It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “O Abu Hurairah. Learn about the inheritance and teach it, for it is half of knowledge, but it will be forgotten. This is the first thing that will be taken away from my nation.’”
ہم سے ابراہیم بن المنذر الحزامی نے بیان کیا، کہا ہم سے حفص بن عمر بن ابی العطاف نے بیان کیا، ہم سے ابو الزناد نے العرج کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! علم فرائض سیکھو اور سکھاؤ، اس لیے کہ وہ علم کا آدھا حصہ ہے، وہ بھلا دیا جائے گا، اور سب سے پہلے یہی علم میری امت سے اٹھایا جائے گا ۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما said:
“The wife of Sa’d bin Rabi’ came with the two daughters of Sa’d to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, these are the two daughters of Sa’d. He was killed with you on the day of Uhud, and their paternal uncle has taken all that their father left behind, and a woman is only married for her wealth.’ The Prophet (ﷺ) remained silent until the Verse of inheritance was revealed to him. Then the Messenger of Allah (ﷺ) called the brother of Sa’d bin Rabi’ رضی اللہ عنہ and said: ‘Give the two daughters of Sa’d two thirds of his wealth, and give his wife on eighth, and take what is left.’”
ہم سے محمد بن ابی عمر العدنی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، عبداللہ بن محمد بن عقیل کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیوی ان کی دونوں بیٹیوں کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دونوں سعد کی بیٹیاں ہیں، جو آپ کے ساتھ غزوہ احد میں تھے اور شہید ہو گئے، ان کے چچا نے ان کی ساری میراث پر قبضہ کر لیا ( اب ان بچیوں کی شادی کا معاملہ ہے ) اور عورت سے مال کے بغیر کوئی شادی نہیں کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ میراث والی آیت نازل ہوئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے بھائی کو طلب کیا اور فرمایا: سعد کی دونوں بیٹیوں کو ان کے مال کا دو تہائی حصہ اور ان کی بیوی کو آٹھواں حصہ دے دو، پھر جو بچے وہ تم لے لو ۔
It was narrated that Huzail bin Shurahbil رضی اللہ عنہما said:
“A man came to Abu Musa Al-Ash’ari and Salman bin Rabi’ah Al-Bahili رضی اللہ عنہما and asked them about (the shares of) a daughter, a son’s daughter, a sister through one’s father and mother. They said: ‘The daughter gets one half, and what is left goes to the sister. Go to Ibn Mas’ud رضی اللہ عنہ, for he will concur with what we say.’ So the man went to Ibn Mas’ud رضی اللہ عنہ, and told him what they had said. ‘Abdullah رضی اللہ عنہ said: ‘I will go astray and will not be guided (if I say that I agree); but I will judge as the Messenger of Allah (ﷺ) judged. The daughter gets one half, and the son’s daughter gets one- sixth. That makes two thirds. And what is left goes to the sister.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابو قیس الاودی کی سند سے, ہذیل بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک آدمی ابوموسیٰ اشعری اور سلمان بن ربیعہ باہلی رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اور ان سے اس نے بیٹی، پوتی اور حقیقی بہن کے ( حصہ کے ) بارے میں پوچھا، تو ان دونوں نے کہا: آدھا بیٹی کے لیے ہے، اور جو باقی بچے وہ بہن کے لیے ہے، لیکن تم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، اور ان سے بھی معلوم کر لو، وہ بھی ہماری تائید کریں گے، وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے بھی مسئلہ معلوم کیا، نیز بتایا کہ ابوموسیٰ اشعری، اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما نے یہ بات بتائی ہے، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں ایسا حکم دوں تو گمراہ ہو گیا، اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ رہا، لیکن میں وہ فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، بیٹی کے لیے آدھا، اور پوتی کے لیے چھٹا حصہ ہے، اس طرح دو تہائی پورے ہو جائیں، اور جو ایک تہائی بچا وہ بہن کے لیے ہے ۔
It was narrated that Ma’qil bin Yasar Al-Muzani رضی اللہ عنہ said:
“I heard the Prophet (ﷺ) when a case was brought to him which involved the share of a grandfather. He gave him one third, or one sixth.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن ابی اسحاق نے بیان کیا، ان سے ابی اسحاق نے عمرو بن میمون کی سند سے, معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ کے پاس ترکے کا ایک ایسا مقدمہ لایا گیا جس میں دادا بھی ( وراثت کا حقدار ) تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک تہائی یا چھٹا حصہ دیا ۔
It was narrated that Ma’qil bin Yasar رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning a grandfather who was among us, that he should receive one sixth.”
