Qatadah said on the authority of Jabir bin Zaid and Ikrimah:
They disapprove of drink made exclusively from unripe dates. This they reported on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said: I am afraid it may not be muzza from which (the people of) Abd al-Qais were prohibited. I asked Qatadah: What is muzza’? He replied: Drink of dates made in a green jar and vessels smeared with pitch.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, جابر بن زید اور عکرمہ سے روایت ہے کہ
وہ دونوں صرف کچی کھجور کی نبیذ کو مکروہ جانتے تھے، اور اس مذہب کو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لیتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں ڈرتا ہوں کہیں یہ «مزاء» نہ ہو جس سے عبدالقیس کو منع کیا گیا تھا ہشام کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے کہا: «مزاء» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: حنتم اور مزفت میں تیار کی گئی نبیذ۔
Narrated Ad-Daylami رضی اللہ عنہ :
We came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said to him: Messenger of Allah, you know who we are, from where we are and to whom we have come. He said: To Allah and His Messenger. We said: Messenger of Allah, we have grapes; what should we do with them? He said: Make them raisins. We then asked: What should we do with raisins? He replied: Steep them in the morning and drink in the evening, and steep them in the evening and drink in the morning. Steep them in skin vessels and do not steep them in earthen jar, for it it is delayed in pressing, it becomes vinegar.
ہم سے عیسیٰ بن محمد نے بیان کیا، ہم سے دمرہ نے، السیبانی سے، عبداللہ بن دیلمی رضی اللہ عنہ سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں، لیکن کس کے پاس آئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے پاس پھر ہم نے عرض کیا: اے رسول اللہ! ہمارے یہاں انگور ہوتا ہے ہم اس کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے خشک لو ہم نے عرض کیا: اس زبیب ( سوکھے ہوئے انگور ) کو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح کو اسے بھگو دو، اور شام کو پی لو، اور جو شام کو بھگوؤ اسے صبح کو پی لو اور چمڑوں کے برتنوں میں اسے بھگویا کرو، مٹکوں اور گھڑوں میں نہیں کیونکہ اگر نچوڑنے میں دیر ہو گی تو وہ سرکہ ہو جائے گا ۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
Dates were steeped for the Apostle of Allah صلی اللہ علیہ وسلم in skin which was tied up at the top and had a mouth. What was steeped in the morning he would drink in the evening and what was steeped in the evening he would drink in the morning.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، مجھ سے عبد الوہاب بن عبدالمجید ثقفی نے بیان کیا، ان سے یونس بن عبید نے، حسن رضی اللہ عنہ سے ان کی والدہ سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک ایسے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی جس کا اوپری حصہ باندھ دیا جاتا، اور اس کے نیچے کی طرف بھی منہ ہوتا، صبح میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے شام میں پیتے اور شام میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے صبح میں پیتے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
She would steep dates for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم in the morning. When the evening came, he took his dinner and drank it after his dinner. If anything remained, she poured it out. She then would steep for him at night. When the morning came, he took his morning meal and drank it after his morning meal. She said: The skin vessel was washed in the morning and in the evening. My father (Hayyan) said to her: Twice a day? She said: Yes.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے شبیب بن عبدالملک کو بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے مقاتل بن حیان سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھ سے میری خالہ عمرہ نے بیان کیا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صبح کو نبیذ بھگوتی تھیں تو جب شام کا وقت ہوتا تو آپ شام کا کھانا کھانے کے بعد اسے پیتے، اور اگر کچھ بچ جاتی تو میں اسے پھینک دیتی یا اسے خالی کر دیتی، پھر آپ کے لیے رات میں نبیذ بھگوتی اور صبح ہوتی تو آپ اسے دن کا کھانا تناول فرما کر پیتے۔ وہ کہتی ہیں: مشک کو صبح و شام دھویا جاتا تھا۔ مقاتل کہتے ہیں: میرے والد ( حیان ) نے ان سے کہا: ایک دن میں دو بار؟ وہ بولیں: ہاں دو بار۔
Ibn abbas رضی اللہ عنہما said:
Raisins were steeped for the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and he would drink it in the morning and the night after, the following day and the night after. He then gave orders and it was given to servants to drinks or poured away. Abu Dawud said: That it was given to servants to drink means before it spoiled. Abu Dawud said: Abu Umar Yahya al-Bahrani.
