Sa'eed bin Abi Sa'eed Al Maqbury narrated: Abu Shuraih Al-Adawi said tat when Amr bin Sa'eed was sending troops to Makkah he said to him: 'O Amr! Allow me to tell you what the Messenger of Allah said on the day following the Conquest of Makkah. My ears heard it, my heard understood it thoroughly, and with my own eyes, I saw the Prophet when he - after glorifying and praising Allah - said: Indeed Allah, the Most High, made Makkah a sanctuary, it was not made a sanctuary by the people. So it is not lawful for a man who believes in Allah and the Last Day to shed blood it, nor to cut down its trees. If anybody tries to use the Messenger of Allah to make an excuse for fighting in it, then say to him: 'Indeed Allah permitted His Messenger and He did not permit you.' Allah only allowed it for me for a few hours of one day, and today its sanctity has returned as it was before. So let the one who is present convey to the one who is absent. Abu Shuraih was asked: What was Amr bin Sa'eeds reply to you? He said: I am more knowledgeable about that than you Abu Shuraih! The Haram does not give protection to a disobedient person, nor a person fleeing for murder, nor fleeing for (Kharbah) lawlessness.
ابوشریح عدوی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے عمرو بن سعید ۲؎ سے - جب وہ مکہ کی طرف ( عبداللہ بن زبیر سے قتال کے لیے ) لشکر روانہ کر رہے تھے کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ سے ایک ایسی بات بیان کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن فرمایا، میرے کانوں نے اسے سنا، میرے دل نے اسے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے آپ کو دیکھا، جب آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: ”مکہ ( میں جنگ و جدال کرنا ) اللہ نے حرام کیا ہے۔ لوگوں نے حرام نہیں کیا ہے، لہٰذا کسی شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، یہ جائز نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے، یا اس کا کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتال کو دلیل بنا کر ( قتال کا ) جواز نکالے تو اس سے کہو: اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اجازت دی تھی، تمہیں نہیں دی ہے۔ تو مجھے بھی دن کے کچھ وقت کے لیے آج اجازت تھی، آج اس کی حرمت ویسے ہی لوٹ آئی ہے جیسے کل تھی۔ جو لوگ موجود ہیں وہ یہ بات ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں“، ابوشریح سے پوچھا گیا: اس پر عمرو بن سعید نے آپ سے کیا کہا؟ کہا: اس نے مجھ سے کہا: ابوشریح! میں یہ بات آپ سے زیادہ اچھی طرح جانتا ہوں، حرم مکہ کسی نافرمان ( یعنی باغی ) کو پناہ نہیں دیتا اور نہ کسی کا خون کر کے بھاگنے والے کو اور نہ چوری کر کے بھاگنے والے کو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوشریح رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوشریح خزاعی کا نام خویلد بن عمرو ہے۔ اور یہی عدوی اور کعبی یہی ہیں، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- «ولا فارا بخربة» کی بجائے «ولا فارا بخزية» زائے منقوطہٰ اور یاء کے ساتھ بھی مروی ہے، ۵- اور «ولا فارا بخربة» میں «خربہ» کے معنی گناہ اور جرم کے ہیں یعنی جس نے کوئی جرم کیا یا خون کیا پھر حرم میں پناہ لی تو اس پر حد جاری کی جائے گی۔
Abdullah (bin Mas'ud) narrated that: The Messenger of Allah said: Alternate between Hajj and Umrah; for those two remove poverty and sins just as the bellows removes filth from iron, gold, and silver - and there is no reward for Al-Hajj Al-Mabrur except for Paradise.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج اور عمرہ ایک کے بعد دوسرے کو ادا کرو اس لیے کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح مٹا دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کو مٹا دیتی ہے اور حج مبرور ۱؎ کا بدلہ صرف جنت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن ہے، اور ابن مسعود کی روایت سے غریب ہے، ۲- اس باب میں عمر، عامر بن ربیعہ، ابوہریرہ، عبداللہ بن حبشی، ام سلمہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abu Hurairah narrated that : The Messenger of Allah said: Whoever performs Hajj for Allah, and he does not have sexual relations nor commit any sin, then his previous sins will be forgiven.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حج کیا اور اس نے کوئی فحش اور بیہیودہ بات نہیں کی، اور نہ ہی کوئی گناہ کا کام کیا ۱؎ تو اس کے گزشتہ تمام گناہ ۲؎ بخش دئیے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
Ali narrated that : The Messenger of Allah said: Whoever has the provisions and the means to convey him to Allah's House and he does not perform Hajj, then it does not matter if he dies as a Jew or a Christian. That is because Allah said in His Book: 'And Hajj to the House is a duty that mankind owes to Allah, for whomever is able to bear the journey.'
