The Book Of The Prayer For Rain (Kitab al-Istisqa')
كتاب الاستسقاء
Chapter 3
Abbad bin Tamim (al-Muzini) رضی اللہ عنہ reported on the authority of his uncle:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم took the people out (to the place of prayer) and prayed for rain. He led them in two rak'ahs of prayer in the course of which he recited from the Quran in a loud voice. He turned around his cloak and raised his hands, prayed for rain and faced the qiblah
ہم سے احمد بن محمد بن ثابت المروازی نے بیان کیا، ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، انہیں زہری نے عباد بن تمیم سے اپنے چچا کی سند سے بیان کیا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ نماز استسقا کے لیے نکلے، تو آپ نے انہیں دو رکعت پڑھائی، جن میں بلند آواز سے قرأت کی اور اپنی چادر اپنے سر پر پھیری اور قبلہ رخ ہو کر بارش کے لیے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی ۔
It was reported from Ibn Abi Dhi'b and Younus from Ibn Shihab, who said:
Abbad bin Tamim al Mazini said on the authority of his uncle (Abdullah bin Zaid b Asim) who was a Companion of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم : One day the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم went out to make supplication for rain. He turned his back towards the people praying to Allah, the Exalted. The narrator Sulaiman bin Dawud said: He faced the qiblah and turned around his cloak and then offered two rak'ahs of prayer. The narrator Ibn Abi Dhi'b said: He recited from the Quran in both of them. The version of Ibn al-Sarh adds: By it he means in a loud voice.
ہم سے ابن سرح اور سلیمان بن داؤد نے بیان کیا, ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے ابن ابی ذہب اور یونس نے بیان کیا, ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ
مجھے عباد بن تمیم مازنی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے اپنے چچا ( عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ ) سے ( جو صحابی رسول تھے ) سنا کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ساتھ لے کر نماز استسقا کے لیے نکلے اور لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کر کے اللہ عزوجل سے دعا کرتے رہے۔ سلیمان بن داود کی روایت میں ہے کہ آپ نے قبلہ کا استقبال کیا اور اپنی چادر پلٹی پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ اور ابن ابی ذئب کی روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں میں قرآت کی۔ ابن سرح نے یہ اضافہ کیا ہے کہ قرآت سے ان کی مراد جہری قرآت ہے۔
It was narrated from Az-Zubaidi from Muhammad bin Muslim this Hadith with his chain (a narration similar to 110-1162). He did not mention the prayer, and he said:
The Messenger of Allah (ﷺ) turned around his cloak, putting its right side on his left shoulder and its left side on his right shoulder. Thereafter he made supplication to Allah.
ہم سے محمد بن عوف نے بیان کیا: میں نے عمرو بن حارث کی کتاب میں پڑھا، یعنی الحمصِی، عبداللہ بن سالم کی سند سے اور الزبیدی کی سند سے, اس طریق سے بھی محمد بن مسلم (ابن شہاب زہری) سے سابقہ سند سے یہی حدیث مروی ہے,اس میں راوی نے نماز کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر پلٹی تو چادر کا داہنا کنارہ اپنے بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ اپنے داہنے کندھے پر کر لیا، پھر اللہ عزوجل سے دعا کی۔
Abdullah bin Zaid رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ)prayed for rain wearing a black robe with ornamented border. The Messenger of Allah (ﷺ)wanted to reverse it from bottom to top by holding the bottom. But when it was too heavy he turned it round on his shoulders.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، انہوں نے عمارہ بن غزیہ سے، انہوں نے عباد بن تمیم کی سند سے, عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز استسقا پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایک سیاہ چادر تھی تو آپ نے اس کے نچلے کنارے کو پکڑنے اور پلٹ کر اسے اوپر کرنے کا ارادہ کیا جب وہ بھاری لگی تو اسے اپنے کندھے ہی پر پلٹ لیا۔
