It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever takes an oath to cut off the ties of kinship, or to do something that is not right, the fulfillment of his vow is not to do that.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے حارثہ بن ابی رجال سے اور عمرہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے رشتہ توڑنے کی قسم کھائی، یا کسی ایسی چیز کی قسم کھائی جو درست نہیں، تو اس قسم کا پورا کرنا یہ ہے کہ اسے چھوڑ دے ۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said that:
The Prophet (ﷺ) said: Whoever swears an oath then sees that something else is better than it, let him not do it, and his leaving it is the expiation for it.
ہم سے عبداللہ بن عبد المومن وسیطی نے بیان کیا، کہا ہم سے عون بن عمرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے رواہ بن قاسم نے بیان کیا، وہ عبید اللہ بن عمر سے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے قسم کھائی، پھر اس کے خلاف کرنا اس سے بہتر سمجھا، تو قسم توڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے ۔
It was narrated that Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah (ﷺ) offered expiation of a Sa' of dates, and he enjoined the people to do likewise. Whoever does not have that (must give) half a Sa' of wheat.
ہم سے عباس بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے زیاد بن عبداللہ البکاعی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن عبداللہ بن یعلی ثقفی نے بیان کیا، وہ منہال بن عمرو کی سند سے، وہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور کفارہ میں دی، میں لوگوں کو اسی کا حکم دیتا ہوں، تو جس کسی کے پاس ایک صاع کھجور نہ ہو تو آدھا صاع گیہوں دے ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما said:
A man would give his family food that was abundant and another would give his family food that was barely sufficient, then the following was revealed: 'With the Awsat of that with which you feed your families...’”(2)
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ سلیمان بن ابی المغیرہ سے اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
بعض آدمی اپنے گھر والوں کو ایسا کھانا دیتے ہیں جس میں فراخی ہوتی ہے، اور بعض آدمی تنگی کے ساتھ دیتے ہیں تب یہ آیت اتری: «من أوسط ما تطعمون أهليكم» مسکینوں کو وہ کھانا دو جو درمیانی قسم کا اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو ۔
It was narrated that Hammam heard Abu Hurairah رضی اللہ عنہ saying that:
'Abul-Qasim (ﷺ) said: If anyone of you insists on fulfilling what he swore to (after learning that it is wrong) then it is more sinful before Allah than (breaking the oath for which) the expiation that has been enjoined upon him.
ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن حمید المماری نے بیان کیا، انہوں نے معمر کی سند سے، وہ ہمام کی سند سے، انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ
اللہ کے رسول ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی قسم پر اصرار کرے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کفارے سے زیادہ گنہگار ہو گا، جس کی ادائیگی کا اسے حکم دیا گیا ہے ۔
It was narrated that Bara' bin 'Azib رضی اللہ عنہما said:
'The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to help fulfill the oath.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے، علی بن صالح سے، اشعث بن ابی الشاعطہ سے، معاویہ بن سوید بن مقرن کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قسم دینے والے کی قسم پوری کرنے کا حکم دیا ہے۔
It was narrated from Mujahid, that 'Abdur-Rahman bin Safwan, or Safwan bin 'Abdur- Rahman Al-Qurashi said:
On the Day of the conquest of Makkah, he came with his father and he said: 'O Messenger of Allah, give my father a share of Hijrah.' He said: 'There is no Hijrah.' Then he went away and entered upon 'Abbas رضی اللہ عنہ and said: 'Do you know who I am?' He said: 'Yes.' Then 'Abbas رضی اللہ عنہ went out, wearing a shirt and no upper wrap, and said: 'O Messenger of Allah, do you know so-and-so with whom we have friendly ties? He brought his father to swear an oath of allegiance (i.e., promise) to emigrate.' The Prophet (ﷺ) said: 'There is no Hijrah.' 'Abbas رضی اللہ عنہ said: 'I adjure you to do it.' The Prophet (ﷺ) stretched forth his hand and touched his hand, and said: 'I have fulfilled the oath of my uncle, but there is no Hijrah. ' (Da'if)Another chain with similar wording. Yazid bin Abu Ziyad said: Meaning: There is no Hijrah from a land whose people have accepted Islam.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، انہوں نے یزید بن ابی زیاد کی سند سے اور مجاہد کی سند سے, عبدالرحمٰن بن صفوان یا صفوان بن عبدالرحمٰن قرشی کہتے ہیں کہ
جس دن مکہ فتح ہوا، وہ اپنے والد کو لے کر آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کو ہجرت کے ثواب سے ایک حصہ دلوائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ہجرت نہیں ہے، آخر وہ چلا گیا، اور عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: آپ نے مجھے پہچانا؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر عباس رضی اللہ عنہ ایک قمیص پہنے ہوئے نکلے ان پر چادر بھی نہ تھی عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ میں اور فلاں شخص میں جو تعلقات ہیں وہ آپ کو معلوم ہیں، اور وہ اپنے والد کو لے کر آیا ہے تاکہ آپ اس سے ہجرت پہ بیعت کر لیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ہجرت نہیں رہی ، عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور اس کا ہاتھ چھو لیا، اور فرمایا: میں نے اپنے چچا کی قسم پوری کی، لیکن ہجرت تو نہیں رہی ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When anyone of you swears an oath, let him not say: 'What Allah wills and what you will.' Rather let him say: 'What Allah wills and then what you will.'