ہم سے مخلد بن خالد نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے العمش کی سند سے، وہ ابو عمر یحییٰ البحرانی سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اس دن پیتے، دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے پھر حکم فرماتے تو جو بچا ہوتا اسے خدمت گزاروں کو پلا دیا جاتا یا بہا دیا جاتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خادموں کو پلانے کا مطلب یہ ہے کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے انہیں پلا دیا جاتا۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
The prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to stay with Zainab, daughter of Jahsh رضی اللہ عنہا, and drink honey. I and Hafsah رضی اللہ عنہما counseled each other that if the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم enters upon any of us, she must say: I find the smell of gum (maghafir) from you. He then entered upon one of them; she said that to him. Thereupon he said: No, I drank honey at (the house of) Zainab daughter of jahsh, and I will not do it again. Then the following verse came down: ’’O Prophet! why holdest thou to be forbidden that which Allah has made lawful to thee ? ‘’Thou seekest. . . If you two turn in repentance to Allah ‘’ refers to Hafsah and Aishah رضی اللہ عنہما, and the verse: ‘’When the Prophet disclosed a matter in confidence to one of his consorts’’ refers to the statements of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم disclosed a matter in confidence to one of his consorts’’ refers to the statement of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم: No, I drank honey.
ہم سے احمد بن محمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابن جریج نے عطاء کی سند سے کہا, عبید بن عمیر کہتے ہیں,میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ خبر دے رہی تھیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور شہد پیتے تھے تو ایک روز میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر کی بو محسوس ہو رہی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس تشریف لائے، تو اس نے آپ سے ویسے ہی کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا تو قرآن کریم کی آیت: «لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي» سے لے کر «إن تتوبا إلى الله» تک عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے متعلق نازل ہوئی۔ «إن تتوبا» میں خطاب عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو ہے اور «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» میں «حديثا» سے مراد آپ کا: «بل شربت عسلا» ( بلکہ میں نے شہد پیا ہے ) کہنا ہے۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم liked sweet meats and honey. The narrator then mentioned a part of the tradition mentioned above. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم felt it hard on him to find smell from him. In this tradition saudah said: but you ate gum ? He said: No, I drank honey. Hafsah gave it to me to drank. I said: Its bees ate ‘urfut. Abu Dawud said: Maghafir is a gum; jarasat means ate; ’urfut is a bees ‘ plant.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے ہشام سے اور اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیزیں اور شہد پسند کرتے تھے، اور پھر انہوں نے اسی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بہت ناگوار لگتا کہ آپ سے کسی قسم کی بو محسوس کی جائے اور اس حدیث میں یہ ہے کہ سودہ نے کہا: بلکہ آپ نے مغافیر کھائی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے شہد پیا ہے، جسے حفصہ نے مجھے پلایا ہے تو میں نے کہا: شاید اس کی مکھی نے عرفط چاٹا ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مغافیر: مقلہ ہے اور وہ گوند ہے، اور جرست: کے معنی چاٹنے کے ہیں، اور عرفط شہد کی مکھی کے پودوں میں سے ایک پودا ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
I knew that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to keep fast. I waited for the day when he did not fast to present him the drink (nabidh) which I made in a pumpkin. I then brought it to him while it fermented. He said: Throw it to this wall, for this is a drink of the one who does not believe in Allah and the Last Day.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، ہم سے صدقہ بن خالد نے بیان کیا، ہم سے زید بن واقد نے بیان کیا، وہ خالد بن عبداللہ بن حسین رضی اللہ عنہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھا کرتے ہیں تو میں اس نبیذ کے لیے جو میں نے ایک تمبی میں بنائی تھی آپ کے روزہ نہ رکھنے کا انتظار کرتا رہا پھر میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا وہ جوش مار رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس دیوار پر مار دو یہ تو اس شخص کا مشروب ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا ۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade that a man should drink while standing.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے، قتادہ کی سند سے, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کھڑے ہو کر کچھ پیئے۔
Nazzal bin Sabrah رضی اللہ عنہ said:
Ali رضی اللہ عنہ asked for water and he drank it while standing. He then said: some people disapprove of doing this (drinking while standing ), but I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم doing as I have done.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، مسعر بن کدم سے، وہ عبد الملک بن میسرہ کی سند سے, نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
