It was narrated that ‘Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) ruled that the sons from the same mother inherit from one another, but not sons from different mothers. A man inherits from his full brother from the same father and mother, but not his brothers from his father.”
ہم سے یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو بحر البکراوی نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ابواسحاق کی سند سے اور حارث کی سند سے, علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ایک ہی ماں کے بیٹے ایک دوسرے سے وراثت میں ملتے ہیں، لیکن مختلف ماؤں کے بیٹے نہیں، آدمی اپنے سگے بھائی سے ایک ہی باپ اور ماں سے وراثت پاتا ہے، لیکن جو اس کےباپ کا بیٹا ہے(ماں کانہیں )"
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Distribute wealth among those who are entitled to shares of inheritance, according to the Book of Allah, then whatever is left over goes to the nearest male relative.’”
ہم سے عباس بن عبد العظیم العنبری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، ہمیں معن طاؤس نے اپنے والد سے خبر دی, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مال کو اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق ذوی الفروض ( میراث کے حصہ داروں ) میں تقسیم کرو، پھر جو ان کے حصوں سے بچ رہے وہ اس مرد کا ہو گا جو میت کا زیادہ قریبی ہو ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“A man died at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and he left no heir except for a slave whom he had set free. The Messenger of Allah (ﷺ) gave the legacy to him.”
ہم سے اسماعیل بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے اور عوسجہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص مر گیا، اور اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا سوائے ایک غلام کے، جس کو اس نے آزاد کر دیا تھا تو آپ نے اس کی میراث اسی غلام کو دلا دی۔
It was narrated from Wathilah bin Asqa’ رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “A woman may get three types of inheritance: From her freed slave woman, a foundling whom she raised, and her child concerning whom she swore in Li’an that he was legitimate.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن رباح التغلبی نے بیان کیا، وہ عبد الواحد بن عبد اللہ النصری کی سند سے, واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت تین میراث حاصل کرتی ہے، ایک تو اپنے اس غلام یا لونڈی کی میراث جس کو وہ آزاد کرے، دوسرے اس بچے کی میراث جس کو راستہ میں لاوارث پا کر پرورش کرے، تیسرے اس بچے کی میراث جس پر اپنے شوہر سے لعان کرے ۔ محمد بن یزید کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہشام کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“Then the Verse of Li’an was revealed, the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Any woman who attributed her child to people to whom he does not belong, then she has no relation to (the religion of) Allah, and she will never enter Paradise, and any man who rejects his child, while he recognizes him, Allah will screen Himself from him on the Day of Resurrection and disgrace him before the witnesses.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، وہ موسیٰ بن عبیدہ سے، مجھ سے یحییٰ بن حرب نے، سعید بن ابی سعید المقبری کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے کسی قوم میں ایسے ( بچہ ) کو ملا دیا جو ان میں سے نہیں تھا، تو اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں، اور وہ اس کی جنت میں ہرگز داخل نہ ہو گی، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کو پہچان لینے کے باوجود انکار کر دیا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کرے گا، اور سب کے سامنے اس کو ذلیل و رسوا کرے گا ۔
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather, that:
The Prophet (ﷺ) said: “It is disbelief for a man to attribute himself to someone other than his father knowingly, or to deny his connection to his father, even subtly.”*
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، وہ یحییٰ بن سعید سے، وہ عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
نبی اکرم صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کا ایسے نسب کا دعویٰ کرنا جس کو وہ پہچانتا نہیں کفر ہے یا اپنے نسب کا انکار کر دینا گرچہ اس کا سبب باریک ( دقیق ) ہو یہ بھی کفر ہے ۔
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever commits adultery with a slave woman or a free woman, his child is illegitimate, and he cannot inherit from him or be inherited from (i.e., this child cannot inherit from him).”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن الیمان نے بیان کیا، ان سے مثنیٰ بن الصباح نے، وہ عمرو بن شعیب سے، وہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی لونڈی یا آزاد عورت سے زنا کیا، پھر اس سے بچہ پیدا ہوا تو وہ ولدالزنا ہے، نہ وہ مرد اس بچے کا وارث ہو گا، نہ وہ بچہ اس مرد کا ۔
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every child who is attributed to his father after his father to whom he is attributed has died, and his heirs attributed him to him after he died, he ruled that* whoever was born to a slave woman whom he owned at the time when he had intercourse with her, he should be named after the one to whom he was attributed, but he has no share of any inheritance that was distributed previously. Whatever inheritance he finds has not yet been distributed, he will have a share of it. But he cannot be named after his father if the man whom he claimed as his father did not acknowledge him. If he as born to a slave woman whom his father did not own, or to a free woman with whom he committed adultery, then he cannot be named after him and he does not inherit from him, even if the one whom he claims as his father acknowledges him. So he is an illegitimate child who belongs to his mother’s people, whoever they are, whether she is a free woman or a slave.” Muhammad bin Rashid said: "What was distributed out during the ignorance period, before Islam.
