It was narrated that 'Ubadah bin Samit رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) ruled that there is no liability for injuries caused by falling into a mines or a well, nor those caused by a beast.”
ہم سے عبد ربہ بن خالد النمیری نے بیان کیا، ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، مجھ سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، مجھ سے اسحاق بن یحییٰ بن الولید نے بیان کیا, عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: کان بیکار ہے اور کنواں بیکار و رائیگاں ہے، اور «عجماء» چوپائے وغیرہ حیوانات کو کہتے ہیں، اور «جبار» ایسے نقصان کو کہتے ہیں جس میں جرمانہ اور تاوان نہیں ہوتا، کنواں بیکار و رائیگاں ہے، اور بےزبان ( جانور ) کا زخم بیکار و رائیگاں ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “(The injuries caused by) a fire are without liability, and by falling into a well.”
ہم سے احمد بن الازہر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، معمر کی سند سے، حمام کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ بیکار ہے، اور کنواں بیکار ہے ۔
It was narrated from Sahl bin Abu Hathmah رضی اللہ عنہ from the elders of his people that :
'Abdullah bin Sahl and Muhayyishah رضی اللہ عنہما set out for Khaibar because of some problem that had arisen. Someone came to Muhayyishah رضی اللہ عنہ, and he told him that Abdullah bin Sahl رضی اللہ عنہ had been killed and thrown into a pit or well in Khaibar. He came to the Jews and said: “By Allah, you killed him.” They said: “By Allah, we did not kill him.” Then he went back to his people and told them about that. Then he and his brother Huwayyisah, who was older than him, and 'Abdur-Rahman bin Sahl رضی اللہ عنہما , came (to the Prophet (ﷺ)). Muhayyisah رضی اللہ عنہ, who was the one who had been at Khaibar, went and he began to speak, but the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Let the elder speak first.” So Huwayyisah رضی اللہ عنہ spoke, then Muhayyisah رضی اللہ عنہ spoke. The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Either (the Jews) will pay the blood money for your companion, or war will be declared on them.” The Messenger of Allah (ﷺ) sent a letter to that effect (to the Jews) and they wrote back saying: “By Allah, we did not kill him.” The Messenger of Allah (ﷺ) said to Huwayyisah, Muhayyisah and Abdur-Rahman رضی اللہ عنہم: “Will you swear an oath establishing your claim to the blood money of your companion?” They said: “No” He said: “Should the Jews swear an oath for you?” They said: “They are not Muslims.” So the Messenger of Allah (ﷺ) paid the blood money himself, and he sent one hundred she-camels to them and some of them entered the house. Sahl رضی اللہ عنہ said: “A red she-camels from among them kicked me.”
ہم سے یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے مالک بن انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا، مجھ سے ابو لیلیٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سہل نے بیان کیا،سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ
عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما دونوں محتاجی کی وجہ سے جو ان کو لاحق تھی ( روزگار کی تلاش میں ) اس یہودی بستی خیبر کی طرف نکلے، محیصہ رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے ہیں، اور انہیں خیبر کے ایک گڑھے یا چشمے میں ڈال دیا گیا ہے، وہ یہودیوں کے پاس گئے، اور کہا: اللہ کی قسم، تم لوگوں نے ہی ان ( عبداللہ بن سہل ) کو قتل کیا ہے، وہ قسم کھا کر کہنے لگے کہ ہم نے ان کا قتل نہیں کیا ہے، اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ خیبر سے واپس اپنی قوم کے پاس پہنچے، اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ، اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور محیصہ رضی اللہ عنہ جو کہ خیبر میں تھے بات کرنے بڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محیصہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بڑے کا لحاظ کرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عمر میں بڑے سے تھی چنانچہ حویصہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی، اور اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ نے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: یا تو یہود تمہارے آدمی کی دیت ادا کریں ورنہ اس کو اعلان جنگ سمجھیں اور یہود کو یہ بات لکھ کر بھیج دی، انہوں نے بھی جواب لکھ بھیجا کہ اللہ کی قسم، ہم نے ان کو قتل نہیں کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہم سے کہا: تم قسم کھا کر اپنے ساتھی کی دیت کے مستحق ہو سکتے ہو ، انہوں نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہود قسم کھا کر بری ہو جائیں گے وہ کہنے لگے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، ( کیا ان کی قسم کا اعتبار کیا جائے گا ) آخر کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی دیت ادا کی، اور ان کے لیے سو اونٹنیاں بھیجیں جنہیں ان کے گھر میں داخل کر دیا گیا۔ سہل رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک لال اونٹنی نے مجھے لات ماری۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that :
Huwayyisah and Muhayyisah رضی اللہ عنہما , the sons of Mas'ud, and 'Abdullah and 'Abdur-Rahman رضی اللہ عنہما the sons of Sahl, went out to search for food in Khaibar. 'Abdullah was attacked and killed, and mention of that was made to the Messenger of Allah (ﷺ). He said: “Will you swear an oath and establish your right to blood money?” They said: “O Messenger of Allah (ﷺ), how can we swear an oath when we did not witness anything?” He said: “Do you want the Jews to swear that they are innocent?” They said: “O Messenger of Allah (ﷺ), then they will kill us too.” So the Messenger of Allah (ﷺ) paid the blood money himself.
ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، انہوں نے حجاج سے، وہ عمرو بن شعیب کے واسطہ سے، وہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے
مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ و محیصہ رضی اللہ عنہما اور سہل کے دونوں بیٹے عبداللہ و عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما خیبر کی جانب تلاش رزق میں نکلے، عبداللہ پر ظلم ہوا، اور انہیں قتل کر دیا گیا، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم کھاؤ اور ( دیت کے ) مستحق ہو جاؤ وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! جب ہم وہاں حاضر ہی نہیں تھے تو قسم کیوں کر کھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہود ( قسم کھا کر ) تم سے بری ہو جائیں گے وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! تب تو وہ ہمیں مار ہی ڈالیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی۔
It was narrated from Salamah bin Rawh bin Zinba' رضی اللہ عنہ , that :
His grandfather came to the Prophet (ﷺ) and he had castrated a slave of his. The Prophet (ﷺ) manumitted the slave in compensation for having been mutilated.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبدالسلام نے اسحاق بن عبد اللہ بن ابی فروہ سے، سلمہ بن روح بن زنبہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے
ان کے دادا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے اپنے غلام کو خصی کر دیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام کو مثلہ ( ناک کان یا کوئی عضو کاٹ دینا ) کئے جانے کی بناء پر آزاد کر دیا۔
Amr bin Shu'aib narrated from his father that his grandfather said:
“A man came to the Prophet (ﷺ) screaming. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'What is the matter with you?' He said: 'My master saw me kissing a slave woman of his, so he cut off my penis.' The Prophet (ﷺ) said: 'Take me to the man.' He was sought but could not be found, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Go, for you are free.' He said: 'Who will protect me, O Messenger of Allah (ﷺ)? What if my master enslaves me again?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Your protection will be (incumbent upon) every believer or Muslim.'”
ہم سے راجہ بن المرجی سمرقندی نے بیان کیا، کہا: ہم سے الندر بن شمیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابوحمزہ الصیرفی نے بیان کیا، کہا: مجھ سے عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی، انہوں نے کہا
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چیختا ہوا آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے ؟ وہ بولا: میرے مالک نے مجھے اپنی ایک لونڈی کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھ لیا، تو میرے اعضاء تناسل ہی کاٹ ڈالے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ جب اسے ڈھونڈا گیا تو وہ نہیں مل سکا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو، غلام بولا: اللہ کے رسول! میری مدد کون کرے گا؟ یعنی اگر میرا مالک مجھے پھر غلام بنا لے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی صورت میں ہر مومن یا مسلمان پر تمہاری مدد لازم ہے ۔
Abdullah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The most decent of the people in killing are the people of faith.”
ہم سے یعقوب بن ابراہیم الدورقی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہشیم نے مغیرہ کی سند سے، شباک کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، علقمہ کی سند سے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل کے مسئلہ میں اہل ایمان سب سے زیادہ پاکیزہ اور بہتر ہیں ۔
It was narrated that 'Abdullah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The most decent people in killing are the people of faith.”
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے غندر نے شعبہ کی سند سے، مغیرہ کی سند سے، شباک کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، حنیہ بن نویرہ سے، علقمہ کی سند سے,عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل کے مسئلہ میں اہل ایمان سب سے پاکیزہ لوگ ہیں ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: “The blood of every Muslims is equal, they are one hand against others. The asylum offered by the lowest of them in status applies to them (all), and the return is granted to the farthest of them.”
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی الصنعانی نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے اپنے والد سے، حنش سے اور عکرمہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے خون برابر ہیں، اور وہ اپنے مخالفوں کے لیے ایک ہاتھ کی طرح ہیں، ان میں سے ادنی شخص بھی کسی کو امان دے سکتا ہے، اور سب کو اس کی امان قبول کرنی ہو گی، اور ( لشکر میں ) سب سے دور والا شخص بھی مال غنیمت کا مستحق ہو گا ۔
It was narrated from Ma'qil bin Yasar رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The Muslims are one hand against others, and their blood is equal.
