Dialects and Readings of the Qur'an (Kitab Al-Huruf Wa Al-Qira'at)
كتاب الحروف والقراءات
Chapter 32
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم read the Quranic verse, And take ye the Station of Abraham as a place of prayer.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا۔ ہم سے نصر بن عاصم نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے، جعفر بن محمد سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» اور مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنا لو۔۔۔ ( سورۃ البقرہ: ۱۲۴ ) ( امر کے صیغہ کے ساتھ بکسر خاء ) پڑھا۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
A man got up (for prayer) at night, he read the Quran and raised his voice in reading. When the morning came, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: May Allah have mercy on so-and-so! Last night he reminded me a number of verses which I was about to forget.
ہم سے موسیٰ یعنی ابن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ہشام بن عروہ نے عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
ایک شخص نے رات میں قیام کیا اور ( نماز میں ) بلند آواز سے قرآت کی، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ فلاں پر رحم کرے کتنی آیتیں جنہیں میں بھول چلا تھا ۱؎ اس نے آج رات مجھے یاد دلا دیں ۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The verse And no Prophet could (ever) be false to his trust was revealed about a red velvet. When it was found missing on the day of Badr, some people said; Perhaps the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم has taken it. So Allah, the Exalted, sent down And no prophet could (ever) be false to his trust to the end of the verse. Abu Dawud said: In the word yaghulla the letter ya has a short vowel a.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ہم سے خصیف نے بیان کیا، ہم سے ابن عباس کے آزاد کردہ غلام مقسم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ
آیت: «وما كان لنبي أن يغل» نبی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خیانت کرے۔۔۔ ( سورۃ آل عمران: ۱۶۱ ) ایک سرخ چادر کے متعلق نازل ہوئی جو بدر کے دن گم ہو گئی تھی تو کچھ لوگوں نے کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا ہو تب اللہ تعالیٰ نے: «وما كان لنبي أن يغل» نازل کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «يغل» یا کے فتحہ کے ساتھ ہے۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: O Allah, I seek refuge in Thee from niggardliness and old age.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخیلی اور بڑھاپے سے۔
Narrated Laqit bin Sabirah رضی اللہ عنہ :
I came in the deputation of Banu al-Muntafiq to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He then narrated the rest of the tradition. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: la tahsibanna (do not think) and did not say: la tahsabanna (do not think).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سلیم نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن کثیر نے، عاصم بن لقیط بن صبرہ کی سند سے, لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں بنی منتفق کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا، یا بنی منتفق کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا پھر انہوں نے حدیث بیان کی کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «لا تحسبن» ( سین کے زیر کے ساتھ ) پڑھا اور «لا تحسبن» ( سین کو زبر کے ساتھ ) نہیں پڑھا۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Muslims met a man with some sheep of his. He said: Peace be upon you. But they killed him and took those few sheep. Thereupon the following Quranic verse was revealed: . . . And say to anyone who offers you a salutation: Thou art none of believer, coveting the perishable good of this life. meaning these few sheep.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ہم سے عمرو بن دینار نے عطاء کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
مسلمان ایک شخص سے ملے جو اپنی بکریوں کے چھوٹے سے ریوڑ میں تھا اس نے السلام علیکم کہا پھر بھی مسلمانوں نے اسے قتل کر دیا اور وہ ریوڑ لے لیا تو یہ آیت کریمہ: «ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا تبتغون عرض الحياة الدنيا» جو شخص تمہیں سلام کہے اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے تم لوگ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان یعنی ان بکریوں کو چاہتے ہو ( سورۃ النساء: ۹۴ ) نازل ہوئی۔
Narrated Zayd bin Thabit رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to read: Not equal are those believers who sit (at home) and receive no hurt (ghayru ulid-darari) but the narrator Saeed did not say the words used to read
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی الزناد نے بیان کیا۔ ہم سے محمد بن سلیمان الانباری نے بیان کیا، ہم سے حجاج بن محمد نے ابن ابی الزناد کی سند سے بیان کیا اور وہ اپنے والد سے، خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے، اپنے والد کی سند سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» کے بعد «غير أولي الضرر» پڑھتے تھے۔ اور سعید بن منصور نے اپنی روایت میں «كان يقرأ» نہیں کہا ہے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم read the verse: eye for eye (al-'aynu bil-'ayn).
