Narrated Usamah bin Sharik رضی اللہ عنہ :
I came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and his Companions were sitting as if they had birds on their heads. I saluted and sat down. The desert Arabs then came from here and there. They asked: Messenger of Allah, should we make use of medical treatment? He replied: Make use of medical treatment, for Allah has not made a disease without appointing a remedy for it, with the exception of one disease, namely old age.
ہم سے حفص بن عمر النمری نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، زیاد بن علاقہ سے, اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ کے اصحاب اس طرح ( بیٹھے ) تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، تو میں نے سلام کیا پھر میں بیٹھ گیا، اتنے میں ادھر ادھر سے کچھ دیہاتی آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم دوا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوا کرو اس لیے کہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی ہے جس کی دوا نہ پیدا کی ہو، سوائے ایک بیماری کے اور وہ بڑھاپا ہے ۔
Narrated Umm al-Mundhar bint Qays al-Ansariyyah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to visit me, accompanied by Ali who was convalescing. We had some ripe dates hung up. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم got up and began to eat from them. Ali رضی اللہ عنہ also got up to eat, but the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said repeatedly to Ali رضی اللہ عنہ: Stop, Ali رضی اللہ عنہ, for you are convalescing, and Ali رضی اللہ عنہ stopped. She said: I then prepared some barley and beer-root and brought it. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: Take some of this, Ali رضی اللہ عنہ, for it will be more beneficial for you. Abu Dawud said: The narrator Harun said: al-Adawiyyah (i.e. Umm al-Mundhar).
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے ابوداؤد اور ابو عامر نے بیان کیا - اور یہ ابو عامر کا قول ہے - فلیح بن سلیمان کی سند سے، ایوب بن عبدالرحمٰن بن صعصع الانصاری سے، وہ یعقوب بن یعقوب بن ابی بن ابی رضی اللہ عنہ سے, ام منذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ تھے، ان پر کمزوری طاری تھی ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر انہیں کھانے لگے، علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ٹھہرو ( تم نہ کھاؤ ) کیونکہ تم ابھی کمزور ہو یہاں تک کہ علی رضی اللہ عنہ رک گئے، میں نے جو اور چقندر پکایا تھا تو اسے لے کر میں آپ کے پاس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! اس میں سے کھاؤ یہ تمہارے لیے مفید ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہارون کی روایت میں «انصاریہ» کے بجائے«عدویہ» ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The best medical treatment you apply is cupping.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو نے ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن دواؤں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں خیر ( بھلائی ) ہے تو وہ سینگی ( پچھنے ) لگوانا ہے ۔
Narrated Salmah رضی اللہ عنہا :
The maid-servant of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, said: No one complained to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم of a headache but he told him to get himself cupped, or of a pain in his legs but he told him to dye them with henna.
ہم سے محمد بن الوزیر الدمشقی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے ابن حسن نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی المولی نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ کے آزاد کردہ غلام فائد نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن علی ابن ابی رافع نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن علی بن ابی رافع نے اپنے آزاد ہونے کی سند پر بیان کیا۔ ابی رافع،اپنی نانی سلمیٰ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے، جو رسول اللہ کی خادمہ تھیں
جو شخص بھی اپنے سر درد کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا آپ اسے فرماتے: سینگی لگواؤ اور جو شخص اپنے پیروں میں درد کی شکایت لے کر آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے: ان میں خضاب ( مہندی ) لگاؤ ۔
Narrated Abu Kabshah al-Anmari رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to have himself cupped on the top of his head and between his shoulders, and that he used to say: If anyone pours out any of his blood, he will not suffer if he applies no medical treatment for anything.
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم الدمشقی اور کثیر بن عبید نے بیان کیا, ہم سے ولید نے ابن ثوبان سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر اور اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان سینگی ( پچھنے ) لگواتے اور فرماتے: جو ان جگہوں کا خون نکلوالے تو اسے کسی بیماری کی کوئی دوا نہ کرنے سے کوئی نقصان نہ ہو گا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم had himself cupped three times in the veins at the sides of the neck and on the shoulder. Mamar said: I got myself cupped, and I lost my memory so much so that I was instructed Surat al-Fatihah by others in my prayer. He had himself cupped at the top of his head.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کے دونوں پٹھوں میں اور دونوں کندھوں کے بیچ میں تین پچھنے لگوائے۔ ایک بوڑھے کا بیان ہے: میں نے پچھنا لگوائے تو میری عقل جاتی رہی یہاں تک کہ میں نماز میں سورۃ فاتحہ لوگوں کے بتانے سے پڑھتا، بوڑھے نے پچھنا اپنے سر پر لگوایا تھا۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone has himself cupped on the 17th, 19th and 21st it will be a remedy for every disease.