ہم سے ابراہیم بن سعید الجوہری نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے عبد السلام بن ابی الجنوب کی سند سے، انہوں نے حسن رضی اللہ عنہ سے, معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اپنے علاوہ ( دوسرے مذہب ) والوں کے مقابلہ میں ایک ہاتھ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے خون برابر ہیں ۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The hand of the Muslims is over others, and their blood and wealth is equal in value. The (asylum granted by) the lowest of them applies to the Muslims, and the Muslims return (the spoils of war) to the farthest of them.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا: ہم سے حاتم بن اسماعیل نے، عبدالرحمٰن بن عیاش سے، وہ عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کا ہاتھ اپنے علاوہ دوسری قوم والوں پر ہے ( یعنی ان سب سے لڑیں، آپس میں نہ لڑیں ) ان کے خون اور ان کے مال برابر ہیں، مسلمانوں کا ادنی شخص کسی کو پناہ دے سکتا ہے اور لشکر میں دور والا شخص بھی مال غنیمت کا مستحق ہو گا ۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever kills a Mu'ahid, will not smell the fragrance of Paradise, even though its fragrance may be detected from a distance of forty years.”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے حسن بن عمرو کی سند سے اور مجاہد کی سند سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی ذمی کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Whoever kills a Mu'ahid who has the protection of Allah and the protection of his Messenger, will not smell the fragrance of Paradise, even though its fragrance may be detected from a distance of Seventy years.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے معدی بن سلیمان نے بیان کیا، انہیں ابن عجلان نے اپنے والد کی سند سے خبر دی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: جس نے کسی ایسے ذمی کو قتل کر دیا جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پناہ دے رکھی ہو، تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے ۔
It was narrated that Rifa'ah bin Shaddad Al-Qitbani said:
“Were it not for a word that I heard from 'Amr bin Hamiq Khuza'i رضی اللہ عنہ , I would have separated the head of Al-Mukhtar from his body. I heard him saying: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If a man trusts someone with his life then he kills him, he will carry a banner of treachery on the day of Resurrection.'”
ہم سے محمد بن عبد الملک بن ابی الشوارب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے، عبدالملک بن عمیر کی سند سے, رفاعہ بن شداد قتبانی کہتے ہیں کہ
اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا، میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو جان کی امان دی، پھر اس کو قتل کر دیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا ۔
It was narrated that Rifa'ah said:
“I entered upon Mukhtar in his palace and he said: 'Jibril has just left me.' Nothing stopped me from striking his neck (i.e, killing him) but a Hadith that I heard from Sulaiman bin Surad رضی اللہ عنہ , according to which the Prophet (ﷺ) said: 'If a man trusts you with his life, then do not kill him.' That is what stopped me.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے ابو لیلیٰ نے بیان کیا، وہ ابو عکاشہ کی سند سے, رفاعہ کہتے ہیں کہ
میں مختار ثقفی کے پاس اس کے محل میں گیا، تو اس نے کہا: جبرائیل ابھی ابھی میرے پاس سے گئے ہیں ، اس وقت اس کی گردن اڑا دینے سے صرف اس حدیث نے مجھے باز رکھا جو میں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے سنی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص تم سے جان کی امان میں ہو تو اسے قتل نہ کرو، تو اسی بات نے مجھے اس کو قتل کرنے سے روکا ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“A man killed (another) during the time of the Messenger of Allah (ﷺ) and was referred to the Prophet (ﷺ). He handed him over to the victim's next of kin, but the killer said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), by Allah I did not mean to kill him.' The Messenger of Allah (ﷺ) said to the next of kin, 'If he is telling the truth and you kill him, you will go to Hell.' So he let him go. He had been tied with a rope, and he went out dragging his rope, so he became known as Dhan-Nis'ah (the one with the rope).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا: ہم سے ابو معاویہ نے الاعمش کی سند سے اور ابو صالح کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دیا تو اس کا مقدمہ آپ کے پاس لایا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کو مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا، قاتل نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، میرا اس کو قتل کرنے کا قطعاً ارادہ نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولی سے کہا: اگر یہ اپنی بات میں سچا ہے، اور تم نے اس کو قتل کر دیا تو تم جہنم میں جاؤ گے تو مقتول کے ولی نے اس کو چھوڑ دیا، قاتل پٹے سے بندھا ہوا تھا، وہ پٹا گھسیٹتا ہوا نکلا، اور اس کا نام ہی پٹے والا پڑ گیا۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“A man brought the killer of his relative to the Messenger of Allah (ﷺ) and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Pardon him,' but the refused. He said: 'Take the blood money,' but he refused. He said: 'Go and kill him, but then you will be like him.’ Someone caught up with him and reminded him that the Messenger of Allah (ﷺ) had said: 'Go and kill him, but then you will be like him.’ So he let him go. He (the killer) was seen dragging his rope (with which he had been tired), going to his family. It was as if he had been fettered (with his hands behind his back). (One of the narrator) 'Abu Umair said in his narration: "Ibn Shawdhab said, narrating from 'Abdur Rehman bin Qasim: 'No one has right after the prophet ﷺ to say: "Go and kill him, but then you will be like him." Ibn Majah said: This is the narration of the Rmiliyin, and is found only with them. (Meaning, the three who narrated this to Ibn Majah were all from Rmlah.
