ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ درندوں میں سے کچلی والے جانور کھانا حرام ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں میں سے کچلی والے ہر جانور اور پرندوں میں سے پنجے (سے شکار کرنے) والے ہر پرندے (کے کھانے) سے منع فرمایا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
ابو ثعلبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت حرام قرار دیا ہے ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے روز پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت فرمائی ۔ متفق علیہ ۔
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا اور اسے شکار کر لیا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ باقی ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہمارے پاس اس کی ٹانگ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے وہ ٹانگ لے کر اسے تناول فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے مرالظہران کے پاس ایک خرگوش کو دوڑایا ، میں اسے پکڑ کر ابوطلحہ ؓ کے پاس لے آیا ، انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کا کولہا اور اس کی دونوں رانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں تو آپ نے انہیں قبول فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہ میں گوہ کھاتا ہوں اور نہ اسے حرام قرار دیتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ خالد بن ولید ؓ نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں میمونہ ؓ کے پاس گئے اور وہ خالد بن ولید کی اور ابن عباس کی خالہ ہیں ، انہوں نے ان کے ہاں بھنا ہوا سانڈا پایا ، میمونہ ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں وہ پیش کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سانڈے سے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا تو خالد ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا سانڈا حرام ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، لیکن یہ میری قوم کے علاقے میں پایا نہیں جاتا اس لیے میں طبعی طور پر اسے ناپسند کرتا ہوں ۔‘‘ خالد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اسے اپنے قریب کر لیا اور کھا لیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف دیکھ رہے تھے ۔ متفق علیہ ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مرغ کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ۔ متفق علیہ ۔
ابن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ، سات غزوات میں شرکت کی ، ہم آپ کے ساتھ ٹڈیاں کھایا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے غزوۂ جیش الخبط میں شرکت کی ، ابوعبیدہ ؓ ہمارے امیر مقرر کیے گئے ، ہم شدید بھوک کا شکار ہو گئے تو سمندر نے ایک بہت بڑی مردہ مچھلی باہر پھینکی ، ہم نے اس جیسی مچھلی کبھی نہیں دیکھی تھی اور اسے عنبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، ہم نے اسے نصف ماہ تک کھایا ۔ ابوعبیدہ ؓ نے اس کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی پکڑی اور اونٹ سوار اس کے نیچے سے گزر گیا ، جب ہم واپس گئے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے تمہاری طرف جو رزق نکالا ہے اسے کھاؤ اور اگر تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم نے اس میں سے کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے اسے تناول فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو وہ اس کو اچھی طرح پانی میں غوطہ دے کر باہر پھینکے ، کیونکہ اس کے دو میں سے ایک پر میں شفاء جبکہ دوسرے میں بیماری ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک چوہیا گھی میں گر کر مر گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق مسئلہ دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کو اور اس کے آس پاس کے گھی کو پھینک دو اور بقیہ (گھی) کھا لو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سانپوں کو قتل کرو اور خاص کر دو لکیروں والے اور دم کٹے سانپ کو قتل کرو ، کیونکہ وہ دونوں بینائی ختم کر دیتے ہیں ، اور حمل گرا دیتے ہیں ۔‘‘ عبداللہ ؓ نے فرمایا : اس اثنا میں کہ میں ایک سانپ کو مارنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑا تو ابولبانہ ؓ نے مجھے آواز دی : اسے مت مارو میں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سانپوں کو مارنے کا حکم فرمایا ہے ، انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد گھروں میں رہنے والوں کو مارنے سے منع فرما دیا تھا ۔ کیونکہ وہ ان (گھروں) کو آباد رکھنے والے ہیں ۔ متفق علیہ ۔
