It was narrated that Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) did not leave behind a Dinar nor a Dirham, nor a sheep, nor a camel, and he did not make a will concerning anything.”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد اور ابو معاویہ نے بیان کیا، اور ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہیں ابو بکر اور عبداللہ بن نمیر نے العمش کی سند سے بیان کیا, شقیق کے حکم پر، مسروق کے اختیار پر، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی وفات کے وقت ) دینار، درہم، بکری اور اونٹ نہیں چھوڑے اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی ۔
It was narrated from Malik bin Mighwal that Talhah bin Musarrif said:
“I said to Abdullah bin Abu Awfa رضی اللہ عنہ : 'Did the Messenger of Allah (ﷺ) make a will concerning anything?' He said: 'No.' I said: 'How come he told the Muslims to make wills?' He said: 'He enjoined (them to adhere to) the book of Allah (SWT).” Malik said: “Talhah bin Musarrif said: 'Huzail bin Shurahbil said: “Abu Bakr رضی اللہ عنہ was granted leadership according to the will of Allah's Messenger (ﷺ)?” (Rather) Abu Bakr رضی اللہ عنہ wished that the found a covenant (in that regard) from Allah's Messenger (ﷺ), so he could fetter his nose with a (camel's) nose ring.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے مالک بن مغول کی سند سے بیان کیا, طلحہ بن مصرف کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کی وصیت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، میں نے کہا: پھر کیوں کر مسلمانوں کو وصیت کا حکم دیا؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب ( قرآن ) پر چلنے کی وصیت فرمائی ۔ مالک کہتے ہیں: طلحہ بن مصرف کا بیان ہے کہ ہزیل بن شرحبیل نے کہا: بھلا ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم کے وصی پر حکومت کر سکتے تھے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تو یہ حال تھا کہ اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پاتے تو تابع دار اونٹنی کی طرح اپنی ناک میں ( اطاعت کی ) نکیل ڈال لیتے۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“What the Messenger of Allah (ﷺ) most enjoined when he was dying and breathing his last was: The prayer; and those whom your right hands possess.”
ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد کو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا, بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب جب آپ کا سانس اٹک رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عام وصیت یہ تھی: لوگو! نماز اور غلام و لونڈی کا خیال رکھنا ۔
It was narrated that 'Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ said:
“The last words of the Prophet (ﷺ) were: The prayer; and those whom your right hands prossess.”
ہم سے سہل بن ابی سہل نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، انہوں نے مغیرہ کی سند سے اور ام موسیٰ رضی اللہ عنہا سے, علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بات یہ تھی: نماز کا اور اپنے غلام و لونڈی کا خیال رکھنا ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The Muslim man has no right to spend two nights, if he has something for which a will should be made, without having a written will with him.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ بن عمر سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے پاس وصیت کرنے کے قابل کوئی چیز ہو، اسے یہ حق نہیں ہے کہ وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The one who is deprived is the one who is deprived of a will.”
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے درست بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یزید الرقاشی نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محروم وہ ہے جو وصیت کرنے سے محروم رہے ۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever dies leaving a will, he dies on the right path and Sunnah, and he dies with piety and witness, and he dies forgiven.”
ہم سے محمد بن المصفی الحمصی نے بیان کیا، کہا: ہم سے بقیہ بن ولید نے بیان کیا، انہوں نے یزید بن عوف سے اور ابو الزبیر کی سند سے,جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وصیت کر کے مرا، وہ راہ ( راہ راست ) پر اور سنت کے مطابق مرا، نیز پرہیزگاری اور شہادت پر اس کا خاتمہ ہوا، اس کی مغفرت ہو گی ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: “The Muslim man has no right to spend two nights, if he has something for which will should be made, without having a written will with him.”
ہم سے محمد بن معمر نے بیان کیا، کہا ہم سے رواہ نے بیان کیا، عوف سے اور نافع سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے لیے یہ بات مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں بھی اس طرح گزارے کہ اس کی وصیت لکھی ہوئی اس کے پاس نہ ہو، جب کہ اس کے پاس وصیت کرنے کے لائق کوئی چیز ہو ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever tries to avoid giving the inheritance to his heirs, Allah (SWT) will deprive him of his inheritance in Paradise on the Day of Resurrection.”
