It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
He heard that people were leasing out land more. He said: “Subhan-Allah, the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Why does not one of you lend it to his brother?' But he did not forbid leasing it out.' ”
ہم سے محمد بن رمح نے بیان کیا، کہا: ہمیں لیث بن سعد نے عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج نے عمرو بن دینار سے طاؤس کی سند سے خبر دی, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب انہوں نے سنا کہ لوگ زمین کو کرائیے پر دینے کے سلسلے میں کثرت سے گفتگو کر رہے ہیں، تو «سبحان اللہ»کہہ کر تعجب کا اظہار کیا، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یوں فرمایا تھا: تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کو زمین مفت کیوں نہیں دے دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کرائے پر دینے سے منع نہیں کیا ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If one of you were to lend his brother his land, it would be better for him than taking such and such rent for it.” Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما said: "It is Haql (i.e., leasing land or cultivation), and in the dialect of the Ansar it is called Muhaqalah."
ہم سے عباس بن عبد العظیم العنبری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، ابن طاؤس کی سند سے، اپنے والد سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو مفت دے تو یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اتنی اور اتنی یعنی کوئی متعین رقم لے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہی «حقل» ہے، اور انصار کی زبان میں اس کو محاقلہ کہتے ہیں۔
It was narrated that Hazalah bin Qais said:
“I asked Rafi' bin Khadij رضی اللہ عنہ and he said: 'We used to lease out land on the basis that you would have what is produced by this piece of land, and I would have what is produced by this (other) piece of land, and we were forbidden to lease it out on the basis of crop-sharing but he did not forbid us to rent out land for silver.”
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ یحییٰ بن سعید کی سند سے, حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ
میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم زمین کو اس شرط پر کرایہ پر دیتے تھے کہ فلاں جگہ کی پیداوار میری ہو گی، اور فلاں جگہ کی تمہاری، تو ہم کو پیداوار پر زمین کرائے پر دینے سے منع کر دیا گیا، البتہ چاندی کے بدلے یعنی نقد کرائے پر دینے سے ہمیں منع نہیں کیا گیا ہے ۔
Rafi'bin Khadi'j رضی اللہ عنہ narrated that:
His paternal uncle Zuhair رضی اللہ عنہ said: “The Messenger of Allah (ﷺ) forbade us from doing something that was convenient for us.” I said: “What the Messenger of Allah (ﷺ) said is true.” He said that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “What do you with your farms?” We said: “We rent them out for one third or one quarter of their yield, and a certain amount of wheat and barley.” He said: “Do not do that; cultivate them or let others cultivate them.”
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، مجھ سے ابو النجاشی نے بیان کیا, رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے اپنے چچا ظہیر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے جو ہمارے لیے مفید تھا منع فرمایا، رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ، تو میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے وہی حق ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اپنے کھیتوں کو کیا کرتے ہو ؟ تو ہم نے عرض کیا: ہم اسے تہائی اور چوتھائی پیداوار پر اور گیہوں یا جو کے چند وسق پر کرائے پر دیتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کرو، تم یا تو خود اس میں کھیتی کرو یا دوسرے کو کھیتی کرنے دو ۔
It was narrated from Usaid bin Zuhair, the paternal nephew of Rafi' bin Khdij, that Rafi' bin Khadij رضی اللہ عنہ said:
“If one of us did not need his land, he would give it (to someone else to cultivate) in return for one third, or one half of the yield , and he would stipulate (that the should receive) the produce grows on the banks of three streams, and the grains that remain in the ear after threshing, and the produce irrigated by a stream. Life at that time was hard, and he would work (the land) with iron and whatever Allah (SWT) willed, and he would benefit from it. Then Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ came to us and said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) forbade you to do something that may seem beneficial to you, but obedience to Allah and obedience to His Messenger are more beneficial for you. The Messenger of Allah (ﷺ) forbade Haq for you, and he said: “Whoever has no need of his land, let him give it to his brother (to cultivate) or let him leave it (uncultivated).”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبد الرزاق نے خبر دی، انہیں ثوری نے خبر دی، انہیں منصور کی سند سے، وہ مجاہد نے، اور رافع بن خدیج کے بھتیجے اسید بن زہیر سے, رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
