Narrated Umm Hani Ibn Abu Talib رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prayed on the day of the Conquest (of Makkah) eight rak'ahs saluting after every two rak'ahs. Abu Dawud said: Ahmad bin Salih said that the Messenger of Allah offered prayer in the forenoon on the day of the Conquest of Makkah, and he narrated something similar. Ibn al-Sarh reported that Umm Hani said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered upon me. This version does not mention the prayer in the forenoon.
ہم سے احمد بن صالح اور احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عیاض بن عبداللہ نے، مخرمہ بن سلیمان کی سند سے، وہ کریب کی سند سے جو ابن عباس کے آزاد کردہ غلام تھے, ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز آٹھ رکعت پڑھی، آپ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے۔ احمد بن صالح کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز پڑھی، پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا۔ ابن سرح کی روایت میں ہے کہ ام ہانی کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس میں انہوں نے چاشت کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے، باقی روایت ابن صالح کی روایت کے ہم معنی ہے۔
Narrated Ibn Abi Laila:
No one told us that the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم had offered Duha prayer except Umm Hani رضی اللہ عنہا . She said that the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم had taken bath in her house on the day of the Conquest of Makkah and prayed eight rak'ahs. But no one saw him afterwards praying these rak'ahs.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، عمرو بن مرہ سے, ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ
کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے سوائے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے، انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز ان کے گھر میں غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں ادا کیں، پھر اس کے بعد کسی نے آپ کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
Narrated Abdullah bin Shaqiq:
I asked Aishah رضی اللہ عنہا : Did the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم pray in the Duha? She replied: No, except when he returned from his journey. I then asked: Did the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم recite the surahs combining each other? She said: He would do so in the mufassal surahs.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ہم سے الجریری نے بیان کیا، عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: مفصل کی سورتیں ( ملا کر پڑھتے تھے ) ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , wife of Prophet صلی اللہ علیہ وسلم:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم never offered prayer in the forenoon, but I offer it. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would give up an action, though he liked it to do, lest the people should continue it and it is prescribed for them.
ہم سے القعْنبی نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، عروہ بن زبیر سے روایت کی ہے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، لیکن میں اسے پڑھتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔
Narrated Simak:
I asked Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ : Did you sit in the company of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ? He replied: Yes, very often. He would not stand from the place he prayed the dawn prayer till the sunrise. When the sun rose, he would stand (to pray Duha).
ہم سے ابن نفیل اور احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا, سماک کہتے ہیں
میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالست ( ہم نشینی ) کرتے تھے؟ آپ نے کہا: ہاں اکثر ( آپ کی مجلسوں میں رہتا تھا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ نماز فجر ادا کرتے، وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سورج نکل نہ آتا، جب سورج نکل آتا تو آپ ( نماز اشراق کے لیے ) کھڑے ہوتے۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Prayer by night and day should consist of pairs of rak'ahs.
ہم سے عمرو بن مرزوق نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہوں نے یعلی بن عطا سے اور علی بن عبداللہ الباریقی کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے ۔
Narrated Muttalib رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Prayer is to be offered in two rak'ahs; and you should recite the tashahhud at the end of two rak'ahs, and express your distress and humility and raise your hands and say praying: O Allah, O Allah. He who does not do so does not offer a perfect prayer. Abu Dawud was asked about offering prayer at night in two rak'ahs. He said: They may be two if you like and four if you like.
