An old man of the people of Wasit narrated from Abu Mansur al-Harith bin Mansur saying:
I heard Sufyan Al-Thawri who was asked about al-dadhi. He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Some of my people will assuredly drink wine calling it by another name.
ہمیں واسط کے ایک شیخ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: حارث بن منصور کہتے ہیں
میں نے سفیان ثوری سے سنا ان سے «داذی» کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ نے فرمایا ہے: میری امت کے بعض لوگ شراب پئیں گے لیکن اسے دوسرے نام سے موسوم کریں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری کا کہنا ہے:«داذی» فاسقوں کی شراب ہے۔
Ibn Umar and Ibn Abbas said:
We testify that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade (the use of) gourds, green jars, receptacles smeared with pitch, and hollowed stumps of palm-trees.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، ہم سے منصور بن حیان نے سعید بن جبیر کی سند سے بیان کیا, ابن عمر اور ابن عباس کہتے ہیں کہ
ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمبی، سبز رنگ کے برتن، تارکول ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن ۱؎ سے منع فرمایا ہے۔
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade the nabidh (date-wine) of jarr. I was alarmed by his statement: The Apostle of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade the nabidh of jarr. I then entered upon Ibn Abbas and asked him: Are you listening to what Ibn Umar says ? He asked: What is that ? I said: The Apostle of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade the nabidh of jarr. He said: He spoke the truth. The Apostle of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade the nabidh of jarr. I asked: what is jarr ? He replied: Anything made of clay.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل اور مسلم بن ابراہیم المعنی نے بیان کیا: ہم سے جریر نے یعلی کی سند سے بیان کیا، یعنی ابن حکیم نے, سعید بن جبیر کہتے ہیں,میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» ( مٹی کا گھڑا ) میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے تو میں ان کی یہ بات سن کر گھبرایا ہوا نکلا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: کیا آپ نے سنا نہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کیا کہتے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، انہوں نے کہا: وہ سچ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، میں نے کہا: «جر» کیا ہے؟ فرمایا: ہر وہ چیز ہے جو مٹی سے بنائی جاتی ہو۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The deputation of Abdul-Qais came to Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: This is the tribe of Rabiah, and the infidels of Mudar are between us and you. We are able to come to you only in the sacred month. So give a decisive command which we may follow ourselves and to which we call those at home behind us. He (the Prophet) said: I command you to observe four things, and forbade you four things: Belief in Allah. the testimony that there is no god but Allah, and he expresses one by folding his hand. Musadad's version has: Faith in Allah, and he explained to them: The testimony that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah, observance of prayer, payment of zakat, and your giving the filth of the booty. I forbid you the use of pumpkins, green jarrs, vessels smeared with pitch, and hollow stumps of palm-trees. Ibn Ubaid's version has word muqayyar (vessels smeared with pitch) instead of naqir (hollow stumps). Musaddad's version has naqir and muqayyar (pitch); he did not mention muzaffat (vessels smeared with pitch). Abu Dawud said: The name of Abu Jamrah is Nasr bin Imran al-Duba'i.
ہم سے سلیمان بن حرب اور محمد بن عبید نے بیان کیا: ہم سے حماد نے بیان کیا۔ اور ہم سے مسدد نے بیان کیا : ہم سے عباد بن عباد نے ابو جمرہ کی سند سے بیان کیا ، انہوں نے کہا :عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ بنو ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں ہی میں پہنچ سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں کچھ ایسی چیزوں کا حکم دے دیجئیے کہ جن پر ہم خود عمل کرتے رہیں اور ان لوگوں کو بھی ان پر عمل کے لیے کہیں جو اس وفد کے ساتھ نہیں آئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں، اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں ( جن کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں ) اللہ پر ایمان لانا اور اس بات کی گواہی دینی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے ایک کی گرہ بنائی، مسدد کہتے ہیں: آپ نے اللہ پر ایمان لانا، فرمایا، پھر اس کی تفسیر کی کہ اس کا مطلب ) اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ دینا ہے، اور میں تمہیں دباء، حنتم، مزفت اور مقیر سے منع کرتا ہوں ۔ ابن عبید نے لفظ مقیر کے بجائے نقیر اور مسدد نے نقیر اور مقیر کہا، اور مزفت کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to the deputation of Abdul-Qais: I forbid you the use of hollow stumps, vessels smeared with pitch, green harrs, pumpkins, and a skin cut off at the top, but drink from your skin and tie it with string.
