Prayer (Kitab Al-Salat): Detailed Rules of Law about the Prayer during Journey
كتاب صلاة السفر
Chapter 4
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم proceeded before the sun had declined, he delayed the noon prayer till the time of the afternoon prayer, he would then alight and combine the two prayers. If the sun declined before he moved off, he would offer the noon prayer and rode (the beast) - may peace be upon him. Abu Dawud said: The narrator Mufaddal was the judge of Egypt. His supplication was accepted by Allah; he was the son of Fudalah.
ہم سے قتیبہ اور ابن موہب المعنی نے بیان کیا : ہم سے المفضل نے عقیل کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا , انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کر دیتے پھر قیام فرماتے اور دونوں کو جمع کرتے، اور اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو آپ ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مفضل مصر کے قاضی اور مستجاب لدعوات تھے، وہ فضالہ کے لڑکے ہیں۔
The above mentioned tradition has also been reported by 'Uqail through a different chain of narrators. He said:
He would delay the evening prayer till he combined the evening and the night prayers when the twilight disappeared.
ہم سے سلیمان بن داؤد مہری نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں جابر بن اسماعیل نے خبر دی، اس طریق سے بھی عقیل سے یہی روایت اسی سند سے منقول ہے البتہ اس میں اضافہ ہے کہ
مغرب کو مؤخر فرماتے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہو جاتی تو اسے اور عشاء کو ملا کر پڑھتے۔
Narrated Muadh Ibn Jabal رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was engaged in the Battle of Tabuk. If he moved off before the sun had declined, he would delay the noon prayer till he would combine it with the afternoon prayer and would offer them together. If he moved off after the sun had declined, he would combine the noon and afternoon prayers, and then he proceeded; if he moved off before the evening prayer, he would delay the evening prayer; he would offer it along with the night prayer, he would delay the evening prayer; he would offer it along with the night prayer. If he moved off after the evening prayer, he would offer the night prayer earlier and offer it along with the evening prayer. Abu Dawud said: This tradition has not been narrated by anyone except by Qutaibah.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث نے خبر دی، وہ یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے ابو الطفیل عامر بن واثلہ کی سند سے, معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو مؤخر کر دیتے یہاں تک کہ اسے عصر سے ملا دیتے، اور دونوں کو ایک ساتھ ادا کرتے، اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے تو ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھتے پھر روانہ ہوتے، اور جب مغرب سے پہلے کوچ فرماتے تو مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ ملا کر ادا کرتے، اور اگر مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاء میں جلدی فرماتے اور اسے مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث سوائے قتیبہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے ۔
Narrated Al-Bara رضی اللہ عنہ :
We went out on a journey along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He led us in the night prayer and he recited in one of the rak'ahs: By the fig and the olive.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، عدی بن ثابت کی سند سے, براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمیں عشاء پڑھائی اور دونوں رکعتوں میں سے کسی ایک رکعت میں «والتين والزيتون» پڑھی.
Narrated Al-Bara Ibn Azib رضی اللہ عنہما :
I accompanied the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم on eighteen journeys and I never saw him fail to pray two rak'ahs when the sun had passed the meridian before offering the noon prayer.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے صفوان بن سلیم نے، وہ ابو بسرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے, براء بن عازب انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ سفروں میں رہا، لیکن میں نے نہیں دیکھا کہ سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے آپ نے دو رکعتیں ترک کی ہوں۔
Narrated Hafs bin Asim:
I accompanied Ibn Umar رضی اللہ عنہما on the way (on a journey). He led us in two rak'ah's of (the noon) prayer. Then he proceeded and saw some people standing. He asked: What are they doing ? I replied: They are glorifying Allah (i.e. offering supererogatory prayer). He said: If I had offered the supererogatory prayer (while travelling), I would have completed prayer, my cousin. I accompanied the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم during the journey, he did not pray more than two raka'at until his death. I also accompanied Abu Bakr رضی اللہ عنہ , and he prayed two raka'at and nothing more until he died. I also accompanied Umar رضی اللہ عنہ , and he prayed two raka'at and nothing more until he died. I also accompanied Uthman رضی اللہ عنہ , and he prayed two raka'at and nothing more until he died. Indeed Allah, the Exalted, said: Certainly you have in the Messenger of Allah an excellent exemplar.
