It was narrated from Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے، سفیان کی سند سے، یحییٰ بن سعید سے، محمد بن یحییٰ بن حبان سے، اپنے چچا و اسع بن حبان سے, رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ پھل چرانے سے ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہ کھجور کا گابھا چرانے سے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعد بن سعید مقبوری نے اپنے بھائی سے اور اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھل اور کھجور کا گابھا چرانے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔
It was narrated from Abdullah bin Safwan رضی اللہ عنہ that :
His father slept in the mosque, using his upper wrap as a pillow, and it was taken from beneath his head. He brought the thief to the Prophet (ﷺ) and the Prophet (ﷺ) ordered that his hand be cut off. Safwan said: “O Messenger of Allah , (ﷺ) I did not want this! I give my upper wrap to him in charity.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Why did you not give it to him before you brought him to me?”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا، انہوں نے مالک بن انس سے، وہ زہری کی سند سے، عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے
اپنے والد سے وہ مسجد میں سو گئے، اور اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا، کسی نے ان کے سر کے نیچے سے اسے نکال لیا، وہ چور کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹے جانے کا حکم دیا، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرا مقصد یہ نہ تھا، میری چادر اس کے لیے صدقہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے آخر میرے پاس اسے لانے سے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا ؟
It was narrated from Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that:
A man from Muzainah asked the Prophet (ﷺ) about fruits. : He said: “What is taken from the tree and carried away, its value and the like of it along with it (meaning double its price must be paid). What (is taken) from the place where dates are dried, (the penalty) is cutting off the hand if the amount taken is equal to the price of a shield. But if (the person) eats it and does not take it away, there is no penalty.” He said: “What about the sheep taken from the pasture, O Messenger of Allah (ﷺ)?” He said: “(The thief) must pay double its price and be punished, and if it was in the pen then his hand should be cut off, if what was taken was worth the price of a shield.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے ولید بن کثیر سے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
قبیلہ مزینہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھلوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پھل خوشے میں سے توڑ کر چرائے تو اسے اس کی دوگنی قیمت دینی ہو گی، اور اگر پھل کھلیان میں ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو، اور اگر اس نے صرف کھایا ہو لیا نہ ہو تو اس پر کچھ نہیں ، اس شخص نے پوچھا: اگر کوئی چراگاہ میں سے بکریاں چرا لے جائے ( تو کیا ہو گا ) ؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی دوگنی قیمت ادا کرنی ہو گی، اور سزا بھی ملے گی، اور اگر وہ اپنے باڑے میں ہو تو اس میں ( چوری کرنے پر ) ہاتھ کاٹا جائے بشرطیکہ چرائی گئی چیز کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو ۔
It was narrated from Ishaq bin Abu Talhah:
“I heard Abu Mundhir, the freed slave of Abu Dharr, say that Abu Umayyah رضی اللہ عنہ narrated to him, that a thief was brought to the Messenger of Allah (ﷺ) and he admitted his crime, although the stolen goods were not found with him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I do not think you stole them.’ He said: 'Yes I did.' Then he said (again): ‘I do not think that you stole them.’ and he said: 'Yes I did.' Then he ordered that his hand be cut off. The Prophet (ﷺ) ' Say: I seek Allah's forgiveness and I repent to Him.' So he (the thief) said: 'I seek Allah's forgiveness and I repent to him.' He (the Prophet (ﷺ) said twice: 'O Allah! Accept his repentance.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن ابی طلحہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ
میں نے ابوذر کے آزاد کردہ غلام ابو المنذر کو سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوامیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، اس نے اقبال جرم تو کیا لیکن اس کے پاس سامان نہیں ملا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہے ، اس نے کہا: کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: میرے خیال میں تم نے چوری نہیں کی ، اس نے کہا: کیوں نہیں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو«أستغفر الله وأتوب إليه» میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس سے توبہ کرتا ہوں ، تو اس نے کہا: «أستغفر الله وأتوب إليه» تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: «اللهم تب عليه» اے اللہ تو اس کی توبہ قبول فرما ۔
It was narrated from 'Abdul Jabbar bin Wa'il رضی اللہ عنہ that his father said:
“A Woman was coerced (i.e., raped) during the time of Messenger of Allah (ﷺ) He waived the legal punishment for her and carried it out on the one who had attacked her, but he (the narrator) did not say that he rules that she should be given a bridal-money.”
ہم سے علی بن میمون الرقی، ایوب بن محمد الوزان اور عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا: ہم کو حجاج بن ارطہ نے عبد الجبار بن وائل رضی اللہ عنہ سے اپنے والد کی سند سے خبر دی، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت کے ساتھ جبراً بدکاری کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر حد نہیں لگائی بلکہ اس شخص پر حد جاری کی جس نے اس کے ساتھ جبراً بدکاری کی تھی، اس روایت میں اس کا تذکرہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مہر بھی دلایا ہو ۔
It was narrated from Ibn Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Do not carry out the legal punishment in the mosque.”