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر کے خرچ اور سواری کا مالک ہو جو اسے بیت اللہ تک پہنچا سکے اور وہ حج نہ کرے تو اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر، اور یہ اس لیے کہ اللہ نے اپنی کتاب ( قرآن ) میں فرمایا ہے: ”اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا لوگوں پر فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ۱؎، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس کی سند میں کلام ہے۔ ہلال بن عبداللہ مجہول راوی ہیں۔ اور حارث حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں۔
Ibn Umar narrated: A man came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah! What is it that makes Hajj obligatory?' He said: The provisions and a means of conveyance.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر پوچھا: اللہ کے رسول! کیا چیز حج واجب کرتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”سفر خرچ اور سواری“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابراہیم ہی ابن یزید خوزی مکی ہیں اور ان کے حافظہ کے تعلق سے بعض اہل علم نے ان پر کلام کیا ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی جب سفر خرچ اور سواری کا مالک ہو جائے تو اس پر حج واجب ہو جاتا ہے۔
Ali bin Abi Talib narrated: When Allah revealed: And Hajj to the House is a duty that mankind owes to Allah, for whomever is able to bear the journey. They said: 'O Messenger of Allah! Is that every year?' He remained silent. So they said: 'O Messenger of Allah! Is that every year?' He said: 'No. If I had said yes, then it would have been made obligatory.' So Allah revealed: O you who believe! Do not ask about things which, if made plain to you, may cause you trouble.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب یہ حکم نازل ہوا کہ ”اللہ کے لیے لوگوں پر خانہ کعبہ کا حج فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھیں“، تو لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال ( فرض ہے ) ؟ آپ خاموش رہے۔ لوگوں نے پھر پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہر سال؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اور ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ( ہر سال ) واجب ہو جاتا اور پھر اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا: ”اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت پوچھا کرو کہ اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تم پر شاق گزریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ابوالبختری کا نام سعید بن ابی عمران ہے اور یہی سعید بن فیروز ہیں، ۳- اس باب میں ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jabir bin Abdullah narrated: The Prophet performed Hajj three times. He performed Hajj twice before his emigration, and he performed one Hajj after he emigrated, and these were accompanied by Umrah. So he drove sixty-three sacrificial animals (Budn) and Ali came from Yemen with the rest of them, among them was a camel of Abu Jahl that has a ring made of silver in its nose. So he (the Messenger of Allah) slaughtered the, and the Messenger of Allah ordered that a piece of each of them be cooked, and he drank from its broth.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حج کئے، دو حج ہجرت سے پہلے اور ایک حج ہجرت کے بعد، اس کے ساتھ آپ نے عمرہ بھی کیا اور ترسٹھ اونٹ ہدی کے طور پر ساتھ لے گئے اور باقی اونٹ یمن سے علی لے کر آئے۔ ان میں ابوجہل کا ایک اونٹ تھا۔ اس کی ناک میں چاندی کا ایک حلقہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نحر کیا، پھر آپ نے ہر اونٹ میں سے ایک ایک ٹکڑا لے کر اسے پکانے کا حکم دیا، تو پکایا گیا اور آپ نے اس کا شوربہ پیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث سفیان کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف زید بن حباب کے طریق سے جانتے ہیں ۱؎، ۲- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں یہ حدیث عبداللہ بن ابی زیاد کے واسطہ سے روایت کی ہے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے سلسلے میں پوچھا تو وہ اسے بروایت «الثوري عن جعفر عن أبيه عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم» نہیں جان سکے، میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے اس حدیث کو محفوظ شمار نہیں کیا، اور کہا: یہ ثوری سے روایت کی جاتی ہے اور ثوری نے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے مجاہد سے مرسلاً روایت کی ہے۔