Hisham bin Ishaq bin Abdullah bin Kinanah narrated that his father:
Al-Walid bin Utbah or (according to the version of Uthman) al-Walid bin Uqbah, the then governor of Madina, sent me to Ibn Abbas رضی اللہ عنہما to ask him about the prayer for rain offered by the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم went out wearing old clothes in a humble and lowly manner until he reached the place of prayer. He then ascended the pulpit, but he did not deliver the sermon as you deliver (usually). He remained engaged in making supplication, showing humbleness (to Allah) and uttering the takbir (Allah is most great). He then offered two rak'ahs of prayer as done on the Eid (festival). Abu Dawud said: This is the version of al-Nufaili. What is correct is Ibn Utbah's
نفیلی اور عثمان بن ابی شیبہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے, انہوں نے کہا: ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا, ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے خبر دی ہے کہ
مجھے ولید بن عتبہ نے ( عثمان کی روایت میں ولید بن عقبہ ہے، جو مدینہ کے حاکم تھے ) ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا کہ میں جا کر ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقا کے بارے پوچھوں تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھٹے پرانے لباس میں عاجزی کے ساتھ گریہ وزاری کرتے ہوئے عید گاہ تک تشریف لائے، عثمان بن ابی شیبہ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ منبر پر چڑھے، آگے دونوں راوی روایت میں متفق ہیں: آپ نے تمہارے ان خطبوں کی طرح خطبہ نہیں دیا، بلکہ آپ برابر دعا، گریہ وزاری اور تکبیر میں لگے رہے، پھر دو رکعتیں پڑھیں جیسے عید میں دو رکعتیں پڑھتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: روایت نفیلی کی ہے اور صحیح ولید بن عقبہ ہے۔
Abdullah bin Zaid رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ)went out to the place of prayer to pray for rain. When he wanted to make supplication, he faced the qiblah and turned around his cloak.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے، یعنی ہم سے ابن بلال نے، انہوں نے یحییٰ کی سند سے، انہوں نے ابوبکر بن محمد سے، انہوں نے عباد بن تمیم کی سند سے, عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف بارش طلب کرنے کی غرض سے نکلے، جب آپ نے دعا کرنے کا ارادہ کیا تو قبلہ رخ ہوئے پھر اپنی چادر پلٹی۔
Narrated Abdullah bin Zaid al Mazini رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) went out to the place of prayer and made supplication or rain, and turned around his cloak when the faced the qiblah.
ہم سے القعْنبی نے مالک کی سند سے اور عبداللہ بن ابی بکر سے روایت کی کہ انہوں نے عباد بن تمیم کو کہتے سنا, عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف نکلے، اور ( اللہ تعالیٰ سے ) بارش طلب کی، اور جس وقت قبلہ رخ ہوئے، اپنی چادر پلٹی۔
Narrated Umayr, the freed slave of the children of Abi Al-Lahm رضی اللہ عنہ :
Umayr رضی اللہ عنہ saw the Prophet (ﷺ) praying for rain at Ahjar az-Zayt near az-Zawra', standing, making supplication, praying for rain and raising his hands in front of his face, but not lifting them above his head.
ہم سے محمد بن سلمہ مرادی نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن وہب نے خبر دی، انہیں حیوہ نے اور عمر بن مالک نے، انہوں نے ابن الحاد سے، وہ محمد بن ابراہیم سے، وہ عمیر مولیٰ آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
عمیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زوراء کے قریب احجار زیت کے پاس کھڑے ہو کر ( اللہ تعالیٰ سے ) بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ چہرے کی طرف اٹھائے بارش کے لیے دعا کر رہے تھے اور انہیں اپنے سر سے اوپر نہیں ہونے دیتے تھے۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah:
The people came to the Prophet (ﷺ) weeping (due to drought). He said (making supplication): O Allah! give us rain which will replenish us, abundant, fertilising and profitable, not injurious, granting it now without delay. He (the narrator) said: Thereupon the sky became overcast.