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، انہوں نے ابو علی بن یزید کی سند سے، وہ الزہری کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «والعين بالعين» ( رفع کے ساتھ ) پڑھا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم read the verse: We ordained therein for them: Life for life and eye for eye (an-nafsa bin-nafsi wal-'aynu bil-'ayn).
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابو علی بن یزید نے، وہ الزہری کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «وكتبنا عليهم فيها أن النفس بالنفس والعين بالعين» اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہے ( سورۃ المائدہ: ۴۵ ) ( عین کے رفع کے ساتھ ) پڑھا۔
Narrated Atiyyah bin Saad al-Awfi said:
I recited to Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما the verse: It is Allah Who created you in a state of (helplessness) weakness (min da'f). He said: (Read) min du'f. I recited it to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as you recited it to me, and he gripped me as I gripped you.
ہم سے النفیل نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے فضیل بن مرزوق نے بیان کیا، عطیہ بن سعد عوفی کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے: «الله الذي خلقكم من ضعف» اللہ وہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا ( سورۃ الروم: ۵۴ ) ( ضاد کے زبر کے ساتھ ) پڑھا تو انہوں نے کہا «مِنْ ضُعْفٍ» ( ضاد کے پیش کے ساتھ ) ہے میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا تھا جیسے تم نے پڑھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گرفت فرمائی جیسے میں نے تمہاری گرفت کی ہے۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم read the verse mentioned above, min du'f.
ہم سے محمد بن یحییٰ قطعی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید نے بیان کیا، ان سے ابن عقیل نے، انہوں نے ہارون کی سند سے، عبداللہ بن جبیر نے عطیہ کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «مِنْ ضُعْفٍ» روایت کی ہے۔
Narrated Ubayy bin Kab رضی اللہ عنہ said:
Say, in the bounty of Allah, and in His mercy- in that let you rejoice.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، اسلم منقری سے، عبداللہ نے اپنے والد سے, عبدالرحمٰن بن ابزی کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا
«بفضل الله وبرحمته فبذلك فلتفرحوا» لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیئے ( سورۃ یونس: ۵۸ ) پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ( تاء کے ساتھ ) ہے۔
(There is another chain) from Ubayy رضی اللہ عنہ said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم read the verse: Say: In the bounty of Allah and in His mercy--in that let you rejoice: that is better than the wealth you hoard.
ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے المغیرہ بن سلمہ نے بیان کیا، ہم سے ابن المبارک نے بیان کیا، ان سے الاجلح کی سند سے، مجھ سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزہ نے اپنے والد سے, ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحواء هو خير مما تجمعون» پڑھا ۔
Narrated Asma daughter of Yazid رضی اللہ عنہا :
She heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم read the verse: He acted unrighteously. (innahu 'amila ghayra salih).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، انہیں ثابت نے خبر دی، وہ شہر بن حوشب کی سند سے, اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «إنه عمل غير صالح» ( بصیغہ ماضی ) یعنی: اس نے ناسائشہ کام کیا ( سورۃ ہود: ۴۶ ) پڑھتے سنا ہے۔
Narrated Shahr bin Hawshab said:
I asked Umm Salamah رضی اللہ عنہا : How did the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم read this verse: For his conduct is unrighteous (innahu 'amalun ghayru salih . She replied: He read it: He acted unrighteously (innahu 'amila ghayra salih). Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Harun al-Nahwi and Musa bin Khalaf from Thabit as reported by the narrator Abdul-Aziz.
ہم سے ابو کامل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، یعنی ہم سے ابن مختار نے بیان کیا، ہم سے ثابت نے بیان کیا, شہر بن حوشب کہتے ہیں
میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کریمہ «إنه عمل غير صالح» کیسے پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ اسے «إنه عمل غير صالح» ( فعل ماضی کے ساتھ ) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ہارون نحوی اور موسیٰ بن خلف نے ثابت سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے عبدالعزیز نے کہا ہے۔
Narrated Ubayy ibn Kab:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prayed, he began with himself and said: May the mercy of Allah be upon us and upon Moses. If he had patience, he would have seen marvels from his Companion. But he said: (Moses) said: If ever I ask thee about anything after this, keep me not in they company: then wouldst thou have received (full) excuse from my side . Hamzah lengthened it.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ نے حمزہ الزیات سے، ابواسحاق سے، سعید بن جبیر سے، ابن عباس سے، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا فرماتے تو پہلے اپنی ذات سے شروعات کرتے یوں کہتے: اللہ کی رحمت ہو ہم پر اور موسیٰ پر اگر وہ صبر کرتے تو اپنے ساتھی ( خضر ) کی طرف سے عجیب عجیب چیزیں دیکھتے، لیکن انہوں نے تو کہہ دیا «إن سألتك عن شىء بعدها فلا تصاحبني قد بلغت من لدني» اگر اب اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا یقیناً آپ میری طرف سے حد عذر کو پہنچ چکے ( سورۃ الکہف: ۷۶ ) ۔ حمزہ نے «لدنی» کے نون کو کھینچ کر بتایا کہ آپ یوں پڑھا کرتے۔
Narrated Ubayy bin Kab رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم read the Quranic verse: Thou hast received (full) excuse from me (min ladunni) and put tashdid (doubling of consonants) on nun (n).
ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن ابوعبداللہ العنبری نے بیان کیا، ہم سے امیہ بن خالد نے بیان کیا، ہم سے ابو الجریع العبدی نے شعبۃ کی سند سے، ابو اسحاق کی سند سے، سعید بن ہبیر بن عباس رضی اللہ عنہما سے, ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قد بلغت من لدني» ( نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا ) اور انہوں نے اسے مشدد پڑھ کے بتایا۔
Narrated Misda Abu yahya said:
I heard Ibn Abbas رضی اللہ عنہما say: Ubayy bin Kab رضی اللہ عنہ made me read the following verse as the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم made him read: in a spring of murky water (fi 'aynin hami'atin) with short vowel a after h.
ہم سے محمد بن مسعود المصیصی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا، ہم سے محمد بن دینار نے بیان کیا، ہم سے سعد بن اوس نے بیان کیا، مصدع ابویحییٰ کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے مجھے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے «في عين حمئة» دلدل کے چشمہ میں ( سورۃ الکہف: ۸۶ ) تخفیف کے ساتھ پڑھایا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخفف پڑھایا تھا۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A man from the Illiyyun will look downwards at the people of Paradise and Paradise will be glittering as if it were a brilliant star. He (the narrator) said: In this way the word durriun (brilliant) occurs in this tradition, i. e. the letter dal has short vowel u and it has no hamzah'. Abu Bakr and Umar رضی اللہ عنہما will be of them and will have some additional blessings.
ہم سے یحییٰ بن الفضل نے بیان کیا، انہیں وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عمرو النمری نے بیان کیا، انہیں ہارون نے خبر دی، انہیں ابان بن تغلب نے خبر دی، عطیہ عوفی کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علیین والوں میں سے ایک شخص جنتیوں کو جھانکے گا تو جنت اس کے چہرے کی وجہ سے چمک اٹھے گی گویا وہ موتی سا جھلملاتا ہوا ستارہ ہے ۔ راوی کہتے ہیں: اسی طرح «دري» دال کے پیش اور یا کی تشدید کے ساتھ حدیث وارد ہے دال کے زیر اور ہمزہ کے ساتھ نہیں اور آپ نے فرمایا ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما بھی انہیں میں سے ہیں بلکہ وہ دونوں ان سے بھی بہتر ہیں۔
Narrated Farwah bin Musayk al-Ghutayfi رضی اللہ عنہ :
I came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He then narrated the rest of the tradition. A man from the people said: Messenger of Allah! tell us about Saba'; what is it: land or woman? He replied: It is neither land nor woman; it is a man to whom ten children of the Arabs were born: six of them lived in the Yemen and four lived in Syria. The narrator Uthman said al-Ghatafani instead of al-Ghutayfi. He said: It has been transmitted to us by al-Hasan bin al-Hakam an-Nakha'i.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بن الحکم النخعی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو سبرہ النخعی نے بیان کیا, فروہ بن مسیک غطیفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے تو ہم میں ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! سبا کے متعلق مجھے بتائیے کہ وہ کیا ہے؟ کسی کا نام ہے یا کوئی عورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نہ کوئی سر زمین ہے نہ عورت ہے بلکہ ایک شخص کا نام ہے جس کے دس عرب لڑکے ہوئے جس میں سے چھ نے یمن میں رہائش اختیار کر لی اور چار نے شام میں ۔ عثمان نے غطیفی کے بجائے غطفانی کہا ہے اور «حدثني الحسن بن الحكم النخعي» کے بجائے «حدثنا الحسن بن الحكم النخعي» کہا ہے۔