Chapter on Righteousness And Maintaining Good Relations With Relatives
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 28
Muhammad bin Sirin narrated from Abu Hurairah - and I think he (narrated it from the Prophet) who said: Love your beloved moderately, perhaps he becomes hated to you someday. And hate whom you hate moderately, perhaps he becomes your beloved someday.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے دوست سے اعتدال اور توسط کے ساتھ دوستی رکھو شاید وہ کسی دن تمہارا دشمن ہو جائے اور اپنے دشمن سے اعتدال اور توسط کے ساتھ دشمنی کرو شاید وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث ایوب کے واسطہ سے دوسری سند سے بھی آئی ہے، حسن بن ابی جعفر نے اپنی سند سے اس کی روایت کی ہے، جو علی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہے، یہ روایت بھی ضعیف ہے، اس روایت کے سلسلے میں صحیح بات یہ ہے کہ یہ علی سے موقوفا مروی ہے اور یہ ان کا اپنا قول ہے۔
Abdullah narrated that the Messenger of Allah said: Whoever has a mustard seed's weight of pride (arrogance) in his heart, shall not be admitted into Paradise. And whoever has a mustard seed's weight of faith in his heart, shall not be admitted into the Fire.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ( گھمنڈ ) ہو گا ۱؎ اور جہنم میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس، سلمہ بن الاکوع اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abdullah narrated: The Messenger of Allah said: 'Whoever has a speck of pride (arrogance) in his heart, shall not be admitted into Paradise. And whoever has a speck of faith in his heart, shall not be admitted in to the Fire.' He said: So a man said to him: 'I like for my clothes to be nice, and my sandals to be nice?' So he said: 'Indeed Allah loves beauty. But pride is refusing the truth and belittling the people.'
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر ( گھمنڈ ) ہو، اور جہنم میں داخل نہیں ہو گا یعنی وہ شخص جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو“ ۱؎۔ ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا: میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ جمال ( خوبصورتی ) کو پسند کرتا ہے، لیکن تکبر اس شخص کے اندر ہے جو حق کونہ مانے اور لوگوں کو حقیر اور کم تر سمجھے“۔ بعض اہل علم اس حدیث: «ولا يدخل النار يعني من كان في قلبه مثقال ذرة من إيمان» کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا وہ جہنم سے بالآخر ضرور نکلے گا“، کئی تابعین نے اس آیت «ربنا إنك من تدخل النار فقد أخزيته» ( سورۃ آل عمران: ۱۹۲ ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا ہے: اے میرے رب! تو نے جس کو جہنم میں ہمیشہ کے لیے ڈال دیا اس کو ذلیل و رسوا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Iylas bin Salamah bin Al-Akwa' narrated from his father that the Messenger of Allah said: A man shall remain exalting himself until he is written among the tyrants, so that he suffers from their afflictions.
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان ہمیشہ اپنے آپ کو تکبر ( گھمنڈ ) کی طرف لے جاتا ہے، یہاں تک کہ ظالموں کی فہرست میں اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے، اور اس لیے اسے وہی عذاب لاحق ہوتا ہے جو ظالموں کو لاحق ہوا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Jubair bin Mut'im narrated from his father who said: They (meaning the people in general) told me that I was proud, while I rode a donkey, wore a cloak, and I milked the sheep. And the Messenger of Allah said to me: Whoever does these, then there is no pride (arrogance) in him.'
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
لوگ کہتے ہیں کہ میرے اندر تکبر ہے، حالانکہ میں نے گدھے کی سواری کی ہے، موٹی چادر پہنی ہے اور بکری کا دودھ دوہا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے یہ کام کیے اس کے اندر بالکل تکبر نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Abu Ad-Dardh narrated that the Messenger of Allah said: Nothing is heavier on the believer's Scale on the Day of Judgment than good character. For indeed Allah, Most High, is angered by the shameless obscene person.
ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مومن کے میزان میں اخلاق حسنہ سے بھاری کوئی چیز نہیں ہو گی اور اللہ تعالیٰ بےحیاء، بدزبان سے نفرت کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، انس اور اسامہ بن شریک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abu Ad-Dardh narrated that the Messenger of Allah said: Nothing is placed on the Scale that is heavier than good character. Indeed the person with good character will have attained the rank of the person of fasting and prayer.
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میزان میں رکھی جانے والی چیزوں میں سے اخلاق حسنہ ( اچھے اخلاق ) سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہے، اور اخلاق حسنہ کا حامل اس کی بدولت روزہ دار اور نمازی کے درجہ تک پہنچ جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah was asked about that for which people are admitted into Paradise the most, so he said: Taqwa of Allah, and good character. And he was asked about that for which people are admitted into the Fire the most, and he said: The mouth and the private parts.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جنت میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق پھر آپ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جہنم میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: ”منہ اور شرمگاہ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
Abu Wahb narrated that : 'Abdullah bin Al-Mubarak explained good character, and then he said: It is a smiling face, doing one's best in good, and refraining from harm.
عبداللہ بن مبارک سے روایت ہے کہ
انہوں نے اخلاق حسنہ کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا: اخلاق حسنہ لوگوں سے مسکرا کر ملنا ہے، بھلائی کرنا ہے اور دوسروں کو تکلیف نہ دینا ہے۔
Abu Al-Ahwas narrated from his father who said: I said: 'O Messenger of Allah! I stayed with a man who did not entertain me nor behave hospitably with me. Then he came to stay with me, shall I reciprocate the same to him?' He (ﷺ said: 'No, entertain him. He said: 'He (ﷺ saw me wearing tattered clothes and said:'(Do you have any wealth?' I said: 'Allah has given me various kinds of wealth through camels and goats.' He said: 'Then let it be seen on you.'
مالک بن نضلہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک ایسا آدمی ہے جس کے پاس سے میں گزرتا ہوں تو میری ضیافت نہیں کرتا اور وہ بھی کبھی کبھی میرے پاس سے گزرتا ہے، کیا میں اس سے بدلہ لوں؟ ۱؎ آپ نے فرمایا: ”نہیں، ( بلکہ ) اس کی ضیافت کرو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بدن پر پرانے کپڑے دیکھے تو پوچھا، تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال اونٹ اور بکری عطاء کی ہے، آپ نے فرمایا: ”تمہارے اوپر اس مال کا اثر نظر آنا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- «اقْرِهِ» کا معنی ہے تم اس کی ضیافت کرو «قری» ضیافت کو کہتے ہیں، ۳- اس باب میں عائشہ، جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک نضلہ جشمی ہے۔
Hudhaifah narrated that the Messenger of Allah said: Do not let yourselves be 'yes-men', saying: 'If the people are good then we will be good, and if they are wrong then we will be wrong.'Rather, make up your own minds, if the people are good then you are good, and if they are evil, then do not behave unjustly.
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ہر ایک کے پیچھے دوڑنے والے نہ بنو یعنی اگر لوگ ہمارے ساتھ بھلائی کریں گے تو ہم بھی بھلائی کریں گے اور اگر ہمارے اوپر ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے، بلکہ اپنے آپ کو اس بات پر آمادہ کرو کہ اگر لوگ تمہارے ساتھ احسان کریں تو تم بھی احسان کرو، اور اگر بدسلوکی کریں تو تم ظلم نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said: Whoever visits the sick, or visits his brother in Allah (faith), a caller calls out: 'May you have goodness and livelihood be good, and may you dwell in an adobe in Paradise.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کی تو اس کو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے: تمہاری دنیاوی و اخروی زندگی مبارک ہو، تمہارا چلنا مبارک ہو، تم نے جنت میں ایک گھر حاصل کر لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- حماد بن سلمہ نے «عن ثابت عن أبي رافع عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اس حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said: Al-Haya is from faith, and faith is in Paradise. Obscenity is from rudeness, and rudeness is in the Fire.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء ایمان کا ایک جزء ہے اور ایمان والے جنت میں جائیں گے اور بےحیائی کا تعلق ظلم سے ہے اور ظالم جہنم میں جائیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابوبکرہ، ابوامامہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abdullah bin Sarjis Al-Muzam narrated that the Messenger of Allah said: Taking the good route is a part of the twenty-four parts of Prophethood.
