It was narrated that Sha'bi said:
Fatimah bint Qais رضی اللہ عنہا said: “My husband divorced me at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) three times. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'You have no right to accommodation or to maintenance.'”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، مغیرہ کی سند سے,شعبی کہتے ہیں کہ
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میرے شوہر نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تین طلاقیں دے دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے نہ سکنی ( رہائش ) ہے، نہ نفقہ ( اخراجات ) ۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا that:
'Amrah bint Jawn sought refuge.with Allah from the Messenger of Allah (ﷺ) when she was brought to him (as a bride) He said: You have sought refuge with Him in Whom refuge is sought. So he divorced her and told Usamah رضی اللہ عنہ or Anas to give her, a gift of three garments of white flax.
ہم سے احمد بن مقدام ابو اشعث العجلی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید بن قاسم نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
جب عمرہ بنت جون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اللہ کی ) پناہ مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے ایسی ہستی کی پناہ مانگی جس کی پناہ مانگی جاتی ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلاق دے دی، اور اسامہ رضی اللہ عنہ یا انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اسے سفید کتان کے تین کپڑے دیئے۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that:
The Prophet (ﷺ) said: If a woman claims that her husband has divorced her, and she brings a witness of good character (to testify) to that, her husband should be asked to swear an oath. If he swears, that will invalidate the testimony of the witness, but if he refuses then that will be equivalent to a second witness, and the divorce will take effect.
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن ابی سلمہ ابو حفص الطانیسی نے بیان کیا، وہ زہیر کی سند سے، ابن جریج نے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت دعویٰ کرے کہ اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی ہے، اور طلاق پہ ایک معتبر شخص کو گواہ لائے ( اور اس کا مرد انکار کرے ) تو اس کے شوہر سے قسم لی جائے گی، اگر وہ قسم کھا لے تو گواہ کی گواہی باطل ہو جائے گی، اور اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو اس کا انکار دوسرے گواہ کے درجہ میں ہو گا، اور طلاق جائز ہو جائے گی ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: There are three matters in which seriousness is serious and joking is serious: marriage, divorce and taking back (one's wife).
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن حبیب بن اردک نے بیان کیا، ہم سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا، یوسف بن مہک کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین کام ہیں جو سنجیدگی سے کرنا بھی حقیقت ہے، اور مذاق کے طور پر کرنا بھی حقیقت ہے، ایک نکاح، دوسرے طلاق، تیسرے ( طلاق سے ) رجعت ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah has forgiven my nation for what they think of to themselves, so long as they do not act upon it or speak of it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے علی بن مسہر اور عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا۔ اور ہم سے حمید بن مسعدہ نے بیان کیا، ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ان سب سے سعید بن ابی عروبہ نے، قتادہ کی سند سے، زرارہ بن اوفی کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے معاف کر دیا ہے جو وہ دل میں سوچتے ہیں جب تک کہ اس پہ عمل نہ کریں، یا اسے زبان سے نہ کہیں ۔
It was narrated from Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah said. The Pen has been lifted from three : from the sleeping person until he awakens, from the minor until he grows up, and from the insane person until he comes to his senses. In his narration, (one of the narrators Abu Bakr (Ibn Abu Shaibah) said: And from the afflicted person, unit he recovers (1)
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا۔ اور ہم سے محمد بن خالد بن خداش اور محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد بن سلمہ نے حماد کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، اسود کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے پاگل اور دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے ۔ ابوبکر کی روایت میں «وعن المجنون حتى يعقل» کے بجائے «وعن المبتلى حتى يبرأ» دیوانگی میں مبتلا شخص سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے ہے ۔
It was narrated from 'Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: The Pen is lifted from the minor, the insane person and the sleeper.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا ہم کو قاسم بن یزید نے خبر دی،علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے، دیوانے اور سوئے ہوئے شخص سے قلم اٹھا لیا جاتا ہے ۔
It was narrated from Abu Dharr Al-Ghifari رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah has forgiven for me my nation their mistakes and forgetfulness, and what they are forced to do.
ہم سے ابراہیم بن محمد بن یوسف الفریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب بن سوید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر ہذلی نے بیان کیا، وہ شہر بن حوشب کی سند سے, ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے بھول چوک، اور جس کام پہ تم مجبور کر دیئے جاؤ معاف کر دیا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said : Allah has forgiven my nation for the evil suggestions of their hearts, so long as they do not act upon it or speak of it, and for what they are forced to do.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے مسعر سے، انہوں نے قتادہ سے اور زرارہ بن اوفی سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے جو ان کے دلوں میں وسوسے آتے ہیں معاف کر دیا ہے جب تک کہ اس پہ عمل نہ کریں، یا نہ بولیں، اور اسی طرح ان کاموں سے بھی انہیں معاف کر دیا ہے جس پر وہ مجبور کر دیئے جائیں ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said : Allah has forgiven my nation for mistakes and forgetfulness, and what they are forced to do.
ہم سے محمد بن المصفی الحمصی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ہم سے اوزاعی نے عطاء کی سند سے بیان کیا,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ نے میری امت سے بھول چوک اور زبردستی کرائے گئے کام معاف کر دیئے ہیں ۔
It was narrated that Safiyyah bint Shaibah said:
Aishah رضی اللہ عنہا told me that the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There is no divorce and no manumission at the time of coercion.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، وہ محمد بن اسحاق نے، وہ ثور سے، وہ عبید بن ابی صالح سے، انہوں نے صفیہ بنت شیبہ سے، انہوں نے کہا
مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبردستی کی صورت میں نہ طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ عتاق ( غلامی سے آزادی ) ۔
It was narrated from Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that:
The Messenger of Allah said : There is no divorce regarding that which one does not possess.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امیر الاحول نے خبر دی۔ اور ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن حارث نے بیان کیا، ان سب نے عمرو بن شعیب کی سند سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا کی سند سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی جس عورت کا بطور نکاح مالک نہیں اس کی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔
It was narrated from Miswar bin Makharamah رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: There is no divorce before marriage, and no manumission before taking possession.