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، اور ہم سے حسن بن عرفہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو حفص البار نے بیان کیا، ان سب نے اسماعیل بن مسلمہ سے، عمرو بن دینار کے واسطہ سے، طاؤس کی سند سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مساجد میں حدود نہ جاری کی جائیں ۔
Amr bin Shu'aib narrated from his father, from his grandfather, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) forbade lashing for the legal punishment in the mosques.
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن لہیعہ نے محمد بن عجلان کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے عمرو بن شعیب کو اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہوئے سنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد میں حد کے نفاذ سے منع فرمایا۔
It was narrated from Abu Burdah bin Niyar رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: “No one should be given more than ten lashes, except in the case of one of the legal punishments of Allah (SWT).”
ہم سے محمد بن رومہ نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، وہ یزید بن ابی حبیب کی سند سے، وہ بکیر بن عبداللہ بن اشج نے، سلیمان بن یسار کی سند سے، وہ عبدالرحمٰن بن جبیر بن عبداللہ کی سند سے,ابوبردہ بن نیار انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: دس کوڑے سے زیادہ کسی کو نہ لگائے جائیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کوئی حد جاری کرنا ہو ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Do not punish with more than ten whips.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد بن کثیر نے بیان کیا، وہ یحییٰ بن ابی کثیر کی سند سے، وہ ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تعزیراً دس کوڑوں سے زیادہ کی سزا نہ دو.
It was narrated from Ubadah bin Samit رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever among you undergoes a Hadd, his punishment has been brought forward, and it is an expiation for him otherwise his case rests with Allah.”
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے عبد الوہاب اور ابن ابی عدی نے بیان کیا، وہ خالد ہذا کی سند سے، ابو قلابہ نے ابو اشعث کی سند سے, عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے اگر کوئی ایسا کام کرے جس سے حد لازم آئے، اور اسے اس کی سزا مل جائے، تو یہی اس کا کفارہ ہے، ورنہ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ۔
It was narrated from Ali رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever commits a sin in this world and is punished for it, Allah (STW) is too just to repeat the punishment for his slave (in the hereafter). And whoever commits a sin in this world and Allah conceals him, Allah is too generous to go back to something that He has pardoned.”
ہم سے ہارون بن عبداللہ الحمل نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن ابی اسحاق نے بیان کیا، وہ ابی اسحاق کی سند سے، وہ ابی جحیفہ سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا، اور اسے اس کی سزا مل گئی، تو اللہ تعالیٰ اس بات سے زیادہ انصاف پسند ہے کہ بندے کو دوبارہ سزا دے، اور جو دنیا میں کوئی گناہ کرے، اور اللہ تعالیٰ اس کے گناہ پر پردہ ڈال دے، تو اللہ تعالیٰ کا کرم اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ بندے سے اس بات پر دوبارہ مواخذہ کرے جسے وہ پہلے معاف کر چکا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
Sa'd bin Ubadah Al-Ansari رضی اللہ عنہ said: “O Messenger of Allah (ﷺ) if a man finds another man with his wife, should he kill him?” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “No.” Sa'd رضی اللہ عنہ said: “Yes he should, by the one who honored you with the Truth!” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Listen to what your leader says!
ہم سے احمد بن عبدہ اور محمد بن عبید المدینی ابو عبید نے بیان کیا: ہم سے عبدالعزیز بن محمد الدراوردی نے سہیل بن ابی صالح کی سند سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
سعد بن عبادہ الانصاری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! آدمی اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کا اعزاز بخشا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! سنو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟
It was narrated that Salamah bin Muhabbiq رضی اللہ عنہ said:
“When the Verse of legal punishments was revealed, it was said to Abu Thabit Sa'd bin Ubadah رضی اللہ عنہ, who was a jealous man: ‘If you found another man with your wife, what would you do?’ He said: “I would strike them both wife the sword; do you think I should wait until I bring four (witness) and he has satisfied himself and gone away? Or should I say I saw such and such, and you will carry out the legal punishment punishment on me (for slander) and never accept my testimony thereafter?' Mention of that was made to the prophet (ﷺ) and he said: “The sword is sufficient as a witness.' Then he said: 'No (on second thought) I am afraid that the drunkard and the jealous would pursue that.” (Da'if) Abu Abdullah - meaning Ibn Majah - said: “I heard Abu Zurah saying: “This is a Hadith of Ali bin Muhammad At-Tanafisi, I did not hear it from him.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ فضل بن دلہم کی سند سے، انہوں نے حسن کی سند سے، وہ قبیصہ بن حریث کی سند سے,سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب حدود کی آیت نازل ہوئی تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے جو ایک غیرت مند شخص تھے، پوچھا گیا: اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائیں تو اس وقت آپ کیا کریں گے؟ جواب دیا: میں تلوار سے ان دونوں کی گردن اڑا دوں گا، کیا میں چار گواہ ملنے کا انتظار کروں گا؟ اس وقت تک تو وہ اپنی ضرورت پوری کر کے چلا جائے گا، اور پھر میں لوگوں سے کہتا پھروں کہ فلاں شخص کو میں نے ایسا اور ایسا کرتے دیکھا ہے، اور وہ مجھے حد قذف لگا دیں، اور میری گواہی قبول نہ کریں، پھر سعد رضی اللہ عنہ کی اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ( غلط حالت میں ) تلوار سے دونوں کو قتل کر دینا ہی سب سے بڑی گواہی ہے ، پھر فرمایا: نہیں میں اس کی اجازت نہیں دیتا، مجھے اندیشہ ہے کہ اس طرح غیرت مندوں کے ساتھ متوالے بھی ایسا کرنے لگیں گے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوزرعہ کو کہتے سنا ہے کہ یہ علی بن محمد طنافسی کی حدیث ہے، اور مجھے اس میں کا کچھ حصہ یاد نہیں رہا۔
It was narrated that Bara bin Azib رضی اللہ عنہما said:
“My maternal uncle passed by me - (one of the narrators) Hushaim named him in his narration as Harith bin Amr - and the Prophet (ﷺ) had given him a banner to carry. I said to him: 'Where are you going?’ He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) has sent me to a man who married his father's wife after he died, and has commanded me to strike his neck (i.e. execute him).”
