ابودرداء ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے خراج والی زمین خرید لی تو اس نے اپنی ہجرت (عزت) ختم کر لی اور جس نے کسی کافر کی گردن سے ذلت اتار کر اپنی گردن میں ڈال لی تو اس نے اسلام کو پس پشت ڈال دیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یمن کے قبیلے) خثعم کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو ان میں سے کچھ لوگ بچنے کے لیے نماز پڑھنے لگے ، لیکن انہیں تیزی سے قتل کیا گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے نصف دیت کا حکم فرمایا ، اور فرمایا :’’ میں مشرکوں کے درمیان رہنے والے تمام مسلمانوں (کے خون) سے برئ الذمہ ہوں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کس لیے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (وہ کافروں سے اس قدر دور رہیں کہ) ان کی آگ نظر نہ آئے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایمان اچانک قتل کرنے سے منع کرتا ہے ۔ مومن اچانک (مطلع کیے بغیر) قتل نہیں کرتا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
جریر ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب غلام مشرکین کے علاقے کی طرف فرار ہو جائے تو اس کا خون حلال ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
علی ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بُرا بھلا کہا کرتی تھی اور آپ کی مذمت کیا کرتی تھی ، ایک آدمی نے اس کا گلا دبا دیا چنانچہ وہ مر گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جادوگر کی حد (یعنی سزا) تلوار کے ساتھ قتل کرنا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
اسامہ بن شریک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص (امام کے خلاف) خروج کرے اور میری امت کے درمیان تفریق ڈالے تو اس کی گردن اڑا دو ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
شریک بن شہاب بیان کرتے ہیں ، میری تمنا تھی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی صحابی سے ملوں اور ان سے خوارج کے متعلق دریافت کروں ، میں عید کے روز ابوبرزہ ؓ سے ان کے ساتھیوں کی موجودگی میں ملا تو میں نے ان سے کہا : کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوارج کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : ہاں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمودات کو اپنے کانوں سے سنا ہے اور آپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کچھ مال پیش کیا گیا تو آپ نے اسے تقسیم فرمایا اور اپنے دائیں بائیں والوں کو عطا کیا ، لیکن آپ نے اپنی پچھلی جانب والوں کو کچھ نہ دیا تو آپ کی پچھلی جانب سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا : محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے تقسیم میں انصاف نہیں کیا ، وہ منڈے ہوئے بالوں والا سیاہ فام شخص تھا ، اس پر دو سفید کپڑے تھے ، (اس پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت ناراض ہوئے اور فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! میرے بعد تم کوئی ایسا آدمی نہیں پاؤ گے جو مجھ سے زیادہ عدل کرنے والا ہو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ آخری زمانے میں ایک قوم کا ظہور ہو گا ، گویا یہ انہی میں سے ہے ، وہ قرآن پڑھتے ہوں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل (کر پار ہو) جاتا ہے ۔ سر منڈانا ان کی علامت ہو گی ، وہ مسلسل ظاہر ہوتے رہیں گے حتی کہ ان کا آخری فرد مسیح دجال کے ساتھ ظاہر ہو گا ۔ جب تم ان سے ملو تو (جان لو کہ) وہ تمام مخلوق سے بدترین ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
ابوغالب سے روایت ہے ، ابوامامہ ؓ نے راہ دمشق پر کچھ سر نصب کیے ہوئے دیکھے تو ابوامامہ ؓ نے فرمایا : (یہ) جہنم کے کتے ہیں ، آسمان تلے یہ بدترین مقتول ہیں ، اور انہوں نے جنہیں قتل کیا ہے وہ بہترین مقتول ہیں ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اس روز بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے ۔‘‘ ابوامامہ ؓ سے پوچھا گیا ، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے ؟‘‘ انہوں نے فرمایا : اگر میں نے اسے (بار بار) سات مرتبہ تک نہ سنا ہوتا تو میں اسے تمہیں بیان نہ کرتا ۔ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