ہم سے ابو حاتم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن الطباع نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، یونس سے اور حسن رضی اللہ عنہ سے, معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے خاندان کے ایک دادا کے لیے چھٹے حصہ کا فیصلہ فرمایا۔
It was narrated that Ibn Dhu’aib رضی اللہ عنہ said:
“A grandmother came to Abu Bakr Siddiq رضی اللہ عنہ and asked him for her inheritance. Abu Bakr said to her: ‘You have nothing according to the Book of Allah, and I don’t know of anything for you according to the Book of Allah, and I don’t know of anything for you according to the Sunnah of the Messenger of Allah (ﷺ). Go back until I ask the people.’ So he asked the people and Al-Mughirah bin Shu’bah said: ‘I was present with the Messenger of Allah (ﷺ) and he gave her (the grandmother) one sixth.’ Abu Bakr رضی اللہ عنہ said: ‘Is there anyone else with you (who will corroborate what you say)?’ Muhammad bin Maslamah Al-Ansari stood up and said something like what Mughirah bin Shu’bah had said. So Abu Bakr رضی اللہ عنہ applied it in her case.”
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح المصری نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، وہ ابن شہاب کی سند سے، انہوں نے قبیصہ بن ذویب سے روایت کی۔ اور ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، اسے مالک بن انس نے ابن شہاب سے روایت کیا, عثمان بن اسحاق بن خرشہ کی روایت سے,قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک نانی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا حصہ مانگنے آئی، تو آپ نے اس سے کہا: کتاب اللہ ( قرآن ) میں تمہارے حصے کا کوئی ذکر نہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی مجھے تمہارا کوئی حصہ معلوم نہیں، تم لوٹ جاؤ یہاں تک کہ میں لوگوں سے اس سلسلے میں معلومات حاصل کر لوں، آپ نے لوگوں سے پوچھا، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھٹا حصہ دلایا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی تھا؟ تو محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اور وہی بات بتائی جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بتائی تھی، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کو نافذ کر دیا۔ پھر دوسری عورت جو دادی تھی عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا حصہ مانگنے آئی، تو آپ نے کہا: کتاب اللہ ( قرآن ) میں تمہارا کوئی حصہ نہیں، اور جو فیصلہ پیشتر ہو چکا ہے وہ تمہارے لیے نہیں، بلکہ نانی کے لیے ہوا، اور میں از خود فرائض میں کچھ بڑھا بھی نہیں سکتا، وہی چھٹا حصہ ہے اگر دادی اور نانی دونوں ہوں تو دونوں اس چھٹے حصے کو آدھا آدھا تقسیم کر لیں، اور دونوں میں سے ایک ہو تو وہ چھٹا حصہ پورا لے لے۔ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کے ساتھ کوئی اور ہے (جو آپ کی بات کی تصدیق کرے)؟‘‘ محمد بن مسلمہ الانصاری کھڑے ہوئے اور کچھ ایسا ہی کہا جو مغیرہ بن شعبہ نے کہا تھا۔ چنانچہ ابوبکر نے اسے اپنے معاملے میں لاگو کیا۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) gave a grandmother one sixth of the inheritance.
ہم سے عبدالرحمٰن بن عبد الوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے سالم بن قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے شریک کی سند سے، لیث کی سند سے، طاؤس کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادی و نانی کو چھٹے حصے کا وارث بنایا۔
It was narrated from Ma’dan bin Abu Talhah Al-Ya’muri that:
‘Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ stood up to deliver a sermon one Friday, or he addressed them one Friday. He praised and glorified Allah, and said: “By Allah, I am not leaving behind any problem more difficult than the one who leaves behind an heir. I asked the Messenger of Allah (ﷺ), and he never spoke so harshly to me about anything as he spoke to me about this. He jabbed his finger into my side or my chest and said: ‘O ‘Umar, sufficient for you is the Verse that was revealed in summer, at the end of Surat An-Nisa’.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، انہوں نے سعید کی سند سے، وہ قتادہ کی سند سے، وہ سالم بن ابی الجعد کی سند سے, معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، یا خطبہ دیا، تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے بعد کلالہ ( ایسا مرنے والا جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا ) کے معاملے سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں چھوڑ رہا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر سختی سے جواب دیا کہ ویسی سختی آپ نے مجھ سے کبھی نہیں کی یہاں تک کہ اپنی انگلی سے میری پسلی یا سینہ میں ٹھوکا مارا پھر فرمایا: اے عمر! تمہارے لیے آیت صیف «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں: آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ ( خود ) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے ( سورۃ النساء: ۱۷۶ ) جو کہ سورۃ نساء کے آخر میں نازل ہوئی، وہی کافی ہے.