ہم سے ابن ابی خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، انہوں نے یزید فقیر سے اور جابر بن عبداللہ کی سند سے, انہوں نے کہا
لوگ (قحط کی وجہ سے) روتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اس نے (دعا کرتے ہوئے) کہا: اے اللہ! ہمیں بارش عطا فرما جو ہمیں بھر دے، وافر، زرخیز اور نفع بخش، نقصان دہ نہیں، اب بلا تاخیر عطا فرما۔ اس نے (راوی) کہا: اس کے بعد آسمان پر بادل چھا گئے۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was not accustomed to raise his hands in any supplication he made except when praying for rain. He would then raise them high enough so much so that the whiteness of his armpits was visible.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے بیان کیا,انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقا کے علاوہ کسی دعا میں ( اتنا ) ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے ( اس موقعہ پر ) آپ اپنے دونوں ہاتھ اتنا اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to make supplication for rain in this manner. he spread his hands keeping the inner side (of hands) towards the earth, so I witnessed the whiteness of his armpits.
ہم سے حسن بن محمد الزعفرانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ہمیں ثابت نے خبر دی، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقا میں اس طرح دعا کرتے تھے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتے اور ان کی پشت اوپر رکھتے اور ہتھیلی زمین کی طرف یہاں تک کہ میں نے آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھی۔
Narrated Muhammad bin Ibrahim:
A man who witnessed the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم reported to me that he saw the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم praying at Ahjar al-Zait spreading his hands.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ عبد ربہ بن سعید کی سند سے, محمد بن ابراہیم (تیمی) کہتے ہیں
مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ احجار زیت کے پاس اپنی دونوں ہتھیلیاں پھیلائے دعا فرما رہے تھے۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin رضی اللہ عنہا :
The people complained to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم of the lack of rain, so he gave an order for a pulpit. It was then set up for him in the place of prayer. He fixed a day for the people on which they should come out. Aishah رضی اللہ عنہا said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, when the rim of the sun appeared, sat down on the pulpit, and having pronounced the greatness of Allah and expressed His praise, he said: You have complained of drought in your homes, and of the delay in receiving rain at the beginning of its season. Allah has ordered you to supplicate Him has and promised that He will answer your prayer. Then he said: Praise be to Allah, the Lord of the Universe, the Compassionate, the Merciful, the Master of the Day of Judgment. There is no god but Allah Who does what He wishes. O Allah, Thou art Allah, there is no deity but Thou, the Rich, while we are the poor. Send down the rain upon us and make what Thou sendest down a strength and satisfaction for a time. He then raised his hands, and kept raising them till the whiteness under his armpits was visible. He then turned his back to the people and inverted or turned round his cloak while keeping his hands aloft. He then faced the people, descended and prayed two rak'ahs. Allah then produced a cloud, and the storm of thunder and lightning came on. Then the rain fell by Allah's permission, and before he reached his mosque streams were flowing. When he saw the speed with which the people were seeking shelter, he صلی اللہ علیہ وسلم laughed till his back teeth were visible. Then he said: I testify that Allah is Omnipotent and that I am Allah's servant and Messenger. Abu Dawud said: This is a ghraib (rate) tradition, but its chain is sound. The people of Madina recite maliki (instead of maaliki) yawm al-din (the master of the Day of Judgement). But this tradition (in which the word maalik occurs) is an evidence for them.