ہم سے ابن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبد ربہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے انس بن ابی انس نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن نافع کی سند سے،عبداللہ بن حارث کی روایت سے,مطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعت ہے، اس طرح کہ تم ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھو اور پھر اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر کرو اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگو اور کہو: اے اللہ! اے اللہ!، جس نے ایسا نہیں کیا یعنی دل نہ لگایا، اور اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ کا اظہار نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے ۔ ابوداؤد سے رات کی نماز دو دو رکعت ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: چاہو تو دو دو پڑھو اور چاہو تو چار چار۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah ﷺ said to al-Abbas Ibn Abdul Muttalib رضی اللہ عنہ : Abbas, my uncle, shall I not give you, shall I not present to you, shall I not donate to you, shall I not produce for you ten things? If you act upon them, Allah will forgive you your sins, first and last, old and new, involuntary and voluntary, small and great, secret and open. These are the ten things: you should pray four rak'ahs, reciting in each one Fatihat al-Kitab and a surah. When you finish the recitation of the first rak'ah you should say fifteen times while standing: "Glory be to Allah", "Praise be to Allah", "There is no god but Allah", "Allah is most great". Then you should bow and say it ten times while bowing. Then you should raise your head after bowing and say it ten times. Then you should kneel down in prostration and say it ten times while prostrating yourself. Then you should raise your head after prostration and say it ten times. Then you should prostrate yourself and say it ten times. Then you should raise your head after prostrating and say it ten times in every rak'ah. You should do that in four rak'ahs. If you can observe it once daily, do so; if not, then once weekly; if not, then once a month; if not, then once a year; if not, then once in your lifetime.
ہم سے عبدالرحمٰن بن بشر بن الحکم النیسابوری نے بیان کیا، ہم سے موسیٰ بن عبدالعزیز نے بیان کیا، ہم سے الحکم بن ابان نے عکرمہ کی سند سے بیان کیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں آپ کو عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو بھلائی نہ پہنچاؤں؟ کیا میں آپ کو نہ دوں؟ کیا میں آپ کو دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جب آپ ان پر عمل کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے، نئے پرانے، جانے انجانے، چھوٹے بڑے، چھپے اور کھلے، سارے گناہ معاف کر دے گا، وہ دس باتیں یہ ہیں: آپ چار رکعت نماز پڑھیں، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی ایک سورۃ پڑھیں، جب پہلی رکعت کی قرآت کر لیں تو حالت قیام ہی میں پندرہ مرتبہ «سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر» کہیں، پھر رکوع کریں تو یہی کلمات حالت رکوع میں دس بار کہیں، پھر جب رکوع سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر جب سجدہ میں جائیں تو حالت سجدہ میں دس بار یہی کلمات کہیں، پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر ( دوسرا ) سجدہ کریں تو دس بار کہیں اور پھر جب ( دوسرے ) سجدے سے سر اٹھائیں تو دس بار کہیں، تو اس طرح یہ ہر رکعت میں پچہتر بار ہوا، یہ عمل آپ چاروں رکعتوں میں کریں، اگر پڑھ سکیں تو ہر روز ایک مرتبہ اسے پڑھیں، اور اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھ لیں، ایسا بھی نہ کر سکیں تو ہر مہینے میں ایک بار، یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک بار اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر عمر بھر میں ایک بار پڑھ لیں ۔
Narrated Abul Jawza' said:
A man who attended the company of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم narrated to me (it is thought that he was Abdullah ibn Amr): The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to me: Come to me tomorrow; I shall give you something, I shall give you something, I shall reward you something, I shall donate something to you. I thought that he would give me some present. He said (to me when I came to him): When the day declines, stand up and pray four rak'ahs. He then narrated something similar. This version adds: Do not stand until you glorify Allah ten times, and praise Him ten times, and exalt Him ten times, and say, There is no god but Allah ten times. Then you should do that in four rak'ahs. If you are the greatest sinner on earth, you will be forgiven (by Allah) on account of this (prayer). I asked: If I cannot pray this the appointed hour, (what should I do)? He replied: Pray that by night or by day (at any time). Abu Dawud said: Habban bin Hilal is the maternal uncle of Hilal al-Ra'i. