It was narrated that Abu Minhal said:
“I heard Iyas bin 'Abd Muzani رضی اللہ عنہ say - when he saw people selling water: 'Do not sell water, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) forbidding selling of water.' ”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار کی سند سے بیان کیا, ابومنہال کہتے ہیں کہ
میں نے ایاس بن عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کچھ لوگوں کو پانی بیچتے ہوئے دیکھا تو کہا: پانی نہ بیچو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بیچنے سے منع کیا ہے ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade selling surplus water.”
ہم سے علی بن محمد اور ابراہیم بن سعید الجوہری نے بیان کیا : ہم سے وکیع نے بیان کیا , ہم سے ابن جریج نے ابو الزبیر کی سند سے بیان کیا , جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زائد پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “No one of you should withhold surplus water from common pastureland.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے ابو الزناد سے، انہوں نے العرج کی سند سے,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ضرورت سے زائد پانی اس مقصد سے نہ روکے کہ وہاں کی گھاس بھی روکے رکھے ۔
It was narrated from Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Surplus water should not be withheld, and neither should surplus water from a well.
ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے حارثہ سے اور عمرہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرورت سے زائد پانی سے اور کنوئیں میں بچے ہوئے پانی سے کسی کو نہ روکا جائے ۔
It was narrated from 'Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہما that:
A man from among the Ansar had a dispute with Zubair رضی اللہ عنہ in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) concerning the streams of the Harrah with which he irrigated his palm trees. The Ansari said: “Let the water flow,” but he refused. So they referred their dispute to the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Irrigate (your trees) O Zubair, then let the water flow to your neighbor.” The Ansari became angry and said: “O Messenger of Allah (ﷺ), is it because he is your cousin (son of your paternal aunt)?” The expression of the Messenger of Allah (ﷺ) changed, then he said: “O Zubair, irrigate (your trees) then retain the water until it reaches the walls.” Zubair said: “I think this Verse was revealed concerning that: “But no, by your Lord, they make you (O Muhammad) judge in all disputes between them, and find in themselves no resistance against your decisions, and accept (them) with full submission [1].'” (Sahih) [1] An-Nisa 4.65
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، وہ ابن شہاب کی سند سے اور عروہ بن زبیر سے, عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حرہ کے نالے کے سلسلے میں جس سے لوگ کھجور کے درخت سیراب کرتے تھے، ( ان کے والد ) زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا کیا، انصاری کہہ رہا تھا: پانی کو چھوڑ دو کہ آگے بہتا رہے، زبیر رضی اللہ عنہ نہیں مانے بالآخر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معاملہ لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر ( پانی روک کر ) اپنے درختوں کو سینچ لو پھر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو، انصاری نے یہ سنا تو ناراض ہو گیا اور بولا: اللہ کے رسول! وہ آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں نا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! اپنے درختوں کو سینچ لو اور پانی روک لو یہاں تک کہ وہ مینڈوں تک بھر جائے ۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم، میں سمجھتا ہوں کہ آیت کریمہ: «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما» ( سورة النساء: 65 ) سو قسم ہے تیرے رب کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلافات میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوش نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں ، اسی معاملہ میں اتری ہے۔
It was narrated that Tha'labah bin Abu Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning the stream of Mahzur that the higher ground took precedence over the lower, so the higher ground should be irrigated until the water reached the ankles, then it should be released to those who were lower.
ہم سے ابراہیم بن المنذر الحزامی نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا بن منظور بن ثعلبہ بن ابی مالک نے بیان کیا، مجھ سے محمد بن عقبہ بن ابی مالک نے بیان کیا, ثعلبہ بن ابی مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی مہزور کے نالہ کے سلسلہ میں یہ فیصلہ کیا کہ اوپری حصہ نچلے حصہ سے برتر ہے، جس کا کھیت اونچائی پر ہو، پہلے سینچ لے، اور ٹخنوں تک پانی اپنے کھیت میں بھر لے، پھر پانی کو اس شخص کے لیے چھوڑ دے جس کا کھیت نشیب ( ترائی ) میں ہو ۔
It was narrated from 'Amr bin Shu`aib, from his father, from his grandfather, that :
The Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning the stream of Mahzur that the water should be retained until it reached the ankles, then released.
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے المغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی مہزور کے نالے کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ پانی ٹخنوں تک روک لیا جائے، پھر اسے چھوڑ دیا جائے۔
It was narrated from 'Ubadah bin Samit رضی اللہ عنہ that :
The Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning the irrigation of palm trees from streams, that the higher ground should be irrigated before the lower, and that the water should be allowed to reach the ankles, then released to flow the nearest lower ground, and so on, until all the fields were watered or until the water ran out.
