The Book on Jana`iz (Funerals)
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 11
Usamah bin Zaid narrated that: The Prophet mentioned the plague and said: It is an abiding punishment or chastisement that was sent upon a group of the children of Isra'il. So when it occurs in a land while you are in it, then do not leave it. And when it occurs in a land while you are not in it, then do not enter it.
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کا ذکر کیا، تو فرمایا: ”یہ اس عذاب کا بچا ہوا حصہ ہے، جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ ۱؎ پر بھیجا گیا تھا جب کسی زمین ( ملک یا شہر ) میں طاعون ہو جہاں پر تم رہ رہے ہو تو وہاں سے نہ نکلو ۲؎ اور جب وہ کسی ایسی سر زمین میں پھیلا ہو جہاں تم نہ رہتے ہو تو وہاں نہ جاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسامہ بن زید کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، خزیمہ بن ثابت، عبدالرحمٰن بن عوف، جابر اور عائشہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ubadah bin As-Samit narrated that: The Prophet said: Whoever loves to meet Allah, then Allah loves to meet him. And whoever dislikes meeting Allah, then Allah dislikes meeting him.
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہو اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ بن صامت کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری، ابوہریرہ، اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sa'd bin Hisham narrated that: Aishah mentioned that the Messenger of Allah said: Whoever loves to meet Allah, then Allah loves to meet him. And whoever dislikes meeting Allah, then Allah dislikes meeting him. She said: O Messenger of Allah! All of us dislike death. He said: It is not like that. But when the believer is given the good news of Allah's mercy, His pleasure, and His Paradise, then he loves to meet Allah and Allah loves to meet him. Whereas when the disbeliever is given the news of Allah's punishment and His wrath, he dislikes meeting Allah, and Allah dislikes meeting him.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے، اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے“۔ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سبھی کو موت ناپسند ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”یہ مراد نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ مومن کو جب اللہ کی رحمت، اس کی خوشنودی اور اس کے جنت کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملنا چاہتا ہے اور اللہ اس سے ملنا چاہتا ہے، اور کافر کو جب اللہ کے عذاب اور اس کی غصے کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jabir bin Samurah narrated: A man killed himself, so the Prophet did not perform Salat over him.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے خودکشی کر لی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس مسئلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں کہ ہر شخص کی نماز پڑھی جائے گی جو قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہو اور خودکشی کرنے والے کی بھی پڑھی جائے گی۔ ثوری اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۳- اور احمد کہتے ہیں: امام خودکشی کرنے والے کی نماز نہیں پڑھے گا، البتہ ( مسلمانوں کے مسلمان حاکم ) امام کے علاوہ لوگ پڑھیں گے۔
Abdullah bin Abi Qatadah narrated from his father that: The Prophet was brought a (deceased) man to perform Salat over. So the Prophet said: Pray for your companion; for indeed he had a debt upon him. Abu Qatadah said: It shall be upon me. So the Messenger of Allah said: To pay it off? (He said: To pay it off. ) So he performed the prayer for him.
