The Book on Virtues of Jihad
كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 23
Narrated Ibn 'Abbas: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying, 'There are two eyes that shall not be touched by the Fire: An eye that wept from the fear of Allah, and an eye that spent the night standing on guard in the cause of Allah. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from 'Uthman and Abu Raihanah. The Hadith of Ibn 'Abbas is a Hasan Gharib Hadith, we do not know of it except through the narration of Shu'aib bin Ruzaiq.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی: ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے تر ہوئی ہو اور ایک وہ آنکھ جس نے راہ جہاد میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شعیب بن رزیق ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عثمان اور ابوریحانہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Anas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Dying in the cause of Allah expiates every sin. Jibril said: Except for debt. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: Except the debt. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Ka'b bin 'Ujrah, Jabir, Abu Hurairah, and Abu Qatadah. This Hadith is Gharib, we do not know of it as a Hadith of Abu Bakr (a narrator) except from this Shaikh (Yahya bin Talhah) He said: I asked Muhammad bin Isma'il about this Hadith and he did not know it. He said: I think that he intended the Hadith of Humaid, from Anas, from the Prophet (ﷺ) that he said: 'There is none from the people of Paradise who would like to return to the world except for the martyr.'
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں شہادت ( شہید کے لیے ) ہر گناہ کا کفارہ بن جاتی ہے، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”سوائے قرض کے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا: ”سوائے قرض کے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کو ابی بکر کی روایت سے صرف اسی شیخ ( یعنی یحییٰ بن طلحہ ) کے واسطے سے جانتے ہیں، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا: میرا خیال ہے یحییٰ بن طلحہ نے حمید کی حدیث بیان کرنا چاہی جس کو انہوں نے انس سے، انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”شہید کے علاوہ کوئی ایسا جنتی نہیں ہے جو دنیا کی طرف لوٹنا چاہے“، ۳- اس باب میں کعب بن عجرہ، جابر، ابوہریرہ اور ابوقتادہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Ka'b bin Malik: From his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The souls of the martyrs are in green birds, suspended from the fruit of Paradise, or the trees of Paradise. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
کعب بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہداء کی روحیں ( جنت میں ) سبز پرندوں کی شکل میں ہیں، جو جنت کے پھلوں یا درختوں سے کھاتی چرتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said, I was shown the first of (every) three to enter Paradise: A martyr, an 'Atif, who is a Muta'affif, and a slave who perfected his worship of Allah, and was sincere to his masters. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے اوپر ان تین اشخاص کو پیش کیا گیا جو جنت میں سب سے پہلے جائیں گے: ایک شہید، دوسرا حرام سے دور رہنے والا اور نامناسب امور سے بچنے والا، تیسرا وہ غلام جو اچھی طرح اللہ کی عبادت بجا لائے اور اپنے مالکان کے لیے خیر چاہے یا ان کے حقوق بجا لائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated Anas: That the Prophet (ﷺ), There is no person who dies having good (prepared for him) with Allah, who wishes to return to the world, and to have the world and all it contains, except for the martyr because of what he knows about the virtue of martyrdom. For, indeed he loves to return to the world so that he may be killed another time. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Ibn 'Umar said: Sufyan bin 'Uyainah said: Amr bin Dinar was older than Az-Zuhri.'
