ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس نے پردہ اٹھایا اور بلا اجازت گھر میں نظر ڈالی اور گھر والوں کی پردہ کی چیز کو دیکھ لیا تو اس نے ایک حد کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب کرنا اس کے لیے حلال نہیں تھا ، اور اگر اس وقت ، جب اس نے نظر ڈالی ، ایک آدمی اس کے سامنے آ گیا اور اس نے اس کی آنکھ پھوڑ دی ، میں اس کی سرزنش نہیں کروں گا ، اور اگر آدمی کسی ایسے دروازے سے گزرے جس کا کوئی پردہ نہ ہو اور نہ وہ بند ہو اور وہ دیکھ لے تو اس کی کوئی غلطی نہیں ، غلطی تو گھر والوں کی ہے ۔‘‘ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے نیام تلوار کسی کو دینے سے منع فرمایا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
حسن ، سمرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو انگلیوں کے درمیان تسمہ چیرنے سے منع فرمایا ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
سعید بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اپنے دین کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے تو وہ شہید ہے ، جو شخص اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے ، جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا مارا جائے وہ بھی شہید ہے اور جو شخص اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے مارا جائے وہ بھی شہید ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
ابن عمر ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جہنم کے سات دروازے ہیں ان میں سے ایک دروازہ اس شخص کے لیے ہے جس نے میری امت کے خلاف تلوار اٹھائی ، یا فرمایا :’’ (جس نے) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے خلاف (تلوار اٹھائی) ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث :’’ چوپائے کے پاؤں سے لگنے والا زخم رائیگاں ہے ۔‘‘ باب الغضب میں ذکر کی گئی ہے ۔
رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حشمہ سے روایت ہے ان دونوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود خیبر آئے اور وہ دونوں کھجوروں کے جھنڈ میں الگ ہو گئے ، چنانچہ عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے ۔ اس کے بعد عبدالرحمن بن سہل اور مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ اور محیصہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ اپنے ساتھی کے معاملے کے متعلق بات کرنے لگے تو عبد الرحمن نے ، جو کہ لوگوں میں سب سے چھوٹے تھے ، بات کرنا شروع کی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ بڑے کو اس کے بڑے ہونے کا حق دو ۔‘‘ یحیی بن سعید نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد تھی کہ جو سب سے بڑا ہے وہ کلام کرے ۔ انہوں نے بات کی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم اپنے مقتول ساتھی کی دیت کے متعلق پچاس قسمیں اٹھا کر حق دار بن سکتے ہو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ ایسا معاملہ ہے کہ ہم نے اسے دیکھا نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہود کے پچاس آدمی قسم اٹھا کر تم سے بری ہو جائیں گے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ تو کافر لوگ ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طرف سے انہیں دیت ادا فرمائی ، اور ایک روایت میں ہے :’’ تم پچاس قسمیں اٹھاؤ اور اپنے قاتل یا اپنے ساتھی کے مستحق بن جاؤ ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طرف سے سو اونٹنیاں بطور دیت ادا فرمائیں ۔ متفق علیہ ۔
رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں ، انصار کا ایک آدمی خیبر میں قتل ہو گیا تو اس کے ورثاء نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اس کے متعلق آپ سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے ساتھی کے قاتل پر گواہی دیں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہاں تو کوئی مسلمان نہیں تھا اور وہ تو یہود ہیں اور وہ اس سے بڑی چیز کے ارتکاب کی جرأت کر جاتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ان میں سے پچاس آدمی چن لو اور ان سے حلف لے لو ۔‘‘ انہوں نے انکار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کا فدیہ ادا فرمایا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عکرمہ بیان کرتے ہیں ، علی ؓ کے پاس کچھ زندیق لائے گئے تو انہوں نے انہیں زندہ جلا دیا ، ابن عباس ؓ کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے فرمایا : اگر میں ہوتا تو میں انہیں کبھی زندہ نہ جلاتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی ممانعت موجود ہے (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا) :’’ اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو ۔‘‘ کی وجہ سے میں انہیں نہ جلاتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان :’’ جو شخص اپنا دین (اسلام) بدل لے تو اسے قتل کر دو ۔‘‘ کے مطابق میں انہیں قتل کر دیتا ۔ رواہ البخاری ۔