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو کیونکہ اس پر قرض ہے“۔ ( میں نہیں پڑھوں گا ) اس پر ابوقتادہ نے عرض کیا: اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”پورا پورا ادا کرو گے؟“ تو انہوں نے کہا: ( ہاں ) پورا پورا ادا کریں گے تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، سلمہ بن الاکوع، اسماء بنت یزید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abu Hurairah narrated: A deceased man would be brought to the Messenger of Allah while a debt was due upon him. So he would say: 'Has he left anything to pay off his debt?' If he was told that he had left something to pay it then he would pray (the funeral prayer) for him. Otherwise he would tell the Muslims: 'Pray for your companion.' So when Allah granted him the victories, he stood and said: 'I am more worthy in the case of the believers than they themselves are. So whoever among the believers dies and leaves a debt behind, then it is up to me to fulfill it. And whoever leaves wealth behind, then it is for his heirs.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی فوت شدہ شخص جس پر قرض ہو لایا جاتا تو آپ پوچھتے: ”کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟“ اگر آپ کو بتایا جاتا کہ اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جس سے اس کے قرض کی مکمل ادائیگی ہو جائے گی تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھاتے، ورنہ مسلمانوں سے فرماتے: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ( میں نہیں پڑھ سکتا ) “، پھر جب اللہ نے آپ کے لیے فتوحات کا دروازہ کھولا تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا: ”میں مسلمانوں کا ان کی اپنی جانوں سے زیادہ حقدار ہوں۔ تو مسلمانوں میں سے جس کی موت ہو جائے اور وہ قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جو کوئی مال چھوڑ کر جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے یحییٰ بن بکیر اور دیگر کئی لوگوں نے لیث بن سعد سے عبداللہ بن صالح کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔
Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah said: When the deceased - or he said when one of you - is buried, two angels, black and blue (eyed_ come to him. One of them is called Al-Munkar, and the other An-Nakir. They say: 'What did you used to say about this man?' So he says what he was saying (before death) 'He is Allah's slave and His Messenger. I testify that none has the right to be worshipped but Allah and that Muhammad is His slave and His Messenger.' So they say: 'We knew that you would say this.' Then his grave is expanded to seventy by seventy cubits, then it is illuminated for him. Then it is said to him: 'Sleep.' So he said: 'Can I return to my family to inform them?' They say: 'Sleep as a newlywed, whom none awakens but the dearest of his family.' Until Allah resurrects him from his resting place. If he was a hypocrite he would say: 'I heard people saying something, so I said the same; I do not know.' So they said: 'We knew you would say that.' So the earth is told: 'Constrict him.' So it constricts around him, squeezing his ribs together. He continues being punished like that until Allah resurrects him from his resting place.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میت کو یا تم میں سے کسی کو دفنا دیا جاتا ہے تو اس کے پاس کالے رنگ کی نیلی آنکھ والے دو فرشتے آتے ہیں، ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے۔ اور وہ دونوں پوچھتے ہیں: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا۔ وہ ( میت ) کہتا ہے: وہی جو وہ خود کہتے تھے کہ وہ اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں تو وہ دونوں کہتے ہیں: ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا پھر اس کی قبر طول و عرض میں ستر ستر گز کشادہ کر دی جاتی ہے، پھر اس میں روشنی کر دی جاتی ہے۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے: سو جا، وہ کہتا ہے: مجھے میرے گھر والوں کے پاس واپس پہنچا دو کہ میں انہیں یہ بتا سکوں، تو وہ دونوں کہتے ہیں: تو سو جا اس دلہن کی طرح جسے صرف وہی جگاتا ہے جو اس کے گھر والوں میں اسے سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے، یہاں تک کہ اللہ اسے اس کی اس خواب گاہ سے اٹھائے، اور اگر وہ منافق ہے، تو کہتا ہے: میں لوگوں کو جو کہتے سنتا تھا، وہی میں بھی کہتا تھا اور مجھے کچھ نہیں معلوم۔ تو وہ دونوں اس سے کہتے ہیں: ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا پھر زمین سے کہا جاتا ہے: تو اسے دبوچ لے تو وہ اسے دبوچ لیتی ہے اور پھر اس کی پسلیاں ادھر کی ادھر ہو جاتی ہیں۔ وہ ہمیشہ اسی عذاب میں مبتلا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ اسے اس کی اس خواب گاہ سے اٹھائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں علی، زید بن ثابت، ابن عباس، براء بن عازب، ابوایوب، انس، جابر، ام المؤمنین عائشہ اور ابوسفیان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ان سبھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عذاب قبر کے متعلق روایت کی ہے۔
