Tribute, Spoils, and Rulership (Kitab Al-Kharaj, Wal-Fai' Wal-Imarah)
كتاب الخراج والإمارة والفىء
Chapter 20
Narrated Saburah Ibn Mabad al-Juhani:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم alighted at a place where a mosque has been built under a large tree. He tarried there for three days, and then proceeded to Tabuk. Juhaynah met him on a wide plain. He asked them: who are the people of Dhul-Marwah? They replied: Banu Rifaah of Juhaynah. He said: I have given this (land) to Banu Rifaah as a fief. Therefore, they divided it. Some of them sold (their share) and others retained and worked on it. (Sub-narrator Ibn Wahab said: I then asked Abdul Aziz about this tradition. He narrated a part of it to me and did not narrate it in full.
ہم سے سلیمان بن داؤد المہری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں سبرہ بن عبد العزیز بن ربیع جہنی کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ جہاں اب مسجد ہے ایک بڑے درخت کے نیچے پڑاؤ کیا، وہاں تین دن قیام کیا، پھر تبوک کے لیے نکلے، اور جہینہ کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک وسیع میدان میں جا کر ملے ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: مروہ والوں میں سے یہاں کون رہتا ہے؟ ، لوگوں نے کہا: بنو رفاعہ کے لوگ رہتے ہیں جو قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:،، میں یہ زمین ( علاقہ ) بنو رفاعہ کو بطور جاگیر دیتا ہوں تو انہوں نے اس زمین کو آپس میں بانٹ لیا، پھر کسی نے اپنا حصہ بیچ ڈالا اور کسی نے اپنے لیے روک لیا، اور اس میں محنت و مشقت ( یعنی زراعت ) کی۔ ابن وہب کہتے ہیں: میں نے پھر اس حدیث کے متعلق سبرہ کے والد عبدالعزیز سے پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اس کا کچھ حصہ بیان کیا پورا بیان نہیں کیا۔
Narrated Asma daughter of Abu Bakr رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم assigned to az-Zubayr رضی اللہ عنہ palm-trees as a fief.
ہم سے حسین بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے، ہم سے ابن آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ ( اسماء رضی اللہ عنہا کے خاوند ہیں ) کو کھجور کے کچھ درخت بطور جاگیر عنایت فرمائی۔
Narrated Abdullah Ibn Hasan al-Anbari said:
My grandmothers, Safiyyah and Duhaybah, narrated to me, that hey were the daughters of Ulaybah and were nourished by Qaylah, daughter of Makhramah رضی اللہ عنہا . She was the grandmother of their father. She reported to them, saying: We came upon the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. My companion, Hurayth ibn Hassan, came to him as a delegate from Bakr ibn Wail. He took the oath of allegiance of Islam for himself and for his people. He then said: Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, write a document for us, giving us the land lying between us and Banu Tamim at ad-Dahna' to the effect that not one of them will cross it in our direction except a traveller or a passer-by. He said: Write down ad-Dahna' for them, boy. When I saw that he passed orders to give it to him, I became anxious, for it was my native land and my home. I said: Messenger of Allah, he did not ask you for a true border when he asked you. This land of Dahna' is a place where the camels have their home, and it is a pasture for the sheep. The women of Banu Tamim and their children are beyond it. He said: Stop, boy! A poor woman spoke the truth: a Muslim is a brother of a Muslim. Each one of them may benefit from water and trees, and they should cooperate with each other against Satan.