کسی کو زمین کی حاجت نہیں ہوتی تھی تو اسے تہائی یا چوتھائی یا آدھے کی بٹائی پردے دیتا، اور تین شرطیں لگاتا کہ نالیوں کے قریب والی زمین کی پیداوار، صفائی کے بعد بالیوں میں بچ جانے والا غلہ اور فصل ربیع کے پانی سے جو پیداوار ہو گی وہ میں لوں گا، اس وقت لوگوں کی گزر بسر مشکل سے ہوتی تھی، وہ ان میں پھاؤڑے سے اور ان طریقوں سے جن سے اللہ چاہتا محنت کرتا اور اس سے فائدہ حاصل کرتا، آخر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک کام سے جو تمہارے لیے مفید تھا منع فرما دیا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ سود مند ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں زمین کو کرایہ پر دینے سے منع کرتے ہیں، اور فرماتے ہیں: جس کو اپنی زمین کی ضرورت نہ ہو وہ اسے اپنے بھائی کو مفت ( بطور عطیہ ) دیدے، یا اسے خالی پڑی رہنے دے ۔
Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ said:
“May Allah (SWT) forgive Rafi' bin Khadij رضی اللہ عنہ . By Allah (SWT)! I have more knowledge of Ahadith than he does. Two men who had quarreled came to the Prophet (ﷺ) and he said: 'If this is your situation, do not lease farms,' and what Rafi' bin khadij رضی اللہ عنہ heard was 'Do not lease farms.' ”
ہم سے یعقوب بن ابراہیم الدورقی نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن الیاس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر نے ولید بن ابی الولید کی سند سے بیان کیا, عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا
اللہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو بخشے، اللہ کی قسم! یہ حدیث میں ان سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص آئے، ان دونوں میں لڑائی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا یہی حال ہے تو کھیتوں کو کرائے پہ نہ دیا کرو ، رافع رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا ہی سنا کہ کھیتوں کو کرائے پر نہ دیا کرو ۔
It was narrated that 'Amr bin Dinar said:
I said to Tawus: “O Abu 'Abdur-Rahman, why do you not give up this Mukhabarah because they claim that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade it.” He said: “O 'Amr, I help them by taking their land and cultivating it, and giving them something in return, and Mu`adh bin Jabal allowed people here to do that. The most knowledgeable of them - meaning Ibn`Abbas - told me that the Messenger of Allah (ﷺ) did not forbid it, rather he said: 'For one you to give (land) to his brother is better than if he were to take a set amount in rent for it.'”
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی،عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ
میں نے طاؤس سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کاش آپ اس بٹائی کو چھوڑ دیتے، اس لیے کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، تو وہ بولے: عمرو! میں ان کی مدد کرتا ہوں، اور ان کو ( زمین بٹائی پر ) دیتا ہوں، اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہماری موجودگی میں لوگوں سے ایسا معاملہ کیا ہے، اور ان کے سب سے بڑے عالم یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا، بلکہ یوں فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو یوں ہی بغیر کرایہ کے دیدے، تو وہ اس سے بہتر ہے کہ زمین کا ایک معین کرایہ لے ۔
It was narrated from Tawus that :
Mu`adh bin Jabl رضی اللہ عنہ leased some land during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, 'Umar and 'Uthmah رضی اللہ عنہم , in return for one third or one fourth (of the yield), and he was still doing that until this day of yours.
ہم سے احمد بن ثابت الجحدری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا، انہوں نے خالد کی سند سے اور مجاہد کی سند سے, طاؤس سے روایت ہے کہ
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکرو عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد میں زمین کو تہائی اور چوتھائی کرائے پر دیا، اور آج تک اسی پر عمل کیا جا رہا ہے ۔
It was narrated from Tawus that Ibn`Abbas رضی اللہ عنہما told that:
The Messenger of Allah (ﷺ) merely said: “For one of you to give (land) to his brother is better for him than if he were to take a set amount in rent for it.”
ہم سے ابوبکر بن خلاد الباہلی اور محمد بن اسماعیل نے بیان کیا, ہم سے وکیع نے بیان کیا، سفیان کی سند سے، عمرو بن دینار نے طاؤس کی سند سے، انہوں نے کہا:عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف یہ فرمایا تھا: کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین یوں ہی مفت کھیتی کے لیے دیدے، تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے کوئی معین محصول لے ۔
It was narrated that Rafi` bin khadij رضی اللہ عنہ said:
We used to give land in return for food at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and some of my paternal uncles came to them and said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever has land, he should not rent it out for a set amount of food.”
