Chapter on Righteousness And Maintaining Good Relations With Relatives
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 28
Al-Bara bin Azib narrated that the Messenger of Allah said : Whoever gives someone some milk or silver, or guides him through a strait, then he will have the reward similar to freeing a slave.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے دودھ کا عطیہ دیا ۱؎، یا چاندی قرض دی، یا کسی کو راستہ بتایا، اسے غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابواسحاق کی روایت سے جسے وہ طلحہ بن مصرف سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- منصور بن معتمر اور شعبہ نے بھی اس حدیث کی روایت طلحہ بن مصرف سے کیا ہے، ۳- اس باب میں نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے، ۴- «من منح منيحة ورق» کا مطلب ہے بطور قرض دینا «هدى زقاقا» کا مطلب ہے راستہ دکھانا۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said : When a man was walking on the road, he found a thorny branch and removed it. Allah appreciated his action by forgiving him.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی راستے پر چل رہا تھا کہ اسے ایک کانٹے دار ڈالی ملی، اس نے اسے راستے سے ہٹا دیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس کام سے خوش ہو کر اس کو بدلہ دیا یعنی اس کی مغفرت فرما دی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبرزہ، ابن عباس اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jabir bin Abdullah narrated that the Messenger of Allah said : When a man narrates a narration, then he looks around, then it is a trust.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی تم سے کوئی بات بیان کرے پھر ( اسے راز میں رکھنے کے لیے ) دائیں بائیں مڑ کر دیکھے تو وہ بات تمہارے پاس امانت ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ہم اسے صرف ابن ابی ذئب کی روایت سے جانتے ہیں۔
Asma bint Abi Bakr said: O the Messenger of Allah! I have nothing except what was given to me by (my husband) Az-Zubair, shall I give it (in charity)?' It was said: Do not hold (your wealth) so that Allah will hold against you.
اسماء بنت ابوبکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے گھر میں صرف زبیر کی کمائی ہے، کیا میں اس میں سے صدقہ و خیرات کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، صدقہ کرو اور گرہ مت لگاؤ ورنہ تمہارے اوپر گرہ لگا دی جائے گی“ ۱؎۔ «لا توكي فيوكى عليك» کا مطلب یہ ہے کہ شمار کر کے صدقہ نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی شمار کرے گا اور برکت ختم کر دے گا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض راویوں نے اس حدیث کو «عن ابن أبي مليكة عن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنهما» کی سند سے روایت کی ہے ۳؎، کئی لوگوں نے اس حدیث کی روایت ایوب سے کی ہے اور اس میں عباد بن عبیداللہ بن زبیر کا ذکر نہیں کیا، ۳- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet said: Generosity is close to Allah, close to Paradise, close to the people and far from the Fire. Stinginess is far from Allah, far from Paradise, far from the people and close to the Fire. The ignorant generous person, is more beloved to Allah than the worshiping stingy person.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سخی آدمی اللہ سے قریب ہے، جنت سے قریب ہے، لوگوں سے قریب ہے اور جہنم سے دور ہے، بخیل آدمی اللہ سے دور ہے، جنت سے دور ہے، لوگوں سے دور ہے، اور جہنم سے قریب ہے، جاہل سخی اللہ کے نزدیک بخیل عابد سے کہیں زیادہ محبوب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے «يحيى بن سعيد عن الأعرج عن أبي هريرة» کی سند سے صرف سعد بن محمد کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن سعید سے اس حدیث کی روایت کرنے میں سعید بن محمد کی مخالفت کی گئی ہے، ( سعید بن محمد نے تو اس سند سے روایت کی ہے جو اوپر مذکور ہے ) جب کہ یہ «عن يحيى بن سعيد عن عائشة» کی سند سے بھی مرسلاً مروی ہے۔
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that the Messenger of Allah said: Two traits are not combined in a believer: Stinginess and bad manners.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے اندر دو خصلتیں بخل اور بداخلاقی جمع نہیں ہو سکتیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف صدقہ بن موسیٰ کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Abu Bakr As-Siddiq narrated that the Messenger of Allah said: The swindler, the stingy person, and the Mannan shall not enter Paradise.