‘Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ said:
“There are three things, if the Messenger of Allah (ﷺ) had clarified them, that would have been dearer to me than the world and everything in it: a person who leaves behind no heir, usury, and the caliphate.”
ہم سے علی بن محمد اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا, مرہ بن شراحیل کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا
تین باتیں ایسی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بیان فرما دیتے تو میرے لیے یہ دنیا و مافیہا سے زیادہ پسندیدہ ہوتا، یعنی کللہ، سود اور خلافت۔
It was narrated from Muhammad bin Munkadir that:
He heard Jabir bin ‘Abdullah say: “I fell sick and the Messenger of Allah (ﷺ) came to visit me, he and Abu Bakr رضی اللہ عنہ with him, and they came walking. I had lost consciousness, so the Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution and poured some of the water of his ablution over me. I said: ‘O Messenger of Allah, what should I do? How should I decide about my wealth?’ Until the Verse of inheritance was revealed at the end of An-Nisa’: “If the man or woman whose inheritance is in question has left neither ascendants or descendents.” [4:12] And: “They ask you for a legal verdict. Say: ‘Allah directs (thus) about those who leave neither descendants nor ascendants as heirs.’” [4:176]
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن المنکدر سے
انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا: میں بیمار ہوا تو میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کرنے آئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے، دونوں پیدل آئے، مجھ پر بیہوشی طاری تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا، اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا ( مجھے ہوش آ گیا ) تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کیا کروں؟ اپنے مال کے بارے میں کیا فیصلہ کروں؟ یہاں تک کہ سورۃ نساء کے اخیر میں میراث کی یہ آیت نازل ہوئی «وإن كان رجل يورث كلالة» اور جن کی میراث لی جاتی ہے، وہ مرد یا عورت کلالہ ہو یعنی اس کا باپ بیٹا نہ ہو ( سورۃ النساء: 12 ) اور «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں: آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ ( خود ) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے ( سورۃ النساء: ۱۷۶ ) ۔
It was narrated from Usamah bin Zaid رضی اللہ عنہما :
Who attributed it to the Prophet (ﷺ): “The Muslim does not inherit from a disbeliever and the disbeliever does not inherit from a Muslim.”
ہم سے ہشام بن عمار اور محمد بن الصباح نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری کی سند سے، علی بن حسین کی سند سے، عمرو بن عثمان کی سند سے, اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا، اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو گا ۔
It was narrated from Usamah bin Zaid رضی اللہ عنہما that:
He said: “O Messenger of Allah, will you stay in your house in Makkah?” He said: “Has ‘Aqeel left us any houses?” 'Aqeel had inherited Abu Talib along with Talib. Neither Ja'far nor 'Ali inherited anything because they had been Muslims, and 'Aqeel and Talib رضی اللہ عنہما had been disbelievers. So on account of that, Umar رضی اللہ عنہما would say the believer does not inherit from the disbeliever. And Usamah رضی اللہ عنہ said: the Messenger of Allah (ﷺ) said "The Muslim does not inherit from the disbeliever nor the disbeliever from the Muslim."
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا: ہمیں یونس نے ابن شہاب سے اور علی بن حصین سے روایت کی کہ انہیں عمرو بن عثمان نے خبر دی, اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں ٹھہریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقیل نے ہمارے لیے گھر یا زمین چھوڑی ہی کہاں ہے ؟ عقیل اور طالب دونوں ابوطالب کے وارث بنے اور جعفر اور علی رضی اللہ عنہما کو کچھ بھی ترکہ نہیں ملا اس لیے کہ یہ دونوں مسلمان تھے، اور عقیل و طالب دونوں ( ابوطالب کے انتقال کے وقت ) کافر تھے، اسی بناء پر عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ مومن کافر کا وارث نہیں ہو گا۔ اور اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ مسلمان کافر کا وارث ہو گا، اور نہ ہی کافر مسلمان کا ۔
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “People of two different religions do not inherit from one another.”