ہم سے حمید بن مسعدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، وہ یعلیٰ بن حکیم کی سند سے، وہ سلیمان بن یسار سے, رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں محاقلہ کیا کرتے تھے، پھر ان کا خیال ہے کہ ان کے چچاؤں میں سے کوئی آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس کے پاس زمین ہو وہ اس کو متعین غلے کے بدلے کرائے پر نہ دے ۔
It was narrated that Rafi` bin Khadij رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever cultivates people`s land without their permission, he has no right to any produce, but he should be recompensed for his expenditure.' ”
ہم سے عبداللہ بن عامر بن زرارہ نے بیان کیا، ہم سے شریک نے بیان کیا، وہ ابواسحاق نے عطاء کی سند سے, رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کی زمین میں بغیر اس کی اجازت کے کھیتی کرے تو اس میں سے اس کو کچھ نہیں ملے گا، البتہ اس کا خرچ دلا دیا جائے گا ۔
It was narrated from Ibn `Umar رضی اللہ عنہما that :
The Messenger of Allah (ﷺ) entered into a contract with the people of Khaibar for one half of the fruits or crops yielded.
ہم سے محمد بن صباح، سہل بن ابی سہل اور اسحاق بن منصور نے بیان کیا: ہم سے یحییٰ بن سعید القطان نے عبید اللہ بن عمر سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں سے پھل اور غلہ کی نصف پیداوار پر ( بٹائی کا ) معاملہ کیا۔
It was narrated that Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) gave Khaibar to its people in return of its palm trees and land.
ہم سے اسماعیل بن توبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حکم بن عتیبہ کی سند سے، مقسم کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کو خیبر کی زمین اور درختوں کو نصف پیداوار کی بٹائی پر دیا۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) conquered Khaibar, he gave it (to its people) in return for half (of its yield).”
ہم سے علی بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن فضیل نے مسلم الاعور کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کو فتح کیا، تو اسے نصف پیداوار کی بٹائی پردے دیا۔
It was narrated from Simak that:
He heard Musa bin Talhah bin `Ubaidullah رضی اللہ عنہ narrating that his father said: “I passed by some palm trees with the Messenger of Allah (ﷺ) and he saw some people pollinating the trees. He said: 'What are these people doing?' They said: 'They are taking something from the male part (of the plant) and putting it in the female part.' He said: 'I do not think that this will do any good.' News of that reached them, so they stopped doing it, and their yield declined. News of that reached the Prophet (ﷺ) and he said: 'That was only my thought. If it will do any good, then do it. I am only a human being like you, and what I think may be right or wrong. But When I tell you: “Allah says,” I will never tell lies about Allah.' ”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، وہ بنی اسرائیل سے، انہوں نے سماک کی سند سے، کہ
انہوں نے موسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھجور کے باغ میں گزرا، تو آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ نر کھجور کا گابھا لے کر مادہ میں ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا: نر کا گابھا لے کر مادہ میں ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا ہوں کہ اس سے کوئی فائدہ ہو گا ، یہ خبر جب ان صحابہ کو پہنچی تو انہوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا، لیکن اس سے درختوں میں پھل کم آئے، پھر یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرا گمان تھا، اگر اس میں فائدہ ہے تو اسے کرو، میں تو تمہی جیسا ایک آدمی ہوں گمان کبھی غلط ہوتا ہے اور کبھی صحیح، لیکن جو میں تم سے کہوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ( تو وہ غلط نہیں ہو سکتا ہے ) کیونکہ میں اللہ تعالیٰ پر ہرگز جھوٹ نہیں بولوں گا ۔
It was narrated from 'Aisha رضی اللہ عنہا that:
The Prophet (ﷺ) heard some sounds and said: “What is this noise?” They said: “Palm trees that are being pollinated.” He said: “If they did not do that it would be better.” So they did not pollinate them that year, and the dates did not mature properly. they mentioned that to the Prophet (ﷺ) and he said: “If it is one of the matters of your religion, then refer to me.”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک اور ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آوازیں سنیں تو پوچھا: یہ کیسی آواز ہے ؟ لوگوں نے کہا: لوگ کھجور کے درختوں میں پیوند لگا رہے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کریں تو بہتر ہو گا چنانچہ اس سال ان لوگوں نے پیوند نہیں لگایا تو کھجور خراب ہو گئی، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری دنیا کا جو کام ہو، اس کو تم جانو، البتہ اگر وہ تمہارے دین سے متعلق ہو تو اسے مجھ سے معلوم کیا کرو ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The Muslims are partners in three things: water, pasture and fire, and their price is unlawful.” Abu Saeed said: "This mean flowing water."
ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن خراش بن حوشب الشیبانی نے بیان کیا، ان سے العوام بن حوشب نے مجاہد کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت ( ساجھے داری ) ہے: پانی، گھاس اور آگ، ان کی قیمت لینا حرام ہے ۔ ابوسعید کہتے ہیں: پانی سے مراد بہتا پانی ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Three things cannot be denied to anyone: water, pasture and fire.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابو الزناد نے عرج کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں جن سے کسی کو روکا نہیں جا سکتا: پانی، گھاس اور آگ ۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
“O Messenger of Allah (ﷺ), what are the things which are not permissible to withhold?” He said: “Water, salt and fire.” She said: “I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), we know what water is, but what about salt and fire?” He said: “O Humaira', whoever gives fire (to another), it is as if he has given in charity all the food that is cooked on that fire. And whoever gives salt, it is as if he has given in charity all that the salt makes good. And whoever gives a Muslim water to drink when water is available, it is as if he freed a slave; and whoever gives a Muslim water to drink when there is no water available, it is as if he brought him back to life.”
ہم سے عمار بن خالد واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن غراب نے بیان کیا، وہ زہیر بن مرزوق نے، علی بن زید بن جدعان نے سعید بن المسیب سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا
اللہ کے رسول! کون سی ایسی چیز ہے جس کا روکنا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی، نمک اور آگ میں نے کہا: اللہ کے رسول! پانی تو ہمیں معلوم ہے کہ اس کا روکنا جائز اور حلال نہیں؟ لیکن نمک اور آگ کیوں جائز نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حمیراء! جس نے آگ دی گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جو اس پر پکا، اور جس نے نمک دیا گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جس کو اس نمک نے مزے دار بنایا، اور جس نے کسی مسلمان کو جہاں پانی ملتا ہے، ایک گھونٹ پانی پلایا گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا، اور جس نے کسی مسلمان کو ایسی جگہ ایک گھونٹ پانی پلایا جہاں پانی نہ ملتا ہو گویا اس نے اس کو نئی زندگی بخشی ۔
It was narrated from Abyad bin Hammal رضی اللہ عنہ :
He asked for a salt flat called the Ma'rib Dam to be given to him, and it was given to him. Then Aqra bin Habis At-Tamimi رضی اللہ عنہ came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: “O Messenger of Allah (ﷺ), I used to come to the salt flat during the Ignorance period and it was in a land in which there was no water, and whoever came to it took from it. It was (plentiful) like flowing water.” So the Messenger of Allah (ﷺ) asked Abyad bin Hammal رضی اللہ عنہ to give back his share of the salt flat. He said: “I give it to you on the basis that you make it charity given by me.” The Messenger of Allah said: “It is a charity from you, and it is like flowing water, whoever comes to it may take from it.”(One of the narrators) Faraj said: “That is how it is today, whoever comes to it takes from it.” He said: “The Prophet (ﷺ) gave him land and palm trees in Jurf Murad instead, when he took back the salt flat from him.”
ہم سے محمد بن ابی عمر العدانی نے بیان کیا، کہا ہم سے فرج بن سعید بن علقمہ بن سعید بن عبیاد بن حمال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے چچا ثابت بن سعید بن عبیاد بن حمال نے اپنے والد سعید کی سند سے بیان کیا, ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے اس نمک کو جو نمک سدمآرب کے نام سے جانا جاتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بطور جاگیر طلب کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انہیں جاگیر میں دے دیا، پھر اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: میں زمانہ جاہلیت میں اس نمک کی کان پر سے گزر چکا ہوں، وہ ایسی زمین میں ہے جہاں پانی نہیں ہے، جو وہاں جاتا ہے، وہاں سے نمک لے جاتا ہے، وہ بہتے پانی کی طرح ہے، جس کا سلسلہ کبھی بند نہیں ہوتا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابیض بن حمال سے نمک کی اس جاگیر کو فسخ کر دینے کو کہا، ابیض رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اس کو اس شرط پر فسخ کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے میری طرف سے صدقہ کر دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا وہ تمہاری طرف سے صدقہ ہے اور وہ جاری پانی کے مثل ہے، جو آئے اس سے لے جائے ۔ فرج بن سعید کہتے ہیں: اور وہ آج تک ویسے ہی ہے، جو وہاں جاتا ہے اس میں سے نمک لے جاتاہے۔ ابیض رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس جاگیر کے عوض جو آپ نے فسخ کر دی تھی «جرف» یعنی «جرف» مراد ( ایک مقام کا نام ہے ) میں زمین اور کھجور کے کچھ درخت جاگیر کے طور پر دیے۔