ہم سے حفص بن عمر اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، معنی ایک ہی ہیں, عبداللہ بن حسان عنبری کا بیان ہے کہ
مجھ سے میری دادی اور نانی صفیہ اور دحیبہ نے حدیث بیان کی یہ دونوں علیبہ کی بیٹیاں تھیں اور قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا کی پروردہ تھیں اور قیلہ ان دونوں کے والد کی دادی تھیں، قیلہ نے ان سے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہمارا ساتھی حریث بن حسان جو بکر بن وائل کی طرف پیامبر بن کر آیا تھا ہم سے آگے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، اور آپ سے اسلام پر اپنی اور اپنی قوم کی طرف سے بیعت کی پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے اور بنو تمیم کے درمیان دہناء کو سرحد بنا دیجئیے، مسافر اور پڑوسی کے سوا اور کوئی ان میں سے آگے بڑھ کر ہماری طرف نہ آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے غلام! دہناء کو انہیں لکھ کر دے دو ، قیلہ کہتی ہیں: جب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دہناء انہیں دے دیا تو مجھے اس کا ملال ہوا کیونکہ وہ میرا وطن تھا اور وہیں میرا گھر تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! انہوں نے اس زمین کا آپ سے مطالبہ کر کے مبنی پر انصاف مطالبہ نہیں کیا ہے، دہناء اونٹوں کے باندھنے کی جگہ اور بکریوں کی چراگاہ ہے اور بنی تمیم کی عورتیں اور بچے اس کے پیچھے رہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے غلام رک جاؤ! ( مت لکھو ) بڑی بی صحیح کہہ رہی ہیں، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ایک دوسرے کے درختوں اور پانی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور مصیبتوں و فتنوں میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے اور کام آ سکتے ہیں ۔
Narrated Asmar Ibn Mudarris رضی اللہ عنہ :
I came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, and took the oath of allegiance to him. He said: If anyone reaches a water which has not been approached before by any Muslim, it belongs to him. The people, therefore, went out running and marking (on the land).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، مجھ سے عبد الحمید بن عبد الواحد نے بیان کیا، مجھ سے ام جنوب بنت نمیلہ نے بیان کیا، ان سے اپنی والدہ سویدہ بنت جبیر نے، وہ اپنی والدہ عقیلہ بنت کے واسطہ سے,اسمر بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ سے بیعت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے پانی ( چشمے یا تالاب ) پر پہنچ جائے ( یعنی اس کا کھوج لگا لے ) جہاں اس سے پہلے کوئی اور مسلمان نہ پہنچا ہو تو وہ اس کا ہے ، ( یعنی وہ اس کا مالک و مختار ہو گا ) ( یہ سن کر ) لوگ دوڑتے اور نشان لگاتے ہوئے چلے ( تاکہ نشانی رہے کہ ہم یہاں تک آئے تھے ) ۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم gave az-Zubayr رضی اللہ عنہ the land as a fief up to the reach of his horse when he runs. He, therefore, made his horse run until it stopped. He then threw his flog. Thereupon he said: Give him (the land) up to the point where his flog has reached.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے حماد بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو اتنی زمین جاگیر میں دی جہاں تک ان کا گھوڑا دوڑ سکے، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنا گھوڑا دوڑایا اور جہاں گھوڑا رکا اس سے آگے انہوں نے اپنا کوڑا پھینک دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دے دو زبیر کو جہاں تک ان کا کوڑا پہنچا ہے ۔
Narrated Saeed Ibn Zayd رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone brings barren land into cultivation, it belongs to him, and the unjust vein has no right.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اسی کا ہے ( وہی اس کا مالک ہو گا ) کسی اور ظالم شخص کی رگ کا حق نہیں ہے ۔
Narrated Yahya bin Urwah, from his father:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone brings barren land into cultivation, it belong to him. He then transmitted a similar tradition mentioned above (No. 3067). He (Urwah) said: One who transmitted this tradition to me said that two persons brought their dispute to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. One of them grew palm trees in the land of the other. He decided to return the land to its owner of the palm-trees to remove his palm-trees. He said: I saw when their roots were being struck with axes. The trees were fully grown up, but they were removed from there.