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابن لہیہ نے خالد بن یزید کی سند سے خبر دی، انہیں المثنیٰ بن الصباح نے عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو مذہب والے ( جیسے کافر اور مسلمان ) ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے ۔
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, that his grandfather said:
“Rabab bin Hudhaifah (bin Sa’eed) bin Sahm married Umm Wa’il bint Ma’mar Al-Jumahiyyah, and she bore him three sons. Their mother died and her sons inherited her houses and the Wala’ of her freed slaves. ‘Amr bin ‘As took them out to Sham, and they died of the plague of ‘Amwas. ‘Amr inherited from them, and he was their ‘Asabah.* When ‘Amr رضی اللہ عنہ came back, Banu Ma’mar came to him and they referred their dispute with him concerning the Wala’ of their sister to ‘Umar رضی اللہ عنہ. ‘Umar رضی اللہ عنہ said: ‘I will judge between you according to what I heard from the Messenger of Allah (ﷺ). I heard him say: “What the son or father acquires goes to his. ‘Asabah, no matter who they are.’” So he ruled in our favour and wrote a document to that effect, in which was the testimony of ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf, Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہما and someone else. Then when ‘Abdul-Malik bin Marwan was appointed caliph, a freed slave of hers (Umm Wa’il’s) died, leaving behind two thousand Dinar. I heard that that ruling had been changed, so they referred the dispute to Hisham bin Isma’il. We referred the matter to ‘Abdul-Malik, and brought him the document of ‘Umar رضی اللہ عنہ . He said: ‘I thought that this was a ruling concerning which there was no doubt. I never thought that the people of Al-Madinah would reach such a state that they would doubt this ruling. So he ruled in our favour, and it remained like that afterwards.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ہم سے حسین المعلم نے بیان کیا، ان سے عمرو بن شعیب نے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہ
رباب بن حذیفہ بن سعید بن سہم نے ام وائل بنت معمر جمحیہ سے نکاح کیا، اور ان کے تین بچے ہوئے، پھر ان کی ماں کا انتقال ہوا، تو اس کے بیٹے زمین جائیداد اور ان کے غلاموں کی ولاء کے وارث ہوئے، ان سب کو لے کر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ شام گئے، وہ سب طاعون عمواس میں مر گئے تو ان کے وارث عمرو رضی اللہ عنہ ہوئے، جو ان کے عصبہ تھے، اس کے بعد جب عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ شام سے لوٹے تو معمر کے بیٹے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنی بہن کے ولاء ( حق میراث ) کا مقدمہ لے کر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اسی کے مطابق تمہارا فیصلہ کروں گا، میں نے آپ صلی اللہعلیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس ولاء کو لڑکا اور والد حاصل کریں وہ ان کے عصبہ کو ملے گا خواہ وہ کوئی بھی ہو ، اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے ہمارے حق میں فیصلہ کر دیا، اور ہمارے لیے ایک دستاویز لکھ دی، جس میں عبدالرحمٰن بن عوف، زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اور ایک تیسرے شخص کی گواہی درج تھی، جب عبدالملک بن مروان خلیفہ ہوئے تو ام وائل کا ایک غلام مر گیا، جس نے دو ہزار دینار میراث میں چھوڑے تھے، مجھے پتہ چلا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا کیا ہوا فیصلہ بدل دیا گیا ہے، اور اس کا مقدمہ ہشام بن اسماعیل کے پاس گیا ہے، تو ہم نے معاملہ عبدالملک کے سامنے اٹھایا، اور ان کے سامنے عمر رضی اللہ عنہ کی دستاویز پیش کی جس پر عبدالملک نے کہا: میرے خیال سے تو یہ ایسا فیصلہ ہے جس میں کسی کو بھی شک نہیں کرنا چاہیئے، اور میں یہ نہیں سمجھ رہا تھا کہ مدینہ والوں کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ وہ اس جیسے ( واضح ) فیصلے میں شک کر رہے ہیں، آخر کار عبدالملک نے ہماری موافقت میں فیصلہ کیا، اور ہم برابر اس میراث پر قابض رہے ۔
It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا that:
The freed slave of the Prophet (ﷺ) fell from a palm tree and died. He left behind wealth but he had no child or close relative. The Prophet (ﷺ) said: “Give his legacy to a man from his village.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا, ہم سے وکیع نے بیان کیا, ہم سے سفیان نے عبدالرحمٰن بن اصبہانی سے، مجاہد بن وردان نے عروہ بن زبیر سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام کھجور کے درخت پر سے گر کر مر گیا، اور کچھ مال چھوڑ گیا، اس نے کوئی اولاد یا رشتہ دار نہیں چھوڑا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی میراث اس کے گاؤں میں سے کسی کو دے دو ۔
It was narrated that the daughter of Hamzah said:
“My freed slave died, leaving behind a daughter. The Messenger of Allah (ﷺ) divided his wealth between myself and his daughter, giving me half and her half.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین بن علی نے زیدہ کی سند سے، محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے الحکم کی سند سے, عبداللہ بن شداد کی اخیافی بہن بنت حمزہ کہتی ہیں کہ
میرا ایک غلام فوت ہو گیا، اس نے ایک بیٹی چھوڑی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مال میرے اور اس کی بیٹی کے درمیان تقسیم کیا، اور مجھے اور اس کی بیٹی کو آدھا آدھا دیا، ( بیٹی کو بطور فرض اور بہن کو بطور عصبہ ) ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The killer does not inherit.”
