It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to sacrifice two horned, black-and-white rams and he would say the Name of Allah and pronounce His greatness. I saw him slaughtering them with his own hand, putting his foot on their sides.”
نصر بن علی الجہدمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، اور ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، اور ان دونوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، میں نے قتادہ کو بیان کرتے ہوئے سنا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کرتے، ( ذبح کے وقت ) «بسم الله» اور «الله أكبر» کہتے تھے، اور میں نے آپ کو اپنا پاؤں جانور کے پٹھوں پر رکھ کر اپنے ہاتھوں سے ذبح کرتے ہوئے دیکھا ۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed two rams on the Day of ‘Eid. When he turned them to face towards the prayer direction he said: ‘Verily, I have turned my face towards Him Who has created the heavens and the earth, as a monotheist, and I am not of the polytheists. Verily, my prayer, my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, the Lord of all that exists. He has no partner. And of this I have been commanded, and I am the first of the Muslims. [6:79,162-163] O Allah, from You to You, on behalf of Muhammad and his nation.’”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، وہ یزید بن ابی حبیب کی سند سے، وہ ابو عیاش الزرقی کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن دو مینڈھوں کی قربانی کی، اور جس وقت ان کا منہ قبلے کی طرف کیا تو فرمایا: «إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللهم منك ولك عن محمد وأمته» میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں، بیشک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم ہے اور سب سے پہلے میں اس کے تابعداروں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تیری ہی طرف سے ہے، اور تیرے ہی واسطے ہے، محمد اور اس کی امت کی طرف سے اسے قبول فرما ۔
It was narrated from ‘Aishah and Abu Hurairah رضی اللہ عنہما that:
When the Messenger of Allah (ﷺ) wanted to offer a sacrifice, he brought two large, fat, horned, black-and-white, castrated rams. He slaughtered one on behalf of his nation, for whoever testified to Allah with monotheism and that he had conveyed (the Message), and he slaughtered the other on behalf of Muhammad and the family of Muhammad (ﷺ).
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، وہ عبداللہ بن محمد بن عقیل کی سند سے، وہ ابو سلمہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے، موٹے سینگ دار، چتکبرے، خصی کئے ہوئے مینڈھے خریدتے، ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے، جو اللہ کی توحید اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں، اور دوسرا محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ذبح فرماتے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever can afford it, but does not offer a sacrifice, let him not come near our prayer place.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عیاش نے بیان کیا، وہ عبدالرحمٰن عراج کی سند سے,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو ( قربانی کی ) وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ پھٹکے ۔
It was narrated that Muhammad bin Sirin said:
“I asked Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما about sacrifices and whether they are obligatory. He said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) and the Muslims after him offered sacrifices, and this is the Sunnah.’”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عون نے بیان کیا, محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا قربانی واجب ہے؟ تو جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی ہے، اور آپ کے بعد مسلمانوں نے کی ہے، اور یہ سنت جاری ہے۔
It was narrated that Mikhnaf bin Sulaim رضی اللہ عنہ said:
“We were standing with the Prophet (ﷺ) at ‘Arafat and he said: ‘O people, each family, each year, must offer Udhiyah and ‘Atirah.’
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا، انہوں نے ابن عون سے، انہوں نے کہا: ہمیں ابو رملہ نے خبر دی, مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا: لوگو! ہر گھر والوں پر ہر سال ایک قربانی ۱؎ اور ایک «عتیرہ» ہے ، تم جانتے ہو کہ «عتیرہ» کیا ہے؟ یہ وہی ہے جسے لوگ «رجبیہ» کہتے ہیں ۔
It was narrated from ’Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Prophet (ﷺ) said: “The son of Adam does not do any deed on the Day of Sacrifice that is dearer to Allah than shedding blood. It will come on the Day of Resurrection with its horns and cloven hoofs and hair. Its blood is accepted by Allah before it reaches the ground. So be content when you do it.”
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نافع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو المثنیٰ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو ابن آدم کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں، اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنی سینگ، کھر اور بالوں سمیت ( جوں کا توں ) آئے گا، اور بیشک زمین پر خون گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقام پیدا کر لیتا ہے، پس اپنے دل کو قربانی سے خوش کرو ۔
It was narrated that Zaid bin Arqam رضی اللہ عنہ said:
“The Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘O Messenger of Allah, what are these sacrifices?’ He said: ‘The Sunnah of your father Ibrahim.’ They said: ‘What is there for us in them, O Messenger of Allah?’ He said: ‘For every hair, one merit.’ They said: ‘What about wool, O Messenger of Allah?’ He said: ‘For every hair of wool, one merit.’”
ہم سے محمد بن خلف عسقلانی نے بیان کیا، کہا ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے سلم بن مسکین نے بیان کیا، کہا ہم سے عائض اللہ نے ابوداؤد کی سند سے بیان کیا, زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ، لوگوں نے عرض کیا: تو ہم کو اس میں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی لوگوں نے عرض کیا: اور بھیڑ میں اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھیڑ میں ( بھی ) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے ۔
It was narrated that Abu Sa’eed رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed a horned, defectless ram with a black stomach, black feet and black around its eyes.”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے حفص بن غیاث نے جعفر بن محمد سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے مینڈھے کی قربانی کی جو سینگ دار نر تھا، اس کا منہ اور پیر کالے تھے، اور آنکھیں بھی کالی تھیں ( یعنی چتکبرا تھا ) ۔
Yunus bin Maisarah bin Halbas said:
“I went out with Abu Sa’eed Az- Zuraqi رضی اللہ عنہ, the Companion of the Messenger of Allah (ﷺ), to buy animals or sacrifice.” Yunus said: “Abu Sa’eed pointed to a ram that had some blackness around its ears and jaw, and was neither too big nor too small, and said to me: ‘Buy this one for them, as it seems to resemble the ram of the Messenger of Allah (ﷺ).’”