ہم سے ہناد بن ساری نے بیان کیا، ہم سے عبدا نے محمد کی سند سے، یعنی ابن اسحاق نے، یحییٰ بن عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ اپنے والد کی سند سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ زمین اسی کی ہے ۔ پھر راوی نے اس کے مثل ذکر کیا، راوی کہتے ہیں: جس نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی اسی نے یہ بھی ذکر کیا کہ دو شخص اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئے ایک نے دوسرے کی زمین میں کھجور کے درخت لگا رکھے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو اس کی زمین دلا دی، اور درخت والے کو حکم دیا کہ تم اپنے درخت اکھاڑ لے جاؤ میں نے دیکھا کہ ان درختوں کی جڑیں کلہاڑیوں سے کاٹی گئیں اور وہ زمین سے نکالی گئیں، حالانکہ وہ لمبے اور گنجان پورے پورے درخت ہو گئے تھے۔
It was narrated with the same chain and meaning from Ibn Ishaq, except that insead of saying" the one who narrated this to me," he said:
This version has “A man from among the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and probably he was Abu Saeed Al Khudri رضی اللہ عنہ . I saw the man striking at the roots of the palm trees. ”
ہم سے احمد بن سعید دارمی نے بیان کیا، ہم سے وہب نے اپنے والد سے بیان کیا، ابن اسحاق اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں
مگر اس میں «الذي حدثني هذا» کی جگہ یوں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص نے کہا: میرا گمان غالب یہ ہے کہ وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رہے ہوں گے کہ میں نے اس آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنے درختوں کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔
Narrated Urwah:
I testify that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم decided that the land is the land of Allah, and the servants are the servants of Allah. If anyone brings barren land into cultivation, he has more right to it. This tradition has been transmitted to us from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم by those who transmitted the traditions about prayer from him.
ہم سے احمد بن عبدہ الاملی نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، ہم کو نافع بن عمر نے خبر دی، وہ ابن ابی ملیکہ کی سند سے,عروہ کہتے ہیں کہ
میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فیصلہ ) فرمایا ہے کہ زمین اللہ کی ہے اور بندے بھی سب اللہ کے بندے ہیں اور جو شخص کسی بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اس زمین کا زیادہ حقدار ہے، یہ حدیث ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے ان لوگوں نے بیان کی ہے جنہوں نے آپ سے نماز کی روایت کی ہے۔
Narrated Samurah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone surrounds a land with a wall, it belongs to him.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، ہم سے سعید نے، قتادہ کی سند سے، حسن رضی اللہ عنہ سے, سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بنجر زمین پر دیوار کھڑی کرے تو وہی اس زمین کا حقدار ہے ۔
Hisham said:
“The unjust vein means that a man implants a tree in the land of another man so that they may be entitled to it. Malik said “The unjust vein means that a man takes (a thing) digs a pit and implants a tree without (his) right.
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, مالک نے خبر دی کہ ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ
ظالم رگ سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص کسی غیر کی زمین میں درخت لگائے اور پھر اس زمین پر اپنا حق جتائے۔ امام مالک کہتے ہیں: ظالم رگ ہر وہ زمین ہے جو ناحق لے لی جائے یا اس میں گڈھا کھود لیا جائے یا درخت لگا لیا جائے۔
Abu Humaid Al Saeedi رضی اللہ عنہ said:
“I went to Tabuk on an expedition along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. When he reached Wadi Al Qura, he found a woman in her garden. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to his Companions “Assess (the quantity o fruits). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم assessed ten wasqs. ” He said to the woman “Count the produce of it. We then came to Tabuk. ” The monarch of Ailah presented a white mule as a gift to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He presented a cloak as a gift o him and wrote a document for his land at sea coast. When we came to Wadi Al Qura he said to the woman “How much is the produce of your garden?” She replied “Ten wasqs which the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had assessed. ” The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said “I am going quickly to Madinah if any of you intend to go quickly with me, he should make haste. ”
