Narrated Abu Ayyub رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The gates of heaven are opened for four rak'ahs containing no taslim (salutation) before the noon prayer. Abu Dawud said: Yahya bin Saeed al-Qattan said: If I were to narrate any tradition from Ubaidah, I would narrate this tradition. Abu Dawud said: Ubaidah is weak. Abu Dawud said: The name of the narrator Ibn Minjab is Sahm.
ہم سے ابن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے عبیدہ کو ابراہیم کی سند سے، ابن منجاب سے قرثع کی سند سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے, ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر کے پہلے کی چار رکعتیں، جن کے درمیان سلام نہیں ہے، ایسی ہیں کہ ان کے واسطے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن سعید قطان کی یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے کہا: اگر میں عبیدہ سے کچھ روایت کرتا تو ان سے یہی حدیث روایت کرتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لیکن عبیدہ ضعیف ہیں، اور ابن منجاب کا نام سہم ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: May Allah show mercy to a man who prays four rak'ahs before the afternoon prayer.
ہم سے احمد بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، ہم سے محمد بن مہران القرشی نے بیان کیا، مجھ سے میرے دادا ابو المثنیٰ نے بیان کیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں ۔
Narrated Ali رضی اللہ عنہ :
That the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to pray two rak'ahs before the Asr prayer.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے ابواسحاق سے اور عاصم بن ضمرہ کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔
Narrated Kuraib, the client of Ibn Abbas رضی اللہ عنہ :
Abdullah bin Abbas, Abdur-Rahman bin Azhar رضی اللہ عنہ and al-Miswar bin Makhramah رضی اللہ عنہ sent him to Aishah, wife of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم . They said: Convey our regards to her from all of us and ask her about the two rak'ahs after the Asr prayer, and tell her that we have been informed that she prays them, and we are told that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited them. I entered upon her and told her that for which they had sent me to her. She said: Ask Umm Salamah رضی اللہ عنہا . I returned to them (Ibn Abbas and others) and informed them about her opinion. They sent me back to Umm Salamah رضی اللہ عنہا with the same mission for which they had sent me to Aishah. Umm Salamah رضی اللہ عنہا said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibiting them, but later on I saw him praying them. When he prayed them, he had offered the Asr prayer. He then came to me while a number of women from Banu Haram from the Ansar were sitting with me. He prayed these two rak'ahs. I sent a slave girl to him and I told her: Stand beside him and tell him that Umm Salamah رضی اللہ عنہا has asked: Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, I heard you prohibiting these two rak'ahs (after the afternoon prayer) but I see you praying them yourself. If he makes a sign with his hand, step backward from him. The slave girl did so. When he finished prayer, he said: O daughter of Abu Umayyah, you asked about the praying of two rak'ahs after the Asr prayer, in fact, some people of Abdul-Qais has come to me with the news that their people had embraced Islam. They hindered me from praying the two rak'ahs after Zuhr prayer. It is those two rak'ahs (which I offered after the Asr prayer)
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں عمرو بن حارث نے، ان سے بکر بن اشجع نے، وہ ابن عباس کے آزاد کردہ غلام کریب کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن عباس، عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تینوں نے انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا: ان سے ہم سب کا سلام کہنا اور عصر کے بعد دو رکعت نفل کے بارے میں پوچھنا اور کہنا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ یہ دو رکعتیں پڑھتی ہیں، حالانکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے، چنانچہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہیں ان لوگوں کا پیغام پہنچا دیا، آپ نے کہا: ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو! میں ان لوگوں کے پاس آیا اور ان کی بات انہیں بتا دی، تو ان سب نے مجھے ام المؤمنین ام سلمہ کے پاس اسی پیغام کے ساتھ بھیجا، جس کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تھا، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا، پھر دیکھا کہ آپ انہیں پڑھ رہے ہیں، ایک روز آپ نے عصر پڑھی پھر میرے پاس آئے، اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے یہ دونوں رکعتیں پڑھنا شروع کیں تو میں نے ایک لڑکی کو آپ کے پاس بھیجا اور اس سے کہا کہ تو جا کر آپ کے بغل میں کھڑی ہو جا اور آپ سے کہہ: اللہ کے رسول! ام سلمہ کہہ رہی ہیں: میں نے تو آپ کو ان دونوں رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب آپ ہی انہیں پڑھ رہے ہیں، اگر آپ ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے ہٹ جانا، اس لڑکی نے ایسا ہی کیا، آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا، تو وہ پیچھے ہٹ گئی، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے مجھ سے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے بارے میں پوچھا ہے، دراصل میرے پاس عبدالقیس کے چند لوگ اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر آئے تو ان لوگوں نے مجھے باتوں میں مشغول کر لیا اور میں ظہر کے بعد یہ دونوں رکعتیں نہیں پڑھ سکا، یہ وہی دونوں رکعتیں ہیں ۔
Narrated Ali Ibn Abu Talib رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم prohibited to offer prayer after the afternoon prayer except at the time when the sun is high up in the sky.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے، منصور کی سند سے، ہلال بن یساف سے، وہب بن اجداع کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا، سوائے اس کے کہ سورج بلند ہو۔