عبداللہ بن سرجس مزنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی خصلت، غور و خوص کرنا اور میانہ روی نبوت کے چوبیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Ibn 'Abbas narrated that the Messenger of Allah said to the Ashajj 'Abdul-Qais: Indeed there are two traits in you that Allah loves: Forbearance, and deliberateness.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منذر بن عائذ اشج عبدالقیس سے فرمایا: ”تمہارے اندر دو خصلتیں ( خوبیاں ) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: بردباری اور غور و فکر کی عادت ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں اشج عصری سے بھی روایت ہے۔
Abdullah-Muhaimin bin 'Abbas bin Sahl bin Sa'd As-Saidi narrated from his father, from his grandfather, who said that the Messenger of Allah said: Deliberateness is from Allah, and haste is from the Ash-shaitan.
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوچ سمجھ کر کام کرنا اور جلد بازی نہ کرنا اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض محدثین نے عبدالمہیمن بن عباس بن سہل کے بارے میں کلام کیا ہے، اور حافظے کے تعلق سے انہیں ضعیف کہا ہے، ۳- اشج بن عبدالقیس کا نام منذر بن عائذ ہے۔
Abu Ad-Darda narrated that the Messenger of Allah said: Whoever was given his share of gentleness, then he has been given a share of good. And whoever has been prevented from his share of gentleness, then he has been prevented from his share of good.
ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو نرم برتاؤ کا حصہ مل گیا، اسے اس کی بھلائی کا حصہ بھی مل گیا اور جو شخص نرم برتاؤ کے حصہ سے محروم رہا وہ بھلائی سے بھی محروم رہا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، جریر بن عبداللہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ibn 'Abbas narrated: The Messenger of Allah sent Mu'adh [bin Jabal] to Yemen, and said: 'Beware of the supplication of the oppressed; for indeed there is no barrier between it and Allah.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل کو ( حاکم بنا کر ) یمن روانہ کرتے وقت فرمایا: ”مظلوم کی دعا سے ڈرو، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ آڑے نہیں آتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Anas narrated: that I served the Prophet for ten years. He never said Uff and never blamed me by saying: 'Why did you do so' or why did you not do so?' And the Messenger Of Allah had the best character among all of the people. I never touched Khazz nor silk, nor anything softer than the hand of the Messenger of Allah, nor have I smelled musk, or a fragrance sweeter than the sweat of the Messenger of Allah
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے دس سال تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، آپ نے کبھی مجھے اف تک نہ کہا، اور نہ ہی میرے کسی ایسے کام پر جو میں نے کیا ہو یہ کہا ہو: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اور نہ ہی کسی ایسے کام پر جسے میں نے نہ کیا ہو تم نے ایسا کیوں نہیں کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق کے آدمی تھے، میں نے کبھی کوئی ریشم، حریر یا کوئی چیز آپ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم اور ملائم نہیں دیکھی اور نہ کبھی میں نے کوئی مشک یا عطر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے سے زیادہ خوشبودار دیکھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ اور براء رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abu Abdullah Al-Jadali narrated: I asked 'Aishah about the character of the Messenger of Allah. She said: 'He was not obscene, nor uttering obscenities, nor screaming in the markets, he would not return an evil with an evil, but rather he was pardoning and forgiving.
ابوعبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو، بدکلامی کرنے والے اور بازار میں چیخنے والے نہیں تھے، آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ عفو و درگزر فرما دیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوعبداللہ جدلی کا نام عبد بن عبد ہے، اور عبدالرحمٰن بن عبد بھی بیان کیا گیا ہے۔