Back to Mishkat Al-Masabih

Game and Animals Which May Be Slaughtered

كتاب الصيد والذبائح

Chapter 19

Hadith 4144
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ سُمًّا وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً وَإِنَّهُ يُقَدِّمُ السَّمَّ وَيُؤَخِّرُ الشِّفَاءَ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
Urdu

ابوسعید خدری ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب مکھی کھانے میں گر جائے تو اسے ڈبو دیں ، کیونکہ اس کے ایک پر میں زہر ہے جبکہ دوسرے میں شفا ہے ، اور وہ زہر والے پر کو مقدم رکھتی ہے اور شفا والے پر کو مؤخر ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔

Hadith 4145
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ: النَّمْلَةِ وَالنَّحْلَةِ وَالْهُدْهُدُ وَالصُّرَدُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار جانوروں : چیونٹی ، شہد کی مکھی ، ہد ہد اور لٹورے کو مارنے سے منع فرمایا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔

Hadith 4146
sahih
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا فَبَعَثَ اللَّهُ نَبِيَّهُ وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ وَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فهوَ عفْوٌ وتَلا (قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَو دَمًا) رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، اہل جاہلیت کچھ چیزیں کھایا کرتے تھے اور کچھ چیزیں بطور کراہت چھوڑ دیا کرتے تھے ، اللہ نے اپنے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث فرمایا ، اپنی کتاب نازل فرمائی ، اس نے حلال کردہ چیزوں کو حلال اور اپنی حرام کردہ چیزوں کو حرام قرار دیا ، اس نے جن چیزوں کو حلال کیا وہ حلال ہے اور جن کو حرام کیا وہ حرام ہے ، اور جس سے خاموشی اختیار کی تو وہ قابل مؤاخذہ نہیں ، پھر ابن عباس ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ فرما دیجیے ! میری طرف جو وحی کی گئی ہے ، میں اس میں کھانے والے کے لیے جو وہ کھاتا ہے ، مردار ، بہتا ہوا خون ، خنزیر کے گوشت کے سوا کوئی اور چیز حرام نہیں پاتا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 4147
sahih
وَعَن زاهرٍ الأسلميِّ قَالَ: إِنِّي لَأُوقِدُ تَحْتَ الْقُدُورِ بِلُحُومِ الْحُمُرِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

زاہر اسلمی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منادی کرنے والے نے یہ اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع فرماتے ہیں ، میں اس وقت ہنڈیوں کے نیچے آگ جلا رہا تھا ، جن میں گدھوں کا گوشت تھا ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 4148
sahih
وَعَن أبي ثعلبةَ الخُشَنيَّ يَرْفَعُهُ: «الْجِنُّ ثَلَاثَةُ أَصْنَافٍ صِنْفٌ لَهُمْ أَجْنِحَةٌ يَطِيرُونَ فِي الْهَوَاءِ وَصِنْفٌ حَيَّاتٌ وَكِلَابٌ وَصِنْفٌ يُحلُّونَ ويظعنونَ» . رَوَاهُ فِي شرح السنَّة
Urdu

ابو ثعلبہ خشنی ؓ مرفوع روایت بیان کرتے ہیں :’’ جنوں کی تین قسمیں ہیں : ایک قسم یہ ہے کہ اس کے پر ہیں اور وہ ہوا میں اڑتے ہیں ، ایک قسم سانپوں اور کتوں کی ہے اور ایک قسم یہ ہے کہ وہ پڑاؤ ڈالتے ہیں ، اور کوچ کرتے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔

Hadith 4149
sahih
عَن سلمانَ بن عامرٍ الضَّبي قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وأمِيطوا عَنهُ الْأَذَى» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

سلمان بن عامر ضبی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ لڑکے کے پیدا ہونے پر عقیقہ ہے ، اس کی طرف سے خون بہاؤ (جانور ذبح کرو) اور اس سے تکلیف دور کرو (اس کا سر منڈاؤ اور اسے نہلاؤ) ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 4150
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّكُهُمْ. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بچے لائے جاتے تو آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے ، اور انہیں گھٹی دیتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 4151
sahih
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ قَالَتْ: فَوَلَدْتُ بِقُبَاءَ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ ثُمَّ حَنَّكَهُ ثُمَّ دَعَا لَهُ وبرك عَلَيْهِ فَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ
Urdu

اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر مکہ میں میرے پیٹ میں تھے ، انہوں نے کہا ، میں نے اسے قبا میں جنم دیا ، پھر میں اسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لائی تو میں نے اسے آپ کی گود میں رکھ دیا ، پھر آپ نے کھجور منگائی اسے چبایا اور اپنا لعاب دہن لگا کر اسے اس کے منہ میں ڈالا اور گھٹی دی ، پھر اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی ۔ اور یہ (عبداللہ بن زبیر ؓ) اسلام (ہجرت کے بعد مدینہ) میں پیدا ہونے والے پہلے بچے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 4152
sahih
عَن أُمِّ كُرْزٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا» . قَالَتْ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ وَلَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وللترمذي وَالنَّسَائِيّ من قَوْله: يَقُول: «عَن الْغُلَام» إِلَّا آخِره وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا صَحِيح
Urdu