ہم سے ابو المغلس نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، وہ اسحاق بن یحییٰ بن ولید سے, عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
کھجور کے درختوں کو نالہ سے سینچنے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ جس کا باغ اونچائی پر ہو، پہلے وہ اپنے باغ کو ٹخنوں تک پانی سے بھر لے، پھر پانی کو نیچے کی طرف جو اس کے قریب ہے اس کے لیے چھوڑ دے، اسی طرح سلسلہ بہ سلسلہ سیراب کیا جائے، یہاں تک کہ باغات سینچ کر ختم ہو جائیں یا پانی ختم ہو جائے۔
It was narrated from Kathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf Al-Muzani رضی اللہ عنہ , from his father, that his grandfather said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Start with the horses on the day that you bring (the animals to drink).' ”
ہم سے ابراہیم بن المنذر الحزامی نے بیان کیا، کہا: ہمیں ابو الجعد عبدالرحمٰن بن عبداللہ نے خبر دی، وہ کثیر بن عبد اللہ بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے اور اپنے دادا کی سند سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب گھوڑے اپنی باری کے دن پانی پلانے کے لیے لائے جائیں تو الگ الگ لائے جائیں ۔
It was narrated from Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every division that was allocated according to (the rules of) the Ignorance days, stands as it is, and every division that was allocated according to (the rules of) Islam, stands according to the rules of Islam.”
ہم سے عباس بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن داؤد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن مسلم الطائفی نے بیان کیا، وہ عمرو بن دینار کی سند سے اور ابو الشعثَا کی سند سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں جو تقسیم ہو چکی ہے وہ اسی طرح باقی رہے گی جیسی وہ ہوئی ہے، اور جو تقسیم زمانہ اسلام میں ہوئی ہے وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق ہو گی ۔
It was narrated from 'Abdullah bin Mughaffal رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Whoever digs a well, is entitled to forty forearms' length surrounding it is as a resting place for his flocks.”
ہم سے ولید بن عمرو بن سکین نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبداللہ بن المثنیٰ نے بیان کیا، اور ہم سے حسن بن محمد بن الصباح نے بیان کیا، ہم سے عبد الوہاب بن عطاء نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا: اسماعیل المکی نے حسن سے روایت کی, عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کنواں کھودے تو اس کے گرد چالیس ہاتھ تک کی زمین اس کی ہو گی، اس کے جانوروں کو پانی پلانے اور بٹھانے کے لیے ۔
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The land around a well (that is considered to be part of it) is the length of the well rope (in all directions).”
ہم سے سہل بن ابی الصغدی نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن صقیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت بن محمد نے بیان کیا، نافع ابو غالب کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنویں کی چوحدی اس کی رسی کی لمبائی کے برابر ہو گی ۔
It was narrated from 'Ubadah bin Samit رضی اللہ عنہ that :
The Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning one, two or three date palms belonging to a man among other palm trees - when they differ concerning entitlement to the surrounding land. He ruled that the land around each of those trees, as far as their leaves reach, measured from the bottom of the tree, belongs to the owner of the tree.
ہم سے عبد ربہ بن خالد النمیری ابو المغلس نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، مجھے اسحاق بن یحییٰ بن الولید نے خبر دی, عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
باغ میں کسی شخص کے ایک یا دو یا تین درخت ہوں، پھر لوگ اختلاف کریں کہ کتنی زمین پر ان کا حق ہے؟ تو اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا: ہر درخت کے لیے نیچے کی اتنی زمین ہے جہاں تک اس کی ڈالیاں پھیلی ہیں، وہی اس درخت کی چوحدی ہے ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah Said: “The land around a date-palm tree, as far as its branches reach, belongs to the owner of the tree.”
ہم سے سہل بن ابی الصغدی نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن صقیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت بن محمد العبدی نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجور کے درخت کی چوحدی اس کی ڈالیوں کی لمبائی کے برابر ہے ۔
It was narrated that Sa'eed bin Huraith رضی اللہ عنہ said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever sells a house or property and does not use the money for something similar, deserves not to be blessed therein.' ”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر نے، وہ عبدالملک بن عمیر کی سند سے, سعید بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کوئی گھر یا غیر منقولہ جائیداد بیچے اور پھر ویسی ہی جائیداد اس کی قیمت سے نہ خریدے، تو وہ اس لائق ہے کہ اس میں اس کو برکت نہ دی جائے ۔
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sells a house and does not use the money for something similar, will not to be blessed therein.' ”
ہم سے ہشام بن عمار اور عمرو بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو مالک نخعی نے یوسف بن میمون سے، ابو عبیدہ بن حذیفہ کے واسطہ سے، وہ اپنے والد حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی گھر بیچے اور پھر اس کی قیمت سے ویسا ہی دوسرا گھر نہ خریدے، تو اس میں اس کو برکت نہیں ہو گی ۔