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر بن بلال دمشقی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو محمد بن راشد نے سلیمان بن موسیٰ سے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے,عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس بچے کا نسب اس کے والد کے مرنے کے بعد اس سے ملایا جائے مثلاً اس کے بعد اس کے وارث دعویٰ کریں ( کہ یہ ہمارے مورث کا بچہ ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یہ فیصلہ فرمایا: اگر وہ بچہ لونڈی کے پیٹ سے ہو لیکن وہ لونڈی اس کے والد کی ملکیت رہی ہو جس دن اس نے اس سے جماع کیا تھا تو ایسا بچہ یقیناً اپنے والد سے مل جائے گا، لیکن اس کو اس میراث میں سے حصہ نہ ملے گا جو اسلام کے زمانے سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں اس کے والد کے دوسرے وارثوں نے تقسیم کر لی ہو، البتہ اگر ایسی میراث ہو جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو تو اس میں سے وہ بھی حصہ پائے گا، لیکن اگر اس کے والد نے جس سے وہ اب ملایا جاتا ہے، اپنی زندگی میں اس سے انکار کیا ہو یعنی یوں کہا ہو کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے، تو وارثوں کے ملانے سے وہ اب اس کا بچہ نہ ہو گا، اگر وہ بچہ ایسی لونڈی سے ہو جو اس مرد کی ملکیت نہ تھی، یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس نے زنا کیا تھا تو اس کا نسب کبھی اس مرد سے ثابت نہ ہو گا، گو اس مرد کے وارث اس بچے کو اس مرد سے ملا دیں، اور وہ بچہ اس مرد کا وارث بھی نہ ہو گا، ( اس لیے کہ وہ ولدالزنا ہے ) گو کہ اس مرد نے خود اپنی زندگی میں بھی یہ کہا ہو کہ یہ میرا بچہ ہے، جب بھی وہ ولدالزنا ہی ہو گا، اور عورت کے کنبے والوں کے پاس رہے گا، خواہ وہ آزاد ہو یا لونڈی ۔ محمد بن راشد کہتے ہیں: اس سے مراد وہ میراث ہے جو اسلام سے پہلے جاہلیت میں تقسیم کر دی گئی ہو۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade selling the right of inheritance or giving it away.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے شعبہ اور سفیان نے بیان کیا، عبداللہ بن دینار کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق ولاء ( میراث ) کو بیچنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah (ﷺ) forbade selling the right of inheritance, or giving it as a gift.
ہم سے محمد بن عبد الملک بن ابی الشوارب نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سلیم الطائفی نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ بن عمر سے، نافع کی سند سے,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق ولاء ( میراث ) کو بیچنے اور اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whatever division of inheritance was made during the Ignorance period, stands according to the division of the Ignorance period, and whatever division of inheritance was made during Islam, it stands according to the division of Islam.”
ہم سے محمد بن رومہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن لہیہ نے عقیل کی سند سے خبر دی کہ انہوں نے نافع کو بیان کرتے ہوئے سنا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میراث زمانہ جاہلیت میں تقسیم ہو چکی، وہ بدستور اس تقسیم پر رہے گی، اور جو میراث زمانہ اسلام آنے تک تقسیم نہیں ہوئی اسے اسلامی دستور کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If the child has cired, the (funeral) prayer should be offered for him (if he dies) and he is an heir.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے ربیع بن بدر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الزبیر نے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ پیدائش کے وقت رو دے تو اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہو گا ۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah and Miswar bin Makhrumah رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “No child inherits until he raises his voice or cries.”
ہم سے عباس بن ولید دمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، وہ سعید بن المسیب کی سند سے, جابر بن عبداللہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ولادت کے وقت ) بچہ وارث نہیں ہو گا جب تک کہ وہ زور سے استہلال نہ کرے ۔ راوی کہتے ہیں: بچے کے استہلال کا مطلب یہ ہے کہ وہ روے یا چیخے یا چھینکے۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Mawhab said:
“I heard Tamim Ad- Dari رضی اللہ عنہ say: ‘I said: O Messenger of Allah, what is the Sunnah concerning a man from among the People of the Book who becomes a Muslim at the hands of another man?’ He said: ‘He is the closest of all people to him in life and in death.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ عبدالعزیز بن عمر رضی اللہ عنہما سے, عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ
میں نے تمیم داری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اہل کتاب کا کوئی آدمی اگر کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے تو اس میں شرعی حکم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندگی اور موت دونوں حالتوں میں وہ اس کا زیادہ قریبی ہے ۔