ہم سے وہب بن بقیہ نے بیان کیا، انہوں نے نوح بن قیس سے، ہم سے عبداللہ بن عون نے، محمد بن سیرین کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا: میں تمہیں لکڑی کے برتن، تار کول ملے ہوئے برتن، سبز لاکھی گھڑے، تمبی اور کٹے ہوئے چمڑے کے برتن سے منع کرتا ہوں لیکن تم اپنے چمڑے کے برتن سے پیا کرو اور اس کا منہ باندھ کر رکھو ۔
In the story of the deputation of Abdul Qays Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
They (the people) asked: In which should we drink, Prophet of Allah? The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: You should use those skin vessels that are tied at their mouths.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ابان نے بیان کیا، ہم سے قتادہ نے بیان کیا، عکرمہ اور سعید بن المسیب رضی اللہ عنہما سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے وفد عبدالقیس کے واقعے کے سلسلے میں روایت ہے کہ
وفد کے لوگوں نے پوچھا: ہم کس چیز میں پیئں اللہ کے نبی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان مشکیزوں کو لازم پکڑو جن کے منہ باندھ کر رکھے جاتے ہوں ۔
A man of the deputation of Abdul-Qais who came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said - the narrator Awf thinks that his name was Qais bin al-Numan:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not drink from hollowed stumps, vessel smeared with pitch, pumpkins, and green jars, but drink from a skin which is tied with string. If the drink ferments, lighten it by infusing water. If you are helpless, then pour it away.
ہم سے وہب بن بقیہ نے خالد کی سند سے عوف کی سند سے بیان کیا, ابوالقموص زید بن علی سے روایت ہے، کہتے ہیں,مجھ سے عبدالقیس کے اس وفد میں سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا ایک شخص نے بیان کیا ( عوف کا خیال ہے کہ اس کا نام قیس بن نعمان تھا ) کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نقیر، مزفت، دباء، اور حنتم میں مت پیو، بلکہ مشکیزوں سے پیو جس پر ڈاٹ لگا ہو، اور اگر نبیذ میں تیزی آ جائے تو پانی ڈال کر اس کی تیزی توڑ دو اگر اس کے باوجود بھی تیزی نہ جائے تو اسے بہا دو ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The deputation of Abdul-Qais asked (the prophet): From which (vessels)should we drink ? He (the prophet) replied: Do not drink from the pumpkins, vessels smeared with pitch, and hollow stumps, and steep dates in skins. They asked: Messenger of Allah, if it ferments? He replied: infuse water in it. They asked: Messenger of Allah. . . ” (repeating the same words). He replied to them third or fourth time: Pour it away. He then said: Allah has forbidden me, or he said: He has forbidden me wine, game of chance and kubah (drums). He said: Every intoxicant is unlawful. Sufyan said: I asked ‘All bin Badhimah about kubah. He replied: Drum.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے ابو احمد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے علی بن بدیمہ نے بیان کیا، مجھ سے قیس بن حبطار النہشلی نے بیان کیا،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
وفد عبدالقیس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کس برتن میں پیئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دباء، مزفت اور نقیر میں مت پیو، اور تم نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اگر مشکیزے میں تیزی آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں پانی ڈال دیا کرو وفد کے لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ( اگر پھر بھی تیزی نہ جائے تو ) آپ نے ان سے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: اسے بہا دو ۱؎ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب، جوا، اور ڈھولک کو حرام قرار دیا ہے یا یوں کہا: شراب، جوا، اور ڈھول حرام قرار دے دی گئی ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے کوبہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ڈھول ہے۔
Narrated Ali رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade us the use of pumpkins, green jars, hollow stumps and wine made from barley.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن سمیع نے بیان کیا، ہم سے مالک بن عمیر نے بیان کیا، علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تونبی، سبز رنگ کے برتن، لکڑی کے برتن اور جو کی شراب سے منع فرمایا۔
Narrated Buraydah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: I forbade you three things, and now I command (permit) you for them. I forbade you to visit graves, now you may visit them, for in visiting them there is admonition. I forbade you drinks except from skin vessels, but now you may drink from any kind of vessels, but do not drink an intoxicant. I forbade you to eat the meat of sacrificial animals after three days, but now you may eat and enjoy it during your journeys.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے معارف بن واصل نے بیان کیا، ان سے محراب بن دثار نے، ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں تین چیزوں سے روک دیا تھا، اب میں تمہیں ان کا حکم دیتا ہوں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے اور میں نے تمہیں چمڑے کے علاوہ برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا، لیکن اب تم ہر برتن میں پیو، البتہ کوئی نشہ آور چیز نہ پیو، اور میں نے تمہیں تین روز کے بعد قربانی کے گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا، لیکن اب اسے بھی ( جب تک چاہو ) کھاؤ اور اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade the use of (wine) vessels, Ansar said: They are inevitable for us. Thereupon he said: If so, then no
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، سفیان کی سند سے، منصور نے سلیم بن ابی الجعد کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تو انصار کے لوگوں نے آپ سے عرض کیا: وہ تو ہمارے لیے بہت ضروری ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب ممانعت نہیں رہی ( تمہیں ان کی اجازت ہے ) ۔
Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم mentioned the vessels: pumpkins, green jarrs, vessels smeared with pitch and hollow stumps. A desert Arab said: We have no vessels (except these). He said: Drink (from them) what is lawful.