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، وہ اسحاق بن ابی فروہ سے، انہوں نے ابن شہاب کی سند سے، وہ حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاتل وارث نہ ہو گا ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) stood up, on the day of the conquest of Makkah, and said: “A woman inherits from the blood money and wealth of her husband, and he inherits from her blood money and wealth, so long as one of them did not kill the other. If one of them killed the other deliberately, then he or she inherits nothing from the blood money or wealth. If one of them killed the other by mistake, he or she inherits from the other’s wealth, but not from the blood money
ہم سے علی بن محمد اور محمد بن یحییٰ نے بیان کیا: ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے حسن بن صالح کی سند سے اور محمد بن سعید کی سند سے اور محمد بن یحییٰ نے کہا، عمر بن سعید کی سند سے، عمرو بن شعیب کی سند سے, میرے والد نے مجھے بتایا, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، اور فرمایا: عورت اپنے شوہر کی دیت اور مال دونوں میں وارث ہو گی، اور شوہر بیوی کی دیت اور مال میں وارث ہو گا، جب کہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل نہ کیا ہو، لیکن جب ایک نے دوسرے کو جان بوجھ کر قتل کر دیا ہو تو اس دیت اور مال سے کسی بھی چیز کا وارث نہیں ہو گا، اور اگر ان میں سے ایک نے دوسرے کو غلطی سے قتل کر دیا ہو تو اس کے مال سے تو وارث ہو گا، لیکن دیت سے وارث نہ ہو گا ۔
It was narrated from Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif رضی اللہ عنہ that:
A man shot an arrow at another man and killed him, and he had no heir except a maternal uncle. Abu ‘Ubaidah bin Jarrah رضی اللہ عنہ wrote to ‘Umar رضی اللہ عنہ about that, and ‘Umar رضی اللہ عنہ wrote back to him saying that the Prophet (ﷺ) said: “Allah and His Messenger are the guardians of the one who has no guardian, and the maternal uncle is the heir of one who has no other heir.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے، سفیان کی سند سے، عبدالرحمٰن بن حارث بن عیاش بن ابی ربیعہ الزرقی نے حکیم بن حکیم بن عباد بن حنیف الانصاری کی روایت سے, ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے دوسرے شخص کو تیر مارا، جس سے وہ مر گیا، اور اس کا ماموں کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں تھا تو ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو سارا قصہ لکھ بھیجا، جس کے جواب میں عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی مولیٰ نہیں اس کا مولیٰ اللہ اور اس کے رسول ہیں، اور جس کا کوئی وارث نہیں اس کا وارث اس کا ماموں ہے ۔
It was narrated from Miqdam Abu Karimah رضی اللہ عنہ , a man from Sham who was one of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ), that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever leaves behind wealth, it is for his heirs. Whoever leaves behind poor dependents and a debt, it is for us to take care of – or he said: ‘It is for Allah and His Messenger (to take care of) – I am the heir of the one who has no heir, I will pay the blood money on his behalf and inherit from him. And the maternal uncle is the heir of the one who has no heir, he pays blood money on his behalf and inherits from him.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا۔ اور ہم سے محمد بن ولید نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا۔ ان دونوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا: مجھ سے بدیل بن میسرہ عقیلی نے، علی بن ابی طلحہ کی سند سے، راشد بن سعد کی سند سے, مقدام ابوکریمہ رضی اللہ عنہ (جو اہل شام میں سے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو شخص بوجھ ( قرض یا محتاج اہل و عیال ) چھوڑ جائے تو وہ ہمارے ذمہ ہے ، اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ہے، جس کا کوئی وارث نہ ہو، اس کا وارث میں ہوں، میں ہی اس کی دیت دوں گا، اور میں ہی میراث لوں گا، اور ماموں اس شخص کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہی اس کی طرف سے دیت دے گا، اور وہی اس کا وارث بھی ہو گا ۔