Narrated Ali Ibn Abu Talib رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would offer two rak'ahs after every obligatory prayer except the dawn and the Asr prayer.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابواسحاق نے عاصم بن ضمرہ کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے سوائے فجر اور عصر کے ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
Some reliable people testified before me, and among them was Umar Ibn al-Khattab رضی اللہ عنہ , and most reliable in my eyes was Umar: The Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: There is no prayer after the dawn prayer until the sun rises; and there is no prayer after the Asr prayer until the sun sets.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابان نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ابو العالیہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میرے پاس کئی پسندیدہ لوگوں نے گواہی دی ہے، جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اور میرے نزدیک عمران میں سب سے پسندیدہ شخص تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کوئی نماز نہیں، اور نہ عصر کے بعد سورج ڈوبنے سے پہلے کوئی نماز ہے ۔
Narrated Amr Ibn Anbasah as-Sulami رضی اللہ عنہ :
I asked: Messenger of Allah, in which part of night the supplication is more likely to be accepted? He replied: In the last part: Pray as much as you like, for the prayer is attended by the angels and it is recorded till you offer the dawn prayer; then stop praying when the sun is rising till it has reached the height of one or two lances, for it rises between the two horns of the Devil, and the infidels offer prayer for it (at that time). Then pray as much as you like, because the prayer is witnessed and recorded till the shadow of a lance be- comes equal to it. Then cease prayer, for at that time the Hell-fire is heated up and doors of Hell are opened. When the sun declines, pray as much as you like, for the prayer is witnessed till you pray the afternoon prayer; then cease prayer till the sun sets, for it sets between the horns of the Devil, and (at that time) the infidels offer prayer for it. He narrated a lengthy tradition. Abbas said: Abu Salam narrated this tradition in a similar manner from Abu Umamah. If I have made a mistake unintentionally, I beg pardon of Allah and repent to Him.
ہم سے ربیع بن نافع نے بیان کیا، ہم سے محمد بن المہاجر نے بیان کیا، ان سے عباس بن سالم نے، ابو سلام کی سند سے، ابوامامہ کی سند سے, عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کے کس حصے میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری حصے میں، اس وقت جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ ان میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور فجر پڑھنے تک ( ثواب ) لکھے جاتے ہیں، اس کے بعد سورج نکلنے تک رک جاؤ یہاں تک کہ وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہو جائے، اس لیے کہ سورج شیطان کی دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور کافر ( سورج کے پجاری ) اس وقت اس کی پوجا کرتے ہیں، پھر تم جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور ( ثواب ) لکھے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے برابر ہو جائے تو ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ اس وقت جہنم دہکائی جاتی ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، پھر جب سورج ڈھل جائے تو تم جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ اس وقت بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر پڑھ لو تو سورج ڈوبنے تک ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے بیچ ڈوبتا ہے، اور کافر اس کی پوجا کرتے ہیں ، انہوں نے ایک لمبی حدیث بیان کی۔ عباس کہتے ہیں: ابوسلام نے اسی طرح مجھ سے ابوامامہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے، البتہ نادانستہ مجھ سے جو بھول ہو گئی ہو تو اس کے لیے میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔
Narrated Abdullah Ibn Umar: Yasar, the client of Ibn Umar رضی اللہ عنہما , said:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما saw me praying after the break of dawn. He said: O Yasar, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to us while we were offering this prayer. He (the Prophet) said: Those who are present should inform those who are absent: Do not offer any prayer after (the break of) dawn except two rak'ahs.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے وہیب نے بیان کیا، ہم سے قدامہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ایوب بن حصین نے، ابو علقمہ کی سند سے، وہ یسار کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام یسار کہتے ہیں کہ
مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فجر طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: یسار! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر آئے، اور ہم یہ نماز پڑھ رہے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے موجود لوگ غیر حاضر لوگوں کو بتا دیں کہ فجر ( طلوع ) ہونے کے بعد فجر کی دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی نماز نہ پڑھو ۔
Al-Aswad and Masruq said:
We bear witness that Aishah رضی اللہ عنہا said: Not a day passed but the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم prayed two rak'ahs after the Asr prayer
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابو اسحاق کی سند سے, اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ
ہم گواہی دیتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی دن ایسا نہیں ہوتا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعت نہ پڑھتے رہے ہوں ۔
Narrated Dhakwan, the client of Aishah رضی اللہ عنہا , reported on the authority of Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to pray after the afternoon prayer but prohibited others from it; and he would fast continuously but forbid others to do so.