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرنے والا کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جس کے لیے اللہ کے پاس ثواب ہو اور وہ دنیا کی طرف دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس کی خاطر لوٹنا چاہتا ہو۔ سوائے شہید کے، اس لیے کہ وہ شہادت کا مقام و مرتبہ دیکھ چکا ہے، چنانچہ وہ چاہتا ہے کہ دنیا کی طرف لوٹ جائے اور دوبارہ شہید ہو ( کر آئے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Fadalah bin 'Ubaid: That he heard 'Umar bin Al-Khattab saying: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'The martyrs are four: A believing man whose faith is good, he meets the enemy and proves faithful to Allah until he is killed. That is the one to whom the people will raise up their eyes like this on the Day of Judgement' and he raised his head until his Qalansuwah fell - [he said:] I do not know if it was 'Umar's Qalansuwah or the Qalansuwah of the Prophet (ﷺ) that fell - he said, 'And a believing man whose faith is good (but not as brave as first), he meets the enemy, but due to cowardice, it only appears that he was struck with a thorn of an acacia tree when an unexpected arrow comes to him, yet it kills him. He is among the second level. And a believing man who has mixed righteous deed with another evil one, he meets his enemy and proves faithful to Allah until he is killed. This one is in the third level. And a believing man who wasted himself (in wrongdoing), he meets the enemy and proves faithful to Allah until he is killed. This one is in the fourth level.' [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib, it is not known except as a narration of 'Ata bin Dinar. He said: I heard Muhammad saying: Sa'eed bin Abi Ayyub reported this Hadith from 'Ata bin Dinar - from some Shaikhs of Khawlan - and he did not mention 'from Abu Yazid' in it. And he said: 'Ata bin Dinar; there is no harm in him.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”شہید چار طرح کے ہیں: پہلا وہ اچھے ایمان والا مومن جو دشمن سے مقابلہ اور اللہ سے کئے گئے وعدہ کو سچ کر دکھائے یہاں تک کہ شہید ہو جائے، یہی وہ شخص ہے جس کی طرف قیامت کے دن لوگ اس طرح آنکھیں اٹھا کر دیکھیں گے اور ( راوی فضالہ بن عبید نے اس کی کیفیت کو بیان کرنے کے لیے کہا ) اپنا سر اٹھایا یہاں تک کہ ٹوپی ( سر سے ) گر گئی“، راوی ابویزید خولانی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم فضالہ نے عمر رضی الله عنہ کی ٹوپی مراد لی یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی، آپ نے فرمایا: ”دوسرا وہ اچھے ایمان والا مومن جو دشمن کا مقابلہ اس طرح کرے تو ان بزدلی کی وجہ سے اس کی جلد ( کھال ) «طلح» ( ایک بڑا خاردار درخت ) کے کاٹے سے زخمی ہو گئی ہو، پیچھے سے ( ایک انجان ) تیر آ کر اسے لگے اور مار ڈالے، یہ دوسرے درجہ میں ہے، تیسرا وہ مومن جو نیک عمل کے ساتھ برا عمل بھی کرے، جب دشمن سے مقابلہ کرے تو اللہ سے کئے گئے وعدہ کو سچ کر دکھائے ( یعنی بہادری سے لڑتا رہے ) یہاں تک کہ شہید ہو جائے، یہ تیسرے درجہ میں ہے، چوتھا وہ مومن شخص جو اپنے نفس پر ظلم کرے ( یعنی کثرت گناہ کی وجہ سے، اور بہادری سے لڑتا رہے ) یہاں تک کہ شہید ہو جائے، یہ چوتھے درجہ میں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عطاء بن دینار ہی کی روایت سے جانتے ہیں، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: یہ حدیث سعید بن ابی ایوب نے عطاء بن دینار سے روایت کی ہے اور انہوں نے خولان کے مشائخ سے روایت کی ہے اس میں انہوں نے ابویزید کا ذکر نہیں کیا، اور عطاء بن دینار نے کہا: ( کہ اس حدیث میں ) کچھ حرج نہیں ہے۔
Narrated Ishaq bin 'Abdullah bin Abi Talhah: That he heard Anas [bin Malik] saying: The Messenger of Allah (ﷺ) used to visit Umm Haram bint Milhan, who would offer him meals. Umm Haram was the wife of 'Ubadah bin As-Samit. Once the Messenger of Allah (ﷺ) visited her and she provide him with some food and started inspecting this head for lice. Then the Messenger of Allah (ﷺ) slept and afterwards he awoke smiling. She said: 'I said: What causes you to smile, O the Messenger of Allah (ﷺ) ? He said: Some of my followers who were displayed before me )in a dream) as fighters in Allah's cause, riding on a ship this ocean who were kings upon thrones, or like kings upon thrones. I said: O Messenger of Allah! Supplicate to Allah to make me among them.' So he supplicated for her. Then he lay down his head to sleep. Then he woke up and he was smiling. She said: 'So I said to him: What causes you to smile, O the Messenger of Allah (ﷺ)? He said: Some of my followers who were displayed before me (in a dream) as fighters in Allah's cause, and he said similar to what he said earlier. She said: 'I said: O Messenger of Allah! Supplicate to Allah to make me among them. He said: You are the earlier ones.' He said: So Umm Haram rode on the sea during the time of Mu'awiyah bin Abu Sufyan. She was thrown from the riding animal after she arrived from the ocean voyage, and she died. