It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that:
The Prophet (ﷺ) of said: “For a wound that exposes a bone, is five; (the compensation) is five camels.”
ہم سے جمیل بن الحسن نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، وہ مطر سے، عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہڈی ظاہر کر دینے والے زخم میں دیت پانچ پانچ اونٹ ہیں ۔
It was narrated from Ya'la and Salamah the sons of Ummayah رضی اللہ عنہما said:
“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) on the military expedition of Tabuk, and with us was a friend of ours. He fought with another man while we were on the road. The man bit the hand on his opponent, who pulled away his hand and the man's tooth fell out. He came to Messenger of Allah (ﷺ) demanding compensatory money for his tooth, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Would anyone of you go and bite his brother like a stallion, then come demanding compensatory money? There is no compensatory for this.'” Hence, The Messenger of Allah (ﷺ) invalidated it (i.e compensatory in such case).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحیم بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن اسحاق سے، وہ عطاء کی سند سے، وہ صفوان بن عبد اللہ سے, یعلیٰ بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں نکلے، ہمارے ساتھ ہمارا ایک ساتھی تھا، وہ اور ایک دوسرا شخص دونوں آپس میں لڑ پڑے، جب کہ ہم لوگ راستے میں تھے، ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا اور جب اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے سامنے کے دانت گر گئے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اپنے دانت کی دیت مانگنے لگا، آپ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( عجیب ماجرا ہے ) تم میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کے ہاتھ کو اونٹ کی طرح چبانا چاہتا ہے اور پھر دیت مانگتا ہے، اس کی کوئی دیت نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باطل قرار دیا ۔
It was narrated from 'Imran bin Husain رضی اللہ عنہما that:
A man bit another man on his forearm; he pulled away his arm away and the man’s tooth fell out. The matter was referred to Prophet (ﷺ) who invalidated it and said: 'Would one of you bite (another) like a stallion?'
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، وہ سعید بن ابی عروبہ نے، وہ قتادہ کی سند سے، انہوں نے زرارہ بن اوفی سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے دوسرے کے بازو کو کاٹا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا سامنے کا دانت گر گیا، مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باطل قرار دیا، اور فرمایا: تم میں سے ایک ( دوسرے کے ہاتھ کو ) ایسے چباتا ہے جیسے اونٹ ۔
It was narrated that Abu Juhaifah رضی اللہ عنہ said:
“I said to 'Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ: 'Do you have any knowledge that the people do not have?' He said: 'No, by Allah, we only know what the people know, except that Allah may bless a man with understanding of Qur'an or what is in this sheet, in which are mentioned the rulings on blood money from the Messenger of Allah (ﷺ) and it says that a Muslim should not be killed in retaliation for the murder of disbeliever.'”
ہم سے علقمہ بن عمرو دارمی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے مطرف کی سند سے اور شعبی کی سند سے ,ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا تمہارے پاس کوئی ایسا علم ہے جو دیگر لوگوں کے پاس نہ ہو؟ وہ بولے: نہیں، اللہ کی قسم! ہمارے پاس وہی ہے جو لوگوں کے پاس ہے، ہاں مگر قرآن کی سمجھ جس کی اللہ تعالیٰ کسی کو توفیق بخشتا ہے یا وہ جو اس صحیفے میں ہے اس ( صحیفے ) میں ان دیتوں کا بیان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں، اور آپ کا یہ فرمان بھی ہے کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “A Muslim should not be killed in retaliation for the murder of a disbeliever.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن بن عیاش نے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas that:
The Prophet (ﷺ) said: ”A believer should not be killed in retaliation for the murder of a disbeliever, and a person who has a treaty should not be killed during the time of the treaty.”
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی الصنعانی نے بیان کیا، کہا: ہم سے معتمر بن سلیمان نے اپنے والد سے، حنش سے اور عکرمہ کی سند سے بیان کیا,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ، اور نہ وہ ( کافر ) جس کی حفاظت کا ذمہ لیا گیا ہو ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “A father should not be killed for his son.”