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دھوکہ باز، احسان جتانے والا اور بخیل جنت میں نہیں داخل ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said: The believer is naively noble and the stingy person is deceitfully treacherous.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے، اور فاجر دھوکہ باز اور کمینہ خصلت ہوتا ہے“ ۱؎۔
Abu Mas'ud Al-Ansari narrated that the Messenger of Allah said: A man's spending on his family is charity.
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا اپنے بال بچوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، عمرو بن امیہ ضمری اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Thawban narrated that the Messenger of Allah said: The most virtuous of the Dinar is the Dinar spent by a man on his dependants, and the Dinar spent by a man on his beast in the Cause of Allah, and the Dinar spent by a man on his companions in the Cause of Allah. Abu Qilabah (one of the narrators) said: He began with the dependants. Then he said: And which man is greater in reward than a man who spends upon his depandants, having little ones by which Allah causes him to abstain (from the unlawful) and by which Allah enriches him.
ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر دینار وہ دینار ہے، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے آدمی اپنے جہاد کی سواری پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے آدمی اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے“، ابوقلابہ کہتے ہیں: آپ نے بال بچوں کے نفقہ ( اخراجات ) سے شروعات کی پھر فرمایا: ”اس آدمی سے بڑا اجر و ثواب والا کون ہے جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے، جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انہیں حرام چیزوں سے بچاتا ہے اور انہیں مالدار بناتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Shuraih Al-'Adawf said: My eyes saw the Messenger of Allah, and my ears heard him speaking when he was speaking and he said: 'Whoever believes in Allah and the Last Day, then let him honor his guest with his reward.' They said: 'What is the reward?' He said: ' A day and a night.' He said: 'And hospitality is for three days, whatever is beyond that is charity. And whoever believes in Allah and the Last Day, then let him say what is good or keep silent.
ابوشریح عدوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث بیان فرما رہے تھے تو میری آنکھوں نے آپ کو دیکھا اور کانوں نے آپ سے سنا، آپ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرتے ہوئے اس کا حق ادا کرے“، صحابہ نے عرض کیا، مہمان کی عزت و تکریم اور آؤ بھگت کیا ہے؟ ۱؎ آپ نے فرمایا: ”ایک دن اور ایک رات، اور مہمان نوازی تین دن تک ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ صدقہ ہے، جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Shuraih Al-Kabi narrated that the Messenger of Allah said: : Hospitality is for three days, and his reward is a day and a night, and whatever is spent on him after that is charity. And it is not lawful for him (the guest) to stay so long as to cause him harm.
ابوشریح کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ضیافت ( مہمان نوازی ) تین دین تک ہے، اور مہمان کا عطیہ ( یعنی اس کے لیے پرتکلف کھانے کا انتظام کرنا ) ایک دن اور ایک رات تک ہے، اس کے بعد جو کچھ اس پر خرچ کیا جائے گا وہ صدقہ ہے، مہمان کے لیے جائز نہیں کہ میزبان کے پاس ( تین دن کے بعد بھی ) ٹھہرا رہے جس سے اپنے میزبان کو پریشانی و مشقت میں ڈال دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مالک بن انس اور لیث بن سعد نے اس حدیث کی روایت سعید مقبری سے کی ہے، ۳- ابوشریح خزاعی کی نسبت الکعبی اور العدوی ہے، اور ان کا نام خویلد بن عمرو ہے، ۴- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- «لا يثوي عنده» کا مطلب یہ ہے کہ مہمان گھر والے کے پاس ٹھہرا نہ رہے تاکہ اس پر گراں گزرے، ۶- «الحرج» کا معنی «الضيق» ( تنگی ہے ) اور «حتى يحرجه» کا مطلب ہے «يضيق عليه» یہاں تک کہ وہ اسے پریشانی و مشقت میں ڈال دے۔
Safwan bin Sulaim narrated that the Prophet said: The one who looks after a widow and a poor person is like the Mujahid in the cause of Allah, or like the one who fasts all the day and stands (in prayer) all the night.