ہم سے ہارون بن سعید العیلی نے بیان کیا، ہم سے خالد بن نزار نے بیان کیا، مجھ سے قاسم بن مبرور نے بیان کیا، وہ یونس سے، ہشام بن عروہ سے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ نے منبر ( رکھنے ) کا حکم دیا تو وہ آپ کے لیے عید گاہ میں لا کر رکھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ایک دن عید گاہ کی طرف نکلنے کا وعدہ لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( حجرہ سے ) اس وقت نکلے جب کہ آفتاب کا کنارہ ظاہر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تحمید کی پھر فرمایا: تم لوگوں نے بارش میں تاخیر کی وجہ سے اپنی آبادیوں میں قحط سالی کی شکایت کی ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ( اگر تم اسے پکارو گے ) تو وہ تمہاری دعا قبول کرے گا ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: «الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين ، لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم أنت الله لا إله إلا أنت الغني ونحن الفقراء أنزل علينا الغيث واجعل ما أنزلت لنا قوة وبلاغا إلى حين» یعنی تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جو رحمن و رحیم ہے اور روز جزا کا مالک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے، اے اللہ! تو ہی معبود حقیقی ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم فقیر ہیں، تو ہم پر باران رحمت نازل فرما اور جو تو نازل فرما اسے ہمارے لیے قوت ( رزق ) بنا دے اور ایک مدت تک اس سے فائدہ پہنچا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگی، پھر حاضرین کی طرف پشت کر کے اپنی چادر کو پلٹا، آپ اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اتر کر دو رکعت پڑھی، اسی وقت ( اللہ کے حکم سے ) آسمان سے بادل اٹھے، جن میں گرج اور چمک تھی، پھر اللہ کے حکم سے بارش ہوئی تو ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد نہیں آ سکے تھے کہ بارش کی کثرت سے نالے بہنے لگے، جب آپ نے لوگوں کو سائبانوں کی طرف بڑھتے دیکھا تو ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند جید ( عمدہ ) ہے، اہل مدینہ «ملك يوم الدين» پڑھتے ہیں اور یہی حدیث ان کی دلیل ہے۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
The people of Madina had a drought during the time of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. While he was preaching on a Friday, a man stood up and said: Messenger of Allah, the horses have perished, the goats have perished, pray to Allah to give us water. He spread his hands and prayed. Anas رضی اللہ عنہ said: The sky was like a mirror (there was no cloud). Then the wind rose; a cloud appeared (in the sky) and it spread: the sky poured down the water. We came out (from the mosque after the prayer) passing through the water till we reached our homes. The rain continued till the following Friday. The same or some other person stood up and said: Messenger of Allah, the houses have been demolished, pray to Allah to stop it. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم smiled and said: (O Allah), the rain may fall around us but not upon us. Then I looked at the cloud which dispersed around Madina just like a crown.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، وہ عبدالعزیز بن صہیب نے، ان سے انس بن مالک اور یونس بن عبید نے ثابت کی سند سے ,انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اہل مدینہ قحط میں مبتلا ہوئے، اسی دوران کہ آپ جمعہ کے دن ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہو اور عرض کیا کہ اللہ کے رسول! گھوڑے مر گئے، بکریاں ہلاک ہو گئیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں سیراب کرے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلایا اور دعا کی۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس وقت آسمان آئینہ کی طرح صاف تھا، اتنے میں ہوا چلنے لگی پھر بدلی اٹھی اور گھنی ہو گئی پھر آسمان نے اپنا دہانہ کھول دیا، پھر جب ہم ( نماز پڑھ کر ) واپس ہونے لگے تو پانی میں ہو کر اپنے گھروں کو گئے اور آنے والے دوسرے جمعہ تک برابر بارش کا سلسلہ جاری رہا، پھر وہی شخص یا دوسرا کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھر گر گئے، اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ بارش بند کر دے، ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے پھر فرمایا: اے اللہ! تو ہمارے اردگرد بارش نازل فرما اور ہم پر نہ نازل فرما ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے بادل کو دیکھا وہ مدینہ کے اردگرد سے چھٹ رہا تھا گویا وہ تاج ہے۔
Narrated The above mentioned tradition has been narrated by Anas رضی اللہ عنہ through a different chain of transmitters:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم raised his hands in front of his face and said: O Allah! Give us water. the narrator then reported then reported the tradition like the former.