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرحیم بن زید العمی نے اپنے والد سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کو میراث دلانے سے بھاگے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے جنت کی میراث نہ دے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “A man may do the deeds of the people of goodness for seventy years, then when he makes his will, he is unjust in his will, so he ends (his life) with evil deeds and enters Hell. And a man may do the people of evil for seventy years, then he is just in his will, so he ends (his life) with good deeds and enters Paradise. ”Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said: “Recite, if you wish: “These are the limits (set by) Allah (STW) up to His saying: 'a disgraceful torment'”
ہم سے احمد بن الازہر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے اشعث بن عبد اللہ کی سند سے اور شہر بن حوشب کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی ستر سال تک نیک عمل کرتا رہتا ہے، پھر وصیت کے وقت اپنی وصیت میں ظلم کرتا ہے، تو اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور جہنم میں جاتا ہے، اسی طرح آدمی ستر سال تک برے اعمال کا ارتکاب کرتا رہتا ہے لیکن اپنی وصیت میں انصاف کرتا ہے، اس کا خاتمہ بالخیر ہوتا ہے، اور جنت میں جاتا ہے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو تو اس آیت کریمہ: «تلك حدود الله» ( سورۃ النساء: ۱۳- ۱۴ ) کو پڑھو یعنی یہ حدود اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتیوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے، اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔
It was narrated from Mu'awiyah bin Qurrah رضی اللہ عنہ, from his father that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever makes a will as death approaches, and his will is in accordance with the book of Allah (SWT) it will be an expiation for whatever he did not pay of his Zakah during his lifetime.”
ہم سے یحییٰ بن عثمان بن سعید بن کثیر بن دینار الحمسی نے بقیہ کی سند سے، ابوحلباس کی سند سے، خالد بن ابی خلید سے، معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ سے، اپنے والد کی سند سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے موت کے وقت اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے موافق وصیت کی تو یہ وصیت اس کی اس زکاۃ کا کفارہ ہو جائے گی جو اس نے اپنی زندگی میں ادا نہ کی ہو گی ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“A man came to the Prophet (ﷺ) and said: “O Messenger of Allah (ﷺ), tell me, which of the people has most right to my good companionship?' He said: 'Yes, by your father, you will certainly be told.' He said: 'Your mother,' He said: 'Then who?' He said: Then your mother.' He said: 'Then who?' He said: Then your mother.' He said: 'Then who?' He said: Then your father.' He said: 'Tell me, O Messenger of Allah (ﷺ) about my wealth- how should I give in charity?' He said: 'Yes, by Allah (SWT) you will certainly be told. You should give in charity when you are still healthy and greedy for wealth, hoping for a long life and fearing poverty. Do not tarry until your soul reaches here and you say: “My wealth of for so-and-so,” and “My wealth of for so-and-so,” and it will be for them even though you dislike that.'”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شریک نے عمرہ بن قعقاع اور ابن شبرمہ کی سند سے ابو زرعہ کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بتائیے کہ لوگوں میں کس کے ساتھ حسن سلوک کا حق مجھ پر زیادہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تمہارے والد کی قسم، تمہیں بتایا جائے گا، ( سب سے زیادہ حقدار ) تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہوسلم نے فرمایا: پھر تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تمہارا باپ کہا: مجھے بتائیے کہ میں اپنا مال کس طرح صدقہ کروں؟ آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اللہ کی قسم! یہ بھی تمہیں بتایا جائے گا، صدقہ اس حال میں کرو کہ تم تندرست ہو، مال کی حرص ہو، زندہ رہنے کی امید ہو، فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو، ایسا نہ کرو کہ تمہاری سانس یہاں آ جائے ( تم مرنے لگو ) تو اس وقت کہو: میرا یہ مال فلاں کے لیے اور یہ مال فلاں کے لیے ہے، اب تو یہ مال ورثاء کا ہے گرچہ تم نہ چاہو ۔
It was narrated that Busr bin Jahhash Al-Quraishi رضی اللہ عنہ that :
The Prophet (ﷺ) spat in his palm then pointed to it with his index finger and said: “Allah (SWT) says: 'Do you think you can escape from My punishment, O son of Adam, when I have created you from something like this? When your soul reaches here' - and (the Prophet (ﷺ)) pointed to his throat - 'You say: I give charity.' But it is too late for charity?”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو حارث بن عثمان نے خبر دی، مجھ سے عبدالرحمٰن بن میسرہ نے بیان کیا، وہ جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ سے, بسر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر لعاب مبارک ڈالا، اور اس پر شہادت کی انگلی رکھ کر فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تم مجھے کس طرح عاجز کرتے ہو، حالانکہ میں نے تمہیں اسی جیسی چیز ( منی ) سے پیدا کیا ہے پھر جب تمہاری سانس یہاں پہنچ جاتی ہے، آپ نے اپنے حلق کی جانب اشارہ فرمایا تو کہتا ہے کہ میں صدقہ کرتا ہوں، اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا ؟
It was narrated from 'Amir bin Sa'd رضی اللہ عنہ that his father said:
“I became sick during the year of the Conquest, and was at death's door. The Messenger of Allah (ﷺ) came to visit me and I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), I have a great deal of wealth and no one will inherit from me apart from my daughter. Can I give two thirds of my wealth in charity?' He said: 'No.' I said: 'Then half?' He said: 'No.' I said: 'One third?' He said: One third and one third is a lot. If you leave your heirs rich that is better than leaving them destitute and begging from people.”