ہم سے عبیداللہ بن سعد نے بیان کیا، ہم سے میرے چچا نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابن اسحاق نے بیان کیا، وہ محمد بن عمرو بن عطاء سے، انہوں نےام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوان سے روایت ہے کہ
ام المؤمنین عائشہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( خود تو ) عصر کے بعد نماز پڑھتے تھے اور ( دوسروں کو ) اس سے منع فرماتے، اور پے در پے روزے بھی رکھتے تھے اور ( دوسروں کو ) مسلسل روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔
Narrated Abdullah al-Muzani رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Pray two rak'ahs before the Maghrib prayer. He then said (again): Pray two rak'ahs before the Maghrib prayer, it applies to those who wish to do so. That was because he feared that the people might treat it as sunnah.
ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے حسین المعلم کی سند سے اور عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو ، پھر فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو جس کا جی چاہے ، یہ اس اندیشے سے فرمایا کہ لوگ اس کو ( راتب ) سنت نہ بنا لیں ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
I offered two rak'ahs of prayer before the Maghrib prayer (i. e. obligatory) during the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. I (narrator al-Mukhtar bin Fulful) asked Anas رضی اللہ عنہ : Did the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم se you ? He replied: Yes, but he neither commanded us nor forbade us (to do so).
ہم سے محمد بن عبد الرحیم البزاز نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن ابی اسود نے بیان کیا، وہ مختار بن فلفل کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں۔ مختار بن فلفل کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ نماز پڑھتے دیکھا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے ہم کو دیکھا تو نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع کیا۔
Narrated Abdullah bin Mughaffal رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Between the two adhans there is a prayer, between the two adhans there is prayer for one who desires (to offer).
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے ابن الیاس نے بیان کیا، وہ الجریری کی سند سے، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ کی سند سے,عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، اس شخص کے لیے جو چاہے ۔
Narrated Tawus:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما was asked about praying two rak'ahs before the Maghrib prayer. He replied: I did not see anyone praying them during the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He (Ibn Umar) permitted to pray two rak'ahs after the Asr prayer. Abu Dawud said: I heard Yahya bin Main say: The correct name of the narrator Abu Shuaib is the Shuaib. Shubah made a mistake in narrating his name.
ہم سے ابن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابو شعیب سے, طاؤس کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب کے پہلے دو رکعت سنت پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ نماز پڑھتے کسی کو نہیں دیکھا، البتہ آپ نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی رخصت دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے سنا ہے کہ ( ابوشعیب کے بجائے ) وہ شعیب ہے یعنی شعبہ کو ان کے نام میں وہم ہو گیا ہے۔
Narrated Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: In the morning alms are due for every bone in man's body. His salutation to everyone he meets is alms, his enjoining good is alms, his forbidding what is evil is alms, the removal of harmful thing from the way is alms, to have sexual intercourse with one's wife if alms, and two rak'ahs which one prays in the Duha serve instead of that. Abu Dawud said: The tradition narrated by 'Abbad is more perfect (than the version narrated by Musaddad). Musaddad did not mention in his version the command (of good) and the prohibition (of evil) . Instead, he added in his version saying: Such and such. Ibn Ma'na added in his version: They (the people) said: Messenger of Allah, how is that one of us fulfills his desire and still there are alms for him (i.e. is rewarded)? He replied: What do you think if you had unlawful sexual intercourse, would he not have been a sinner ?