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-MustAmir bin al-Riyyan from Ibn al-Jawza' from Abdullah bin Amr without referring to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, - narrated as a statement of Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما himself (mauquf). This has also been narrated by Rawh bin al-Musayyab, and Jafar bin Sulaiman from Amr bin Malik al-Nakri from Abu al-Jauza' from Ibn Abbas رضی اللہ عنہما as his own statement (and not the statement of the Prophet). But the version of Rawh has the words: The tradition of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے محمد بن سفیان ابولی نے بیان کیا، ہم سے حبان بن ہلال ابو حبیب نے بیان کیا، ہم سے مہدی بن میمون نے بیان کیا، ہم سے عمرو بن مالک نے بیان کیا، ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ
مجھ سے ایک ایسے شخص نے جسے شرف صحبت حاصل تھا حدیث بیان کی ہے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما تھے، انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل تم میرے پاس آنا، میں تمہیں دوں گا، عنایت کروں گا اور نوازوں گا ، میں سمجھا کہ آپ مجھے کوئی عطیہ عنایت فرمائیں گے ( جب میں کل پہنچا تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہو جاؤ اور چار رکعت نماز ادا کرو ، پھر ویسے ہی بیان کیا جیسے اوپر والی حدیث میں گزرا ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ: پھر تم سر اٹھاؤ یعنی دوسرے سجدے سے تو اچھی طرح بیٹھ جاؤ اور کھڑے مت ہو یہاں تک کہ دس دس بار تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل کر لو پھر یہ عمل چاروں رکعتوں میں کرو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اہل زمین میں سب سے بڑے گنہگار ہو گے تو بھی اس عمل سے تمہارے گناہوں کی بخشش ہو جائے گی ، میں نے عرض کیا: اگر میں اس وقت یہ نماز ادا نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو رات یا دن میں کسی وقت ادا کر لو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حبان بن ہلال: ہلال الرای کے ماموں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مستمر بن ریان نے ابوالجوزاء سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے، عمرو نے ابوالجوزاء سے ابوالجوزاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی موقوفاً روایت کیا ہے، البتہ راوی نے روح کی روایت میں «فقال حديث عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» ( تو ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی ) کے جملے کا اضافہ کیا ہے۔
Narrated Urwah bin Ruwaim:
That an al-Ansari narrated to him: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to Jafar. He then narrated the tradition in like manner. This version has the words: In the second prostration of the first rak'ah in addition to the words transmitted by Mahdi bin Maimun (in the previous tradition).
ہم سے ابو توبہ الربیع بن نافع نے بیان کیا، ہم سے محمد بن مہاجر نے بیان کیا، عروہ بن رویم کہتے ہیں کہ
مجھ سے انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر سے یہی حدیث بیان فرمائی، پھر انہوں نے انہی لوگوں کی طرح ذکر کیا، البتہ اس میں ہے: پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ میں بھی یہی کہا جیسے مہدی بن میمون کی حدیث میں ہے۔
Narrated Kab Ibn Ujrah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم came to the mosque of Banu Abdul Ashhal. He prayed the sunset prayer there. When they finished the prayer, he saw them praying the supererogatory prayer after it. He said: This is the prayer to be offered in the houses.
ہم سے ابوبکر بن ابی الاسود نے بیان کیا، ہم سے ابو مطرف محمد بن ابی الوزیر نے بیان کیا، ہم سے محمد بن موسیٰ الفطری نے بیان کیا، سعد بن اسحاق بن ابن عباس رضی اللہ عنہما سے, کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبدالاشہل کی مسجد میں آئے اور اس میں مغرب ادا کی، جب لوگ نماز پڑھ چکے تو آپ نے ان کو دیکھا کہ نفل پڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو گھروں کی نماز ہے ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to prolong the recitation of the Quran in the two rak'ahs after the sunset prayer until the people praying in the mosque dispersed. Abu Dawud said: This has been reported by Nasr al-Mujaddir from Ya'qub al-Qummi with the same chain of narrators. Abu Dawud said: Muhammad bin 'Isa bin al-tabba' transmitted from Nasr al-Mujaddir from Ya'qub in like manner.