علی رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور اسے کھڑے ہو کر پیا اور کہا: بعض لوگ ایسا کرنے کو مکروہ اور ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے کرتے دیکھا ہے ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade drinking from the mouth of a water-skin, and riding the animal which feeds on filth and eating the animal which is killed in confinement. Abu Dawud said: Jallalah means an animal which eats filth and impurities.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے میں منہ لگا کر پینے سے، نجاست کھانے والے جانور کی سواری سے اور جس پرندہ کو باندھ کر تیر وغیرہ سے نشانہ لگا کر مارا گیا ہو اسے کھانے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «جلّالہ» وہ جانور ہے جو نجاست کھاتا ہے۔
Abu Saeed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited drinking by inverting the heads of skin vessels.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا, ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کا منہ موڑ کر پینے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from Eisa bin Abdullah, A man of the Ansar quoting from his father said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم called for a skin-vessel on the day of the battle of Uhud. He then said: Invert the head of the vessel and he drank from its mouth.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے عیسیٰ بن عبداللہ نامی ایک انصاری شخص نے اپنے والد سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن ایک مشکیزہ منگوایا اور فرمایا: مشکیزے کا منہ موڑو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ سے پیا۔
Abu Saeed Al-Khudri said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade drinking from the broken place (of a cup) and blowing into a drink.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے، اور پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
Ibn Abi Laila said:
Whan Hudhaifah رضی اللہ عنہ was in al-Mada’in, he asked for water. A peasant brought him a silver vessel. He threw it away and said: I threw it away, for I prohibited (him) but he did not stop. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade to wear silk or brocade, and to drink from gold and silver vessels. He said: Others have them in this world and you will have them in the next.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، الحکم کی سند سے, ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ
حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے، آپ نے پانی طلب کیا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا تو آپ نے اسے اسی پر پھینک دیا، اور کہا: میں نے اسے اس پر صرف اس لیے پھینکا ہے کہ میں اسے منع کر چکا ہوں لیکن یہ اس سے باز نہیں آیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور دیبا پہننے سے اور سونے، چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے، اور فرمایا ہے: یہ ان ( کافروں ) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں ۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم went to visit a man of the Ansar accompanied by one of his Companions who was watering his garden. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If you have any water which has remained over night in a skin (we should like it), or shall sip (from a streamlet).
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، مجھ سے فلیح نے بیان کیا، ان سے سعید بن حارث نے بیان کیا، ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، ہم سے فلیح نے سعد بن الحارث سے روایت کی ,جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص ایک انصاری کے پاس آئے وہ اپنے باغ کو پانی دے رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی ہو تو بہتر ہے، ورنہ ہم منہ لگا کر نہر ہی سے پانی پی لیتے ہیں اس نے کہا: نہیں بلکہ میرے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی موجود ہے ۔
Narrated Abdullah bin Abu Awfa رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The supplier of the people is the last (man) to drink.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابومختار کی سند سے,عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کے ساقی کو سب سے اخیر میں پینا چاہیئے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was brought milk that was mixed with water. A nomad Arab was on his right and Abu Bakr was on his left. He himself drank and gave it to the nomad Arab, and said: He who is on the right, then he who is on his right then he who is on his right.
ہم سے قعنبی عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا، آپ کے دائیں ایک دیہاتی اور بائیں ابوبکر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا پھر دیہاتی کو ( پیالہ ) دے دیا اور فرمایا: دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے پھر وہ جو اس کے دائیں ہو ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
When the prophet صلی اللہ علیہ وسلم drank, he used to breathe three times in the course of a drink and say: It is more whole some, thrist-quenching and healthier.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ابو عصام کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیتے تو تین سانس میں پیتے اور فرماتے: یہ خوب پیاس کو مارنے والا، ہاضم اور صحت بخش ہے ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade blowing or breathing into a vessel.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبد الکریم نے، عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