Ibn Abbas narrated that: The Prophet said: The Lahd is for us and the hole is for other than us.
Urdu
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر اوروں کے لیے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں جریر بن عبداللہ، عائشہ، ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ibn Umar narrated: When he Prophet put the deceased in the grave He said: And Abu Khalid (one of the narrators) said [one time]: When he placed the deceased in the Lahd - He said one time: 'In the Name of Allah, by His command and upon the Millah of the Messenger of Allah.' and one time he said: 'In the Name of Allah, by His command and upon the Sunnah of the Messenger of Allah.
Urdu
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میت قبر میں داخل کر دی جاتی ( اور کبھی راوی حدیث ابوخالد کہتے ) جب میت اپنی قبر میں رکھ دی جاتی تو آپ کبھی: «بسم الله وبالله وعلى ملة رسول الله»، پڑھتے اور کبھی «بسم الله وبالله وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم» ”اللہ کے نام سے، اللہ کی مدد سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر میں اسے قبر میں رکھتا ہوں“ پڑھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث دوسرے طریق سے بھی ابن عمر سے مروی ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور اسے ابوالصدیق ناجی نے بھی ابن عمر سے روایت کیا ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، ۳- نیز یہ صدیق الناجی کے واسطہ سے ابن عمر سے بھی موقوفاً مروی ہے۔
Ja'far bin Muhammad narrated that: His father said: The one who made the Lahd in the grave of the Messenger of Allah was Abu Talhah. And the one who placed the velvet cloth under him was Shuqran a freed slave of Messenger of Allah.
Urdu
عثمان بن فرقد کہتے ہیں کہ
میں نے جعفر بن محمد سے سنا وہ اپنے باپ سے روایت کر رہے تھے جس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بغلی بنائی، وہ ابوطلحہ ہیں اور جس نے آپ کے نیچے چادر بچھائی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولی ٰ شقران ہیں، جعفر کہتے ہیں: اور مجھے عبیداللہ بن ابی رافع نے خبر دی وہ کہتے ہیں کہ میں نے شقران کو کہتے سنا: اللہ کی قسم! میں نے قبر میں رسول اللہ کے نیچے چادر ۱؎ بچھائی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- شقران کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
Ibn Abbas narrated: A red velvet cloth was placed in the grave of the Prophet.
Urdu
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں ایک لال چادر رکھی گئی۔ اور محمد بن بشار نے دوسری جگہ اس سند میں ابوجمرہ کہا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے ابوحمزہ قصاب سے بھی روایت کی ہے، ان کا نام عمران بن ابی عطا ہے، اور ابوجمرہ ضبعی سے بھی روایت کی گئی ہے، ان کا نام نصر بن عمران ہے۔ یہ دونوں ابن عباس کے شاگرد ہیں، ۳- ابن عباس سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے قبر میں میت کے نیچے کسی چیز کے بچھانے کو مکروہ جانا ہے۔ بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔
Abu Wa'il narrated: Ali said to Abu Al-Hayyaj Al-Asadi: 'I am dispatching you with what the Prophet dispatched me: That you not leave an elevated grave without leveling it, nor an image without erasing it.
Urdu
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ
علی رضی الله عنہ نے ابوالہیاج اسدی سے کہا: میں تمہیں ایک ایسے کام کے لیے بھیج رہا ہوں جس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا: ”تم جو بھی ابھری قبر ہو، اسے برابر کئے بغیر اور جو بھی مجسمہ ہو ۱؎، اسے مسمار کئے بغیر نہ چھوڑنا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ قبر کو زمین سے بلند رکھنے کو مکروہ ( تحریمی ) قرار دیتے ہیں، ۴- شافعی کہتے ہیں کہ قبر کے اونچی کئے جانے کو میں مکروہ ( تحریمی ) سوائے اتنی مقدار کے جس سے معلوم ہو سکے کہ یہ قبر ہے تاکہ وہ نہ روندی جائے اور نہ اس پر بیٹھا جائے۔
Abu Marthan Al-Ghanawi narrated that: The Prophet said: Do not sit on the graves nor perform Salat towards them.