ہم سے اسماعیل بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، اور ہم سے سہل بن ابی سہل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حفص بن غیاث نے بیان کیا، ان سب نے اشعث کی سند سے اور عدی بن ثابت رضی اللہ عنہ سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میرے ماموں کا گزر میرے پاس سے ہوا ( راوی حدیث ہشیم نے ان کے ماموں کا نام حارث بن عمرو بتایا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک جھنڈا باندھ دیا تھا، میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا قصد ہے؟ انہوں نے عرض کیا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے پاس روانہ کیا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی ( یعنی اپنی سوتیلی ماں ) سے شادی کر لی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔
It was narrated from Mu'awiyah bin Qurrah رضی اللہ عنہ that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) sent me to a man who had married his father's wife after he died, to strike his neck (execute him) and confiscate his wealth.”
حسین الجوفی کے بھتیجے محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا: ہم سے یوسف بن منازل تیمی نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ بن ادریس نے، خالد بن ابی کریمہ سے، معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے والد سے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسے شخص کے پاس بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر لی تھی، تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا سارا مال لے لوں ۔
It was narrated from Ibn Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever claims to belong to someone other than his father, or (a freed slave) who claims that his Wala is for other than his real master, the curse of Allah (SWT), the angels and all the people will be upon him.”
ہم سے ابوبشر بکر بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی الدائف نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عثمان بن خثیم نے بیان کیا، وہ سعید بن جبیر سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے کو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے، یا ( کوئی غلام یا لونڈی ) اپنے مالک کے بجائے کسی اور کو مالک بنائے تو اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی اس پر لعنت ہے ۔
It was narrated that Abu Uthman Nahdi said:
“I heard Sa'd and Abu Bakrah رضی اللہ عنہما both say that they heard directly from Muhammad (ﷺ) saying it and memorized: 'Whoever claims to belong to someone other than his father knowing the he is not his father, Paradise will be forbidden to him.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے عاصم الاحوال کی سند سے، انہوں نے ابو عثمان النہدی سے، انہوں نے کہا:
میں نے سعد اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما کو سنا، ان میں سے ہر ایک نے کہا :میرے کانوں نے سنا، اور میرے دل نے یاد رکھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے آپ کو اپنے والد کے علاوہ کی طرف منسوب کرے، جب کہ وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا والد نہیں ہے، تو ایسے شخص پر جنت حرام ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever claims to belong to someone other than his father will not smell the fragrance of Paradise, even though its fragrance may be detected from a distance of five hundred years.”
ہم سے محمد بن الصباح نے بیان کیا، ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں عبدالکریم نے مجاہد کی سند سے،عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا والد کسی اور کو بتائے، وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا، حالانکہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے ۔
Muslim bin Haisam narrated from Ash'ath bin Qais رضی اللہ عنہ who said:
“I came to the Messenger of Allah (ﷺ) with a delegation from Kindah, and they thought that I was the best of them. I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ) are you not from among us?' He said: 'We are the tribe of Banu Nadr bin Kinanah, and we do not attribute ourselves to our mother and we do not deny our forefathers.'”He said: “Ash'ath bin Qais رضی اللہ عنہ used to say: 'If any man is brought to me who suggests that a man from Quraish does not belong to Nadr bin Kinanah, I would carry out the legal punishment (for slander) on him.'”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا۔ اور ہم سے ہارون بن حیان نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبدالعزیز بن مغیرہ نے خبر دی ,ہم سے حماد بن سلمہ نے عقیل بن طلحہ سلمی سے اور مسلم بن حیضم کی سند سے بیان کیا, اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں قبیلہ کندہ کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ لوگ مجھے سب سے بہتر سمجھتے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ لوگ ہم میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں، نہ ہم اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں، اور نہ اپنے والد سے علیحدہ ہوتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں: اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ میرے پاس اگر کوئی ایسا شخص آئے جو کسی قریشی کے نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے ہونے کا انکار کرے، تو میں اسے حد قذف لگاؤں گا۔