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مشیر نے بیان کیا، وہ اسماعیل بن مسلم کی سند سے، وہ عمرو بن دینار سے، انہوں نے طاؤس کی سند سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باپ بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that:
'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'A father should not be killed for his son.'”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، انہوں نے حجاج کی سند سے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: باپ کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ۔
It was narrated from Samurah bin Jundab رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever kills his slave, we will kill him, and whoever mutilates (his slave) we will mutilate him.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ سعید بن ابی عروبہ نے، قتادہ کی سند سے، وہ حسن کی سند سے, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے غلام کو قتل کیا ہم اسے قتل کریں گے، اور جس نے اس کی ناک کاٹی ہم اس کی ناک کاٹیں گے ۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:
“A man killed his slave deliberately and with malice aforethought, so the Messenger of Allah (ﷺ) gave him one hundred lashes, banished him for one year, and cancelled his share from among the Muslims.”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے ابن الطبع نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ نے، ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین کی سند سے، انہوں نے عمیر کی سند سے۔ شعیب، اپنے والد کے حکم سے، اپنے دادا کے حکم سے، جنہوں نے کہا
ایک شخص نے اپنے غلام کو جان بوجھ کر قتل کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سو کوڑے مارے، ایک سال کے لیے جلا وطن کیا، اور مسلمانوں کے حصوں میں سے اس کا حصہ ختم کر دیا۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that :
A Jew crushed the head of a woman between two rocks and killed her, so the Messenger of Allah (ﷺ) crushed his head between two rocks.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہمام بن یحییٰ نے قتادہ کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک یہودی نے ایک عورت کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل ڈالا، تو رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ وہی سلوک کیا ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that :
A Jew killed a girl for her jewelry. He asked her (as she was dying): “Did so-and-so kill you?” and she gestured with her head to say no. Then he asked her again, and she gestured with her head to say no. he asked her a third time and she gestured with her head to say yes. So the Messenger of Allah (ﷺ) killed him (by crushing his head) between two rocks.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے نضر بن شمائل نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ہشام بن زید سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے زیورات کی خاطر مار ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی سے ( اس کی موت سے پہلے ) پوچھا: کیا تجھے فلاں نے مارا ہے؟ لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے کے متعلق پوچھا: ( کیا فلاں نے مارا ہے؟ ) دوبارہ بھی اس نے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے کے متعلق پوچھا: تو اس نے سر کے اشارے سے کہا: ہاں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو دو پتھروں کے درمیان رکھ کر قتل کر دیا ۔
It was narrated from Nu'man bin Bashir رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no retaliation with the sword.”
ہم سے ابراہیم بن المستمیر العروقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، انہوں نے سفیان کی سند سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے اور ابو عزیب کی سند سے, نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصاص صرف تلوار سے ہے ۔
It was narrated from Abu Bakrah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no retaliation except with the sword.”
ہم سے ابراہیم بن المستمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے حر بن مالک العنبری نے بیان کیا، کہا ہم سے مبارک بن فضلہ نے بیان کیا، حسن رضی اللہ عنہ سے, ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصاص صرف تلوار سے ہے ۔
It was narrated from Sulaiman bin Amr bin Ahwas رضی اللہ عنہ that his father said:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying during the Farewell pilgrimage: “No criminal commits a crime but he brings. (the punishment for that) upon himself. No father can bring punishment upon his son by his crime, and no son can bring punishment upon his father.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو الاحوص نے بیان کیا، ان سے شبیب بن غرقدہ نے، ان سے سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا
میں نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: خبردار! مجرم اپنے جرم پر خود پکڑا جائے گا، ( یعنی جو قصور کرے گا وہ اپنی ذات ہی پر کرے گا اور اس کا مواخذہ اسی سے ہو گا ) باپ کے جرم میں بیٹا نہ پکڑا جائے گا، اور نہ بیٹے کے جرم میں باپ ۔
It was narrated that Tariq Al-Muharibi رضی اللہ عنہ said:
“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) raising his hands until I saw the whiteness of his armpits, saying: 'No child should be punished because of his mother's crime, no child should be punished because of his mother's crime.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابی زیاد نے بیان کیا، ہم سے جمیع بن شداد نے بیان کیا, طارق محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے خبردار! کوئی ماں اپنے بچے کے جرم میں نہیں پکڑی جائے گی، خبردار! کوئی ماں اپنے بچے کے جرم میں نہیں پکڑی جائے گی ۔
It was narrated that Khashkhash Al-Anbari رضی اللہ عنہ said:
“I came to the Prophet (ﷺ) and my son was with me. He said: 'You will not be punished because of his crime and he will not be punished because of yours.'”
ہم سے عمرو بن رافع نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا، یونس کی سند سے، حصین بن ابی الحر سے, خشخاش عنبری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری اس کے جرم پر اور اس کی تیرے جرم پر گرفت نہیں ہو گی ۔
It was narrated from 'Usamah bin Sharik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “No person will be punished because of another's crime.”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن عبید بن عقیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو العوام القطان نے بیان کیا، وہ محمد بن جُہدہ کی سند سے، وہ زیاد بن علاقہ کی سند سے, اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے جرم کا ذمہ دار نہ ہو گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Allah's Messenger (ﷺ) said: “The injuries caused by the beast are without liability, and wells are without liability, and mines are without liability.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے، وہ سعید بن المسیب کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بےزبان ( جانور ) کا زخم بے قیمت اور بیکار ہے، کان اور کنویں میں گر کر مر جائے تو وہ بھی بیکار ہے ۔
Khathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf رضی اللہ عنہ narrated that his grandfather said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The injuries cause by the beast are without liability, and mines are without liability.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، ہم سے کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کی، انہوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بےزبان ( جانور ) کا زخم بیکار ہے، اور کان میں گر کر مر جائے تو وہ بھی بیکار ہے.