی ہم سے ابن بلال نے، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا, بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ نے خیبر کا مال عطا کیا تو آپ نے اس کے کل چھتیس حصے کئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھے یعنی اٹھارہ حصے مسلمانوں کے لیے الگ کر دئیے، ہر حصے میں سو حصے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں کے ساتھ تھے آپ کا بھی ویسے ہی ایک حصہ تھا جیسے ان میں سے کسی دوسرے شخص کا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ حصے ( یعنی نصف آخر ) اپنی ضروریات اور مسلمانوں کے امور کے لیے الگ کر دیے، اسی نصف میں وطیح، کتیبہ اور سلالم ( دیہات کے نام ہیں ) اور ان کے متعلقات تھے، جب یہ سب اموال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں آئے تو مسلمانوں کے پاس ان کی دیکھ بھال اور ان میں کام کرنے والے نہیں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو بلا کر ان سے ( بٹائی پر ) معاملہ کر لیا۔
Narrated Mujammi Ibn Jariyah al-Ansari:
Khaybar was divided among the people of al-Hudaybiyyah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم divided it into eighteen portions. The army contained one thousand and five hundred people. There were three hundred horsemen among them. He gave double share to the horsemen, and a single to the footmen.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے مجمع بن یعقوب بن مجمع بن یزید الانصاری نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابو یعقوب بن مجمع کو اپنے چچا عبدالرحمٰن بن یزید الانصاری سے بیان کرتے ہوئے سنا, مجمع بن جاریہ انصاری (جو قرآن کے قاریوں میں سے ایک تھے) کہتے ہیں کہ
خیبر ان لوگوں پر تقسیم کیا گیا جو صلح حدیبیہ میں شریک تھے ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا، لشکر کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی، ان میں تین سو سوار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو دو حصے دئیے اور پیادوں کو ایک ایک حصہ دیا۔
Narrated Abdullah Ibn Abu Bakr and some children of Muhammad Ibn Maslamah said:
There remained some people of Khaybar and they confined themselves to the fortresses. They asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم to protect their lives and let them go. He did so. The people of Fadak heard this; they also adopted a similar way. (Fadak) was, therefore, exclusively reserved for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, for it was not captured by the expedition of cavalry and camelry.
ہم سے حسین بن علی عجلی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے، ہم سے ابن آدم نے بیان کیا، ان سے ابن ابی زایدہ نے بیان کیا، وہ محمد بن اسحاق کی سند سے, ابن شہاب زہری، عبداللہ بن ابوبکر اور محمد بن مسلمہ کے بعض لڑکوں سے روایت ہے
یہ لوگ کہتے ہیں ( جب خیبر فتح ہو گیا ) خیبر کے کچھ لوگ رہ گئے وہ قلعہ بند ہو گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کا خون نہ بہایا جائے اور انہیں یہاں سے نکل کر چلے جانے دیا جائے، آپ نے ان کی درخواست قبول کر لی ) یہ خبر فدک والوں نے بھی سنی، تو وہاں کے لوگ بھی اس جیسی شرط پر اترے تو فدک ( اللہ کی جانب سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ( عطیہ ) قرار پایا، اس لیے کہ اس پر اونٹ اور گھوڑے نہیں دوڑائے گئے ۔`
Saeed bin Al Musayyab said:
“The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم conquered a portion of Khaibar by force. ” Abu Dawud said “This tradition was read out to Al Harith bin Miskin while I was a witness”. Ibn Wahb said “Malik told me on the authority of Ibn Shihab, Khaibar was captured by force in part and by peace in part. Most of Al Kutaibah was captured by force and a portion by peace. ” I asked Malik “What is Al Kutaibah?” He replied “The land of Khaibar. It had forty thousand palm trees. ”
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن محمد نے جویریہ کی سند سے اور مالک کی سند سے, ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب نے انہیں خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا کچھ حصہ طاقت سے فتح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ آپ لوگوں کو ابن وہب نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا ہے وہ ابن شہاب زہری سے روایت کرتے ہیں کہ خیبر کا بعض حصہ زور و طاقت سے حاصل ہوا ہے، اور بعض صلح کے ذریعہ اور کتیبہ ( جو خیبر کا ایک گاؤں ہے ) کا زیادہ حصہ زور و طاقت سے فتح ہوا اور کچھ صلح کے ذریعہ ۔ ابن وہب کہتے ہیں: میں نے مالک سے پوچھا کہ کتیبہ کیا ہے؟ بولے: خیبر کی زمین کا ایک حصہ ہے، اور وہ چالیس ہزار کھجور کے درختوں پر مشتمل تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «عَذْق» کھجور کے درخت کو کہتے ہیں، اور «عِذْق» کھجور کے گچھے کی جڑ جو ٹیڑھی ہوتی ہے، اور گچھے کو کاٹنے پر درخت پر خشک ہو کر باقی رہ جاتی ہے اس کو کہتے ہیں۔
Ibn Shihab said:
“It has reached me that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم conquered Khaibar by force. Its inhabitants who came down (from their fortress) for expulsion came down after fighting. ”
ہم سے ابن سرح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس بن یزید نے بیان کیا, ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ
مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو طاقت کے ذریعہ لڑ کر فتح کیا اور خیبر کے جو لوگ قلعہ سے نکل کر جلا وطن ہوئے وہ بھی جنگ کے بعد ہی جلا وطنی کی شرط پر قلعہ سے باہر نکلے تھے ۔
Narrated Ibn Shihab:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم took out his fifth from the booty of Khaybar, and divided the rest of it among those who attended the battle and among those who were away from it but attend the expedition of al-Hudaybiyyah.