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Umm Haram bint Milhan is the daughter of Umm Sulaim, the maternal aunt of Anas bin Malik.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان کے گھر جب بھی جاتے، وہ آپ کو کھانا کھلاتیں، ام حرام رضی الله عنہا عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کے عقد میں تھیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور آپ کے سر میں جوئیں دیکھنے بیٹھ گئیں، آپ سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے، ام حرام رضی الله عنہا کہتی ہیں: میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کو کیا چیز ہنسا رہی ہے؟ آپ نے ( جواب میں ) فرمایا: ”میرے سامنے میری امت کے کچھ مجاہدین پیش کئے گئے، وہ اس سمندر کے سینہ پر سوار تھے، تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ لگتے تھے“۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے «ملوك على الأسرة» کہا، یا «مثل الملوك على الأسرة» میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کر دیجئیے کہ اللہ مجھے بھی ان لوگوں میں کر دے، چنانچہ آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی، آپ پھر اپنا سر رکھ کر سو گئے، پھر ہنستے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو کیا چیز ہنسا رہی ہے؟ فرمایا: ”میرے سامنے میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے پیش کئے گئے“، آپ نے اسی طرح فرمایا جیسے اس سے پہلے فرمایا تھا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کر دیجئیے کہ مجھے ان لوگوں میں کر دے، آپ نے فرمایا: ”تم ( سمندر میں ) پہلے ( جہاد کرنے ) والے لوگوں میں سے ہو“۔ انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما کے زمانہ میں ام حرام رضی الله عنہا سمندری سفر پر ( ایک جہاد میں ) نکلیں تو وہ سمندر سے نکلتے وقت اپنی سواری سے گر گئیں اور ہلاک ہو گئیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ام حرام بنت ملحان، ام سلیم کی بہن اور انس بن مالک کی خالہ ہیں، ( اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ننہال میں سے قریبی رشتہ دار تھیں ) ۔
Narrated Abu Musa: The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about a man who fights out of bravery, one who fights out of protection (for himself or others), and one who fought to be seen. Which of them is in the cause of Allah ? He said: 'Whoever fought so that the Word of Allah is supreme, then he is in Allah's cause.' [Abu 'Eisa said:] There is something on this topic from 'Umar. This Hadith is Hasan Sahih.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ایک آدمی اظہار شجاعت ( بہادری ) کے لیے لڑتا ہے، دوسرا حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے، تیسرا ریاکاری کے لیے لڑتا ہے، ان میں سے اللہ کے راستے میں کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے جہاد کرے، وہ اللہ کے راستے میں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated 'Umar bin Al-Khattab: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Deeds are but with intentions, and for the man is only what he intended. So one whose emigration was to Allah and His Messenger, then his emigration was to Allah and His Messenger. And one whose emigration was to the world, to attain some of it, or woman, to marry her, then his emigration was to what he emigrated. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Malik bin Anas, Sufyan Ath-Thawri and more than one of the A'immah narrated this Hadith from Yahya bin Sa'eed. And we do not know of it except as a narration from Yahya bin Sa'eed Al-Ansari. 'Abdur Rahman bin Mahdi said: It is necessary that we put this Hadith in every chapter.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیت پر ہے، آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی، چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی اسی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے مانی جائے گی اور جس نے حصول دنیا یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہجرت کی ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مالک بن انس، سفیان ثوری اور کئی ائمہ حدیث نے اسے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن سعید انصاری ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: ہمیں اس حدیث کو ہر باب میں رکھنا چاہیئے۔
Narrated Sahl bin Sa'd As-Sa'idi: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Going out in the morning in the cause of Allah is better that the world and what is in it. And the place (the size) of a whip in Paradise is better than the world and what is in it. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Abu Hurairah, Ibn 'Abbas, Abu Ayyub, and Anas. This Hadith is Hasan Sahih.