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے اجلح الکندی نے بیان کیا، وہ یزید بن عصام کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص قسم کھائے تو «ما شاء الله وشئت» جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں نہ کہے، بلکہ یوں کہے: «ما شاء الله ثم شئت» جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں ۔
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman رضی اللہ عنہ that:
A Muslim man saw in a dream that he met a man from among the People of the Book, who said: What good people you would be if only you were not committing Shirk. For you say: 'What Allah wills and Muhammad wills. ' He mentioned that to the Prophet (ﷺ) and he said: By Allah, I am aware of that. Say: 'What Allah wills then what Muhammad wills. 'Another chain from Tufail bin Sakhbarah, the brother of 'Aishah by her mother, from the Prophet (ﷺ), with similar wording.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ عبد الملک بن عمیر نے ربعی بن حراش کی سند سے, حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
مسلمانوں میں سے ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ اہل کتاب کے ایک شخص سے ملا تو اس نے کہا: تم کیا ہی اچھے لوگ ہوتے اگر شرک نہ کرتے، تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور محمد چاہیں، اس مسلمان نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس بات کو جانتا ہوں ( کہ ایسا کہنے میں شرک کی بو ہے ) ۔ لہٰذا تم «ما شاء الله ثم شاء محمد» جو اللہ چاہے پھر محمد چاہیں کہو ۔
It was narrated that Suwaid bin Hanzalah رضی اللہ عنہ said:
We went out looking for the Messenger of Allah (ﷺ) and Wa'il bin Hujr رضی اللہ عنہ was with us. An enemy of his seized him and the people were reluctant to swear an oath but I swore that he was my brother, so they set him free. We came to the Messenger of Allah (ﷺ) and I told him that the people had been reluctant to swear an oath, but I had sworn that he was my brother. He said: 'You told the truth. The Muslim is the brother of his fellow Muslim.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بنی اسرائیل کی سند سے بیان کیا اور ہم سے یحییٰ بن حکیم نے عبدالرحمٰن بن مہدی کی سند سے، بنی اسرائیل کی سند سے، ابراہیم بن عبد الاعلیٰ کی سند سے، وہ اپنی دادی کی سند سے, سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کے ارادے سے نکلے، اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کو ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا، تو لوگوں نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا، آخر میں نے قسم کھائی کہ یہ میرا بھائی ہے، تو اس نے انہیں چھوڑ دیا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور میں نے آپ کو بتایا کہ لوگوں نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا، اور میں نے قسم کھائی کہ یہ میرا بھائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ کہا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: The oath is only according to the intention of the one who requests the oath to be taken.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشیم نے خبر دی، انہیں عباد بن ابی صالح نے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم کا اعتبار صرف قسم دلانے والے کی نیت پر ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Your oath is as your companion understands it to be.
ہم سے عمرو بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن ابی صالح نے اپنے والد سے خبر دی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری قسم اسی مطلب پر واقع ہو گی جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے ۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah (ﷺ) forbade vows and said: 'They are just a means of taking wealth from the miserly. '
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، سفیان کی سند سے، منصور نے عبداللہ بن مرہ سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع کرتے ہوئے فرمایا: اس سے صرف بخیل کا مال نکالا جاتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Vows do not bring the son of Adam anything unless it has been decreed for him. But he is dominated by Divine preordainment, and will get what is decreed for him. And (vows) are a means of making the miser give something, so what he desires becomes obtainable for him, which was not obtainable before his vow. And Allah says: 'Spend, I will spend on you.'
ہم سے احمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا، سفیان سے، ابو الزناد سے، انہوں نے العرج کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر سے آدمی کو کچھ نہیں ملتا مگر وہ جو اس کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے، لیکن آدمی کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ نذر پر غالب آ جاتا ہے، تو اس نذر سے بخیل کا مال نکالا جاتا ہے، اور اس پہ وہ بات آسان کر دی جاتی ہے، جو پہلے آسان نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو مال خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا ۔
It was narrated from 'Imran bin Husain رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: [There is no vow to commit disobedience and] no vow concerning that which the son of Adam does not possess.
ہم سے ابو سہل بن ابی سہل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے ابوقلابہ سے اور اپنے چچا سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہ ) میں نذر نہیں ہے، اور نہ اس میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو ۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: There is no vow to commit disobedience, and the expiation (for such a vow) is the expiation for breaking an oath.
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح المصری ابو طاہر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ابن شہاب کی سند سے، ابو سلمہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہ ) میں نذر نہیں ہے، اور ایسی نذر کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever vows to obey Allah, let him obey Him, and whoever vows to disobey Allah, let him not disobey Him.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ کی سند سے، انہوں نے طلحہ بن عبد الملک کی سند سے، انہوں نے قاسم بن محمد کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانی ہو وہ اس کی اطاعت کرے، اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانی ہو تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔
It was narrated from 'Uqbah bin 'Amit Al-Juhani رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever makes a vow and does not state it specifically, the expiation (for such a vow) is the expiation for breaking an oath.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن رافع نے بیان کیا، خالد بن یزید کی سند سے, عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نذر مانی، اور اس کی تعیین نہ کی تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
lt was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: Whoever makes a vow and does not state it specifically, the expiation (for such a vow) is the expiation for breaking an oath. Whoever makes a vow and is not able to fulfill it, the expiation for that is the expiation for breaking an oath. Whoever makes a vow and is able to fulfill it, let him do so.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن محمد السنانی نے بیان کیا، کہا ہم سے خارجہ بن مصعب نے بیان کیا، وہ بکر بن عبداللہ بن اشج نے کریب کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نذر مانی اور اس کی تعیین نہ کی، تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے، اور جس نے ایسی نذر مانی جس کے پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے، اور جس نے ایسی نذر مانی جس کے پورا کرنے کی طاقت ہو تو اس کو پورا کرے ۔
It was narrated that 'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ said:
I made a vow during the Ignorance period and I asked the Prophet (ﷺ) (about it) after I became Muslim. He told me to fulfill my vow.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ بن عمر سے، نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے, عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی، پھر اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی نذر پوری کرنے کا حکم دیا ۔