ہم سے ابن سرح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس بن یزید نے بیان کیا, ابن شہاب کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے مال میں سے ( جو غنیمت میں آیا ) خمس ( پانچواں حصہ ) نکال لیا اور جو باقی بچ رہا اسے ان لوگوں میں تقسیم کر دیا جو جنگ میں موجود تھے اور جو موجود نہیں تھے لیکن صلح حدیبیہ میں حاضر تھے۔
Umar said:
“Had I not considered the last Muslim, I would have any town I conquered divided as the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had divided Khaibar. ”
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے مالک کی سند سے، زید بن اسلم نے اپنے والد سے, عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا ( یعنی ان کی محتاجی کا ) خیال نہ ہوتا تو جو بھی گاؤں و شہر فتح کیا جاتا اسے میں اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہ :
Al-Abbas Ibn Abdul Muttalib رضی اللہ عنہ brought Abu Sufyan Ibn Harb to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم in the year of the conquest (of Makkah). So he embraced Islam at Marr az-Zahran. Al-Abbas رضی اللہ عنہ said to him: Messenger of Allah, Abu Sufyan is a man who likes taking this pride, if you may do something for him. He said: Yes, he who enters the house of Abu Sufyan is safe, and he who closes his door is safe.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے، وہ الزہری کی سند سے، وہ عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
فتح مکہ کے سال عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ابوسفیان بن حرب کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ مرالظہران ۲؎ میں مسلمان ہو گئے، اس وقت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسفیان ایک ایسے شخص ہیں جو فخر اور نمود و نمائش کو پسند کرتے ہیں، تو آپ اگر ان کے لیے کوئی چیز کر دیتے ( جس سے ان کے اس جذبہ کو تسکین ہوتی تو اچھا ہوتا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ( یعنی ٹھیک ہے میں ایسا کر دیتا ہوں ) جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے تو وہ مامون ہے، اور جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے وہ بھی مامون ہے ( ہم اسے نہیں ماریں گے ) ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم alighted at Marr az-Zahran, al-Abbas said: I thought, I swear by Allah, if the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم enters Makkah with the army by force before the Quraysh come to him and seek protection from him, it will be their total ruin. So I rode on the mule of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and thought, Perhaps I may find a man coming for his needs who will to the people of Makkah and inform them of the position of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, so that they may come to him and seek protection from him. While I was on my way, I heard Abu Sufyan and Budayl Ibn Warqa' speaking. I said: O Abu Hanzalah! He recognized my voice and said: Abu lFadl? I replied: Yes. He said: who is with you, may my parents be a sacrifice for you? I said: Here are the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and his people (with him). He asked: Which is the way out? He said: He rode behind me, and his companion returned. When the morning came, I brought him to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and he embraced Islam. I said: Messenger of Allah, Abu Sufyan is a man who likes this pride, do something for him. He said: Yes, he who enters the house of Abu Sufyan is safe; he who closes the door upon him is safe; and he who enters the mosque is safe. The people scattered to their houses and in the mosque.