ہم سے ابو توبہ الربیع بن نافع نے بیان کیا، ہم سے سعید بن عبدالرحمٰن الجمعی نے سہیل کی سند سے اپنے والد سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگوائے تو اسے ہر بیماری سے شفاء ہو گی ۔
Narrated Kabshah daughter of Abu Bakrah: (the narrator other than Musa said that Kayyisah daughter of Abu Bakrah) She said:
Her father used to forbid his family to have themselves cupped on a Tuesday, and used to assert on the authority of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم that Tuesday is the day of blood in which there is an hour when it does not stop.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، مجھ سے ابوبکرہ بکر بن عبدالعزیز نے بیان کیا, کبشہ بنت ابی بکرہ نے خبر دی ہے کہ
ان کے والد اپنے گھر والوں کو منگل کے دن پچھنا لگوانے سے منع کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے: منگل کا دن خون کا دن ہے اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں خون بہنا بند نہیں ہوتا ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had himself cupped above the thigh for a contusion from which he suffered.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا، ابو الزبیر سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنی سرین پر پچھنے لگوائے۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم sent a physician to Ubayy (Ibn Kab) رضی اللہ عنہ , and he cut his vein.
ہم سے محمد بن سلیمان الانباری نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے العمش کی سند سے، ابو سفیان کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک طبیب بھیجا تو اس نے ان کی ایک رگ کاٹ دی ۔
Narrated Imran bin Husayn رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade to cauterise; we cauterised but they (cauterisation) did not benefit us, nor proved useful for us. Abu Dawud said: He used to hear the salutation of the angels: When he cauterized, it stopped. When he abandoned, it returned to him.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، ثابت کی سند سے، مطرف کی سند سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے داغنے سے منع فرمایا، اور ہم نے داغ لگایا تو نہ تو اس سے ہمیں کوئی فائدہ ہوا، نہ وہ ہمارے کسی کام آیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ فرشتوں کا سلام سنتے تھے جب داغ لگوانے لگے تو سننا بند ہو گیا، پھر جب اس سے رک گئے تو سابقہ حالت کی طرف لوٹ آئے ( یعنی پھر ان کا سلام سننے لگے ) ۔
Jabir رضی اللہ عنہ said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم cauterized Saad bin Muadh from the wound of an arrow.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ابو الزبیر سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر کے زخم کی وجہ سے جو انہیں لگا تھا داغا۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم snuffed medicine.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے احمد بن اسحاق نے بیان کیا، ہم سے وہیب نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن طاؤس سے، وہ اپنے والد سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک میں دوا ڈالی۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was asked about a charm for one who is possessed (nashrah). He replied: It pertains to the work of the devil.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے عقیل بن معقل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «نشرہ» کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ شیطانی کام ہے ۔
Narrated Abdullah bin Amr bin al-As رضی اللہ عنہما :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: If I drink an antidote, or tie an amulet, or compose poetry, I am the type who does not care what he does. Abu Dawud said: This was peculiar to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, but some people have allowed to use it, i.e. antidote.
ہم سے عبیداللہ بن عمر بن میسرہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، ہم سے شورابیل بن یزید المعفری نے بیان کیا،عبدالرحمٰن بن رافع تنوخی کہتے ہیں , میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: مجھے پرواہ نہیں جو بھی میرا حال ہو اگر میں تریاق پیوں یا تعویذ گنڈا لٹکاؤں یا اپنی طرف سے شعر کہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص تھا، کچھ لوگوں نے تریاق پینے کی رخصت دی ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited unclean medicine.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، ہم سے یونس بن ابی اسحاق نے مجاہد کی سند سے بیان کیا ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجس یا حرام دوا سے منع فرمایا ہے ۔
Narrated Abdur Rahman bin Uthman رضی اللہ عنہ :
When a physician consulted the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم about putting frogs in medicine, he forbade him to kill them.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے ابن ابی ذہب کی سند سے، سعید بن خالد کی سند سے، سعید بن المسیب کی سند سے , عبدالرحمٰن بن عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک طبیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوا میں مینڈک کے استعمال کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک قتل کرنے سے منع فرمایا۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone drinks poison, the poison will be in his hand (on the Day of Judgement) and he will drink it in Hell-fire and he will live in it eternally.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ہم سے الاعمش نے بیان کیا، ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو زہر پیے گا تو قیامت کے دن وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا اور اسے جہنم میں پیا کرے گا اور ہمیشہ اسی میں پڑا رہے گا کبھی باہر نہ آ سکے گا ۔
Narrated Tariq bin Suwayd or Suwayd bin Tariq:
He asked the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم about wine, but he forbade it. He again asked him, but he forbade him. He said to him: Prophet of Allah, it is a medicine. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: No it is a disease.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سماک نے، ان سے علقمہ بن وائل رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے ، طارق بن سوید یا سوید بن طارق نے ذکر کیا کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے انہیں منع فرمایا، انہوں نے پھر پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پھر منع فرمایا تو انہوں نے آپ سے کہا: اللہ کے نبی! وہ تو دوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ بیماری ہے ۔
Narrated Abu al-Darda رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah has sent down both the disease and the cure, and He has appointed a cure for every disease, so treat yourselves medically, but use nothing unlawful.
ہم سے محمد بن عبادہ الوصطی نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہیں اسماعیل بن عیاش نے خبر دی، انہیں ثعلبہ بن مسلمہ نے ابوعمران انصاری کی سند سے, ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے بیماری اور دوا ( علاج ) دونوں اتارا ہے اور ہر بیماری کی ایک دوا پیدا کی ہے لہٰذا تم دوا کرو لیکن حرام سے دوا نہ کرو ۔