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راہ جہاد کی ایک صبح دنیا اور دنیا کی ساری چیزوں سے بہتر ہے اور جنت کی ایک کوڑے ۱؎ کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس، ابوایوب اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Abu Hurairah and Ibn 'Abbas: That the Prophet (ﷺ) said: Going out in the morning in the cause of Allah, or in the afternoon, is better than the world and what is in it. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib. The Abu Hazim who reported from Ashl bin Sa'd is Abu Hazim Az-Zahid. He is from Al-Madinah, and his name is Salamah bin Dinar. While [this] Abu Hazim who reported from Abu Hurairah is Abu Hazim Al-Ashja'i Al-Kufi, whose name is Salman, and he is the freed slave of 'Azzah Al-Ashja'iyyah.
ابوہریرہ رضی الله عنہ اور عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کی ایک صبح یا ایک شام دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- جس ابوحازم نے سہل بن سعد سے روایت کی ہے وہ ابوحازم زاہد ہیں، مدینہ کے رہنے والے ہیں اور ان کا نام سلمہ بن دینار ہے، اور یہ ابوحازم جنہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے یہ ابوحازم اشجعی ہیں، کوفہ کے رہنے والے ان کا نام سلمان ہے اور یہ عزۃ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
Narrated Abu Hurairah: A man from the Companions of the Prophet (ﷺ) passed by ravine containing a small spring of thirst quenching water, so he was amazed by how pleasant it was. So he said: 'I should leave the people and stay in this ravine. But I will not do it until I seek permission from the Messenger of Allah (ﷺ).' So he mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'Do not do so. For indeed one of you standing in the cause of Allah is more virtuous that his Salat in his house for seventy years. Do you not love that Allah forgive your sins and admit you into Paradise ? Then fight in the cause of Allah, for whoever fights in Allah's cause for the time it takes for two milkings of a camel, then Paradise is obligatory for him.' [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
صحابہ میں سے ایک آدمی کسی پہاڑی کی گھاٹی سے گزرا جس میں میٹھے پانی کا ایک چھوٹا سا چشمہ تھا، وہ جگہ اور چشمہ اپنی لطافت کی وجہ سے اسے بہت پسند آیا، اس نے کہا ( سوچا ) : کاش میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اس گھاٹی میں قیام پذیر ہو جاتا، لیکن میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کر لوں اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا، آپ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، اس لیے کہ تم میں سے کسی کا اللہ کے راستے میں کھڑا رہنا اپنے گھر میں ستر سال نماز پڑھتے رہنے سے بہتر ہے، کیا تم لوگ نہیں چاہتے ہو کہ اللہ تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تم کو جنت میں داخل کر دے؟ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، جس نے اللہ کی راہ میں دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان کے وقفہ کے برابر جہاد کیا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated Anas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: To go out in the cause of Allah in the morning, or the afternoon, is better than the world and what is in it. And the space that a bow of one of you - or the space that his hand - would occupy in Paradise is better than the world and what is in it. And if a woman among the women inhabiting Paradise were to appear to the people of the earth, then she would illuminate what is between the ( the heavens and the earth), and a pleasant scent would fill up what is between them, and the scarf on her head is better than the world and what is in it. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راہ جہاد کی ایک صبح یا ایک شام ساری دنیا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کی کمان یا ہاتھ کے برابر جنت کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۱؎، اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف نکل آئے تو زمین و آسمان کے درمیان کی ساری چیزیں روشن ہو جائیں اور خوشبو سے بھر جائیں اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: That the Prophet (ﷺ) said: Shall I not inform you of the best of the people ? A man who takes hold of the reins of his horse in Allah's cause. Shall I not inform you of the one who comes after him ? The man who secludes himself from the people with a small group of sheep of his, thereby fulfilling Allah's right. Shall I not inform you about the worst of the people ? A man who is asked by (the Name of) Allah, but not given by Him. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib from this route. This Hadith has been reported through other routes from Ibn 'Abbas, from the Prophet (ﷺ).
