Al-Ala bin Al-Hadrami narrated : (that the Prophet said): The Muhajir may stay for three (days) in Makkah after carrying out his rites.
علاء بن حضرمی رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر اپنے حج کے مناسک ادا کرنے کے بعد مکے میں تین دن ٹھہر سکتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اس سند سے اور طرح سے بھی یہ حدیث مرفوعاً روایت کی گئی ہے۔
Ibn Umar said: When the Prophet would come home from a battle, or Hajj, or Umrah, when he was it a tract of land or raised area he would say 'Allahu Akbar (Allah is Most Great)' three times, then say: 'La Ilaha illallah Wahdahu la sharika lahu, lahul-mulku wa lahul-Hamdu wa Huwa ala kulli shai'in qadir. A'ibuna ta'ibun abidun saa'ihuna li Rabbina Hamiduna, Sadaqallahu wa'dahu wa nasara abdahu wa hazamal-ahzab Wahdah. (None has the right to be worshiped but Allah Alone without partners. To Him belongs the sovereignty and to Him belongs the praise, and He has power over all things. We are returning, repenting, worshipping, traveling for our Lord, and we are praising. Allah has told the truth, and kept His promise and helped His worshipper, and routed the confederates, Alone.'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوے، حج یا عمرے سے لوٹتے اور کسی بلند مقام پر چڑھتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے، پھر کہتے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير آيبون تائبون عابدون سائحون لربنا حامدون صدق الله وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ سلطنت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم لوٹنے والے ہیں، رجوع کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، سیر و سیاحت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا ہی ساری فوجوں کو شکست دے دی“، امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں براء، انس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ibn Abbas narrated: We were with the Messenger of Allah on a journey when he saw a man fall from his camel, his neck was broken and he died, and he was a Muhrim. So the Messenger of Allah said: 'Wash him with water and Sidr, and shroud him in his garments, and do not cover his head. For indeed he will be resurrected on the Day of Judgment saying the Talbiyah.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے دیکھا کہ ایک شخص اپنے اونٹ سے گر پڑا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا وہ محرم تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے اس کے انہی ( احرام کے ) دونوں کپڑوں میں کفناؤ اور اس کا سر نہ چھپاؤ، اس لیے کہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب محرم مر جاتا ہے تو اس کا احرام ختم ہو جاتا ہے، اور اس کے ساتھ بھی وہی سب کچھ کیا جائے گا جو غیر محرم کے ساتھ کیا جاتا ہے ۱؎۔
Nubaih bin Wahb narrated that : Umar bin Ubaidullah bin Ma'mar was complaining about his eyes while he was a Muhrim. He asked Aban bin Uthman about it and he said: Bandage it with some aloes, for I heard Uthman bin Affan mentioning that the Messenger of Allah said: 'Bandage it with aloes.'
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ
عمر بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں، وہ احرام سے تھے، انہوں نے ابان بن عثمان سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: ان میں ایلوے کا لیپ کر لو، کیونکہ میں نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کو اس کا ذکر کرتے سنا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا: ”ان پر ایلوے کا لیپ کر لو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ محرم کے ایسی دوا سے علاج کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جس میں خوشبو نہ ہو۔
Abdur-Rahman bin Abu Laila narrated from Ka'b bin Ujrah that: The Prophet passed by him while he was at Al-Hudaibiyah, before entering Makkah, and he was a Muhrim. He had lit a fire under a cooking pot and lice were falling all over his face. So he (the Prophet) said: Have these lice of yours troubled you? He said: Yes. He said: Shave and feed six of the poor with a Faraq and a Faraq is three Sa - or fast three days, or slaughter a sacrifice. Ibn Abi Najih (one of the narrators) said: Or slaughter a sheep.
