Prayer (Kitab Al-Salat): Detailed Rules of Law about the Prayer during Journey
كتاب صلاة السفر
Chapter 4
Narrated Sahl bin Abi Hathmah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم prayed in time of danger and divided them (the people) behind him in two rows. He then led those who were near him in one rak'ah. Then he stood and remained standing till those who were in second row offered one rak'ah. Thereafter they came forward and those who were in front of them (in the first row) stepped backward. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم led them in one rak'ah of prayer. He sat down till those who were in the second row completed on rak'ah. He then uttered the salutation.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے، اپنے والد سے صالح بن خوات سے, سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے ساتھ حالت خوف میں نماز ادا کی تو اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں پھر جو آپ سے قریب تھے ان کو ایک رکعت پڑھائی، پھر کھڑے ہو گئے اور برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ ان لوگوں نے جو پہلی صف کے پیچھے تھے، ایک رکعت ادا کی، پھر وہ لوگ آگے بڑھ گئے اور جو لوگ دشمن کے سامنے تھے، آپ کے پیچھے آ گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی پھر آپ بیٹھے رہے یہاں تک کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے ایک رکعت اور پڑھی پھر آپ نے سلام پھیرا۔
Narrated Sahl bin Abi Hathmah al-Ansari:
The prayer time of danger should be offered in the following way: The imam should stand (for prayer) and a section of the people should stand along with him. The other section should stand facing the enemy. The imam should perform bowing and prostrate himself along with those who are with him. He then should stand (after prostration) and, when he stands straight, he should remain standing. They (the people) should (in the meantime) complete their remaining rak'ah (i.e. the second one). They they should utter the salutation, and turn away while the imam should remain standing. They should go before the enemy. Thereafter those who did not pray should come forward and utter the takbir (Allah is most great) behind imam. He should bow and prostrate along with them and utter the salutation. Then they should stand and completed their remaining rak'ah, and utter the salutation. Abu Dawud said: The tradition reported by Yahya bin Sa'id from al-Qasim is similar to the one transmitted by Yazid bin Ruman except that he differed with him in salutation. The tradition reported by 'Ubaidullah is like the one reported by Yahya bin Sa'id, saying: He (the Prophet) remained standing.
ہم سے القعنبی نے مالک سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے، وہ القاسم بن محمد سے، انہوں نے صالح بن خووت الانصاری سے، ان سے سہل بن ابی حاتمہ الانصاری نے بیان کیا کہ
امام کے لیے خوف کی نماز یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت اور ایک جماعت کے ساتھ کھڑا ہو۔دشمن کا سامنا کرتے ہوئے، امام ایک رکعت کے لیے رکوع کرتا ہے اور اپنے ساتھ والوں کے ساتھ سجدہ کرتا ہے۔ پھر وہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ جب وہ سیدھا کھڑا ہوتا ہے تو وہ کھڑا رہتا ہے اور وہ اپنے لیے باقی رکعت پوری کرتے ہیں۔ پھر وہ سلام کہتے ہیں اور امام کے کھڑے ہوتے ہوئے چلے جاتے ہیں تو ان کا مقابلہ دشمن سے ہوتا ہے۔ پھر وہ لوگ جنہوں نے نماز نہیں پڑھی آگے آکر امام کے پیچھے تکبیر کہی اور وہ ان کے ساتھ رکوع کرتا ہے۔اور وہ ان کے ساتھ سجدہ کرتا ہے، پھر سلام پھیرتا ہے، اور وہ کھڑے ہوتے ہیں اور باقی رکعت کے لیے رکوع کرتے ہیں، پھر سلام کہتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جہاں تک یحییٰ بن سعید کی روایت القاسم سے ہے، وہ یزید بن رومان کی روایت سے ملتی جلتی ہے، سوائے اس کے کہ سلام کرنے میں ان سے اختلاف ہے۔ اور عبید اللہ کی روایت یحییٰ بن سعید کی روایت سے ملتی جلتی ہے، انہوں نے کہا: اور وہ کھڑا رہا۔
Urwah Ibn az-Zubayr رضی اللہ عنہ reported that Marwan Ibn al-Hakam asked Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