ہم سے حسین بن عبدالرحمٰن جرجراعی نے بیان کیا، ہم سے طلق بن غنام نے بیان کیا، ہم سے یعقوب بن عبداللہ نے بیان کیا، وہ جعفر بن ابی المغیرہ کی سند سے، وہ سعید بن جبیر سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں لمبی قرآت فرماتے یہاں تک کہ مسجد کے لوگ متفرق ہو جاتے ( یعنی سنتیں پڑھ پڑھ کر چلے جاتے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نصر مجدر نے یعقوب قمی سے اسی کے مثل روایت کی ہے اور اسے مسند قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے محمد بن عیسی بن طباع نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے نصر مجدر نے بیان کیا ہے وہ یعقوب سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
Narrated Saeed bin Jubair رضی اللہ عنہ : This tradition from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم without mentioning the name of the Companion in the chain (in the mursal form).
Abu dawud said: I heard Muhammad bin Humaid say: I heard Ya'qub say: Anything I narrated to you from Jafar on the authority of Saeed bin Jubair from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم is directly coming from Ibn Abbas رضی اللہ عنہما from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
اس طریق سے بھی سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث مرسلاً روایت کی ہے
ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے یعقوب کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ تمام روایتیں جن کو میں نے تم لوگوں سے «جعفر عن سعيد بن جبير عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» کے طریق سے بیان کیا ہے، وہ مسند ہیں، سعید نے یہ روایتیں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin: Shurayh ibn Hani said:
I asked Aishah رضی اللہ عنہا about the prayer of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. She said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم never offered the night prayer and thereafter came to me but he offered four or six rak'ahs of prayer. One night the rain fell, so we spread a piece of leather (for his prayer), and now I see as if there is a hole in it from which the water is flowing. I never saw him protecting his clothes from the earth (as he did on that occasion).
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے زید بن حباب العکلی نے بیان کیا، مجھ سے مالک بن مغول نے بیان کیا، مجھ سے مقاتل بن بشیر العجلی نے بیان کیا، شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء پڑھنے کے بعد جب بھی میرے پاس آئے تو آپ نے چار رکعتیں یا چھ رکعتیں پڑھیں، ایک بار رات کو بارش ہوئی تو ہم نے آپ کے لیے ایک چمڑا بچھا دیا، گویا میں اس میں ( اب بھی ) وہ سوراخ دیکھ رہی ہوں جس سے پانی نکل کر اوپر آ رہا تھا لیکن میں نے آپ کو مٹی سے اپنے کپڑے بچاتے بالکل نہیں دیکھا۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
In Surat al-Muzzammil (73), the verse: Keep vigil at night but a little, a half thereof (2-3) has been abrogated by the following verse: He knoweth that ye count it not, and turneth unto you in mercy. Recite then of the Quran that which is easy for you (v. 20). The phrase the vigil of the night (nashi'at al-layl) means the early hours of the night. They (the companions) would pray (the tahajjud prayer) in the early hours of the night. He (Ibn Abbas) says: It is advisable to offer the prayer at night (tahajjud), prescribed by Allah for you (in the early hours of the night). This is because when a person sleeps, he does not know when he will awake. The words speech more certain (aqwamu qilan) means that this time is more suitable for the understanding of the Quran. He says: The verse: Lo, thou hast by day a chain of business (v. 7) means engagement for long periods (in the day's work).
ہم سے احمد بن محمد المروازی بن شبویہ نے بیان کیا، مجھ سے علی بن حسین نے اپنے والد سے، یزید النحوی سے، عکرمہ کی سند سے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
سورۃ مزمل کی آیت «قم الليل إلا قليلا، نصفه» ۱؎ رات کو کھڑے رہو مگر تھوڑی رات یعنی آدھی رات کو دوسری آیت «علم أن لن تحصوه فتاب عليكم فاقرءوا ما تيسر من القرآن» ۲؎ اسے معلوم ہے کہ تم اس کو پورا نہ کر سکو گے لہٰذا اس نے تم پر مہربانی کی، لہٰذا اب تم جتنی آسانی سے ممکن ہو ( نماز میں ) قرآن پڑھا کرو نے منسوخ کر دیا ہے،«ناشئة الليل» کے معنی شروع رات کے ہیں، چنانچہ صحابہ کی نماز شروع رات میں ہوتی تھی، اس لیے کہ رات میں جو قیام اللہ نے تم پر فرض کیا تھا اس کی ادائیگی اس وقت آسان اور مناسب ہے کیونکہ انسان سو جائے تو اسے نہیں معلوم کہ وہ کب جاگے گا اور «أقوم قيلا» سے مراد یہ ہے رات کا وقت قرآن سمجھنے کے لیے بہت اچھا وقت ہے اور اس کے قول «إن لك في النهار سبحا طويلا» ۳؎ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے کام کاج کے واسطے دن کو بہت فرصت ہوتی ہے ( لہٰذا رات کا وقت عبادت میں صرف کیا کرو ) ۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
When the opening verses of Surah Al-muzammil was revealed, the Companions would pray as long as they would pray during Ramadan until its last verses were revealed. The period between the revelation of its opening and the last verses was one year.