bn Abbas narrared: The Messenger of Allah performed four Umrah: The Umrah of Al-Hudaibiyah, a second Umrah the following (year), (which was) the Umrah of Al-Qisas during Dhul-Qa'dah, a third Umrah from Al-Ji'irranah, and the fourth which accompanied his Hajj.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے: حدیبیہ کا عمرہ، دوسرا عمرہ اگلے سال یعنی ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ، تیسرا عمرہ جعرانہ ۱؎ کا، چوتھا عمرہ جو اپنے حج کے ساتھ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں انس، عبداللہ بن عمرو اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jabir bin Abdullah narrated: When the Prophet wanted to Perform Hajj, he announced it to the people, and they gathered (to accompany him). When he reached Al-Baida he assumed Ihram
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کیا تو آپ نے لوگوں میں اعلان کرایا۔ ( مدینہ میں ) لوگ اکٹھا ہو گئے، چنانچہ جب آپ ( وہاں سے چل کر ) بیداء پہنچے تو احرام باندھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، انس، مسور بن مخرمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ibn Umar narrated: Al-Baida the one they lie about regarding the Messenger of Allah. By Allah! The Messenger of Allah did not start the Talbiyah except from near the Masjid, near the tree.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں
بیداء جس کے بارے میں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتے ہیں ( کہ وہاں سے احرام باندھا ) ۱؎ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ( ذی الحلیفہ ) کے پاس درخت کے قریب تلبیہ پکارا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ibn Abbas narrated: The Prophet started the Talbiyah after the Salat.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد احرام باندھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم عبدالسلام بن حرب کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے یہ حدیث روایت کی ہو، ۳- جس چیز کو اہل علم نے مستحب قرار دیا ہے وہ یہی ہے کہ آدمی نماز کے بعد احرام باندھے۔
Aishah narrated: the Messenger of Allah performed the Ifrad form of Hajj.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد ۱؎ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم نے بھی افراد کیا، ۵- ثوری کہتے ہیں کہ حج افراد کرو تو بھی بہتر ہے، حج قران کرو تو بھی بہتر ہے اور حج تمتع کرو تو بھی بہتر ہے۔ شافعی نے بھی اسی جیسی بات کہی، ۶- کہا: ہمیں سب سے زیادہ افراد پسند ہے پھر تمتع اور پھر قران۔
Anas narrated: I heard the Prophet saying: (Labbaika Bi'umratin wa Hajjah) 'Here I am for 'Umrah and Hajj.'
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «لبيك بعمرة وحجة» فرماتے سنا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر اور عمران بن حصین سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، اہل کوفہ وغیرہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
Ibn Abbas narrated: The Messenger of Allah performed Tamattu, as did Abu Bakr, Umar and Uthman. And the first to prohibit it was Mu'awiyah.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا ۱؎ اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم نے بھی ۲؎ اور سب سے پہلے جس نے اس سے روکا وہ معاویہ رضی الله عنہ ہیں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Muhammad bin Abdullah bin Al-Harith bin Nawfal narrated that: He heard Sa'd bin Abi Waqas, and Ad-Dahhak bin Qais while they were mentioning Tamattu after Umrah until Hajj. Ad-Dahhak bin Qais said: No one does that except one who is ignorant of the order of Allah, Most High. Sa'd said: How horrible is it what you have said O my nephew! So Ad-Dahhak (bin Qais) said: Indeed Umar bin Al-Khattab has prohibited that. So Sa'd said: The Messenger of Allah did it, and we did it with him.
