Chapter on Medicine
كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
Chapter 29
Qatadah bin An-Nu'man narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: When Allah loves a slave, He prevents him from the world, just as one of you prevents his sick from water.
قتادہ بن نعمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی آدمی اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث محمود بن لبید کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے آئی ہے، ۳- اس باب میں صہیب اور ام منذر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Umm Al-Mundhir said: The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me, while `Ali was with him, and we had a cluster of unripe dates hanging. She said: The Messenger of Allah (ﷺ) began eating, and `Ali ate with him. The Messenger of Allah (ﷺ) said to `Ali: 'Stop, stop, for you are still recovering.' So `Ali sat and the Prophet (ﷺ) ate. She said: I made some chard and barley for them, so the Prophet (ﷺ) said: 'O `Ali eat from this, for indeed it will be more suitable for you.
ام منذر رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی رضی الله عنہ کے ساتھ میرے گھر تشریف لائے، ہمارے گھر کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھانے لگے اور آپ کے ساتھ علی رضی الله عنہ بھی کھانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: علی! ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ ابھی ابھی بیماری سے اٹھے ہو، ابھی کمزوری باقی ہے، ام منذر کہتی ہیں: علی رضی الله عنہ بیٹھ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے رہے، پھر میں نے ان کے لیے چقندر اور جو تیار کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: علی! اس میں سے لو ( کھاؤ ) ، یہ تمہارے مزاج کے موافق ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف فلیح کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث فلیح سے بھی مروی ہے جسے وہ ایوب بن عبدالرحمٰن سے روایت کرتے ہیں۔
Usamah bin Sharik said: Some Bedouins asked: 'O Messenger of Allah (s.a.w) shall we treat (our ill)?' He said: 'Yes, O worshipers of Allah! Use remedies. For indeed Allah did not make a disease but He made a cure for it' - or - 'a remedy. Except for one disease.' They said: 'O Messenger of Allah (s.a.w)! What is it?' He said: 'Old age.'
اسامہ بن شریک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
اعرابیوں ( بدوؤں ) نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہم ( بیماریوں کا ) علاج کریں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اللہ کے بندو! علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے اس کی دوا بھی ضرور پیدا کی ہے، سوائے ایک بیماری کے“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ نے فرمایا: ”بڑھاپا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، «ابو خزامہ عن أبیہ»، اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Aishah narrated: Whenever one of the wives of the Messenger of Allah (s.a.w) became (feverishly) ill, he would order that some broth be prepared. Then he would tell them to take some of the broth. And he would say: 'It firms the heart of the grieved, and it rids the worries from the heart of the ill just as one of you removes dirt from her face with water.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو تپ دق آتا تو آپ «حساء» ۱؎ تیار کرنے کا حکم دیتے، «حساء» تیار کیا جاتا، پھر آپ ان کو تھوڑا تھوڑا پینے کا حکم دیتے، تو وہ اس میں سے پیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ” «حساء» غمگین کے دل کو تقویت دیتا ہے، اور مریض کے دل سے اسی طرح تکلیف دور کرتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی پانی کے ذریعہ اپنے چہرے سے میل دور کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Uqbah bin Amir Al-Juhani narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Do not force your sick to eat, for indeed Allah, Blessed and Most High, provides them food and drink. (Dai'f)
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بیماروں کو کھانے پر مجبور نہ کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا پلاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Use this black seed. For indeed it contains a cure for every disease except As-Sam And As-Sam is death.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس کالے دانہ ( کلونجی ) کو لازمی استعمال کرو اس لیے کہ اس میں «سام» کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء موجود ہے، «سام» موت کو کہتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں بریدہ، ابن عمر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- «الحبة السوداء»، «شونيز» ( کلونجی ) کو کہتے ہیں۔
Anas narrated Some people from Urainah arrived in Al-Madinah, and they were uncomfortable (with the climate). So the Messenger of Allah (s.a.w) sent them some camels from charity. He told them: Drink from their milk and Urine .