احمد بن محمد یعنی مروازی نے ہم سے بیان کیا , وکیع نے مسعر کی سند سے اور سماک الحنفی کی سند سے بیان کیا , عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب سورۃ مزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو لوگ رات کو ( نماز میں ) کھڑے رہتے جتنا کہ رمضان میں کھڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ سورۃ کا آخری حصہ نازل ہوا، ان دونوں کے درمیان ایک سال کا وقفہ ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When one you sleeps, the devil ties three knots at the back of his neck, sealing every knot with, You have a long night, so sleep. So if one awakes and mentions Allah, a knot will be loosened; if he performs ablution another knot will be loosened; and if he prays, the third knot will be loosened; and in the morning he will be active and in good spirits; otherwise he will be in bad spirits and sluggish.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے، ابو الزناد کی سند سے، العرج کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تم میں سے ہر ایک کی گدی پر رات کو سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی لمبی رات پڑی ہے، سو جاؤ، اب اگر وہ جاگ جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کر لے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، اب وہ صبح اٹھتا ہے تو چستی اور خوش دلی کے ساتھ اٹھتا ہے ورنہ سستی اور بد دلی کے ساتھ صبح کرتا ہے ۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin رضی اللہ عنہا :
Do not give up prayer at night, for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would not leave it. Whenever he fell ill or lethargic, he would offer it sitting.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ یزید بن خمیر سے، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن ابی قیس کو کہتے سنا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
تہجد ( قیام اللیل ) نہ چھوڑو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہیں چھوڑتے تھے، جب آپ بیمار یا سست ہوتے تو بیٹھ کر پڑھتے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: May Allah have mercy on a man who gets up at night and prays, and awakens his wife; if she refuses, he should sprinkle water on her face. May Allah have mercy on a woman who gets up at night and prays, and awakens her husband; if he refuses, she would sprinkle water on his face.
ہم سے ابن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عجلان نے بیان کیا، القعقاع سے اور ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۔
Narrated Abu Saeed and Abu Hurairah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If a man awakens his wife at night, and then both pray or both offer two rak'ahs together, the (name of the )man will be recorded among those who mention the name of Allah, and the (name of the) woman will be recorded among those who mention the name of Allah. Ibn Kathir did not narrate it in Marfu' from nor did he mention Abu Hurairah رضی اللہ عنہ, making it a statement of Abu Saeed. Abu Dawud said: Ibn Mahdi report it from Sufyan, he said: "I think he mentioned Abu HUrairah رضی اللہ عنہ ." Abu Dawud said: The narration of Sufyan is Mawquf.
ہم سے ابن کثیر نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، مسعر کی سند سے اور علی بن الاقمر کی سند سے, ہم سے محمد بن حاتم بن بزیع نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے شیبان کی سند سے، العمش کی سند سے، علی بن الاقمر المعنی کی سند سے، انہوں نے الاثر کی سند سے بیان کیا, ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو رات میں جگائے اور وہ دونوں نماز پڑھیں تو وہ دونوں ذاکرین اور ذاکرات میں لکھے جاتے ہیں ۔ ابن کثیر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور نہ اس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا کلام قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن مہدی نے سفیان سے روایت کیا ہے اور میرا گمان ہے کہ اس میں انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی حدیث موقوف ہے۔