ہم سے محمد بن عمرو رازی نے بیان کیا، ہم سے سلمہ یعنی ابن الفضل نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے عباس بن عبداللہ بن معبد کے واسطہ سے، ان کے اہل خانہ کے بعض لوگوں سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرالظہران میں ( فتح مکہ کے لیے آنے والے مبارک لشکر کے ساتھ ) پڑاؤ کیا، عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بزور مکہ میں داخل ہوئے اور قریش نے آپ کے مکہ میں داخل ہونے سے پہلے حاضر ہو کر امان حاصل نہ کر لی تو قریش تباہ ہو جائیں گے، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر پر سوار ہو کر نکلا، میں نے ( اپنے جی ) میں کہا: شاید کوئی ضرورت مند اپنی ضرورت سے مکہ جاتا ہوا مل جائے ( تو میں اسے بتا دوں ) اور وہ جا کر اہل مکہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خبر کر دے ( کہ آپ مع لشکر جرار تمہارے سر پر آ پہنچے ہیں ) تاکہ وہ آپ کے حضور میں پہنچ کر آپ سے امان حاصل کر لیں۔ میں اسی خیال میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک ابوسفیان اور بدیل بن ورقاء کی آواز سنی، میں نے پکار کر کہا: اے ابوحنظلہ ( ابوسفیان کی کنیت ہے ) اس نے میری آواز پہچان لی، اس نے کہا: ابوفضل؟ ( عباس کی کنیت ہے ) میں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: کیا بات ہے، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں، میں نے کہا: دیکھ! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے ساتھ کے لوگ ہیں ( سوچ لے ) ابوسفیان نے کہا: پھر کیا تدبیر کروں؟ وہ کہتے ہیں: ابوسفیان میرے پیچھے ( خچر پر ) سوار ہوا، اور اس کا ساتھی ( بدیل بن ورقاء ) لوٹ گیا۔ پھر جب صبح ہوئی تو میں ابوسفیان کو اپنے ساتھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ( وہ مسلمان ہو گیا ) میں نے کہا: اللہ کے رسول! ابوسفیان فخر کو پسند کرتا ہے، تو آپ اس کے لیے ( اس طرح کی ) کوئی چیز کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ہاں ( ایسی کیا بات ہے، لو کر دیا میں نے ) ، جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اس کے لیے امن ہے ( وہ قتل نہیں کیا جائے گا ) اور جو اپنے گھر میں دروازہ بند کر کے بیٹھ رہے اس کے لیے امن ہے، اور جو خانہ کعبہ میں داخل ہو جائے اس کو امن ہے ، یہ سن کر لوگ اپنے اپنے گھروں میں اور مسجد میں بٹ گئے۔
Wahb bin Munabbih said:
“I sked Jabir “Did they get any booty on the day of conquest (of Makkah)? He replied, No.
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، یعنی ہم سے ابن عبد الکریم نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن عقیل بن معقل نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, وہب (وہب بن منبہ) کہتے ہیں
میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا مسلمانوں کو فتح مکہ کے دن کچھ مال غنیمت ملا تھا؟ تو انہوں نے کہا: نہیں۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم entered Makkah he left Al Zubair bin Al Awwam, Abu Ubaidah bin Al Jarrah and Khalid bin Al Walid رضی اللہ عنہم on the horses and he said “Abu Hurairah رضی اللہ عنہ call the helpers. ” He said”Go this way. Whoever appears before you kill him”. A man called “the Quraish will be no more after today. ” The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said “he who entered house is safe, he who throws the weapon is safe. The chiefs of the Quraish intended (to have a resort in the Kaabah), they entered the Kaabah and it was full of them. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم took rounds of Kaabah and prayed behind the station. He then held the sides of the gate (of the Kaabah). They (the people) came out and took the oath of allegiance (at the hands) of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم on Islam. Abu Dawud said “I heard Ahmad bin Hanbal (say) when he was asked by a man “Was Makkah captured by force?” He said “What harms you whatever it was? He said “Then by peace?” He said, No.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے سلم بن مسکین نے بیان کیا، ہم سے ثابت البنانی نے بیان کیا، عبداللہ بن رباح الانصاری رضی اللہ عنہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے زبیر بن عوام، ابوعبیدہ ابن جراح اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کو گھوڑوں پر سوار رہنے دیا، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تم انصار کو پکار کر کہہ دو کہ اس راہ سے جائیں، اور تمہارے سامنے جو بھی آئے اسے ( موت کی نیند ) سلا دیں ، اتنے میں ایک منادی نے آواز دی: آج کے دن کے بعد قریش نہیں رہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو گھر میں رہے اس کو امن ہے اور جو ہتھیار ڈال دے اس کو امن ہے ، قریش کے سردار خانہ کعبہ کے اندر چلے گئے تو خانہ کعبہ ان سے بھر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی پھر خانہ کعبہ کے دروازے کے دونوں بازوؤں کو پکڑ کر ( کھڑے ہوئے ) تو خانہ کعبہ کے اندر سے لوگ نکلے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ کسی شخص نے احمد بن حنبل سے پوچھا: کیا مکہ طاقت سے فتح ہوا ہے؟ تو احمد بن حنبل نے کہا: اگر ایسا ہوا ہو تو تمہیں اس سے کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا: تو کیا صلح ( معاہدہ ) کے ذریعہ ہوا ہے؟ کہا: نہیں۔
Narrated Wahb said:
I asked Jabir رضی اللہ عنہ about the condition of Thaqif when they took the oath of allegiance. He said: They stipulated to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم that there would be no sadaqah (i.e. zakat) on them nor Jihad (striving in the way of Allah). He then heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم say: Later on they will give sadaqah (zakat) and will strive in the way of Allah when they embrace Islam.