Did you pray in time of danger with the Messenger of Allah (ﷺ)? Abu Hurairah replied: Yes. Marwan then asked: When? Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said: On the occasion of the Battle of Najd. The Messenger of Allah (ﷺ) stood up to offer the afternoon prayer. One section stood with him (to pray) and the other was standing before the enemy, and their backs were towards the qiblah. The Messenger of Allah (ﷺ) uttered the takbir and all of them too uttered the takbir, i.e. those who were with him and those who were facing the enemy. Then the Messenger of Allah (ﷺ) offered one rak'ah and the section that was with him also prayed one rak'ah. He then prostrated himself and those who were with him also prostrated, while the other section was standing before the enemy. The Messenger of Allah (ﷺ) then stood up and the section with him also stood up. They went and faced the enemy and the section that was previously facing the enemy stepped forward. They bowed and prostrated while the Messenger of Allah (ﷺ) was standing in the same position. Then they stood up and the Messenger of Allah (may peace be upon) prayed another rak'ah and all of them bowed and prostrated along with him. After that the section that was standing before the enemy came forward and they bowed and prostrated, while the Messenger of Allah (ﷺ) remained seated and also those who were with him. The salutation then followed. The Messenger of Allah (ﷺ) uttered the salutation and all of them uttered it together. The Messenger of Allah (ﷺ) prayed two rak'ahs and each of the two sections prayed one rak'ah with him (and the other by themselves).
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے ابوعبدالرحمٰن مقری نے بیان کیا، کہا ہم سے حیوہ نے اور ان سے ابن لحیہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں ابو الاسود نے خبر دی کہ انہوں نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو مروان بن الحکم سے روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا
:کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی؟ ابوہریرہ نے کہا: ہاں۔ مروان نے کہا: کب؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ نجد کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ ایک گروہ اس کے ساتھ کھڑا تھا اور دوسرا گروہ دشمن کی طرف منہ کر کے کھڑا تھا، ان کی پشت قبلہ کی طرف تھی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، پھر سب نے اللہ کی تسبیح کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والوں اور دشمنوں کا سامنا کرنے والے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ رکوع کیا اور آپ کے ساتھ کی جماعت نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے والے نے سجدہ کیا اور دوسرے دشمن کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ پھر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو گروہ تھا وہ اٹھ کر دشمن کے پاس گیا اور ان سے جا ملا، اور جو گروہ دشمن کا سامنا کر رہا تھا وہ آیا اور رکوع اور سجدہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کھڑے تھے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور رکوع کیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جھک گئے۔ اس نے سجدہ کیا اور انہوں نے اس کے ساتھ سجدہ کیا۔ پھر وہ گروہ جو دشمن کا سامنا کر رہا تھا آگے آیا اور انہوں نے رکوع اور سجدہ کیا، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ والے بیٹھے ہوئے تھے۔پھر سلام کی آواز آئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا، اور سب نے سلام کیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں تھیں اور دونوں گروہوں میں سے ہر ایک آدمی کی ایک ایک رکعت تھی۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
We went out with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم to Najd. When we reached Dhat ar-Riqa at Nakhl (or in a valley with palm trees) he met a group of the tribe of Ghatafan. The narrator then reported the tradition to the same effect, but his version is other than that of Haywah. He added to the words when he bowed along with those who were with him and prostrated the words when they stood up, they retraced their footsteps to the rows of their companions . He did not mention the words their back was towards the qiblah .
ہم سے محمد بن عمرو رازی نے بیان کیا، ہم سے سلمہ نے بیان کیا، مجھ سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے محمد بن جعفر بن الزبیر اور محمد بن اسود نے عروہ بن الزبیر کی سند سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف نکلے یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع میں تھے تو غطفان کے کچھ لوگ ملے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی لیکن اس کے الفاظ حیوۃ کے الفاظ سے مختلف ہیں اس میں «حين ركع بمن معه وسجد» کے الفاظ ہیں، نیز اس میں ہے «فلما قاموا مشوا القهقرى إلى مصاف أصحابهم» یعنی جب وہ اٹھے تو الٹے پاؤں پھرے اور اپنے ساتھیوں کی صف میں آ کھڑے ہوئے ، اس میں انہوں نے «استدبار قبلہ» ( قبلہ کی طرف پیٹھ کرنے ) کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Aishah رضی اللہ عنہا through a different chain of narrators.