ہم سے سہل بن بکر نے بیان کیا، ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، وہ عمرو بن یحییٰ سے، انہوں نے عباس الساعدی کی سند سے، یعنی ابن سہل بن سعد نے, ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک ( جہاد کے لیے ) چلا، جب آپ وادی قری میں پہنچے تو وہاں ایک عورت کو اس کے باغ میں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا: تخمینہ لگاؤ ( کہ باغ میں کتنے پھل ہوں گے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق کا تخمینہ لگایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے کہا: آپ اس سے جو پھل نکلے اس کو ناپ لینا ، پھر ہم تبوک آئے تو ایلہ کے بادشاہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفید رنگ کا ایک خچر تحفہ میں بھیجا آپ نے اسے ایک چادر تحفہ میں دی اور اسے ( جزیہ کی شرط پر ) اپنے ملک میں رہنے کی سند ( دستاویز ) لکھ دی، پھر جب ہم لوٹ کر وادی قری میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے پوچھا: تیرے باغ میں کتنا پھل ہوا؟ اس نے کہا: دس وسق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق ہی کا تخمینہ لگایا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جلد ہی مدینہ کے لیے نکلنے والا ہوں تو تم میں سے جو جلد چلنا چاہے میرے ساتھ چلے ۔
Narrated Zaynab رضی اللہ عنہا :
She was picking lice from the head of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم while the wife of Uthman Ibn Affan رضی اللہ عنہ and the immigrant women were with him. They complained about their houses that they had been narrowed down to them and they were evicted from them. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ordered that the houses of the Immigrants should be given to their wives. Thereafter Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ died, and his wife inherited his house in Madina.
ہم سے عبد الواحد بن غیاث نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، ہم سے العمش نے، جامع بن شداد سے، کلثوم کی سند سے, زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے جوئیں نکال رہی تھیں، اس وقت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیوی اور کچھ دوسرے مہاجرین کی عورتیں آپ کے پاس بیٹھیں تھیں اور اپنے گھروں کی شکایت کر رہی تھیں کہ ان کے گھر ان پر تنگ ہو جاتے ہیں، وہ گھروں سے نکال دی جاتی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مہاجرین کی عورتیں ان کے مرنے پر ان کے گھروں کی وارث بنا دی جائیں، تو جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عورت مدینہ میں ایک گھر کی وارث ہوئی ( شاید یہ حکم مہاجرین کے ساتھ خاص ہو ) ۔
Narrated Muadh Ibn Jabal رضی اللہ عنہ :
He who put the necklace of jizyah in his neck abandoned the way followed by the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے ہارون بن محمد بن بکر بن بلال نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عیسیٰ یعنی ابن سمیع نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن واقد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو عبداللہ نے بیان کیا, معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
جس نے اپنی گردن میں جزیہ کا قلادہ ڈالا ( یعنی اپنے اوپر جزیہ مقرر کرایا ) تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے بری ہو گیا ( یعنی اس نے اچھا نہ کیا ) ۔
Narrated Abud Darda رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone takes land by (paying) its jizyah, he renounces his immigration; and if anyone takes off the disgrace of an unbeliever from his neck he turns away his back from Islam. He (the narrator) said: Thereafter Khalid ibn Madan heard this tradition from me, and he said: Has Shubayb narrated it to you? I said: Yes. He said! When you come to him, ask him to write this tradition to me. He said: He then wrote it for him. When I came, Khalid ibn Madan asked me for the paper and I gave it to him. When he read (the paper), he abandoned the lands he had in his possession the moment he heard this. Abu Dawud said: This Yazid bin Khumair al-Yazani is not the disciple of Shubah.