Urdu
ابومرثد غنوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں پر نہ بیٹھو ۱؎ اور نہ انہیں سامنے کر کے نماز پڑھو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، عمرو بن حزم اور بشیر بن خصاصیہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
(Another chain) from Abu Marthad Al-Ghanawi : from the Prophet, similar (to no. 1050), but it does not contain From Abu Idris and this is what is correct.
Urdu
اس طریق سے بھی
ابومرشد غنوی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ البتہ اس سند میں ابوادریس کا واسطہ نہیں ہے اور یہی صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ابن مبارک کی روایت غلط ہے، اس میں ابن مبارک سے غلطی ہوئی ہے انہوں نے اس میں ابوادریس خولانی کا واسطہ بڑھا دیا ہے، صحیح یہ ہے کہ بسر بن عبداللہ نے بغیر واسطے کے براہ راست واثلہ سے روایت کی ہے، اسی طرح کئی اور لوگوں نے عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے روایت کی ہے اور اس میں ابوادریس کے واسطے کا ذکر نہیں ہے۔ اور بسر بن عبداللہ نے واثلہ بن اسقع سے سنا ہے۔
Jabir narrated: The Messenger of Allah prohibited plastering graves, writing on them, building over them, and treading on them.
Urdu
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ قبریں پختہ کی جائیں ۱؎، ان پر لکھا جائے ۲؎ اور ان پر عمارت بنائی جائے ۳؎ اور انہیں روندا جائے ۴؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ اور بھی طرق سے جابر سے مروی ہے، ۳- بعض اہل علم نے قبروں پر مٹی ڈالنے کی اجازت دی ہے، انہیں میں سے حسن بصری بھی ہیں، ۴- شافعی کہتے ہیں: قبروں پر مٹی ڈالنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Ibn Abbas narrated: The Messenger of Allah passed by the graves of Al-Madinah, so he turned his face towards them and said: (As-Salamu alaikum ya ahlul-qubur! Yaghfirul-lahu lana wa lakun, antum salafuna wa nahnu bil-athar.) 'Peace be upon you O inhabitants of the grave! May Allah forgive us and you; you are our predecessors and we are to follow you.'
Urdu
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کی چند قبروں کے پاس سے گزرے، تو ان کی طرف رخ کر کے آپ نے فرمایا: «السلام عليكم يا أهل القبور يغفر الله لنا ولكم أنتم سلفنا ونحن بالأثر» ”سلامتی ہو تم پر اے قبر والو! اللہ ہمیں اور تمہیں بخشے تم ہمارے پیش روہو اور ہم بھی تمہارے پیچھے آنے والے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں بریدہ رضی الله عنہ اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sulaiman bin Buraidah narrated from his father that: The Messenger of Allah said: I had prohibited you from visiting the graves. But Muhammad was permitted to visit the grave of his mother: so visit them, for they will remind you of the Hereafter.
Urdu
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا۔ اب محمد کو اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ تو تم بھی ان کی زیارت کرو، یہ چیز آخرت کو یاد دلاتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، ابن مسعود، انس، ابوہریرہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ قبروں کی زیارت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں۔
Abdullah bin Abi Mulaikah said: Abdur-Rahman bin Abi Bakr died in Al-Hubshi He said: He was carried to Makkah to be buried there. So when Aishah arrived she went to the grave of Abdur-Rahman bin Abi Bakr and she said: We were like two drinking companions of Jadhimah for such a long time that they would say: 'They will never part.' So when we were separated it was as if I and Malik - due to the length of unity - never spent a night together.