ام کرز ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ پرندوں کو ان کی جگہوں پر رہنے دو ۔‘‘ (فال لینے کے لیے انہیں نہ اڑاؤ) انہوں نے بیان کیا ، اور میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۔ اور ان کا نر یا مادہ ہونا تمہارے لیے مضر نہیں ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ۔ اور نسائی کی روایت :’’ لڑکے کی طرف سے ....‘‘ آخر تک ہے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔

Hadith 4153
sahih
وَعَن الحسنِ عَن سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ لَكِنْ فِي رِوَايَتِهِمَا «رَهِينَةٌ» بدل «مرتهنٌ» وَفِي رِوَايَة لِأَحْمَد وَأبي دَاوُد: «وَيُدْمَى» مَكَانَ: «وَيُسَمَّى» وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَيُسَمَّى» أصحُّ
Urdu

حسن ؒ ، سمرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لڑکا اپنے عقیقے کے بدلے میں گروی ہے ، ساتویں روز اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اس کا نام رکھا جائے ، اور اس کا سر مونڈایا جائے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ۔ لیکن ان دونوں (ابوداؤد اور نسائی) کی روایت میں ((مرتھن)) کی جگہ ((رھینۃ)) کے الفاظ ہیں ۔ اور مسند احمد اور ابوداؤد کی روایت میں ((ویسمّی)) کی بجائے ((ویدمّی)) کے الفاظ ہیں ۔ اور امام ابوداؤد نے فرمایا : لفظ ((ویسمّی)) زیادہ صحیح ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 4154
sahih
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَليّ بن أبي طَالب قَالَ: عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَسَنِ بِشَاةٍ وَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ احْلِقِي رَأْسَهُ وَتَصَدَّقِي بِزِنَةِ شَعْرِهِ فِضَّةً» فَوَزَنَّاهُ فَكَانَ وَزْنُهُ دِرْهَمًا أَوْ بَعْضَ دِرْهَمٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
Urdu

محمد بن علی بن حسین ؒ ، علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حسن ؓ کی طرف سے ایک بکری ذبح کی ، اور فرمایا :’’ فاطمہ ! اس کا سر مونڈ اور اس کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کر ۔‘‘ چنانچہ ہم نے ان بالوں کا وزن لیا تو ان کا وزن ایک درہم یا درہم سے کم تھا ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اس کی سند متصل نہیں ، کیونکہ محمد بن علی بن حسین کی علی بن ابی طالب سے ملاقات ثابت نہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 4155
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ كَبْشًا كَبْشًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَعِنْدَ النَّسَائِيِّ: كبشين كبشين
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حسن اور حسین ؓ کی طرف سے ایک ایک مینڈھے سے عقیقہ کیا ۔ ابوداؤد ۔ اور نسائی کی روایت میں دو دو مینڈھوں کا ذکر ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 4156
sahih
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: «لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْعُقُوقَ» كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ وَقَالَ: «مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسِكَ عَنْهُ فَلْيَنْسِكْ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عقیقہ کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ ’’عقوق‘‘ کو پسند نہیں کرتا ۔‘‘ گویا آپ نے یہ نام ناپسند فرمایا ، اور فرمایا :’’ جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے ذبح کرنا پسند کرے تو وہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 4157
sahih
وَعَن أبي رافعٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أذَّنَ فِي أُذُنِ الحسنِ ابنِ عليٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَيْثُ حسن صَحِيح
Urdu

ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب فاطمہ ؓ نے حسن بن علی ؓ کو جنم دیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے کان میں نماز والی اذان دی ۔ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

Hadith 4158
sahih
عَن بُريدةَ قَالَ: كُنَّا فِي الْجَاهِلَيَّةِ إِذَا وُلِدَ لِأَحَدِنَا غلامٌ ذَبَحَ شاةٌ ولطَّخَ رأسَه بدمه فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ كُنَّا نَذْبَحُ الشَّاةَ يَوْمَ السَّابِعِ وَنَحْلِقُ رَأْسَهُ وَنُلَطِّخُهُ بِزَعْفَرَانٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَزَاد رزين: ونُسمِّيه
Urdu

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، دور جاہلیت میں جب ہم میں سے کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا تو وہ بکری ذبح کرتا اور اس کے سر پر اس کا خون لگاتا ، اور جب اسلام کا ظہور ہوا تو ہم ساتویں روز بکری ذبح کرتے اور اس کا سر مونڈتے اور زعفران لگاتے تھے ۔ ابوداؤد ۔ اور رزین نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : اور ہم اس کا نام رکھتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و رزین ۔