Ibn Umar narrated that: The Messenger of Allah said: When a person dies, he is shown his place [both in the morning and the evening]. If he is one of the people of Paradise; he is shown his place among the people of Paradise, and if he one of the people of the Fire; he is shown his place among the people of the Fire. Then it is said to him: 'This is your place until Allah resurrects you on the Day of Judgment.'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی مرتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتیوں میں سے ہے تو جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھتا ہے اور اگر وہ جہنمیوں میں سے ہے تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانا دیکھتا ہے، پھر اس سے کہا جاتا ہے: یہ تیرا ٹھکانا ہے، یہاں تک کہ اللہ تجھے قیامت کے دن اٹھائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۱؎۔
Abdullah narrated that: The Prophet said: Whoever consoles a person with an affliction, then he gets the same reward as him.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مصیبت زدہ کی ( تعزیت ) ماتم پرسی کی، اسے بھی اس کے برابر اجر ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف علی بن عاصم کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں، بعض لوگوں نے محمد بن سوقہ سے اسی جیسی حدیث اسی سند سے موقوفاً روایت کی ہے۔ اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- کہا جاتا ہے کہ علی بن عاصم پر جو زیادہ طعن ہوا، اور لوگوں نے ان پر نکیر کی ہے وہ اسی حدیث کے سبب ہے۔
Abdullah bin Amr narrated that: The Messenger of Allah said: No Muslim dies on the day of Friday, nor the night of Friday, except that Allah protects him from the trials of the grave.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات کو مرتا ہے، اللہ اسے قبر کے فتنے سے محفوظ رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، ربیعہ بن سیف ابوعبدالرحمٰن حبلی سے روایت کرتے ہیں اور وہ عبداللہ بن عمرو سے۔ اور ہم نہیں جانتے کہ ربیعہ بن سیف کی عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے سماع ہے یا نہیں۔
Ali bin Abi Talib narrated that: The Messenger of Allah said to him: O Ali! Three are not to be delayed: Salat when it is due, the funeral when it is presented, and (marriage) for the single woman when someone compatible is found.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرو: نماز کو جب اس کا وقت ہو جائے، جنازہ کو جب آ جائے، اور بیوہ ( کے نکاح ) کو جب تم اس کا کفو ( مناسب ہمسر ) پا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- میں اس کی سند متصل نہیں جانتا۔
Abu Barzah narrated that : The Messenger of Allah said: Whoever consoles a bereaved mother, he will be clothes with a Burd in Paradise.
ابوبرزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی ایسی عورت کی تعزیت ( ماتم پرسی ) کی جس کا لڑکا مر گیا ہو، تو اسے جنت میں اس کے بدلہ ایک عمدہ کپڑا پہنایا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند قوی نہیں ہے۔
Abu Hurairah narrated: The Messenger of Allah said, 'Allahu Akbar' over the deceased, so he raised his hands with the first Takbir, and he placed his right (hand) over his left.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازے میں اللہ اکبر کہا تو پہلی تکبیر پر آپ نے رفع یدین کیا اور دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۳- اہل علم کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا خیال ہے کہ آدمی جنازے میں ہر تکبیر کے وقت دونوں ہاتھ اٹھائے گا، یہ ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۱؎، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: صرف پہلی بار اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے گا۔ یہی ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے ۲؎، ۵- ابن مبارک کہتے ہیں کہ نماز جنازہ میں داہنے ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ کو نہیں پکڑے گا، ۶- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: وہ اپنے داہنے ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ کو پکڑے گا جیسے وہ دوسری نماز میں کرتا ہے، ۷- امام ترمذی کہتے ہیں: ہاتھ باندھنا مجھے زیادہ پسند ہے۔
Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah said: The believer's soul is suspended by his debt until it is settled for him.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی جان اس کے قرض کی وجہ سے اٹکی رہتی ہے جب تک کہ اس کی ادائیگی نہ ہو جائے“۔
(Another chain) Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah said: The believer's soul is suspended by his debt until it is settled for him.
اس سند سے بھی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی جان اس کے قرض کی وجہ سے اٹکی رہتی ۱؎ ہے جب تک کہ اس کی ادائیگی نہ ہو جائے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