ہم سے احمد بن منیع نے عباد بن عباد کی سند سے بیان کیا, ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید المعنی نے، واصل کی سند سے، یحییٰ بن عقیل سے، یحییٰ بن یعمر کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی ( بطور شکرانے کے ) ایک صدقہ ہوتا ہے، اب اگر وہ کسی ملنے والے کو سلام کرے تو یہ ایک صدقہ ہے، کسی کو بھلائی کا حکم دے تو یہ بھی صدقہ ہے، برائی سے روکے یہ بھی صدقہ ہے، راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو یہ بھی صدقہ ہے، اپنی بیوی سے صحبت کرے تو یہ بھی صدقہ ہے البتہ ان سب کے بجائے اگر دو رکعت نماز چاشت کے وقت پڑھ لے تو یہ ان سب کی طرف سے کافی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد کی روایت زیادہ کامل ہے اور مسدد نے امر و نہی کا ذکر نہیں کیا ہے، ان کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ فلاں اور فلاں چیز بھی صدقہ ہے اور ابن منیع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ایک شخص اپنی ( بیوی سے ) شہوت پوری کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ( کیوں نہیں ) اگر وہ کسی حرام جگہ میں شہوت پوری کرتا تو کیا وہ گنہگار نہ ہوتا؟ ۔
Abu al-Aswad al-Dailani said:
While we were present with Abu Dharr رضی اللہ عنہ , he said: In the morning, alms are due for him, ever fast is alms, every pilgrimage is alms, every utterance of Glory to be Allah is alms, every utterance of Allah is most great is alms, every utterance of Praise be to Allah is alms. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم recounted all such good works. He then said: Two rak'ahs which one prays in the Duha serve instead of that.
ہم سے وہب بن بقیہ نے بیان کیا، کہا ہم کو خالد نے واصل کی سند سے، وہ یحییٰ بن عقیل سے، وہ یحییٰ بن یمر سے, ابوالاسود الدولی کہتے ہیں کہ
ہم لوگ ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اسی دوران آپ نے کہا: ہر روز صبح ہوتے ہی تم میں سے ہر شخص کے جوڑ پر ایک صدقہ ہے، تو اس کے لیے ہر نماز کے بدلہ ایک صدقہ ( کا ثواب ) ہے، ہر روزہ کے بدلہ ایک صدقہ ( کا ثواب ) ہے، ہر حج ایک صدقہ ہے، اور ہر تسبیح ایک صدقہ ہے، ہر تکبیر ایک صدقہ ہے، اور ہر تحمید ایک صدقہ ہے، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک اعمال کا شمار کیا پھر فرمایا: ان سب سے تمہیں بس چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں ۔
Narrated Muadh Ibn Anas al-Juhani رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone sits in his place of prayer when he finishes the dawn prayer till he prays the two rak'ahs of the forenoon, saying nothing but what is good, his sins will be forgiven even if they are more than the foam of the sea.
ہم سے محمد بن سلمہ المرادی نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، ان سے ذبان بن فائد نے، سہل بن معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فجر کے بعد چاشت کے وقت تک اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے پھر چاشت کی دو رکعتیں پڑھے اس دوران سوائے خیر کے کوئی اور بات زبان سے نہ نکالے تو اس کی تمام خطائیں معاف کر دی جائیں گی وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں ۔
Narrated Abu Umamah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Prayer followed by a prayer with no idle talk between the two is recorded in Illiyyun.
ہم سے ابو توبہ الربیع بن نافع نے بیان کیا، ہم سے ہیثم بن حمید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن حارث نے، قاسم بن عبدالرحمٰن کی سند سے, ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نماز کے بعد دوسری نماز کی ادائیگی اور ان دونوں کے درمیان میں کوئی بیہودہ اور فضول کام نہ کرنا ایسا عمل ہے جو علیین میں لکھا جاتا ہے ۔
Narrated Nuaym Ibn Hammar رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Allah, the Exalted, says: Son of Adam, do not be helpless in performing four rak'ahs for Me at the beginning of the day: I will supply what you need till the end of it.
ہم سے داؤد بن رشید نے بیان کیا، ہم سے الولید نے سعید بن عبدالعزیز کی سند سے، مکحول کی سند سے، کثیر بن مرہ ابو شجرہ کی سند سے, نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! اپنے دن کے شروع کی چار رکعتیں ترک نہ کر کہ میں دن کے آخر تک تجھ کو کافی ہوں گا یعنی تیرا محافظ رہوں گا ۔