محمد بن عبداللہ بن حارث بن نوفل کہتے ہیں کہ
انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی الله عنہما سے سنا، دونوں عمرہ کو حج میں ملانے کا ذکر کر رہے تھے۔ ضحاک بن قیس نے کہا: ایسا وہی کرے گا جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہو، اس پر سعد رضی الله عنہ نے کہا: بہت بری بات ہے جو تم نے کہی، میرے بھتیجے! تو ضحاک بن قیس نے کہا: عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے اس سے منع کیا ہے، اس پر سعد رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا ہے اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی اسے کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Salim bin Abdullah narrated that : he had heard a man from Ash-Sham asking Abdullah bin Umar about Tamattu after Umrah until Hajj, so Abdullah bin Umar said: It is lawful. The man from Ash-Sham said: But your father prohibited it. So Abdullah bin Umar said: Is the order to follow my father or is the order (to follow) for the Messenger of Allah? The man said: Rather it is for the Messenger of Allah. So he said: Indeed the Messenger of Allah did it.
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ
سالم بن عبداللہ نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے اہل شام میں سے ایک شخص سے سنا، وہ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے حج میں عمرہ سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں پوچھ رہا تھا، تو عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے کہا: یہ جائز ہے۔ اس پر شامی نے کہا: آپ کے والد نے تو اس سے روکا ہے؟ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے کہا: ذرا تم ہی بتاؤ اگر میرے والد کسی چیز سے روکیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا ہو تو میرے والد کے حکم کی پیروی کی جائے گی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی، تو اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث ( ۸۲۲ ) حسن ہے، ۲- اس باب میں علی، عثمان، جابر، سعد، اسماء بنت ابی بکر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے ایک جماعت نے اسی کو پسند کیا ہے کہ حج میں عمرہ کو شامل کر کے حج تمتع کرنا درست ہے، ۴- اور حج تمتع یہ ہے کہ آدمی حج کے مہینوں میں عمرہ کے ذریعہ داخل ہو، پھر عمرہ کر کے وہیں ٹھہرا رہے یہاں تک کہ حج کر لے تو وہ متمتع ہے، اس پر ہدی کی جو اسے میسر ہو قربانی لازم ہو گی، اگر اسے ہدی نہ مل سکے تو حج میں تین دن اور گھر لوٹ کر سات دن کے روزے رکھے، ۵- متمتع کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ حج میں تین روزے رکھے تو ذی الحجہ کے ( ابتدائی ) دس دنوں میں رکھے اور اس کا آخری روزہ یوم عرفہ کو ہو، اور صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم جن میں ابن عمر اور عائشہ رضی الله عنہم بھی شامل ہیں کے قول کی رو سے اگر وہ دس دنوں میں یہ روزے نہ رکھ سکے تو ایام تشریق میں رکھ لے۔ یہی مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۶- اور بعض کہتے ہیں: ایام تشریق میں روزہ نہیں رکھے گا۔ یہ اہل کوفہ کا قول ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اہل حدیث حج میں عمرہ کو شامل کر کے حج تمتع کرنے کو پسند کرتے ہیں، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Ibn Umar narrated: The Prophet would say the following for the Talbiyah: Labbaik Allahumma labbaik. Labbaik la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni;mata laka wal-mulk, la sharika laka. ('I respond to Your call O Allah! I respond to Your call. You have no partner. I respond to Your call. All praise, thanks and blessings are for You. All sovereignty is for You. And You have no partners with You).'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں۔ سب تعریف اور نعمت تیری ہی ہے اور سلطنت بھی، تیرا کوئی شریک نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، جابر، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- شافعی کہتے ہیں: اگر وہ اللہ کی تعظیم کے کچھ کلمات کا اضافہ کر لے تو کوئی حرج نہیں ہو گا - ان شاء اللہ- لیکن میرے نزدیک پسندیدہ بات یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ پر اکتفا کرے۔ شافعی کہتے ہیں: ہم نے جو یہ کہا کہ ”اللہ کی تعظیم کے کچھ کلمات بڑھا لینے میں کوئی حرج نہیں تو اس دلیل سے کہ ابن عمر سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تلبیہ یاد کیا پھر اپنی طرف سے اس میں «لبيك والرغباء إليك والعمل» ”حاضر ہوں، تیری ہی طرف رغبت ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے“ کا اضافہ کیا ۱؎۔
Nafi` narrated: When Ibn Umar would say the talbiyah he would continue saying: Labbaik Allahumma labbaik. Labbaik la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni`mata laka wal-mulk, la sharika laka (I respond to Your call O Allah! I respond to Your call, You have no partner, I respond to You call. All praise, thanks and blessings are for You. And You have no partners with You). He said: Abdullah bin Umar would say: 'This is the Talbiyah of the Messenger of Allah.' He would himself add the following after the Talbiyah of the Messenger of Allah: Labbaik labbaika wa-sa'daik, wal-khairuu fi yadaik. Labbaika war-raghba'u ilaika wal-amal ('I respond to Your call, and I am obedient to Your orders, all good is in Your Hands. I respond to Your call and the requests and deeds are for You).'
