It was narrated that Umm Kurz رضی اللہ عنہا said:
“I heard the Prophet (ﷺ) say: ‘On behalf of a boy, two sheep of equal age and on behalf of a girl one sheep.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ہشام بن عمار نے بیان کیا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے عبید اللہ بن ابی یزید سے، اپنے والد کی سند سے، سباع بن ثابت سے, ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: لڑکے کی طرف سے دو ہم عمر بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to sacrifice two sheep for a boy’s ‘Aqiqah and one sheep for a girl.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن عثمان بن خثیم نے خبر دی، وہ یوسف بن ماہک سے، وہ حفصہ بنت عبدالرحمٰن سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا: ہم لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی طرف سے ایک بکری کا عقیقہ کریں۔
It was narrated from Salman bin ‘Amir رضی اللہ عنہ that:
He heard the Prophet (ﷺ) say: “For a boy there should be an ‘Aqiqah, so shed blood for him and remove the harm from him.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، وہ حفصہ بنت سیرین سے, سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: لڑکے کا عقیقہ ہے تو تم اس کی طرف سے خون بہاؤ، اور اس سے گندگی کو دور کرو ۔
It was narrated from Samurah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Every boy is mortgaged by his ‘Aqiqah, so slaughter for him on the seventh day, and shave his head, and name him.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب بن اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، وہ قتادہ کی سند سے، انہوں نے حسن رضی اللہ عنہ سے,سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہے، اس کی طرف سے ساتویں دن عقیقہ کیا جائے، اس کا سر مونڈا جائے، اور نام رکھا جائے ۔
Yazid bin ‘Abdul-Muzani رضی اللہ عنہ narrated that:
The Prophet (ﷺ) said: “Offer an ‘Aqiqah for the boy, but do not smear his head with blood.”
ہم سے یعقوب بن حمید بن کسب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا: مجھ سے عمرو بن حارث نے ایوب بن موسیٰ کی سند سے بیان کیا, یزید بن عبدالمزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکے کی طرف سے عقیقہ کیا جائے، اور اس کے سر میں عقیقہ کے جانور کا خون نہ لگایا جائے ۔
It was narrated that Nubaishah رضی اللہ عنہ said:
“A man called the Messenger of Allah (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, we used to sacrifice the ‘Atirah during the Ignorance days in Rajab,; what do you command us to do?’ He said: “Sacrifice to Allah whatever month it is, do good for the sake of Allah and feed (the poor).’ They said: ‘O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Far’ah during the Ignorance days; what do you command us to do?’ He said: ‘For every Sa’imah* (flock of grazing animals), feed the firstborn as you feed the rest of your flock until it reaches an age where it could be used to carry loads, then sacrifice it, and give its meat in charity’ – I** think he said – ‘to the wayfarer, for that is good.’”
ہم سے ابوبشر بکر بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، وہ خالد ہذا کی سند سے اور ابو ملیح کی سند سے, نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی اور کہا: اللہ کے رسول! ہم زمانہ جاہلیت میں ماہ رجب میں «عتیرہ» کرتے تھے، اب آپ اس سلسلے میں ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مہینے میں چاہو اللہ کے لیے قربانی کرو، اللہ تعالیٰ کے لیے نیک عمل کرو، اور ( غریبوں کو ) کھانا کھلاؤ ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں «فرع» کرتے تھے، اب آپ اس سلسلے میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر «سائمہ» ( چرنے والے جانور ) میں «فرع» ہے جس کو تمہارا جانور جنے یہاں تک کہ جب وہ بوجھ لادنے کے لائق ( یعنی جوان ) ہو جائے تو اسے ذبح کرو، اور اس کا گوشت ( میرا خیال ہے انہوں نے کہا ) مسافروں پر صدقہ کر دے تو یہ بہتر ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “There is no Far’ah and no ‘Atirah.” In this narration, Hisham said: "The Far’ah is the first offsping, and the 'Atirah is a sheep that the household sacrifices in Rajab."