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن شعیب نے بیان کیا، مجھے سعید بن عبدالعزیز نے خبر دی، یونس بن میسرہ بن حلبس کہتے ہیں کہ
میں صحابی رسول ابوسعید زرقی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قربانی کے جانور خریدنے گیا، تو آپ نے ایک ایسے مینڈھے کی نشاندہی کی جس کی ٹھوڑی اور کانوں میں کچھ سیاہی تھی، اور وہ جسمانی طور پر نہ زیادہ بلند تھا، نہ ہی زیادہ پست، انہوں نے مجھ سے کہا: میرے لیے اسے خرید لو، شاید انہوں نے اس جانور کو رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم کے مینڈھے کے مشابہ سمجھا ۔
It was narrated from Abu Umamah Al-Bahili رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The best of shrouds is a two piece Najrani garment and the best of sacrifices is a horned ram.”
ہم سے عباس بن عثمان الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعید نے بیان کیا کہ انہوں نے سلیم بن عامر رضی اللہ عنہ سے سنا, ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین کفن جوڑا ( تہبند اور چادر ) ہے، اور بہترین قربانی سینگ دار مینڈھا ہے ۔
It was narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
“We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, and the (day of) Al-Adha came. We (sacrificed) one camel on behalf of ten (people) and one cow on behalf of seven.”
ہم سے ہدیہ بن عبد الوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے الفضل بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین بن واقد نے بیان کیا، ان سے علبہ بن احمر نے اور عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں عید الاضحی آ گئی، تو ہم اونٹ میں دس آدمی، اور گائے میں سات آدمی شریک ہو گئے ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“We offered sacrifices at Al-Hudaibiyah with the Prophet (ﷺ), a camel on behalf of seven (people) and a cow on behalf of seven.”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے مالک بن انس کی سند سے، وہ ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں اونٹ کو سات آدمیوں کی طرف سے نحر کیا، اور گائے کو بھی سات آدمیوں کی طرف سے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) slaughtered a cow on behalf of all his wives who had performed ‘Umrah, during the Farewell Pilgrimage.”
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، وہ یحییٰ بن ابی کثیر کی سند سے اور ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی ان ساری بیویوں کی طرف سے جنہوں نے حجۃالوداع میں عمرہ کیا تھا، ایک ہی گائے ذبح کی۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“Camels became scarce at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), so he commanded them to sacrifice cows.”
ہم سے ہناد بن الس ری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، وہ عمرو بن میمون سے اور ابو حیدر ازدی نے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اونٹ کم ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔
It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed one cow during the Farewell Pilgrimage on behalf of the family of Muhammad (ﷺ).
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح المصری ابو طاہر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ابن شہاب سے عمرہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں آل محمد کی طرف سے ایک گائے کی قربانی کی۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
A man came to the Prophet (ﷺ) and said: “I have to offer a sacrifice and I can afford it, but I cannot find (a camel) to buy.” The Prophet (ﷺ) told him to buy seven sheep and slaughter them.
ہم سے محمد بن معمر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر البرسانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ عطاء الخراسانی نے کہا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میرے ذمہ ایک اونٹ کی ( قربانی ) ہے، اور میں اس کی استطاعت بھی رکھتا ہوں، لیکن اونٹ دستیاب نہیں کہ میں اسے خرید سکوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سات بکریاں خریدنے اور انہیں ذبح کرنے کا حکم دیا۔
It was narrated that Rafi’ bin Khadij رضی اللہ عنہ said:
“We were with the Messenger of Allah (ﷺ) in Dhul-Hulaifah in (the land of) Tihamah. We acquired sheep and camels and the people hastened to put cooking pots on the fires before they had been distributed. The Messenger of Allah (ﷺ) came to us and ordered that they be overturned,* then he made one camel equivalent to ten sheep.”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے المحاربی اور عبدالرحیم نے بیان کیا، سفیان ثوری نے سعید بن مسروق کی سند سے, ہم سے الحسین بن علی نے زید کی سند سے، سعید بن مسروق کی سند سے، عبایہ بن رفاعہ کی سند سے, رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے ذوالحلیفہ نامی جگہ میں تھے، ہم نے اونٹ اور بکریاں مال غنیمت میں پائیں، پھر لوگوں نے ( گوشت کاٹنے میں ) عجلت سے کام لیا، اور ہم نے ( مال غنیمت ) کی تقسیم سے پہلے ہی ہانڈیاں چڑھا دیں، پھر ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور ہانڈیوں کو الٹ دینے کا حکم دیا، تو وہ الٹ دی گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر ٹھہرایا ۔
It was narrated from ‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) gave him some sheep, and he distributed them among his Companions to be sacrificed. There remained an ‘Atud.* He mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: “You sacrifice it yourself.”
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، وہ یزید بن ابی حبیب کی سند سے، وہ ابو الخیر کی سند سے, عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکریاں عنایت کیں، تو انہوں نے ان کو اپنے ساتھیوں میں قربانی کے لیے تقسیم کر دیا، ایک بکری کا بچہ بچ رہا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قربانی تم کر لو ۔
Umm Bilal bint Hilal رضی اللہ عنہ narrated from her father that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “It is permissible to offer a Jadha’a* among sheep as a sacrifice.”
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، مجھ سے اسلمین کے آزاد کردہ غلام محمد بن ابی یحییٰ نے اپنی والدہ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا:ہلال اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھیڑ کے ایک سالہ بچے کی قربانی جائز ہے ۔