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابن عبد الکریم نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابن عقیل بن منبیح نے اپنے والد سے بیان کیا, وہب کہتے ہیں
میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے بنو ثقیف کی بیعت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ثقیف نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرط رکھی کہ نہ وہ زکاۃ دیں گے اور نہ وہ جہاد میں حصہ لیں گے۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب وہ مسلمان ہو جائیں گے تو وہ زکاۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے ۔
Narrated Uthman Ibn Abul As:
When the deputation of Thaqif came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, he made them stay in the mosque, so that it might soften their hearts. They stipulated to him that they would not be called to participate in Jihad, to pay zakat and to offer prayer. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: You may have the concession that you will not be called to participate in jihad and pay zakat, but there is no good in a religion which has no bowing (i.e. prayer).
ہم سے احمد بن علی بن سوید یعنی ابن منجوف نے بیان کیا۔ ہم سے ابوداؤد نے حماد بن سلمہ کی سند سے، حمید کی سند سے، حسن کی سند سے, عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب ثقیف کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اہل وفد کو مسجد میں ٹھہرایا تاکہ ان کے دل نرم ہوں، انہوں نے شرط رکھی کہ وہ جہاد کے لیے نہ اکٹھے کئے جائیں نہ ان سے عشر ( زکاۃ ) لی جائے اور نہ ان سے نماز پڑھوائی جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر تمہارے لیے اتنی گنجائش ہو سکتی ہے کہ تم جہاد کے لیے نہ نکالے جاؤ ( کیونکہ اور لوگ جہاد کے لیے موجود ہیں ) اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم سے زکاۃ نہ لی جائے ( کیونکہ بالفعل سال بھر نہیں گزرا ) لیکن اس دین میں اچھائی نہیں جس میں رکوع ( نماز ) نہ ہو ۔
Narrated Amir Ibn Shahr رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم appeared as a prophet, Hamdan said to me: Will you go to this man and negotiate for us (with him)? If you accept something, we shall accept it, and if you disapprove of something, we shall disapprove of it. I said: Yes. So I proceeded until I came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. I liked his motive and my people embraced Islam. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم wrote the document for Umayr Dhu Marran. He also sent Malik ibn Murarah ar-Rahawi to all the (people of) Yemen. So Akk Dhu Khaywan embraced Islam. Akk was told: Go to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and obtain his protection for your town and property. He therefore came (to him) and the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم wrote a document for him: In the name of Allah, Most Beneficent, Most Merciful. From Muhammad, the Messenger of Allah, to Akk Dhu Khaywan. If he is true his land, property and slave, he has the security and the protection of Allah, and Muhammad, the Messenger of Allah. Written by Khalid Ibn Saeed Ibn al-As.
ہم سے ہناد بن ساری نے ابو اسامہ کی سند سے، مجلد کی سند سے، شعبی کی سند سے، عامر بن شہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ( بحیثیت نبی ) ظہور ہوا تو مجھ سے ( قبیلہ ) ہمدان کے لوگوں نے کہا: کیا تم اس آدمی کے پاس جاؤ گے اور ہماری طرف سے اس سے بات چیت کرو گے؟ اگر تمہیں کچھ بھی اطمینان ہوا تو ہم اسے قبول کر لیں گے، اگر تم نے اسے ناپسند کیا تو ہم بھی برا جانیں گے، میں نے کہا: ہاں ( ٹھیک ہے میں جاؤں گا ) پھر میں چلا یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ کا معاملہ ہمیں پسند آ گیا ( تو میں اسلام لے آیا ) اور میری قوم بھی اسلام لے آئی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمیر ذی مران کو یہ تحریر لکھ کر دی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک بن مرارہ رہاوی کو تمام یمن والوں کے پاس ( اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے ) بھیجا، تو عک ذوخیوان ( ایک شخص کا نام ہے ) اسلام لے آیا۔ عک ذوخیوان سے کہا گیا کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا اور آپ سے اپنی بستی اور اپنے مال کے لیے امان لے کر آ ( تاکہ آئندہ کوئی تجھ پر اور تیری بستی والوں پر زیادتی نہ کرے ) تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکھ کر دیا آپ نے لکھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو اللہ کے رسول ہیں عک ذوخیوان کے لیے اگر وہ سچا ہے تو اسے لکھ کر دیا جاتا ہے کہ اس کو امان ہے، اس کی زمین، اس کے مال اور اس کے غلاموں میں، اسے اللہ اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ذمہ اور امان و پناہ حاصل ہے ۔ ( راوی کہتے ہیں ) خالد بن سعید بن العاص نے یہ پروانہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ) اسے لکھ کر دیا۔