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری کی سند سے اور سعید بن المسیب کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ «فرعہ» ہے اور نہ «عتیرہ» ( یعنی واجب اور ضروری نہیں ہے ) ، ہشام کہتے ہیں:«فرعہ»: جانور کے پہلوٹے بچے کو کہتے ہیں، اور «عتیرہ: وہ بکری ہے جسے گھر والے رجب میں ذبح کرتے ہیں ۔
It was narrated from Muhammad bin Abu (‘Umar رضی اللہ عنہما ) ‘Adani that:
The Prophet (ﷺ) said: “There is no Far’ah and no ‘Atirah.”
ہم سے محمد بن ابی عمر العدنی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، زید بن اسلم نے اپنے والد سے,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ «فرعہ» ( واجب ) ہے اور نہ «عتیرہ» ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ابی عمر عدنی کے تفردات میں سے ہے۔
It was narrated from Shaddad bin Aws رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah has prescribed Al-Ihsan (proficiency) in all things. So if you kill, then kill well, and if you slaughter, then slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughters.”
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد الحذیٰ نے بیان کیا، ابو قلابہ سے اور ابو اشعث رضی اللہ عنہ سے, شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ عزوجل نے ہر چیز میں احسان ( رحم اور انصاف ) کو فرض قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو ( تاکہ مخلوق کو تکلیف نہ ہو ) اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے، اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے ۔
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہما said:
“The Prophet (ﷺ) passed by a man who was dragging a sheep by its ear. He said: ‘Leave its ear alone and hold it by the sides of its neck.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عقبہ بن خالد نے بیان کیا، وہ موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی سے، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو ایک بکری کا کان پکڑے اسے گھسیٹ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا کان چھوڑ دو، اور اس کی گردن کی طرف پکڑ لو ( تاکہ اسے تکلیف نہ ہو ) ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) commanded that the blade should be sharpened, and hidden from the animals, and he said: ‘When one of you slaughters, let him do it quickly.’” Another chain with similar wording.
حسین الجعفی کے بھتیجے محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا : ہم سے مروان بن محمد نے بیان کیا : ہم سے ابن لہیعہ نے بیان کیا : مجھ سے قرہ بن حیول نے زہری سے اور سالم بن عبد اللہ بن عمر سے بیان کیا , عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری کو تیز کرنے، اور اسے جانوروں سے چھپانے کا حکم دیا، اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی ذبح کرے تو اچھی طرح ذبح کرے تاکہ اس کی جان جلد نکل جائے۔ ہم سے جعفر بن مسافر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاسود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن لہیہ نے بیان کیا، وہ یزید بن ابی حبیب سے، وہ سلیم رضی اللہ عنہ سے، ان کے والد سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما :
“And certainly, the Shayatin (devils) do inspire their friends (from mankind).” [6:121] He said: “They used to say: ‘Whatever the Name of Allah has been mentioned over, do not eat it, and whatever the Name of Allah has not been mentioned over, eat it.’ Then Allah said: “Eat not of that over which Allah’s Name has not been pronounced.’” [6:121]
ہم سے عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، بنی اسرائیل سے، سماک سے، عکرمہ سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
وہ آیت کریمہ: «إن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم» ( سورة الأنعام: 121 ) کی تفسیر میں کہتے ہیں: ان کی وحی یہ تھی کہ جس ( ذبیحہ ) پر اللہ کا نام لیا جائے اس کو مت کھاؤ، اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے کھاؤ، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے نہ کھاؤ ۔
It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا, the Mother of the Believers, that:
Some people said: “O Messenger of Allah, some people bring us meat, and we do not know whether the Name of Allah has been mentioned over it or not.” He said: “Say: Bismillah and eat.’ They were new in Islam.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحیم بن سلیمان نے ہشام بن عروہ سے اپنے والد سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت ( بیچنے کے لیے ) لاتے ہیں، اور ہمیں نہیں معلوم کہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بسم اللہ کہہ کر کھاؤ اور وہ لوگ ( ابھی ) نو مسلم تھے۔
It was narrated that Muhammad bin Saifi رضی اللہ عنہ said:
“I slaughtered two rabbits with a sharp-edges stone and brought them to the Prophet (ﷺ), and he told me to eat them.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو الاحوص نے بیان کیا، عاصم کی سند سے، شعبی کی سند سے, محمد بن صیفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے ایک تیز دھار والے پتھر سے دو خرگوش ذبح کئے، پھر انہیں لے کر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کے کھانے کی اجازت دی۔