ابوسائب ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ابوسعید خدری ؓ کے پاس گئے ، ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اس اثنا میں ہم نے ان کی چارپائی کے نیچے کوئی آہٹ سنی ، ہم نے دیکھا کہ وہ سانپ تھا ، میں اسے قتل کرنے کے لیے جلدی سے اٹھا جبکہ ابوسعید ؓ نماز پڑھ رہے تھے ، انہوں نے مجھے اشارہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں ، میں بیٹھ گیا ، جب وہ فارغ ہوئے تو انہوں نے گھر میں ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : یہ کمرہ دیکھ رہے ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں ، انہوں نے فرمایا : اس کمرے میں ہمارا ایک نوبیاہتا نوجوان تھا ، انہوں نے فرمایا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خندق کی طرف نکلے ، وہ نوجوان نصف النہار کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت حاصل کر کے اپنی اہلیہ کے پاس آ جایا کرتا تھا ، چنانچہ ایک روز اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ اپنا اسلحہ ساتھ لے جاؤ کیونکہ مجھے تمہارے متعلق بنو قریظہ کا خطرہ ہے ۔‘‘ اس نے اپنا اسلحہ لیا اور اپنے گھر کی طرف چل دیا (جب وہ گھر کے قریب پہنچا تو) اس نے دیکھا کہ اس کی اہلیہ دروازے پر ہے ، اس نے غیرت میں آ کر اس کی طرف نیزہ بڑھایا تاکہ وہ اسے مارے ، اس نے اسے کہا اپنا نیزہ روکیں اور کمرے میں جا کر دیکھیں کہ وہ کون سی چیز ہے جس نے مجھے باہر نکلنے پر مجبور کیا ہے ، وہ داخل ہوا تو اس نے ایک بہت بڑے اژدھے کو کنڈل مارے زمین پر دیکھا تو اس نے نیزہ اس میں گھونپ دیا ، پھر وہ باہر آ گیا اور اسے گھر میں گاڑ دیا سانپ اس (نیزے) پر تڑپنے لگا ، معلوم نہیں ہو سکا کہ ان دونوں میں سے پہلے کون مرا ، سانپ یا وہ نوجوان ؟ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا اور ہم نے عرض کیا ، اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ اسے ہمارے لیے زندہ فرما دے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے ساتھی کے لیے مغفرت طلب کرو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ ان گھروں کے کچھ مکین ہیں ، جب تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو تو اسے تین بار گھر سے نکلنے پر مجبور کرو اگر وہ چلا جائے (تو ٹھیک) ورنہ اسے مار دو ، کیونکہ وہ کافر ہے ۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مدینہ میں جِن ہیں ، جو اسلام قبول کر چکے ہیں ، جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو اسے تین روز خبردار کرو ، پھر اگر اس کے بعد بھی ظاہر ہو تو اسے قتل کر دو ، کیونکہ وہ تو شیطان ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ام شریک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گرگٹ مارنے کا حکم فرمایا ، اور فرمایا :’’ وہ ابراہیم ؑ کے لیے جلائی گئی آگ بھڑکانے کے لیے پھونکیں مارتا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گرگٹ کو مارنے کا حکم فرمایا اور اس کا نام فویسق رکھا ۔ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے پہلی ضرب میں گرگٹ مار دیا تو اس کے لیے سو نیکی لکھ دی جاتی ہے ، اور دوسری چوٹ میں مارنے والے کے لیے اس سے کم اور تیسری میں اس سے کم (نیکی لکھی جاتی ہے) ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ چیونٹی نے کسی نبی ؑ کو کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کے مسکن کو جلا دینے کا حکم فرمایا تو اسے جلا دیا گیا ، اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی فرمائی کہ آپ کو ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اور آپ نے ایک ایسی جماعت کو جلا دیا جو تسبیح کرتی تھی ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب چوہیا گھی میں گر جائے ، اگر وہ جامد ہو تو اس (چوہیا) کو اور اس کے آس پاس والے گھی کو نکال کر پھینک دو ، اور اگر وہ گھی مائع حالت میں ہو تو پھر اس کے قریب نہ جاؤ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