ہم سے ہشام بن عمار، حصین بن الحسن المروزی اور سہل نے بیان کیا, ہم سے سفیان بن عیینہ نے الزہری کی سند سے، عامر بن سعد سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں فتح مکہ کے سال ایسا بیمار ہوا کہ موت کے کنارے پہنچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لائے، تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت سارا مال ہے، اور ایک بیٹی کے علاوہ کوئی وارث نہیں ہے، تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: نہیں ، میں نے کہا: پھر آدھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، میں نے کہا: تو ایک تہائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تہائی، حالانکہ یہ بھی زیادہ ہی ہے ، تمہارا اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ کر جانا، انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah (SWT) has been charitable with you over the disposal of one third of your wealth at the time of your death, so that you may be able to add to the record of your good deeds.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے طلحہ بن عمرو سے اور عطاء کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے وقت تم پر تہائی مال کا صدقہ کیا ہے، ( یعنی وصیت کی اجازت دی ہے ) تاکہ تمہارے نیک اعمال میں اضافہ ہو ۔
It was narrated from Ibn Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “(Allah says) O son of Adam! I have given you two things which you do not deserve (except by mercy of Allah (SWT)): I allow you to dispose of a share of your wealth when you are on your deathbed, in order to cleanse and purify you, and my slaves pray for you after your life is over.”
ہم سے صالح بن محمد بن یحییٰ بن سعید القطان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ہمیں مبارک بن حسان نے نافع کی سند سے خبر دی , عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! میں نے دو ایسی چیزیں عنایت کیں جن میں سے ایک پر بھی تمہارا حق نہیں تھا، میں جس وقت تمہاری سانس روکوں اس وقت تمہیں مال کے ایک حصہ ( یعنی تہائی مال کے صدقہ کرنے ) کا اختیار دیا، تاکہ اس کے ذریعے سے میں تمہیں پاک کروں اور تمہارا تزکیہ کروں، دوسری چیز تمہارے مرنے کے بعد میرے بندوں کا تم پر نماز ( جنازہ ) پڑھنا ۔
It was narrated that Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
“I would like the people to reduce (the will) from one third to one quarter, because the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'One third is a lot.'”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میری تمنا ہے کہ لوگ تہائی مال کے بجائے چوتھائی مال میں وصیت کریں، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک تہائی حصہ بھی بڑا ہے یا زیادہ ہے ۔
It was narrated from 'Amr bin Kharijah رضی اللہ عنہ :
“The Prophet (ﷺ) addressed them when he was on his camel. His camel was chewing its cud and its saliva was dripping between my shoulders. He said: 'Allah (SWT) has allocated for each heir his share of the inheritance, so it is not permissible (to make) a bequest for an heir. The child belong to the bed and the adulterer gets the stone. Whoever claims to belong to someone other than his father, or (a freed slave) who claims that his Wala is for other than his Mavali, upon him will be the curse of Allah, the angels and all the people, and no charge nor equitable exchange will be accepted from him.” Or he said: “No equitable exchange nor change.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو سعید بن ابی عروبہ نے خبر دی، وہ قتادہ کی سند سے، وہ شہر بن حوشب نے، وہ عبدالرحمٰن بن غنم سے,عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس حال میں خطبہ دیا کہ آپ اپنی سواری ( اونٹنی ) پر تھے، وہ جگالی کر رہی تھی، اور اس کا لعاب میرے مونڈھوں کے درمیان بہہ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر وارث کے لیے میراث کا حصہ متعین کر دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر اس کی ولادت ہوئی، اور زنا کرنے والے کے لیے پتھر ہے، جو شخص اپنے باپ دادا کے علاوہ دوسرے کی طرف نسبت کا دعویٰ کرے یا ( غلام ) اپنے مالک کے علاوہ دوسرے شخص کو مالک بنائے، تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا نفل قبول ہو گا، نہ فرض یا یوں کہا کہ نہ فرض قبول ہو گا نہ نفل ۔
Shurahbil bin Muslim Al-Khawlani narrated from Abu Umamah Al-Bahili رضی اللہ عنہ that:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say in his sermon, during the year of the Farewell pilgrimage: “Allah (SWT) has given each person who has rights his rights, and there is no bequest for in heir.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، ہم سے شر حبیل بن مسلم الخولانی نے بیان کیا, ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ حجۃ الوداع کے سال اپنے خطبہ میں فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ نے ( میت کے ترکہ میں ) ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“I was under the she-camel of the Messenger of Allah (ﷺ) and its saliva was dripping between my shoulders, and I heard him say: 'Allah (SWT) has given each person who has rights his rights, but there is no bequest for an heir.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن شعیب بن شابور نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے نیچے کھڑا تھا، اس کا لعاب میرے اوپر بہہ رہا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ نے ( میت کے ترکہ میں ) ہر ایک حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، تو سنو! کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے ۔