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے اخیر میں اپنی طرف سے ان الفاظ کا اضافہ کرتے: «لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں حاضر ہوں تیری خدمت میں اور خوش ہوں تیری تابعداری پر اور ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی دونوں ہاتھوں میں ہے اور تیری طرف رغبت ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Bakr As-Siddiq narrated that: The Messenger of Allah was asked: Which Hajj is the most virtuous? He said: That with raised voices (Al-Ajj) and the flow of blood (of the sacrifice) (Ath-Thajj).
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا حج افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس میں کثرت سے تلبیہ پکارا گیا ہو اور خوب خون بہایا گیا ہو“ ۱؎۔
Sahl bin Sa'd narrated that : the Messenger of Allah said: There is no Muslim who says the Talbiyah except that - on his right and left, until the end f the land, from here to there - the rocks, or trees, or mud say the Talbiyah.
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان بھی تلبیہ پکارتا ہے اس کے دائیں یا بائیں پائے جانے والے پتھر، درخت اور ڈھیلے سبھی تلبیہ پکارتے ہیں، یہاں تک کہ دونوں طرف کی زمین کے آخری سرے تک کی چیزیں سبھی تلبیہ پکارتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوبکر رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ہم اسے ابن ابی فدیک ہی کے طریق سے جانتے ہیں، انہوں نے ضحاک بن عثمان سے روایت کی ہے، ۲- محمد بن منکدر نے عبدالرحمٰن بن یربوع سے اسے نہیں سنا ہے، البتہ محمد بن منکدر نے بسند «سعید بن عبدالرحمٰن بن یربوع عن أبیہ عبدالرحمٰن بن یربوع» اس حدیث کے علاوہ دوسری چیزیں روایت کی ہیں، ۳- ابونعیم طحان ضرار بن صرد نے یہ حدیث بطریق: «ابن أبي فديك عن الضحاك بن عثمان عن محمد بن المنكدر عن سعيد بن عبدالرحمٰن بن يربوع عن أبيه عن أبي بكر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے اور اس میں ضرار سے غلطی ہوئی ہے، ۴- احمد بن حنبل کہتے ہیں: جس نے اس حدیث میں یوں کہا: «عن محمد بن المنكدر عن ابن عبدالرحمٰن بن يربوع عن أبيه» اس نے غلطی کی ہے، ۵- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے ضرار بن صرد کی حدیث ذکر کی جسے انہوں نے ابن ابی فدیک سے روایت کی ہے تو انہوں نے کہا: یہ غلط ہے، میں نے کہا: اسے دوسرے لوگوں نے بھی انہیں کی طرح ابن ابی فدیک سے روایت کی ہے تو انہوں نے کہا: یہ کچھ نہیں ہے لوگوں نے اسے ابن ابی فدیک سے روایت کیا ہے اور اس میں سعید بن عبدالرحمٰن کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، میں نے بخاری کو دیکھا کہ وہ ضرار بن صرد کی تضعیف کر رہے تھے، ۶- اس باب میں ابن عمر اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۷- «عج» : تلبیہ میں آواز بلند کرنے کو اور «ثج» : اونٹنیاں نحر ( ذبح ) کرنے کو کہتے ہیں۔