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ان کے پاس سے گزرے، وہ حدیبیہ میں تھے، احرام باندھے ہوئے تھے۔ اور ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہے تھے۔ جوئیں ان کے منہ پر گر رہی تھیں تو آپ نے پوچھا: کیا یہ جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟ کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”سر منڈوا لو اور چھ مسکینوں کو ایک فرق کھانا کھلا دو، ( فرق تین صاع کا ہوتا ہے ) یا تین دن کے روزے رکھ لو۔ یا ایک جانور قربان کر دو۔ ابن ابی نجیح کی روایت میں ہے ”یا ایک بکری ذبح کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام رضی الله عنہم وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ محرم جب اپنا سر مونڈا لے، یا ایسے کپڑے پہن لے جن کا پہننا احرام میں درست نہیں یا خوشبو لگا لے۔ تو اس پر اسی کے مثل کفارہ ہو گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔
Abi Al-Baddah bin Adi narrated from his father: The Prophet permitted the shepherds to stone a day and leave a day.
عدی رضی الله عنہ کہتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑ دیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح ابن عیینہ نے بھی روایت کی ہے، اور مالک بن انس نے بسند «عبد الله بن أبي بكر بن محمد ابن عمرو بن حزم عن أبيه عن أبي البداح بن عدي عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، اور مالک کی روایت زیادہ صحیح ہے، ۲- اہل علم کی ایک جماعت نے چرواہوں کو رخصت دی ہے کہ وہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ترک کر دیں۔
Abi Al-Baddah bin Asim bin Adi narrated from his father: The Messenger of Allah permitted the camel herders who were in the camp (at Mina) to stone on the Day of An-Nahr then to gather the stoning of two days after the Day of An-Nahr, so that they stoned them during one of them. Malik said: I think that he said about the first of them: 'They they should stone on the day of departure.'
عاصم بن عدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو ( منی میں ) رات گزارنے کے سلسلہ میں رخصت دی کہ وہ دسویں ذی الحجہ کو ( جمرہ عقبہ کی ) رمی کر لیں۔ پھر دسویں ذی الحجہ کے بعد کے دو دنوں کی رمی جمع کر کے ایک دن میں اکٹھی کر لیں ۱؎ ( مالک کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ راوی نے کہا ) ”پہلے دن رمی کر لے پھر کوچ کے دن رمی کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ ابن عیینہ کی عبداللہ بن ابی بکر سے روایت والی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
Anas bin Malik narrated: When Ali returned to the Messenger of Allah from Yemen he said: 'For what did you intended the Talbiyah?' He replied: 'I intended the Talbiyah for what the Messenger of Allah announced it.' So he (pbuh) said: 'If I did not have the Hadi with me then I would exit Ihram.'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
علی رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یمن سے آئے تو آپ نے پوچھا: ”تم نے کیا تلبیہ پکارا، اور کون سا احرام باندھا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے وہی تلبیہ پکارا، اور اسی کا احرام باندھا ہے جس کا تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا، اور جو احرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے ۱؎ آپ نے فرمایا: ”اگر میرے ساتھ ہدی کے جانور نہ ہوتے تو میں احرام کھول دیتا“ ۲؎، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Ali narrated: I asked the Messenger of Allah about the day of Al-Hajj Al-Akbar and he said: 'They Day of An-Nahr.'
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حج اکبر ( بڑے حج ) کا دن کون سا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: «یوم النحر» ”قربانی کا دن“۔
Ali narrated: They day of Al-Hajj Al-Akbar is the Day of An-Nahr.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
حج اکبر ( بڑے حج ) کا دن دسویں ذی الحجہ کا دن ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن ابی عمر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے اور ابن عیینہ کی موقوف روایت محمد بن اسحاق کی مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح بہت سے حفاظ حدیث نے اسے بسند «أبي إسحق عن الحارث عن علي» موقوفاً روایت کیا ہے، شعبہ نے بھی ابواسحاق سبیعی سے روایت کی ہے انہوں نے یوں کہا ہے «عن عبد الله بن مرة عن الحارث عن علي موقوفا» ۲؎۔
Ibn Ubaid bin Umair narrated from his father: Ibn Umar was clinging on the two corners (in a manner that I had not seen any of the Companions of the Prophet doing) so I said: 'O Abu Abdur-Rahman! You are clinging on the two corners in a manner that I have not seen any of the Companions of the Prophet clining.' So he said: 'I do it because I heard the Messenger of Allah saying: Touching them atones for sins. And I heard him saying: Whoever performs Tawaf around this House seven times and he keeps track of it, then it is as if he freed a slave. And I heard him saying: One foot is not put down, nor another raised except that Allah removes a sin from him and records a good merit for him.