ہم سے عیسیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، سعید المقبری کی سند سے, شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے روایت ہے کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، پھر راوی نے عبدالعزیز کی روایت کی طرح ذکر کیا اور کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرہ کے بالمقابل اٹھایا اور یہ دعا کی «اللهم اسقنا» اے اللہ! ہمیں سیراب فرما اور آگے انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی.
Narrated Amr bin Suhaib: On his father's authority, quoted his grandfather as saying:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prayed for rain, he said: O Allah! Provide water for Your servants and Your cattle, display Your mercy and give life to Your dead land. This is the wording of Malik.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمرو بن شعیب سے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ہم سے سہل بن صالح نے بیان کیا، ہم سے علی بن قدیم نے بیان کیا، انہیں سفیان نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید سے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے، اپنے دادا کی روایت سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کے لیے دعا مانگتے تو فرماتے: «اللهم اسق عبادك وبهائمك، وانشر رحمتك، وأحي بلدك الميت» اے اللہ! تو اپنے بندوں اور چوپایوں کو سیراب کر، اور اپنی رحمت عام کر دے، اور اپنے مردہ شہر کو زندگی عطا فرما ( یہ مالک کی روایت کے الفاظ ہیں ) ۔
Narrated Aishah (رضی اللہ عنہا):
There was an eclipse of the sun in the time of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. The Prophet stood for a long time, accompanied by the people. He then bowed, then raised his head, then he bowed and then he raised his head, and again he bowed and prayed two rak'ahs of prayer. In each rak'ah he bowed three times. After bowing for the third time he prostrated himself. He stood for such a long time that some people became unconscious on that occasion and buckets of water had to be poured on them. When he bowed, he said, Allah is most great; and when he raised his head, he said, Allah listens to him who praises Him, till the sun became bright. then he said: The sun and the moon are not eclipsed on account of anyone's death or on account of anyone's birth, but they are two of Allah's signs, He produces dread in His servants by means of them. When they are eclipsed, hasten to prayer.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن اُلیّہ نے بیان کیا، انہوں نے ابن جریج کی سند سے اور عطاء کی سند سے, عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس کو میں سچا جانتا ہوں ( عطا کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس سے ان کی مراد عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں ) کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا قیام کیا، آپ لوگوں کے ساتھ قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے، پھر قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے پھر قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ہر رکعت میں آپ نے تین تین رکوع کیا ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسرا رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے یہاں تک کہ آپ کے لمبے قیام کے باعث اس دن کچھ لوگوں کو ( کھڑے کھڑے ) غشی طاری ہو گئی اور ان پر پانی کے ڈول ڈالے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو «الله أكبر» کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده» کہتے یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے سورج یا چاند میں گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں، ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے لہٰذا جب ان دونوں میں گرہن لگے تو تم نماز کی طرف دوڑو ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
There was an eclipse of the sun in the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had died. The people began to to say that there was an eclipse on account of the death of Ibrahim. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم stood up and led the people in prayer performing six bowings and four prostrations. he said: Allah is most great, and then recited from the Quran and prolonged the recitation. He then bowed nearly as long as he stood. He then raised his head and recited from the Quran but it was less than the first (recitation). He then bowed nearly as long as he stood. He then raised his head and then recited from the Quran for the third time, but it was less than the second recitation. He then bowed nearly as long as he stood. he then raised his head and then recited from the Quran for the third time, but it was less than the second recitation. he then bowed nearly as long as he stood. Then he raised his head and went down for prostration. he made two prostrations. He then stood and made three bowings before prostrating himself, the preceding bowing being more lengthy than the following, but he bowed nearly as long as he stood. He then stepped back during the prayer and the rows (of the people) too stepped back along with him. Then he stepped forward and stood in his place, and the rows too stepped forward. he then finished the prayer and the sun had become bright. He said: O people, the sun and the moon are two of Allah's signs; they are not eclipsed on account of a man's death. So when you see anything of that nature, offer prayer until the sun becomes bright. The narrator then narrated the rest of the tradition.