ہم سے احمد بن سعید الداریمی نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن حسین بن واقد نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن سعد نے، زہری کی سند سے، عروہ کی سند سے, مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح سے پہلے طلاق نہیں، اور ملکیت سے پہلے آزادی نہیں ۔
It was narrated from ' Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said : There is no divorce before marriage.
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں جویبیر نے، ضحاک سے اور نزال بن سبرہ سے, علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح سے پہلے طلاق نہیں ۔
Awza'i said:
I asked Zuhri: 'Which of the wives of the Prophet (ﷺ) sought refuge with Allah from him? He said : Urwah told me, (narrating) from 'Aishah رضی اللہ عنہا , that when the daughter of Jawn entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and he came close to her, she said: I seek refuge with Allah from you. the Messenger of Allah (ﷺ) said : You have sought refuge in the Almighty go to your family.
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا , اوزاعی کہتے ہیں
میں نے زہری سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیوی نے آپ سے اللہ کی پناہ مانگی تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ نے خبر دی کی عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جَون کی بیٹی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت میں آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب گئے تو بولی: میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ایک بڑی ہستی کی پناہ مانگی ہے تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Ali bin Yazid bin Rukanah رضی اللہ عنہ , from his father, from his grandfather, that:
He divorced his wife irrevocably, then he came to the Messenger of Allah (ﷺ) and asked him. He said: What did you mean by that? He said: One (divorce). He said: By Allah did you only mean one (divorce) thereby? He said: By Allah, I meant one. Then he sent her back to him. (Da'if)Muhammad bin Majah said: I heard Abul-Hasan ' Ali bin Muhammad Tanafisi saying: How noble is this Hadith. Ibn Majah said: 'Abu 'Ubaid left it (i.e., did not accept its narration) and Ahmad was fearful of it (i.e., of narrating it).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، جریر بن حازم نے، انہوں نے زبیر بن سعید کی سند سے، عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ رضی اللہ عنہ سے، اپنے والد کے واسطہ سے
انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ ( قطعی طلاق ) دے دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: تم نے اس سے کیا مراد لی ہے ؟ انہوں نے کہا: ایک ہی مراد لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: قسم اللہ کی کیا تم نے اس سے ایک ہی مراد لی ہے ؟ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں نے اس سے صرف ایک ہی مراد لی ہے، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی ۔ محمد بن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن حسن بن علی طنافسی کو کہتے سنا: یہ حدیث کتنی عمدہ ہے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: ابوعبیدہ نے یہ حدیث ایک گوشے میں ڈال دی ہے، اور احمد اسے روایت کرنے کی ہمت نہیں کر سکے ہیں۔
It was narrated that Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah gave us the choice, and we chose him, and he did not consider it as something (i.e., an effective divorce).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے الاعمش کی سند سے، مسلم کی سند سے، مسروق کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو اختیار دیا تو ہم نے آپ ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اس کو کچھ نہیں سمجھا ۔
It was narrated that Aishah رضی اللہ عنہا said:
When the following was revealed: 'But if you desire Allah and His Messenger, (ﷺ) the Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me and said: 'O Aishah I want to say something to you, and you do not have to hasten (in making a decision) until you have consulted your parents. ' She said: He knew, by Allah, that my parents would never tell me to leave him. She said: Then he recited to me: ' O Prophet (Muhammad)! Say to your wives: If you desire the life of this world, and its glitter.' I said: 'Do I need to consult my parents about this? I choose Allah and His Messenger. '
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے، زہری کی سند سے، عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب آیت: «وإن كنتن تردن الله ورسوله» اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس آ کر فرمایا: عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تم اس میں جب تک اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کر لینا جلد بازی نہ کرنا ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! آپ خوب جانتے تھے کہ میرے ماں باپ کبھی بھی آپ کو چھوڑ دینے کے لیے نہیں کہیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ آیت پڑھی: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» ( سورة الأحزاب: 28 ) اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش و زیبائش پسند کرتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ دے کر اچھی طرح رخصت کر دوں، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور یوم آخرت کو چاہتی ہو تو تم میں سے جو نیک ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ... ( یہ سن کر ) میں بولی: کیا میں اس میں اپنے ماں باپ سے مشورہ لینے جاؤں گی! میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کر چکی ہوں ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: No woman asks for divorce when it is not absolutely necessary, but she will never smell the fragrance of paradise, although its fragrance can be detected from a distance of forty years' travel.
ہم سے بکر بن خلف ابوبشر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عاصم نے جعفر بن یحییٰ بن ثوبان سے، وہ اپنے چچا عمرہ بن ثوبان سے اور عطاء کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت بغیر کسی حقیقی وجہ اور واقعی سبب کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ وہ جنت کی خوشبو پا سکے، جب کہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے پائی جاتی ہے ۔
It was narrated from Thawban رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Any woman who asks her husband for a divorce when it is not absolutely necessary, the fragrance of Paradise will be forbidden to her.'
ہم سے احمد بن الازہر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن الفضل نے بیان کیا، وہ حماد بن زید کے واسطہ سے، وہ ایوب کے واسطہ سے، ابو قلابہ کے واسطہ سے، وہ ابو اسماء کے واسطہ سے, ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا، تو اس پہ جنت کی خوشبو حرام ہے ۔