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم لوگوں کو سب سے بہتر آدمی کے بارے میں نہ بتا دوں؟ یہ وہ آدمی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے رہے، کیا میں تم لوگوں کو اس آدمی کے بارے میں نہ بتا دوں جو مرتبہ میں اس کے بعد ہے؟ یہ وہ آدمی ہے جو لوگوں سے الگ ہو کر اپنی بکریوں کے درمیان رہ کر اللہ کا حق ادا کرتا رہے، کیا میں تم کو بدترین آدمی کے بارے میں نہ بتا دوں؟ یہ وہ آدمی ہے جس سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگا جائے اور وہ نہ دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطے سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے۔
Narrated Sahl bin Abi Umamah bin Sahl bin Hunaif: From his father, from his grandfather, that the Prophet (ﷺ) said: Whoever asks Allah for Martyrdom sincerely in his heart, Allah will grant the status of martyrdom for him, even if he were to die in his bed. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib as a narration of Sahl bin Hunaif. We do not know of it except from the report of 'Abdur-Rahman bin Shuraih. 'Abdullah bin Salih reported it from 'Abdur-Rahman bin Shuraih, and 'Abdur-Rahman bin Shuraih's kunyah is Abu Shuriah, and he is from Iskandarani. There is something on this topic from Mu'adh bin Jabal.
سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے شہادت کی دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے مرتبے تک پہنچا دے گا اگرچہ وہ اپنے بستر ہی پر کیوں نہ مرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سہل بن حنیف کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن شریح کی ہی روایت سے جانتے ہیں، اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن شریح سے عبداللہ بن صالح نے بھی روایت کیا ہے، عبدالرحمٰن بن شریح کی کنیت ابوشریح ہے اور وہ اسکندرانی ( اسکندریہ کے رہنے والے ) ہیں، ۲- اس باب میں معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Mu’adh bin Jabal : That the Prophet (ﷺ) said: Whoever asks Allah to be killed in His cause sincerely from his heart, Allah shall give him the reward of martyrdom. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے اللہ کی راہ میں قتل ہونے کی دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے شہادت کا ثواب دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: There are three for whom it is a right upon Allah to help him: The Mujahid in the cause of Allah, the Mukatab who intends to fulfill (the Kitabah), and the one getting married who intends chastity. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں کی مدد اللہ کے نزدیک ثابت ہے ۱؎ ایک اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، دوسرا وہ مکاتب غلام جو زر کتابت ادا کرنا چاہتا ہو، اور تیسرا وہ شادی کرنے والا جو پاکدامنی حاصل کرنا چاہتا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: None is wounded in Allah's cause - and Allah knows better about who has been injured in His cause - except that he will come on the Day of Resurrection with his wound the color of blood but its scent will be the scent of musk. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. It has been reported through other routes from the Prophet (ﷺ).
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جو بھی زخمی ہو گا - اور اللہ خوب جانتا ہے جو اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے ۱؎ - قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ خون کے رنگ میں رنگا ہوا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے۔
Narrated Mu’adh bin Jabal : That the Prophet (ﷺ) said: Whoever fought in the cause of Allah - a Muslim man - for the time it takes for two milkings of a camel, then Paradise is obligatory for him. And whoever suffered a wound in the cause of Allah, or he suffers from an injury, then he will come on the Day of Resurrection while (his blood will be) more copius that it ever was, its color the color of saffron, and its scent like that of musk. This Hadith is Sahih.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان اللہ کی راہ میں اونٹنی کے دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیانی وقفہ کے برابر جہاد کرے اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جس شخص کو اللہ کی راہ میں کوئی زخم لگے یا چوٹ آئے وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا زخم دنیا کے زخم سے کہیں بڑا ہو گا، رنگ اس کا زعفران کا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) was asked: 'Which deed is the most virtuos ? And which deed is the best ?' He (ﷺ) said: 'Faith in Allah and His Messenger.' It was said: 'Then what ?' He said: 'Jihad is the hump (the most prominent) of the deeds.' Then what O Messenger of Allah ? He said: 'Then Hajj Mabrur.' [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih, it has been reported through other routes from Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ).
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے، یا کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا“، پوچھا گیا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ”جہاد، وہ نیکی کا کوہان ہے“۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ”حج مبرور ( مقبول ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطے سے مرفوع طریقہ سے کئی سندوں سے آئی ہے۔