ہم سے حیوہ بن شریح الحضدمی نے بیان کیا، کہا ہم سے بقیع نے بیان کیا، کہا ہم سے عمارہ بن ابی الشعثانے بیان کیا، مجھ سے سنان بن قیس نے بیان کیا، مجھ سے شبیب بن نعیم نے بیان کیا، مجھ سے یزید بن خمیر نے بیان کیا, ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جزیہ والی زمین خرید لی تو اس نے ( گویا ) اپنی ہجرت فسخ کر دی اور جس نے کسی کافر کی ذلت ( یعنی جزیہ کو ) اس کے گلے سے اتار کر اپنے گلے میں ڈال لیا ( یعنی جزیے کی زمین خرید لے کر زراعت کرنے لگا اور جزیہ دینا قبول کر لیا ) تو اس نے اسلام کو پس پشت ڈل دیا ۔ ( اس حدیث کے راوی سنان ) کہتے ہیں: خالد بن معدان نے یہ حدیث مجھ سے سنی تو انہوں نے کہا: کیا شبیب نے تم سے یہ حدیث بیان کی ہے؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب تم شبیب کے پاس جاؤ تو ان سے کہو کہ وہ یہ حدیث مجھ کو لکھ بھیجیں۔ سنان کہتے ہیں: ( میں نے ان سے کہا ) تو شبیب نے یہ حدیث خالد کے لیے لکھ کر ( مجھ کو ) دی، پھر جب میں خالد بن معدان کے پاس آیا تو انہوں نے قرطاس ( کاغذ ) مانگا میں نے ان کو دے دیا، جب انہوں نے اسے پڑھا، تو ان کے پاس جتنی خراج کی زمینیں تھیں سب چھوڑ دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید بن خمیر یزنی ہیں، شعبہ کے شاگرد نہیں ۔
Al Sab bin Jaththamah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “There is no (permission for) protected land except for Allah and His Prophet. Ibn Shihab said “It has reached me that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم protected Naqi’. ”
ہم سے ابن سرح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، وہ ابن شہاب سے، ابن شہاب کی سند سے، ابن عبداللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے, صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی اور کے لیے چراگاہ نہیں ہے ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع ( ایک جگہ کا نام ہے ) کو«حمی» ( چراگاہ ) بنایا۔
Narrated As-Sab Ibn Jaththamah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم protected Naqi and said: There is no (permission for) protected land except for Allah Most High.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن حارث سے، انہوں نے ابن شہاب کی سند سے، عبید اللہ بن عبد اللہ کی سند سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے, صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع کو چراگاہ بنایا، اور فرمایا: اللہ کے سوا کسی اور کے لیے چراگاہ نہیں ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A fifth is payable on buried treasure.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ الزہری کی سند سے، سعید بن المسیب اور ابو سلمہ رضی اللہ عنہما سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دفینہ میں خمس ( پانچواں حصہ ) ہے ۔
Al hasan said:
“Rikaz means treasure buried in pre Islamic times. ”
ہم سے یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد بن العوام نے ہشام کی سند سے بیان کیا, حسن بصری کہتے ہیں کہ
رکاز سے مراد جاہلی دور کا مدفون خزانہ ہے ۔
Narrated Dubaah daughter of az-Zubayr Ibn Abdul Muttalib:
Al-Miqdad went to Baqi' al-Khabkhabah for a certain need. He found a mouse taking out a dinar from a hole. It then continued to take out dinars one by one until it took out seventeen dinars. It then took out a red purse containing a dinar. There were thus eighteen dinars. He took them to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, informed him and said to him: Take its sadaqah. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم asked him: Did you extend your hand toward the hole? He replied: No. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: May Allah bless you in it.
ہم سے جعفر بن مسافر نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی فودیک نے بیان کیا، کہا ہم سے عزعمی نے بیان کیا، ہم سے عزعمی نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن وہب کی بیٹی سے، ان کی والدہ کریمہ بنت المقداد سے,ضباعۃ بنت زبیر بن عبدالمطلب بن ہاشم سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں
مقداد اپنی ضرورت سے بقیع خبخبہ گئے وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک چوہا سوراخ سے ایک دینار نکال رہا ہے ( وہ دیکھتے رہے ) وہ ایک کے بعد ایک دینار نکالتا رہا یہاں تک کہ اس نے ( ۱۷ ) دینار نکالے، پھر اس نے ایک لال تھیلی نکالی جس میں ایک دینار اور تھا، یہ کل ( ۱۸ ) دینار ہوئے، مقداد ان دیناروں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو پورا واقعہ بتایا اور عرض کیا: اس کی زکاۃ لے لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے سوراخ کا قصد کیا تھا ، انہوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہیں اس مال میں برکت عطا فرمائے ۔