ہم سے القعنبی نے بیان کیا، عیسیٰ بن حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ
میں ایک سفر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا تو آپ نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ( نماز کی حالت میں ) کھڑے ہیں، پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ نفل پڑھ رہے ہیں، تو آپ نے کہا: بھتیجے! اگر مجھے نفل پڑھنی ہوتی تو میں اپنی نماز ہی پوری پڑھتا، میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا لیکن آپ نے دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، مجھے ( سفر میں ) عثمان رضی اللہ عنہ کی رفاقت بھی ملی لیکن انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور اللہ عزوجل فرما چکا ہے: «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ۔
It was reported from Salim, from his father (Ibn Umar رضی اللہ عنہما), who said:
While travelling the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would pray voluntary prayer on his riding beast in whatever direction it turned; and he would observe witr prayer, but he did not offer the obligatory prayers upon it.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، وہ سالم کے واسطہ سے، وہ اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل پڑھتے تھے، خواہ آپ کسی بھی طرف متوجہ ہوتے اور اسی پر وتر پڑھتے، البتہ اس پر فرض نماز نہیں پڑھتے تھے ۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was on a journey and wished to say voluntary prayer, he made his she-camel face the qiblah and uttered the takbir (Allah is most great), then prayed in whatever direction his mount made his face.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ربیع بن عبداللہ بن جارود نے بیان کیا، مجھ سے عمرو بن ابی الحجاج نے بیان کیا، مجھ سے جارود بن ابی سبرہ نے بیان کیا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے اور نفل پڑھنے کا ارادہ کرتے تو اپنی اونٹنی قبلہ رخ کر لیتے اور تکبیر کہتے پھر نماز پڑھتے رہتے خواہ آپ کی سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو جائے۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم praying on a donkey while he was facing Khaibar.
ہم سے القعْنبی نے مالک کی سند سے، عمرو بن یحییٰ المازنی سے، ابو الحباب سعید بن یسار کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا آپ کا رخ خیبر کی جانب تھا۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent me on some business, and when I came to him he was praying on (the back of) his riding beast (moving) towards the east and making the prostration lower than the bowing.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، سفیان نے ابو الزبیر سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت سے بھیجا، میں ( واپس ) آیا تو دیکھا کہ آپ اپنی سواری پر مشرق کی جانب رخ کر کے نماز پڑھ رہے ہیں ( آپ کا ) سجدہ رکوع کی بہ نسبت زیادہ جھک کر ہوتا تھا.
Ata Ibn Abu Rabah asked Aishah رضی اللہ عنہا :
Can women offer prayer on a riding beast? She replied: They were not permitted to do so in hardship or comfort. Muhammad Ibn Shuayb said: This (prohibition) applies to the obligatory prayers.
ہم سے محمود بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن شعیب نے بیان کیا، ان سے النعمان بن المنذر نے، وہ عطاء بن ابی رباح کی سند سے کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا
کیا عورتوں کو چوپایوں پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے؟ آپ نے کہا: مشکل میں ہوں یا سہولت میں، انہیں کسی حالت میں اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ محمد بن شعیب کہتے ہیں: یہ بات فرض نماز کے سلسلے میں ہے۔
Narrated Imran Ibn Husayn رضی اللہ عنہما :
I went on an expedition with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and I was present with him at the conquest. He stayed eighteen days in Makkah and prayed only two rak'ahs (at each time of prayer). And he said: You who live in the town must pray four; we are travelers.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا اور ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن الیاس نے خبر دی، اور یہ ان کا قول ہے، ہمیں علی بن زید نے ابو نضرہ سے خبر دی، عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا اور فتح مکہ میں آپ کے ساتھ موجود رہا، آپ نے مکہ میں اٹھارہ شب قیام فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے اور فرماتے: اے مکہ والو! تم چار پڑھو، کیونکہ ہم تو مسافر ہیں ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had a stop of seventeen days in Makkah and he shortened the prayer (i.e. prayed two rak'ahs at each time of prayer). Ibn Abbas said: He who stays seventeen days should shorten the prayer; and who stays more than that should offer complete prayer. Abu Dawud said: The other version transmitted by Ibn Abbas through a different chain adds: He (the Prophet) had a stop of nineteen days (in Makkah).
ہم سے محمد بن العلاء اور عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، معنی ایک ہی ہے, انہوں نے کہا: ہم سے حفص نے عاصم کی سند سے اور عکرمہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سترہ دن مکہ میں مقیم رہے، اور نماز قصر کرتے رہے، تو جو شخص سترہ دن قیام کرے وہ قصر کرے، اور جو اس سے زیادہ قیام کرے وہ اتمام کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد بن منصور نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم انیس دن تک مقیم رہے۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stayed fifteen days in Makkah in the year of Conquest. Shortening the prayer. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Abdah bin Sulaiman, Ahmad bin Khalid al-Wahbi, and Salamah bin Fadl on the authority of Ibn Ishaq; but they did not mention the name of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما .
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، وہ زہری سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے سال مکہ میں پندرہ روز قیام فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز قصر کرتے رہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث عبدہ بن سلیمان، احمد بن خالد وہبی اور سلمہ بن فضل نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stayed in Makkah seventeen days and prayed two rak'ahs (at each time of prayer).
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شریک نے بیان کیا، ابن اصبہانی سے، عکرمہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں سترہ دن تک مقیم رہے اور دو دو رکعتیں پڑھتے رہے۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
We went out from Madina to Makkah with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and he prayed two rak'ahs (at each time of prayer) till we returned to Madina. We (the people) said: Did you stay there for some time ? He replied: We stayed there ten days.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل اور مسلم بن ابراہیم المعنہ نے بیان کیا، ہم سے وہیب نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے، آپ ( اس سفر میں ) دو رکعتیں پڑھتے رہے، یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آ گئے تو ہم لوگوں نے پوچھا: کیا آپ لوگ مکہ میں کچھ ٹھہرے؟ انہوں نے جواب دیا: مکہ میں ہمارا قیام دس دن رہا ۔
Narrated Muhammad bin Umar bin Ali Ibn Abu Talib:
When Ali رضی اللہ عنہ travelled, he continued to travel till it became nearly dark. He then alighted and offered the sunset prayer. Then he would call for his dinner and eat it. Then he prayed the night prayer and then moved off. He would say: This is how the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to do. Usamah Ibn Zayd reported from Hafs Ibn Ubaydullah, the son of Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ : Anas رضی اللہ عنہ would combine them (the evening and night prayer) when the twilight disappeared. He said: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to do so. Az-Zuhri also reported similarly on the authority of Anas رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور ابن المثنی نے بیان کیا - اور یہ ابن المثنی کا قول ہے - انہوں نے کہا : ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا - ابن المثنی نے کہا : عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ
علی رضی اللہ عنہ جب سفر کرتے تو سورج ڈوبنے کے بعد بھی چلتے رہتے یہاں تک کہ اندھیرا چھا جانے کے قریب ہو جاتا، پھر آپ اترتے اور مغرب پڑھتے۔ پھر شام کا کھانا طلب کرتے اور کھا کر عشاء ادا کرتے۔ پھر کوچ فرماتے اور کہا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ عثمان کی روایت میں «أخبرني عبدالله بن محمد بن عمر بن علي» کے بجائے «عن عبدالله بن محمد بن عمر بن علي» ہے۔ ( ابوعلی لولؤی کہتے ہیں ) میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ اسامہ بن زید نے حفص بن عبیداللہ ( بن انس بن مالک ) سے روایت کی ہے کہ انس رضی اللہ عنہ جب شفق غائب ہو جاتی تو دونوں ( مغرب اور عشاء ) کو جمع کرتے اور کہتے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ زہری نے انس رضی اللہ عنہ سے انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stayed at Tabuk twenty days; he shortened the prayer (during his stay). Abu Dawud said: No one narrates this tradition with continuous chain except Mamar.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام فرمایا اور نماز قصر کرتے رہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معمر کے علاوہ سبھی اسے مرسل روایت کرتے ہیں، کوئی اسے مسند روایت نہیں کرتا ہے۔
Narrated Abu Ayyash az-Zuraqi رضی اللہ عنہ :
We accompanied the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at Usfan, and Khalid bin al-Walid was the chief of unbelievers. We offered the noon prayer. Thereupon, the unbelievers said: We suffered from negligence; we became careless. We should have attacked them while they were praying. Thereupon the verse was revealed, relating to the shortening of the prayer (in time of danger) between the noon and afternoon (prayer). When the time of the afternoon prayer came, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stood facing the qiblah, and the unbelievers were standing in front of him. The people stood in a row behind the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and there was another row behind this row. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم bowed and all of them bowed. He then prostrated and also the row near him prostrated. The other people in the second row remained standing and stood guard over them. When they performed two prostrations and stood up, those who were behind them prostrated. The people in the front row near him then stepped backward taking the place of the people in the second row and the second row took the place of the first row. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then bowed and all of them bowed together. Then he and the row near him prostrated themselves. The other people in the second row remained standing and stood guard over them. When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and the row near him (i.e. the front row) were seated, the people in the second row behind them prostrated themselves. Then all of them were seated. (He (the Prophet) then uttered the salutation upon all of them. He prayed in his manner at Usfan as well as at the territory of Banu Sulaym. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Ayyub and Hisham from Abu al-Zubair on the authority of Jabir to the same effect from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. Similarly, this has been transmitted by Dawud bin Husain from Ikrimah, on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما . This has also been reported by Abdul-Malik, from Ata from Jabir in like manner. This has also been narrated by Qatadah from al-Hasan from Hittan on the authority of Abu Musa in a similar way. Similarly, this has been reported by Ikrimah bin Khalid from Mujahid from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. This has also been reported by Hisham bin Urwah from his father from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. This is the opinion of al-Thawri.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، ہم سے جریر بن عبد الحمید نے بیان کیا، منصور کی سند سے، مجاہد کی سند سے,ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام عسفان میں تھے، اس وقت مشرکوں کے سردار خالد بن ولید تھے، ہم نے ظہر پڑھی تو مشرکین کہنے لگے: ہم سے چوک ہو گئی، ہم غفلت کا شکار ہو گئے، کاش! ہم نے دوران نماز ان پر حملہ کر دیا ہوتا، چنانچہ ظہر اور عصر کے درمیان قصر کی آیت نازل ہوئی پھر جب عصر کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہوئے، مشرکین آپ کے سامنے تھے، لوگوں نے آپ کے پیچھے ایک صف بنائی اور اس صف کے پیچھے ایک دوسری صف بنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ بیک وقت رکوع کیا، لیکن سجدہ آپ نے اور صرف اس صف کے لوگوں نے کیا جو آپ سے قریب تر تھے اور باقی ( پچھلی صف کے ) لوگ کھڑے نگرانی کرتے رہے، پھر جب یہ لوگ سجدہ کر کے کھڑے ہو گئے تو باقی دوسرے لوگوں نے جو ان کے پیچھے تھے، سجدے کئے، پھر قریب والی صف پیچھے ہٹ کر دوسری صف کی جگہ پر چلی گئی، اور دوسری صف آگے بڑھ کر پہلی صف کی جگہ پر آ گئی، پھر سب نے مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا، اس کے بعد سجدہ صرف آپ اور آپ سے قریب والی صف نے کیا اور بقیہ لوگ کھڑے نگرانی کرتے رہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریب والی صف کے لوگ بیٹھ گئے تو بقیہ دوسروں نے سجدہ کیا، پھر سب ایک ساتھ بیٹھے اور ایک ساتھ سلام پھیرا، آپ نے عسفان میں اسی طرح نماز پڑھی اور بنی سلیم سے جنگ کے روز بھی اسی طرح نماز پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب اور ہشام نے ابو الزبیر سے ابوالزبیر نے جابر سے اسی مفہوم کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ اسی طرح یہ حدیث داود بن حصین نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔ اسی طرح یہ حدیث عبدالملک نے عطا سے، عطاء نے جابر سے روایت کی ہے۔ اسی طرح قتادہ نے حسن سے، حسن نے حطان سے، حطان نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی عمل نقل کیا ہے۔ اسی طرح عکرمہ بن خالد نے مجاہد سے مجاہد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اسی طرح ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور یہی ثوری کا قول ہے۔
Narrated Sahl bin Abi Hathmah رضی اللہ عنہ:
The Prophet (ﷺ) prayed in time of danger and divided them (the people) behind him in two rows. He then led those who were near him in one rak'ah. Then he stood and remained standing till those who were in second row offered one rak'ah. Thereafter they came forward and those who were in front of them (in the first row) stepped backward. The Prophet (ﷺ) led them in one rak'ah of prayer. He sat down till those who were in the second row completed on rak'ah. He then uttered the salutation.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، اپنے والد سے، صالح بن خوات سے، سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے
امام ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ہوں ، ایک رکعت پڑھائے ، پھر وہ یوں ہی کھڑا رہے یہاں تک کہ جو لوگ اس کے ساتھ ہیں دوسری رکعت پوری کر لیں ۔ پھر وہ واپس جا کر دشمن کے سامنے صف بستہ ہو جائیں اور دوسری ٹکڑی آئے تو وہ امام کے ساتھ ایک رکعت ادا کرے ، اور امام یونہی بیٹھا رہے ، یہاں تک کہ وہ اپنی دوسری رکعت بھی مکمل کر لیں پھر امام ان سب کے ساتھ سلام پھیرے ۔