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کے اونٹوں کے ساتھ ( چراگاہ کی طرف ) روانہ کیا اور فرمایا: ”تم لوگ اونٹنیوں کے دودھ اور پیشاب پیو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
Abu Hurairah narrated (from the Messenger of Allah (s.a.w)): Whoever kills himself with (an instrument of)iron, he will come on the Day Of Judgment with his iron in his hand, to continually stab himself in his stomach with it, in the fire of Jahannam, dwelling in that state eternally. And whoever kills himself with poison, then his poison will be in his hand, to continually take it in the Fire of Jahannam, dwelling in that state eternally.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوہے کے ہتھیار سے اپنی جان لی، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہو گا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپکتا رہے گا، اور جس نے زہر کھا کر خودکشی کی، تو اس کے ہاتھ میں وہ زہر ہو گا، اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا“ ۱؎۔
Abu Hurairah narrated (that the the Messenger of Allah (s.a.w)) said: Whoever kills himself with (an instrument of)iron, his iron will be in his hand, to continually stab himself in his stomach with it, in the fire of Jahannam, dwelling in that state eternally. And whoever kills himself with poison, then his poison will be in his hand, to continually take it in the Fire of Jahannam, dwelling in that state eternally. And whoever throws himself from a mountain to kill himself, then he will be continually throwing himself in the Fire of Jahannam, dwelling in that state eternally
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوہے سے اپنی جان لی، اس کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہو گا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپکتا رہے گا، اور جس نے زہر کھا کر خودکشی کی، تو اس کے ہاتھ میں زہر ہو گا اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا، اور جس نے پہاڑ سے گر کر خودکشی کی، وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ گرتا رہے گا“۔
Abu Hurairah narrated: The Messenger of Allah (s.a.w) forbade from cures that are Khabith. [Abu 'Elsa said:] Meaning poison
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیث دوا استعمال کرنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: خبیث دوا سے وہ دوا مراد ہے جس میں زہر ہو ۱؎۔
Simak narrated that he heard 'Alqamah bin Wa'il narrate from his father, that he witnessed the Prophet (s.a.w) being asked by Suwaid bin Tariq -or Tariq bin Suwaid- about Khamr, and he forbade it. So he said: We use it as a treatment. So the Messenger of Allah (S.A.W) said: It is certainly not a treatment, rather, it is a disease.
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے جب سوید بن طارق یا طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں شراب سے منع فرمایا، سوید نے کہا: ہم لوگ تو اس سے علاج کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دوا نہیں بلکہ وہ تو خود بیماری ہے“۔
Ibn 'Abbas narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Indeed the best of what you treat is As-Sa'ut, Al-Ladud, cupping and laxatives.' So when the Messenger of Allah (S.A.W) was suffering his companions treated him with Al-Ladud, and when they were finished he said: 'Treat them with Al-Ladud.' So all of them except Al-Abbas were treated with Al-Ladud. (Daif)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز سے علاج کرتے ہو اس میں سب سے بہتر «سعوط» ( ناک میں ڈالنے والی دوا ) ، «لدود» ( منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا ) ، «حجامة» ( پچھنا لگانا حجامہ ) اور دست آور دوا ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو صحابہ نے آپ کے منہ کے ایک کنارہ میں دوا ڈالی، جب وہ دوا ڈال چکے تو آپ نے فرمایا: ”موجود لوگوں کے بھی منہ میں دوا ڈالو“، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: عباس رضی الله عنہ کے علاوہ تمام لوگوں کے منہ میں دوا ڈالی گئی۔
Ibn 'Abbas narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Indeed the best of what you treat is As-Sa'ut, Al-Ladud, cupping and laxatives.' And the best of what you use for Kuhl is Ithmid, for it clears the vision and grows the hair (eye-lashes). And he said: The Messenger of Allah (s.a.w) had a Kuhl holder with which he would apply Kuhl before sleeping three in each eye.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز سے تم علاج کرتے ہو ان میں سب سے بہتر منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا، ناک میں ڈالنے کی دوا، پچھنا اور دست آور دوا ہے اور تمہارا اپنی آنکھوں میں لگانے کا سب سے بہتر سرمہ اثمد ہے، اس لیے کہ وہ بینائی ( نظر ) کو بڑھاتا ہے اور بال اگاتا ہے“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے سوتے وقت ہر آنکھ میں تین سلائی لگاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عباد بن منصور کی یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Imran bin Husain narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) prohibited cauterization. He said: We were tested (with severe medical condition) so we were cauterized, but we did not have good results, nor was it successful for us.