She رضی اللہ عنہا said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم uttered the takbir and the section that was in the same row with him also uttered the takbir. He then bowed and they also bowed, and he prostrated and they also prostrated. Then he raised his head and they also raised (their heads). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then remained seated. They prostrated alone and stood up and retraced their footsteps and stood behind them. Then the other section came; they stood up and uttered the takbir and bowed by themselves. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prostrated himself and they also prostrated with him. Then the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stood up and they performed the second prostration by themselves. Then both the sections stood up and prayed with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم . He bowed and they also bowed, and then he prostrated himself and they also prostrated themselves. Then he returned and performed the second prostration and they also prostrated with him as quickly as possible, showing no slackness in quick prostration. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then uttered the salutation. After that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stood up. Thus everyone participated in the entire prayer.
ابوداؤد کہتے ہیں, جہاں تک عبید اللہ بن سعد کا تعلق ہے، انہوں نے ہم سے بیان کیا: مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ابن اسحاق کی سند سے محمد بن جعفر بن الزبیر نے کہا، عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہی واقعہ بیان کیا اور فرمایا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی اور اس جماعت نے بھی جو آپ کے ساتھ صف میں کھڑی تھی تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع کیا تو ان لوگوں نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی اٹھایا، اس کے بعد آپ بیٹھے رہے اور وہ لوگ دوسرا سجدہ خود سے کر کے کھڑے ہوئے اور ایٹریوں کے بل پیچھے چلتے ہوئے الٹے پاؤں لوٹے، یہاں تک کہ ان کے پیچھے جا کھڑے ہوئے، اور دوسری جماعت آ کر کھڑی ہوئی، اس نے تکبیر کہی پھر خود سے رکوع کیا اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دوسرا سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اٹھ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے اپنا دوسرا سجدہ کیا، پھر دونوں جماعتیں ایک ساتھ کھڑی ہوئیں اور دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے رکوع کیا ( ان سب نے بھی رکوع کیا ) ، پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان سب نے بھی ایک ساتھ سجدہ کیا، پھر آپ نے دوسرا سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی سجدہ کیا، اور جلدی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، اور لوگوں نے بھی سلام پھیرا، پھر آپ نماز سے فارغ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اس طرح لوگوں نے پوری نماز میں آپ کے ساتھ شرکت کر لی۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم led one section in one rak'ah of prayer and the other section was facing the enemy. Then they turned away and took the position of the other section. They (the other section) came and he (the Prophet) led them in the second rak'ah. He then uttered the salutation. Thereafter they stood up and completed the remaining rak'ah, they went away and the other section completed their remaining rak'ah. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Nafi and Khalid bin Madan from Ibn Umar in like manner from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. This has also been transmitted similarly by Masruq ad Yusuf bin Mihran on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما . This has been narrated by Yunus from al-Hasan from Abu Musa something similarly, saying that Abu Musa رضی اللہ عنہ has done so.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہوں نے معمر کی سند سے، زہری کی سند سے، سالم کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے رہی پھر یہ جماعت جا کر پہلی جماعت کی جگہ کھڑی ہو گئی اور وہ جماعت ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ) آ گئی تو آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور اپنی رکعت پوری کی اور وہ لوگ بھی ( جو دشمن کے سامنے چلے گئے تھے ) کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی رکعت پوری کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح یہ حدیث نافع اور خالد بن معدان نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور یہی قول مسروق اور یوسف بن مہران ہے جسے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، اسی طرح یونس نے حسن سے اور انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایسا ہی کیا۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم led us in prayer in the time of danger. They (the people) stood in two rows. One row was behind the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and the other faced the enemy. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم led them in one rak'ah, and then the other section came and took their place; they went and faced the enemy. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم led them in one rak'ah and uttered the salutation. They stood up and prayed the second rak'ah by themselves and uttered the salutation and went away; they took the place of the other section facing the enemy. They came back and took their place. They prayed one rak'ah by themselves and then uttered the salutation.