ہم سے ابو عمیر عیسیٰ بن محمد بن النحاس، عیسیٰ بن یونس اور حصین بن ابی السری عسقلانی نے بیان کیا: ہم سے ضمرہ بن ربیعہ نے ابن شوذب کی سند سے ثابت البنی کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص اپنے ولی کے قاتل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے معاف کر دو ، اس نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت لے لو اس نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے قتل کر دو اور تم بھی اسی کی طرح ہو جاؤ چنانچہ اس سے مل کر کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جاؤ تم اس کو قتل کر دو تم بھی اس کے مثل ہو جاؤ تو اس نے اسے چھوڑ دیا، قاتل کو اپنے گھر والوں کی طرف اپنا پٹا گھسیٹتے ہوئے جاتے دیکھا گیا، گویا کہ مقتول کے وارث نے اسے باندھ رکھا تھا ۔ ابوعمیر اپنی حدیث میں کہتے ہیں: ابن شوذب نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے یہ قول نقل کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لئے «اقتله فإنك مثله» کہنا درست نہیں۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ اہل رملہ کی حدیث ہے، ان کے علاوہ کسی اور نے یہ روایت نہیں کی ہے۔
It was narrated that 'Ata bin Abu Maimunah said:
“I only know it from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ who said: 'No case involving retaliation was referred to the Messenger of Allah (ﷺ) but he enjoined forgiveness.”
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان بن ہلال نے خبر دی، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن بکر مزنی نے عطاء بن ابی میمونہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں اسے صرف انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا کوئی مقدمہ آتا تو آپ اس کو معاف کر دینے کا حکم دیتے ( یعنی سفارش کرتے ) ۔
Abu Darda رضی اللہ عنہ said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'There is no man who suffers some (injury) on his body and forgives (the perpetrator), but Allah (SWT) will raise him one degree in status thereby, or erase from him one sin. 'My own ears heard it and my heart memorized it.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے یونس بن ابی اسحاق سے اور ابو السفر کی سند سے، انہوں نے کہا: ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کوئی بھی شخص جس کے جسم کو صدمہ پہنچے پھر وہ ثواب کی نیت سے معاف کر دے، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف کر دیتا ہے، یہ میرے کانوں نے سنا اور دل نے یاد رکھا۔
Mu'adh bin Jabal, Abu Ubaidah bin Jararah, Ubadah bin Samit and Shaddad bin Aws رضی اللہ عنہم narrated that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If a woman kills someone deliberately, she should not be killed until she delivers what is in her womb, if she is pregnant, and until the child's sponsorship is guaranteed. And if a woman commits illegal sex, she should not be stoned until she delivers what is in her womb and until her child's sponsorship is guaranteed.”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصالح نے بیان کیا، انہوں نے ابن لہیہ سے، انہوں نے ابن انعم سے، عبادہ بن نصیٰ سے اور عبدالرحمٰن بن غنم کی سند سے, معاذ بن جبل، عبیدہ بن جراح، عبادہ بن صامت اور شداد بن اوس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت جب جان بوجھ کر قتل کا ارتکاب کرے اور وہ حاملہ ہو، تو اس وقت تک قتل نہیں کی جائے گی جب تک وہ بچہ کو جن نہ دے، اور کسی کو اس کا کفیل نہ بنا دے، اور اگر اس نے زنا کا ارتکاب کیا تو اس وقت تک رجم نہیں کی جائے گی جب تک وہ زچگی ( بچہ کی ولادت ) سے فارغ نہ ہو جائے، اور کسی کو اپنے بچے کا کفیل نہ بنا دے ۔