Urdu
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ
عبدالرحمٰن بن ابی بکر حبشہ میں وفات پا گئے تو انہیں مکہ لا کر دفن کیا گیا، جب ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا ( مکہ ) آئیں تو عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی الله عنہ کی قبر پر آ کر انہوں نے یہ اشعار پڑھے۔ «وكنا كندماني جذيمة حقبة من الدهر حتى قيل لن يتصدعا فلما تفرقنا كأني ومالكا لطول اجتماع لم نبت ليلة معا» ”ہم دونوں ایک عرصے تک ایک ساتھ ایسے رہے تھے جیسے بادشاہ جزیمہ کے دو ہم نشین، یہاں تک کہ یہ کہا جانے لگا کہ یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے۔ پھر جب ہم جدا ہوئے تو مدت دراز تک ایک ساتھ رہنے کے باوجود ایسا لگنے لگا گویا میں اور مالک ایک رات بھی کبھی ایک ساتھ نہ رہے ہوں“۔ پھر کہا: اللہ کی قسم! اگر میں تمہارے پاس موجود ہوتی تو تجھے وہیں دفن کیا جاتا جہاں تیرا انتقال ہوا اور اگر میں حاضر رہی ہوتی تو تیری زیارت کو نہ آتی۔
Abu Hurairah narrated: Indeed the Messenger of Allah cursed the women who visit the graves.
Urdu
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور حسان بن ثابت سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبروں کی زیارت کی اجازت دینے سے پہلے کی بات ہے۔ جب آپ نے اس کی اجازت دے دی تو اب اس اجازت میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں، ۴- بعض کہتے ہیں کہ عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت ان کی قلت صبر اور کثرت جزع فزع کی وجہ سے مکروہ ہے۔
Ibn Abbas narrated: The Prophet entered a grave during the night, so a torch was lit for him. He took it (the deceased) in from the direction of the Qiblah, and he said: 'May Allah have mercy upon you, you were often invoking (Allah) by reciting the Qur'an.' And he said: 'Allahu Akbar four times.
Urdu
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر میں رات کو داخل ہوئے تو آپ کے لیے ایک چراغ روشن کیا گیا۔ آپ نے میت کو قبلے کی طرف سے لیا۔ اور فرمایا: اللہ تم پر رحم کرے! تم بہت نرم دل رونے والے، اور بہت زیادہ قرآن کی تلاوت کرنے والے تھے۔ اور آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں جابر اور یزید بن ثابت سے بھی احادیث آئی ہیں اور یزید بن ثابت، زید بن ثابت کے بھائی ہیں، اور ان سے بڑے ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میت کو قبر میں قبلے کی طرف سے اتارا جائے گا ۱؎، ۴- بعض کہتے ہیں: پائتانے کی طرف سے رکھ کر کھینچ لیں گے ۲؎، ۵- اور اکثر اہل علم نے رات کو دفن کرنے کی اجازت دی ہے ۳؎۔
Anas bin Malik narrated: A funeral (procession) passed by the Messenger of Allah and they were praising him with good statements. So the Messenger of Allah said: 'Granted.' Then he said: 'You are Allah's witnesses on the earth.'
Urdu
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، لوگوں نے اس کی تعریف کی ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( جنت ) واجب ہو گئی“ پھر فرمایا: ”تم لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، کعب بن عجرہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abu Al-Aswad Ad-Dill narrated: I arrived in Al-Madinah and while I was sitting with Umar bin Al-Khattab they passed by with a funeral, over (a person) whom they were praising with good. Umar said: 'Granted.' I said to Umar: 'What is granted?' He said: 'I said as the Messenger of Allah said: There is no Muslim about whom three bear witness, except that he is granted Paradise. He said: And two (as well). He said: 'We did not ask the Messenger of Allah about one.'
Urdu
ابوالاسود الدیلی کہتے ہیں کہ
میں مدینے آیا، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے پاس آ کر بیٹھا اتنے میں کچھ لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی تعریف کی عمر رضی الله عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، میں نے عمر رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا چیز واجب ہو گئی؟ تو انہوں نے کہا: میں وہی بات کہہ رہا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”جس کسی بھی مسلمان کے ( نیک ہونے کی ) تین آدمی گواہی دیں، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی“۔ ہم نے عرض کیا: اگر دو آدمی گواہی دیں؟ آپ نے فرمایا: ”دو آدمی بھی“ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کی گواہی کے بارے میں نہیں پوچھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah said: Any Muslim who has lost three of his children will not be touched by the Fire, except for what will fulfill the oath.