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدن داغنے سے منع فرمایا ۱؎، پھر بھی ہم بیماری میں مبتلا ہوئے تو ہم نے بدن داغ لیا، لیکن ہم کامیاب و کامران نہیں ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Anas narrated: The Prophet (S.A.W) cauterized As'ad bin Zurarah for Shawkah
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسعد بن زرارہ کے بدن کو سرخ پھنسی کی بیماری میں داغا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Anas narrated: The Prophet (S.A.W) would get cupped in his jugular veins and his upper back. And he would get cupped on the seventeenth (of the month), (or) the nineteenth, and (or) the twenty first.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دونوں جانب موجود دو پوشیدہ رگوں اور کندھے پر پچھنا لگواتے تھے، اور آپ مہینہ کی سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگواتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور معقل بن یسار رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ibn Mas'ud said: The Messenger of Allah (S.A.W) narrated about the Night of Isra', saying that he did not pass an assembly of angels except that they ordered him: 'Order cupping among your Ummah.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات کا حال بیان کیا کہ آپ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے آپ کو یہ حکم ضرور دیا کہ اپنی امت کو پچھنا لگوانے کا حکم دیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابن مسعود کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Abbad bin Mansur narrated from 'Ikrimah who said: Ibn 'Abbas had three boys who were cuppers. He would use the proceeds from two of them for himself and his family, and one of them would cup him and his family. He said: Ibn 'Abbas said: 'The Prophet (S.A.W) said: 'How excellent is the slave who cups, letting the blood, relieving the back, and clearing the vision. And he said: Indeed the best for you to cup on are the seventeenth, the nineteenth, and the twenty-first. And he said: Indeed the best of what you treat is As-Sa'ut, Al-Ladud, cupping and laxatives. And indeed, The Messenger of Allah (S.A.W) was given medicine by Al-Abbas and his companions. So the The Messenger of Allah (S.A.W) said: Who gave me this medicine? All of them were silent, so he said that there shall not remain anyone in the house but he should be treated with Ladud except for his uncle Al-Abbas.' An-Nadr said: Al-Ladud is Al-Wajur.
عکرمہ کہتے ہیں کہ
ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس پچھنا لگانے والے تین غلام تھے، ان میں سے دو ابن عباس اور ان کے اہل و عیال کے لیے غلہ حاصل کرتے تھے اور ایک غلام ان کو اور ان کے اہل و عیال کو پچھنا لگاتا تھا، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والا غلام کیا ہی اچھا ہے، وہ ( فاسد ) خون کو دور کرتا ہے، پیٹھ کو ہلکا کرتا ہے، اور آنکھ کو صاف کرتا ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے یہ ضرور کہا کہ تم پچھنا ضرور لگواؤ، آپ نے فرمایا: ”تمہارے پچھنا لگوانے کا سب سے بہتر دن مہینہ کی سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”سب سے بہتر علاج جسے تم اپناؤ وہ ناک میں ڈالنے کی دوا، منہ کے ایک طرف سے ڈالی جانے والی دوا، پچھنا اور دست آور دوا ہے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں عباس اور صحابہ کرام نے دوا ڈالی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میرے منہ میں کس نے دوا ڈالی ہے؟“ تمام لوگ خاموش رہے تو آپ نے فرمایا: ”گھر میں جو بھی ہو اس کے منہ میں دوا ڈالی جائے، سوائے آپ کے چچا عباس کے“۔ راوی عبد کہتے ہیں: نضر نے کہا: «لدود» سے مراد «وجور» ہے ( حلق میں ڈالنے کی ایک دوا ) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عباد منصور ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
Ali bin 'Ubaidullah narrated that his grandmother [Salma] - who used to serve the The Prophet (S.A.W) said: There was no wound nor cut on the Messenger of Allah (S.A.W) but he would order me to put Hinna on it.
سلمی رضی الله عنہا سے (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتی تھیں) کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلوار اور چاقو یا پتھر اور کانٹے سے جو زخم بھی لگتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس پر مہندی رکھنے کا ضرور حکم دیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے فائد ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کی فائد سے روایت کرتے ہوئے سند میں «عن علي بن عبيد الله، عن جدته سلمى» کی بجائے «عن عبيد الله ابن علي عن جدته سلمى» بیان کیا ہے، «عبيد الله بن علي» ہی زیادہ صحیح ہے، «سلمیٰ» کو «سُلمیٰ» بھی کہا گیا ہے۔
Aqar bin Al-Mughirah hin Shubah narrated from is father who said that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Whoever seeks treatment by cauterization,or with Ruqyah, then he has absolved himself of At-Tawakkal (reliance upon Allah).
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بدن داغا یا جھاڑ پھونک کرائی وہ توکل کرنے والوں میں سے نہ رہا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابن عباس اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