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، عبدالملک کی سند سے، مجھ سے عطاء نے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا، یہ اسی دن کا واقعہ ہے جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات ہوئی، لوگ کہنے لگے کہ آپ کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات کی وجہ سے سورج گرہن لگا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز ( کسوف ) پڑھائی، چار سجدوں میں چھ رکوع کیا ، اللہ اکبر کہا، پھر قرآت کی اور دیر تک قرآت کرتے رہے، پھر اتنی ہی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور پہلی قرآت کی بہ نسبت مختصر قرآت کی پھر اتنی ہی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا پھر تیسری قرآت کی جو دوسری قرآت کے بہ نسبت مختصر تھی اور اتنی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، اس کے بعد سجدے کے لیے جھکے اور دو سجدے کئے، پھر کھڑے ہوئے اور سجدے سے پہلے تین رکوع کیے، ہر رکوع اپنے بعد والے سے زیادہ لمبا ہوتا تھا، البتہ رکوع قیام کے برابر ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں پیچھے ہٹے تو صفیں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہٹیں، پھر آپ آگے بڑھے اور اپنی جگہ چلے گئے تو صفیں بھی آگے بڑھ گئیں پھر آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج ( صاف ہو کر ) نکل چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، کسی انسان کے مرنے کی وجہ سے ان میں گرہن نہیں لگتا، لہٰذا جب تم اس میں سے کچھ دیکھو تو نماز میں مشغول ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ صاف ہو کر روشن ہو جائے ، اور راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
There was an eclipse of the sun in the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم on a hot day. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم led his Companions in prayer and prolonged the standing until the people began to fall down. He then bowed and prolonged it; then he raised his head and prolonged (the stay); then he bowed and prolonged it; then he raised his head and prolonged (the stay); then he made two prostrations and then stood up; then he did in the same manner. He thus performed four bowings and four prostrations. Then the narrator narrated the rest of the tradition.
ہم سے مومل بن ہشام نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ہشام کی سند سے ابو الزبیر نے بیان کیا، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سخت گرمی کے دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز کسوف پڑھائی، ( اس میں ) آپ نے لمبا قیام کیا یہاں تک کہ لوگ گرنے لگے پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا ( رکوع ) کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا ( قیام ) کیا، پھر دو سجدے کئے پھر ( دوسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوئے تو ویسے ہی کیا، اس طرح ( دو رکعت میں ) چار رکوع اور چار سجدے ہوئے اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔
Narrated Aishah (رضی اللہ عنہا):
There was an eclipse of the sun during the lifetime of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came tot he mosque; he stood up and uttered the takbir (Allah is great); the people stood in rows behind him; the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم recited from the Quran for a long time; then he uttered the takbir (Allah is most great) and performed bowing for a long time, then he raised his head and said: Allah listens to him who praises Him; our Lord, and to Thee be praise; then he stood up and recited from the Quran for a long time, but it was less than the first (recitation); he then bowed for a long time, but it was less than the first bowing; he then said, Allah listens to him who praises Him; our Lord, and to Thee be praise. he then did so in the second rak'ah. he thus completed four bowings and four prostrations. The sun had become bright before he departed.
ہم سے ابن سرح نے بیان کیا، ہمیں ابن وہب نے خبر دی, ہم سے محمد بن سلمہ المرادی نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، مجھے عروہ بن الزبیر نے خبر دی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ مسجد کی طرف نکلے اور ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف لگائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرات کی پھر «الله أكبر» کہہ کر لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر کھڑے رہے اور لمبی قرآت کی، اور یہ پہلی قرآت سے کچھ مختصر تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہہ کر لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کچھ مختصر تھا، ( پھر رکوع سے سر اٹھایا ) اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر دوسری رکعت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا اس طرح ( دو رکعت میں ) آپ نے پورے چار رکوع اور چار سجدے کئے، اور آپ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے سورج روشن ہو گیا۔