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ عنقریب آخری زمانے میں ایک قوم کا ظہور ہو گا جو نو عمر ضعیف العقل ہوں گے ، وہ بظاہر نہایت معقول کام کریں گے ، لیکن ان کا ایمان ان کے حلق سے تجاوز نہیں کرے گا ، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ، تم انہیں جہاں پاؤ وہیں قتل کر دو کیونکہ انہیں قتل کرنے میں روز قیامت ان کے قاتل کے لیے اجر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی اور ان دونوں کے بیچ سے ایک خارجی جماعت رونما ہو گی ، ان کا خاتمہ وہ لوگ کریں گے جو حق کے زیادہ قریب ہونگے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جریر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا :’’ میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ کر کافر نہ بن جانا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوبکرہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب دو مسلمان ملیں اور ان میں سے ایک اپنے بھائی پر اسلحہ تان لے تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں ، جب ان میں سے کوئی اپنے مقابل کو قتل کر دیتا ہے تو وہ دونوں اکٹھے جہنم میں داخل ہو جاتے ہیں ۔‘‘ اور ان سے ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب دو مسلمان اپنی تلواریں سونت کر سامنے آ جاتے ہیں تو قاتل اور مقتول جہنمی ہیں ۔‘‘ میں نے عرض کیا : قاتل تو ہے لیکن مقتول کس وجہ سے ؟ (کہ وہ مظلوم ہونے کے باوجود جہنمی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیونکہ وہ اپنے ساتھی (مد مقابل) کو قتل کرنے پر حریص تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، عکل کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہ آئی تو آپ نے انہیں صدقہ کے اونٹوں کے پاس جانے کا حکم فرمایا تاکہ وہاں وہ ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں ، انہوں نے ایسے کیا اور وہ صحت یاب ہو گئے ، اس کے بعد وہ مرتد ہو گئے اور ان کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹ ہانک کر لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے تعاقب میں آدمی بھیجے تو وہ انہیں پکڑ کر لے آئے ، آپ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں ، پھر ان کا خون بہتا رہا حتی کہ وہ فوت ہو گئے ۔ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ انہوں نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلائیوں کے متعلق حکم فرمایا تو انہیں گرم کیا گیا اور انہیں ان کی آنکھوں میں پھیر کر انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا وہ پانی طلب کرتے رہے مگر انہیں پانی نہ دیا گیا حتی کہ وہ فوت ہو گئے ۔ متفق علیہ ۔
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں صدقہ دینے پر آمادہ کیا کرتے تھے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
امام نسائی نے اسے انس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
عبدالرحمن بن عبداللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں ، ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک چڑیا (سرخ رنگ کی چڑیا) دیکھی ، اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے ، ہم نے اس کے بچے پکڑ لیے تو وہ پھڑ پھڑانے لگی ، اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کس شخص نے اسے ، اس کے بچوں کی وجہ سے بے قرار کر دیا ؟ اس کے بچے اسے واپس کرو ۔‘‘ اور آپ نے چیونٹیوں کا ایک مسکن دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے کس نے جلایا ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا : ہم نے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب کے لائق ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوسعید خدری ؓ اور انس بن مالک ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت میں عنقریب اختلاف و افتراق ہو گا ۔ ایک گروہ باتیں اچھی اچھی لیکن کام برے کرے گا ۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل (کر پار ہو) جاتا ہے ۔ وہ دین کی طرف نہیں پلٹیں گے حتی کہ تیر اپنے سوفار (چٹکی جہاں کمان کا تانت ٹکتا ہے) پر واپس آ جائے ۔ وہ تمام مخلوق سے بدتر ہیں ۔ اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جو ان کو قتل کرتا ہے اور جسے وہ قتل کر دیں ، وہ (بظاہر) اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دیں گے ۔ لیکن وہ کسی چیز میں بھی ہم میں سے نہیں ہوں گے ، جس نے ان سے قتال کیا وہ ان (باقی امتیوں) سے اللہ کے زیادہ قریب ہے ۔‘‘ صحابہ ؓ نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ان کی علامت کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سر منڈانا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو مسلمان یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ، اسے صرف تین وجوہات میں سے کسی ایک وجہ سے قتل کرنا جائز ہے : شادی کے بعد زنا والے کو رجم کیا جائے گا ، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرے (یعنی ڈاکو) ہو ، اسے قتل کیا جائے گا یا سولی پر چڑھایا جائے گا یا جلا وطن کیا جائے گا ۔ یا کوئی شخص کسی جان کو قتل کر دے تو اس کے بدلے میں اسے قتل کیا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن ابی لیلی بیان کرتے ہیں ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ وہ رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، ان میں سے ایک آدمی سو گیا تو کسی شخص نے اپنی رسی لی اور اس کی طرف گیا اور اسے رسی کے ساتھ باندھ دیا تو وہ (سونے والا شخص) گھبرا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کسی مسلمان کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو خوف زدہ کرے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