صفوان بن سلیم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ
آپ نے فرمایا: ”بیوہ اور مسکین پر خرچ کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یا اس آدمی کی طرح ہے جو دن میں روزہ رکھتا ہے اور رات میں عبادت کرتا ہے۔
Jabir bin Abdullah narrated that the Messenger of Allah said: Every good is charity. Indeed among the good is to meet your brother with a smiling face, and to pour what is left in your bucket into the vessel of your brother.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بھلائی صدقہ ہے، اور بھلائی یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خوش مزاجی کے ساتھ ملو اور اپنے ڈول سے اس کے ڈول میں پانی ڈال دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوذر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Abdullah bin Mas'ud narrated that the Messenger of Allah said: Abide by truthfulness. For indeed truthfulness leads to righteousness. And indeed righteousness leads to Paradise. A man continues telling the truth and trying hard to tell the truth until he is recorded with Allah as a truthful person. Refrain from falsehood. For indeed falsehood leads to wickedness, and wickedness leads to the Fire. A slave (of Allah) continues lying and trying hard to lie, until he is recorded with Allah as a liar.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچ بولو، اس لیے کہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے، آدمی ہمیشہ سچ بولتا ہے اور سچ کی تلاش میں رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے بچو، اس لیے کہ جھوٹ گناہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور گناہ جہنم میں لے جاتا ہے، آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کی تلاش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق، عمر، عبداللہ بن شخیر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ibn 'Umar narrated that the Messenger of Allah said: When the slave (of Allah) lies, the angel goes a mile away from him because of the stench of what he has done. Yahya said: (I asked) 'Abdur-Rahim bin Harun if he approved of it,and he said 'Yes'.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ اس سے ایک میل دور بھاگتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن جید غریب ہے ۲- یحییٰ بن موسیٰ کہتے ہیں: میں نے عبدالرحیم بن ہارون سے پوچھا: کیا آپ سے عبدالعزیز بن ابی داود نے یہ حدیث بیان کی؟ کہا: ہاں، ۳- ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اس کی روایت کرنے میں عبدالرحیم بن ہارون منفرد ہیں۔
Aishah narrated: There was no behavior more hated to the Messenger of Allah than lying. A man would lie in narrating something in the presence of the Prophet, and he would not be content until he knew that he had repented.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک جھوٹ سے بڑھ کر کوئی اور عادت نفرت کے قابل ناپسندیدہ نہیں تھی، اور جب کوئی آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھوٹ بولتا تو وہ ہمیشہ آپ کی نظر میں قابل نفرت رہتا یہاں تک کہ آپ جان لیتے کہ اس نے جھوٹ سے توبہ کر لی ہے، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Anas narrated that the Messenger of Allah said: Al-Fuhsh is not present in anything but it mars it, and Al-Haya' is not present in anything but it beautifies it.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز میں بھی بےحیائی آتی ہے اسے عیب دار کر دیتی ہے اور جس چیز میں حیاء آتی ہے اسے زینت بخشتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
Abdullah bin 'Amr said; The Messenger of Allah said: The best of you are those best in conduct.' And the Prophet was not one who was obscene, nor one who uttered obscenities.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں بہتر ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بےحیاء اور بدزبان نہیں تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Samurah bin Jundab narrated that the Messenger of Allah said: Do not curse yourselves with Allah's curse, nor with His anger, nor with the Fire.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ( کسی پر ) اللہ کی لعنت نہ بھیجو، نہ اس کے غضب کی لعنت بھیجو اور نہ جہنم کی لعنت بھیجو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، ابوہریرہ، ابن عمر اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