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، ہم سے ابن فضل نے بیان کیا، ہم سے خصیف نے بیان کیا، ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی تو ایک صف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور دوسری صف دشمن کے مقابل کھڑی ہوئی، آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر دوسری جماعت آئی اور ان کی جگہ کھڑی ہوئی اور یہ جماعت دشمن کے سامنے چلی گئی، اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر یہ جماعت کھڑی ہوئی، اس نے دوسری رکعت ادا کر کے سلام پھیرا اور جا کر ان کی جگہ کھڑی ہو گئی، جو دشمن کے سامنے تھے، اب وہ لوگ ان کی جگہ آ گئے اور انہوں نے اپنی دوسری رکعت ادا کی پھر سلام پھیرا۔
This tradition has been transmitted by Kushaif with a different chain of narrators and to the same effect. This version adds:
The Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم uttered takbir and both rows uttered takbir together. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Thawri to the same effect on the authority of Khusaif. Abdur-Rahman bin Samurah also prayed in like manner. But the section which he (the Prophet) led in one rak'ah and then uttered the salutation and went and took the place of their companions. They came and prayed one rak'ah by themselves. Then they returned to their place and they prayed (one rak'ah) by themselves. Abu Dawud said: Muslim bin Ibrahim reported from Abd al-Samad bin Habib on the authority of his father that they had fought a battle at Kabul along with Abdur-Rahman bin Samurah. He led us in prayer in time of danger.
ہم سے تمیم بن المنتصر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق نے، یعنی ابن یوسف نے، شریک کی سند سے بیان کیا, اس طریق سے بھی خصیف سے سابقہ سند سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے
اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہی اور دونوں صف کے سارے لوگوں نے بھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری نے بھی خصیف سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اور عبدالرحمٰن بن سمرہ نے اسی طرح یہ نماز ادا کی، البتہ اتنا فرق ضرور تھا کہ وہ گروہ جس کے ساتھ آپ نے ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر دیا، اپنے ساتھیوں کی جگہ واپس چلا گیا اور ان لوگوں نے آ کر خود سے ایک رکعت پوری کی۔ پھر وہ ان کی جگہ واپس چلے گئے اور اس گروہ نے آ کر اپنی باقی ماندہ رکعت خود سے ادا کی۔ ۱۲۴۵/م- ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے یہ حدیث مسلم بن ابراہیم نے بیان کی، مسلم کہتے ہیں: ہم سے عبدالصمد بن حبیب نے بیان کی، عبدالصمد کہتے ہیں: میرے والد نے مجھے بتایا کہ لوگوں نے عبدالرحمٰن بن سمرہ کے ساتھ کابل کا جہاد کیا تو انہوں نے ہمیں نماز خوف پڑھائی۔
Narrated Hudhayfah: Thalabah Ibn Zahdam said:
We accompanied Saad Ibn al-As at Tabaristan. He stood and said: Which of you prayed along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم in time of danger? Hudhayfah رضی اللہ عنہ said: I then he led one section in one rak'ah and the other section in one rak'ah. They did not pray the second rak'ah by themselves. Abu Dawud: This tradition has been transmitted by Ubaid Allah bin Abdullah and Mujahid on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم in like manner. This has also been narrated by Abdullah bin Shaqiq from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. Yazid al-Faqir and Abu Musa also narrated this tradition from Jabir رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. Some of the narrators said in the version narrated by Yazid al-Faqir that they completed their second rak'ah. This has also been narrated by Simak al-Hanafi on the authority of Ibn Umar رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم something similar. Zaid bin Thabit also narrated from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم in like manner. This version adds: The people prayed on rak'ah and the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم prayed two rak'ahs.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان کی سند سے، مجھ سے اشعث بن سلیم نے اسود بن ہلال کی سند سے بیان کیا, ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ
ہم لوگ سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان میں تھے، وہ کھڑے ہوئے اور پوچھا: تم میں کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف ادا کی ہے؟ تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ( پھر حذیفہ نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی، اور دوسرے کو ایک رکعت ) اور ان لوگوں نے ( دوسری رکعت کی ) قضاء نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے عبیداللہ بن عبداللہ اور مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور عبداللہ بن شفیق نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور یزید فقیر اور ابوموسیٰ نے جابر رضی اللہ عنہ سے اور جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوموسیٰ تابعی ہیں، ابوموسیٰ اشعری نہیں ہیں۔ یزید الفقیر کی روایت میں بعض راویوں نے شعبہ سے یوں روایت کی ہے کہ انہوں نے دوسری رکعت قضاء کی تھی۔ اسی طرح اسے سماک حنفی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ نیز اسی طرح اسے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: لوگوں کی ایک ایک رکعت ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah, the Exalted, prescribed prayer for you, through the tongue of your Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, four rak'ahs while resident, two rak'ahs while travelling and one rak'ah in time of danger.