ہم سے محمد بن جعفر بن زیاد نے بیان کیا، ہم سے شر یک نے بیان کیا، زیاد بن فیاض نے ابو عیاض کی سند سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، مزفت، اور نقیر کے برتنوں کا ذکر کیا تو ایک دیہاتی نے عرض کیا: ہمارے پاس تو اور کوئی برتن ہی نہیں رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا جو حلال ہوا سے پیو ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Sharik through a different chain of narrators. This version has:
He said: Avoid that which produces intoxication.
ہم سے الحسن یعنی ابن علی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا, شریک سے اسی سند سے روایت ہے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نشہ آور چیز سے بچو ۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما said:
Dates were steeped for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم in a skin, but when they could not find a skin, they were steeped for him in a small stone vessel.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے ابو الزبیر نے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی اور اگر وہ چمڑے کا برتن نہیں پاتے تو پتھر کے برتن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade mixing of raisins and dried dates: and unripe dates and fresh dates.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے عطاء بن ابی رباح کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجور کو ایک ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا، نیز کچی اور پکی کھجور ملا کر نبیذ بنا نے سے منع فرمایا۔
Abdullah bin Abi Qatadah رضی اللہ عنہ said that his father:
He forbade mixing raisins and dried dates, mixing unripe dates and fresh dates, and mixing dates beginning to take on colour and fresh dates. He said: Make nabidh (drink) from each separately. He (the narrator Yahya) said: Abu Salamah bin Abdur-Rahman narrated to me this tradition on the authority of Abu Qatadah from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم
ہم سے ابوسلمہ موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابان نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی کہ وہ
انہوں نے کشمش اور کھجور ملا کر اور پکی اور کچی کھجور ملا کر اور اسی طرح ایسی کھجور جس میں سرخی یا زردی ظاہر ہونے لگی ہو اور تازی پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا، اور آپ نے فرمایا: ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
It was narrated from Ibn Abi Laila, from a man that Hafs, one of the companion of prophet صلی اللہ علیہ وسلم narrated:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade (mixing) unripe dates and dried dates, and (mixing) raisins and dried dates.
ہم سے سلیمان بن حرب اور حفص بن عمر النمری نے بیان کیا, ہم سے شعبہ نے الحکم کی سند سے، ابن ابی لیلیٰ کی سند سے، وہ ایک آدمی کی سند سے بیان کیا، اس نے کہا: ایک صحابی رسول سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی کھجور کو پکی ہوئی کھجور کے ساتھ اور کشمش کو کھجور کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Umm Salamah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin: Kabshah, daughter of Abu Maryam said:
Umm Salamah (رضی اللہ عنہا): What did the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم prohibit? She replied: He forbade us to boil dates so much so that the kernels are spoiled, and to mix raisins and dried dates.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ثابت بن عمارہ سے، مجھ سے ریطہ نے بیان کیا, کبشہ بنت ابی مریم کہتی ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ان چیزوں کے متعلق پوچھا جن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منع کرتے تھے، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کھجور کو زیادہ پکانے سے جس سے اس کی گٹھلی ضائع ہو جائے، اور کشمش کے ساتھ کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے تھے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
Raisins were steeped for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and then dried dates were infused in them, or dried dates were steeped and then raisins were infused in them.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، انہوں نے مسعر کی سند سے، وہ موسیٰ بن عبداللہ سے، وہ بنو اسد کی ایک عورت سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمکش کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں کھجور ڈال دی جاتی اور جب کھجور کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں انگور ڈال دیا جاتا۔
Narrated Safiyyah, daughter of Atiyyah, said:
I entered upon Aishah رضی اللہ عنہا with some women of AbdulQays, and asked her about mixing dried dates and raisins (for drink). She replied: I used to take a handful of dried dates and a handful or raisins and put them in a vessel, and then crush them (and soak in water). Then I would give it to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to drink.
ہم سے زیاد بن یحییٰ الحسنی نے بیان کیا، ہم سے ابو بحر نے بیان کیا، ہم سے عتاب بن عبد العزیز الحمانی نے بیان کیا، صفیہ بنت عطیہ کہتی ہیں
میں عبدالقیس کی چند عورتوں کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، اور ہم نے آپ سے کھجور اور کشمش ملا کر ( نبیذ تیار کرنے کے سلسلے میں ) پوچھا، آپ نے کہا: میں ایک مٹھی کھجور اور ایک مٹھی کشمش لیتی اور اسے ایک برتن میں ڈال دیتی، پھر اس کو ہاتھ سے مل دیتی پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلاتی۔