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی الله عنہما حجر اسود اور رکن یمانی پر ایسی بھیڑ لگاتے تھے جو میں نے صحابہ میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا۔ تو میں نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! آپ دونوں رکن پر ایسی بھیڑ لگاتے ہیں کہ میں نے صحابہ میں سے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا؟ تو انہوں نے کہا: اگر میں ایسا کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”ان پر ہاتھ پھیرنا گناہوں کا کفارہ ہے“۔ اور میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے اس گھر کا طواف سات مرتبہ ( سات چکر ) کیا اور اسے گنا، تو یہ ایسے ہی ہے گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا۔“ اور میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: ”وہ جتنے بھی قدم رکھے اور اٹھائے گا اللہ ہر ایک کے بدلے اس کی ایک غلطی معاف کرے گا اور ایک نیکی لکھے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- حماد بن زید نے بطریق: «عطا بن السائب، عن ابن عبید بن عمير، عن ابن عمر» روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے ابن عبید کے باپ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Ibn Abbas narrated that : the Prophet said: Tawaf around the House is similar to Salat except that you talk during it. So whoever talks in it, then let him not say but good.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت اللہ کے گرد طواف نماز کے مثل ہے۔ البتہ اس میں تم بول سکتے ہو ( جب کہ نماز میں تم بول نہیں سکتے ) تو جو اس میں بولے وہ زبان سے بھلی بات ہی نکالے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن طاؤس وغیرہ نے ابن عباس سے موقوفاً روایت کی ہے۔ ہم اسے صرف عطاء بن سائب کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں، ۲- اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے، یہ لوگ اس بات کو مستحب قرار دیتے ہیں کہ آدمی طواف میں بلا ضرورت نہ بولے ( اور اگر بولے ) تو اللہ کا ذکر کرے یا پھر علم کی کوئی بات کہے۔
Ibn Abbas narrated that: The Messenger of Allah said about the (Black) Stone: By Allah! Allah will raise it on the Day of Resurrection with two eyes by which it sees and a tongue that it speaks with, testifying to whoever touched it in truth.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جس سے یہ دیکھے گا، ایک زبان ہو گی جس سے یہ بولے گا۔ اور یہ اس شخص کے ایمان کی گواہی دے گا جس نے حق کے ساتھ ( یعنی ایمان اور اجر کی نیت سے ) اس کا استلام کیا ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Ibn Umar narrated: The Prophet would apply oil that is not scented (Ghair Muqattat) while he was a Muhrim.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں زیتون کا تیل لگاتے تھے اور یہ ( تیل ) بغیر خوشبو کے ہوتا تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف فرقد سبخی کی روایت سے جانتے ہیں، اور فرقد نے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے۔ یحییٰ بن سعید نے فرقد سبخی کے سلسلے میں کلام کیا ہے، اور فرقد سے لوگوں نے روایت کی ہے، ۲- مقتت کے معنی خوشبودار کے ہیں۔
Hisham bin Urwah narrated : from his father about Aishah, that she would carry some Zamzam water, and she would say: Indeed the Messenger of Allah would carry it.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
وہ زمزم کا پانی ساتھ مدینہ لے جاتی تھیں، اور بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی زمزم ساتھ لے جاتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں۔
Abdul-Aziz bin Rufai narrated: I said to Anas bin Malik: 'Narrated something to me that you understand about where the Messenger of Allah performed Zuhr on the Day of Tarwiyah.' He said: 'In Mina.' I said: 'So where did he pray Asr on the day of departure?' He said: 'In Al-Abtab.' Then he said: 'Do what your leaders do.'
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ
میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے کہا: مجھ سے آپ کوئی ایسی بات بیان کیجئیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کر رکھی ہو۔ بتائیے آپ نے آٹھویں ذی الحجہ کو ظہر کہاں پڑھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں، ( پھر ) میں نے پوچھا: اور کوچ کے دن عصر کہاں پڑھی؟ کہا: ابطح میں لیکن تم ویسے ہی کرو جیسے تمہارے امراء و حکام کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسحاق بن یوسف الازرق کی روایت سے غریب جانی جاتی ہے جسے انہوں نے ثوری سے روایت کی ہے۔