ہم سے مسدد اور سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عوانہ نے بکیر بن اخنس سے اور مجاہد کی سند سے بیان کیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے تم پر حضر میں چار رکعتیں فرض کی ہیں اور سفر میں دو رکعتیں، اور خوف میں ایک رکعت۔
Narrated Abu Bakrah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم offered the noon prayer in time of danger. Some of the people formed a row behind him and others arrayed themselves against the enemy. He led them in two rak'ahs and then he uttered the salutation. Then those who were with him went away and took the position of their companions before the enemy. Then they came and prayed behind him. He led them in two rak'ahs and uttered the salutation. Thus the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم offered four rak'ahs and his companions offered two rak'ahs. Al-Hasan used to give legal verdict on the authority of this tradition. Abu Dawud said: This will be so in the sunset prayer. The imam will offer six rak'ahs and the people three rak'ahs. Abu Dawud said: Yahya bin Abi Kathir narrated from Abu Salamah from Jabir رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم something similar. Sulaiman al-Yashkuri reported it from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم in like manner.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے اشعث نے بیان کیا، حسن رضی اللہ عنہ سے, ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی حالت میں ظہر ادا کی تو بعض لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی اور بعض دشمن کے سامنے رہے، آپ نے انہیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا، تو جو لوگ آپ کے ساتھ نماز میں تھے، وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ جا کر کھڑے ہو گئے اور وہ لوگ یہاں آ گئے پھر آپ کے پیچھے انہوں نے نماز پڑھی تو آپ نے انہیں بھی دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں اور صحابہ کرام کی دو دو رکعتیں ہوئیں، اور حسن بصری اسی کا فتویٰ دیا کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح مغرب میں امام کی چھ، اور دیگر لوگوں کی تین تین رکعتیں ہوں گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے اور جابر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور اسی طرح سلیمان یشکری نے «عن جابر عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» کہا ہے۔
Narrated Abdullah bin Unais رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent me to Khalid bin Sufyan al-Hudhail. This was towards 'Uranah and Arafat. He (the Prophet) said: Go and kill him. I saw him when the time of the afternoon prayer had come. I said: I am afraid if a fight takes place between me and him (Khalid bin Sufyan), that might delay the prayer. I proceeded walking towards him while I was praying by making a sign. When I reached near him, he said to me: Who are you? I replied: A man from the Arabs; it came to me that you were gathering (any army) for this man (i.e. Prophet). Hence I came to you in connection with this matter. He said: I am (engaged) in this (work). I then walked along with him for a while; when it became convenient for me, I dominated him with my sword until he became cold (dead).
ہم سے ابو معمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ہم سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، وہ محمد بن جعفر کی سند سے, عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن سفیان ہذلی کی طرف بھیجا اور وہ عرنہ و عرفات کی جانب تھا تو فرمایا: جاؤ اور اسے قتل کر دو ، عبداللہ کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھ لیا عصر کا وقت ہو گیا تھا تو میں نے ( اپنے جی میں ) کہا اگر میں رک کر نماز میں لگتا ہوں تو اس کے اور میرے درمیان فاصلہ ہو جائے گا، چنانچہ میں اشاروں سے نماز پڑھتے ہوئے مسلسل اس کی جانب چلتا رہا، جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے مجھ سے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: عرب کا ایک شخص، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلے ) کے لیے تم ( لوگوں کو ) جمع کر رہے ہو ۱تو میں اسی سلسلے میں تمہارے پاس آیا ہوں، اس نے کہا: ہاں میں اسی کوشش میں ہوں، چنانچہ میں تھوڑی دیر اس کے ساتھ چلتا رہا، جب مجھے مناسب موقع مل گیا تو میں نے اس پر تلوار سے وار کر دیا اور وہ ٹھنڈا ہو گیا۔