It was narrated from Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ that:
A wolf bit a sheep, and they slaughtered it with a sharp-edged stone, and the Messenger of Allah (ﷺ) allowed them to eat it
ہم سے ابوبشر بکر بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے حیدر بن مہاجر کو سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہوئے سنا, زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
بھیڑئیے نے ایک بکری میں دانت گاڑ دیئے، تو لوگوں نے اس بکری کو پتھر سے ذبح کر ڈالا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دے دی۔
It was narrated that ‘Adi bin Hatim رضی اللہ عنہ said:
“I said: ‘O Messenger of Allah, we hunt game but we cannot find anything but the sharp edge of a stone or stick (with which to slaughter it).’ He said: ‘Cause the blood to flow with whatever you want, and mention the Name of Allah over it.’”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، سماک بن حرب نے مری بن قطری کی سند سے, عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم شکار کرتے ہیں اور ہمیں ذبح کرنے کے لیے تیز پتھر اور دھار دار لکڑی کے سوا کچھ نہیں ملتا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز سے چاہو خون بہاؤ، اور اس پر اللہ کا نام لے لو ۔
It was narrated that Rafi’ bin Khadij رضی اللہ عنہ said:
“We were with the Prophet (ﷺ) on a journey, and I said: ‘O Messenger of Allah, we are (sometimes) on military campaigns, and we have no knife with us.’ He said: ‘(Use) whatever causes the blood to flow, mention the Name of Allah and eat, but (do not use) teeth or nails, for the tooth is a bone and the nail is the knife of the Ethiopians.”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا: ہم سے عمر بن عبید الطنافسی نے، سعید بن مسروق سے، عبایہ بن رفاعہ سے، اپنے دادا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ غزوات میں ہوتے ہیں اور ہمارے پاس چھری نہیں ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خون بہا دے اور جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ بجز دانت اور ناخن سے ذبح کیے گئے جانور کے، کیونکہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے ۔
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) passed by a boy who was skinning a sheep. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: “Step aside and I will show you how.” The Messenger of Allah (ﷺ) put his hand between the skin and the flesh, and thrust his arm in until it disappeared up to the armpit, and said: “O boy, this is how you skin it.” Then he went and led the people in prayer and did not perform Wudu’.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے مروان بن معاویہ نے بیان کیا، ہم سے ہلال بن میمون جہنی نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے بیان کیا، عطاء نے کہا: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا جو بکری کی کھال اتار رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الگ ہو جاؤ میں تمہیں بتاتا ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک گوشت اور کھال کے بیچ داخل فرمایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک پہنچ کر چھپ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لڑکے! اس طرح سے کھال اتارو ، پھر آپ وہاں سے چلے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) came to a man from among the Ansar who had picked up a knife to slaughter an animal for the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: “Avoid those that are lactating.” (i.e. those from which milk is received).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے خلف بن خلیفہ نے بیان کیا اور ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا، انہیں مروان بن معاویہ نے خبر دی، ان سب نے یزید بن کیسان کی سند سے اور ابوحازم کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے پاس تشریف لائے تو اس نے آپ کی ضیافت کے لیے جانور ذبح کرنے کے واسطے چھری سنبھالی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: دودھ والی سے اپنے آپ کو بچانا یعنی اسے ذبح نہ کرنا ۔
Abu Hurairah narrated that Abu Bakr bin Abu Quhafah رضی اللہ عنہ narrated that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said to him and to ‘Umar رضی اللہ عنہ : “Let us go out to Waqifi.” He said: “So we went out in the moonlight until we came to the garden and he (the owner of the garden) said: ‘Welcome.’ Then he took up the knife and went among the sheep (to choose one for slaughter), and the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Avoid those that are lactating.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن المحاربی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبید اللہ نے اپنے والد سے, ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم دونوں ہمیں واقفی کے پاس لے چلو، تو ہم لوگ چاندنی رات میں چلے یہاں تک کہ باغ میں پہنچے تو اس نے ہمیں مرحبا و خوش آمدید کہا، پھر چھری سنبھالی اور بکریوں میں گھوما آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دودھ والی یا فرمایا: تھن والی بکری سے اپنے آپ کو بچانا یعنی اسے ذبح نہ کرنا۔