Urdu
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی مگر قسم پوری کرنے کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، معاذ، کعب بن مالک، عتبہ بن عبد، ام سلیم، جابر، انس، ابوذر، ابن مسعود، ابوثعلبہ اشجعی، ابن عباس، عقبہ بن عامر، ابو سعید خدری اور قرہ بن ایاس مزنی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابوثعلبہ اشجعی کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف ایک ہی حدیث ہے، اور وہ یہی حدیث ہے، اور یہ خشنی نہیں ہیں ( ابوثعلبہ خشنی دوسرے ہیں ) ۔
Abdullah bin Mas'ud narrated that: The Messenger of Allah said: Whoever has three that precede him (in death) while they did not reach the age of puberty, then they will be a well-fortified fortress for him against the Fire.
Urdu
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تین بچوں کو ( لڑکے ہوں یا لڑکیاں ) بطور ذخیرہ آخرت کے آگے بھیج دیا ہو، اور وہ سن بلوغت کو نہ پہنچے ہوں تو وہ اس کے لیے جہنم سے بچانے کا ایک مضبوط قلعہ ہوں گے“۔ اس پر ابوذر رضی الله عنہ نے عرض کیا: میں نے دو بچے بھیجے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”دو بھی کافی ہیں“۔ تو ابی بن کعب سید القراء ۱؎ رضی الله عنہ نے عرض کیا: میں نے ایک ہی بھیجا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”ایک بھی کافی ہے۔ البتہ یہ قلعہ اس وقت ہوں گے جب وہ پہلے صدمے کے وقت یعنی مرنے کے ساتھ ہی صبر کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ابوعبیدہ عبیدہ نے اپنے والد عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے۔
Abdurabbih bin Bariq Al-Hanafi said: I heard my grandfather, the father of my mother, Simak bin Al-Walid Al-Hanadi narrating, that he heard Ibn Abbas narrated, that he heard the Messenger of Allah saying: Whoever has two predecessors (in death) among my Ummah, then Allah will admit them into Paradise. So Aishah said to him: What about one from your Ummar who has one precessor? He (pbuh) said: And whoever has one predecessor O Muwaffaqqah! So she said: What about one who does not have a predecessor from your Ummah? He said: I am the predecessor for my Ummah: you will never suffer (in grief) for (the loss of) anyone similar to me.
Urdu
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میری امت میں سے جس کے دو پیش رو ہوں، اللہ اسے ان کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا“ اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے عرض کیا: آپ کی امت میں سے جس کے ایک ہی پیش رو ہو تو؟ آپ نے فرمایا: ”جس کے ایک ہی پیش رو ہو اسے بھی، اے توفیق یافتہ خاتون!“ ( پھر ) انہوں نے پوچھا: آپ کی امت میں جس کا کوئی پیش رو ہی نہ ہو اس کا کیا ہو گا؟ تو آپ نے فرمایا: ”میں اپنی امت کا پیش رو ہوں کسی کی جدائی سے انہیں ایسی تکلیف نہیں ہو گی جیسی میری جدائی سے انہیں ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے عبدربہ بن بارق ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور ان سے کئی ائمہ نے روایت کی ہے۔
Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah said: The martyrs are five: Those who die of the plague, stomach illness, drowning, being crushed, and the martyr in the cause of Allah
Urdu
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید پانچ لوگ ہیں: جو طاعون میں مرا ہو، جو پیٹ کے مرض سے مرا ہو، جو ڈوب کر مرا ہو، جو دیوار وغیرہ گر جانے سے مرا ہو، اور جو اللہ کی راہ میں شہید ہوا ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، صفوان بن امیہ، جابر بن عتیک، خالد بن عرفطہٰ، سلیمان بن صرد، ابوموسیٰ اشعری اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abu Ishaq As-Sabi'i said: Sulaiman bin Surad said to Khalid bin Urfutah - or, Khalid said to Sulaiman - 'Did you hear the Messenger of Allah saying: Whoever is killed by his stomach then he will not be punished in the grave ?' One of them said to the other: Yes.
Urdu
ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ
سلیمان بن صرد نے خالد بن عرفطہٰ سے ( یا خالد نے سلیمان سے ) پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا؟ جسے اس کا پیٹ مار دے ۱؎ اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا تو ان میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا: ہاں ( سنا ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس کے علاوہ یہ اور بھی طریق سے مروی ہے۔