ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، اس اثنا میں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گفتگو فرما رہے تھے کہ اچانک ایک اعرابی آیا تو اس نے عرض کیا : قیامت کب آئے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب امانت ضائع ہو جائے تو پھر قیامت کا انتظار کر ۔‘‘ اس نے عرض کیا : اس کا ضائع کرنا کیسے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو پھر قیامت کا انتظار کر ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ مال زیادہ ہو جائے گا اور اس کی خوب ریل پیل ہو گی کہ آدمی اپنی زکوۃ کا مال لے کر نکلے گا لیکن اسے وصول کرنے والا کوئی نہیں ملے گا اور حتیٰ کہ سر زمین عرب سرسبز و شاداب اور بہتی نہروں والی وادی بن جائے گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ مسلم ہی کی ایک دوسری روایت میں فرمایا :’’ مدینہ کی آبادی اہاب یا یہاب تک پہنچ جائے گی ۔‘‘
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آخری زمانے میں ایک خلیفہ ہو گا ، وہ مال تقسیم کرے گا ، اور اسے گنے گا نہیں ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے ، فرمایا :’’ میری امت کے آخر پر ایک خلیفہ ہو گا جو چلو بھر بھر کر مال دے گا اور وہ اسے گن گن کر نہیں دے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قریب ہے کہ فرات اپنے سونے کے خزانے ظاہر کر دے ، اس وقت جو موجود ہو وہ اس سے کچھ نہ لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ فرات سے سونے کا پہاڑ ظاہر کر دیا جائے گا ، لوگ اس پر جھگڑیں گے تو ہر سو میں سے ننانوے قتل کر دیے جائیں گے اور ان میں سے ہر شخص کہے گا : میں امید کرتا ہوں کہ وہ نجات پانے والا میں ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ زمین سونے چاندی کے ستونوں کے مانند اپنے خزانے اُگل دے گی تو قاتل آئے گا اور (افسوس کے ساتھ) کہے گا ، میں نے اس وجہ سے قتل کیا تھا ، قطع رحمی کرنے والا آئے گا تو وہ کہے گا میں نے اس کی خاطر اپنے رشتے داروں سے ناتے توڑے ، چور آئے گا اور کہے گا : اس وجہ سے میرا ہاتھ کاٹ دیا گیا ، پھر وہ اسے چھوڑ جائیں گے اور وہ اس میں سے کچھ بھی نہیں لیں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ آدمی قبر کے پاس سے گزرے گا تو وہ اس پر لوٹ پوٹ ہو گا (لیٹے گا)، اور کہے گا : کاش کہ اس قبر والے کی جگہ میں ہوتا ، اور وہ یہ بات دین کی وجہ سے نہیں بلکہ فتنوں اور آزمائشوں کی وجہ سے کہے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ سر زمین حجاز سے آگ نکلے گی اور وہ بصریٰ (شام کا ایک شہر) میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ علامات قیامت میں سے پہلی نشانی آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف جمع کر دے گی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ زمانہ قریب آ جائے گا تو سال مہینے کی طرح ، مہینہ جمعے (سات دن) کی طرح ، جمعہ (یعنی ہفتہ) دن کی طرح ، دن گھنٹے کی طرح اور گھنٹہ آگ کے شعلے کی طرح ہو گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن حوالہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے پیدل بھیجا ، ہم مال غنیمت حاصل کیے بغیر واپس آئے اور آپ نے ہمارے چہروں پر مشقت کے آثار دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطاب فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے اور دعا فرمائی :’’ اے اللہ ! انہیں میرے سپرد نہ کر ، میں ان سے زیادہ ضعیف ہوں گا ، انہیں ان کی جانوں کے سپرد نہ کر وہ اس سے عاجز آ جائیں گے اور انہیں لوگوں کے حوالے نہ کر وہ اپنے آپ کو ان پر ترجیح دیں گے ۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا ، اور فرمایا :’’ ابن حوالہ ! جب تم دیکھو کہ خلافت ارض مقدس (ملک شام) منتقل ہو گئی ہے تو پھر (سمجھ لینا) زلزلے ، غم اور علامات قیامت قریب آ چکی ہیں ، اور اس وقت قیامت لوگوں کے اس قدر قریب ہو گی جس قدر میرا ہاتھ تیرے سر کے قریب ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، اور اس کی سند حسن ہے ، اور حاکم نے اسے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب مالِ فے / مالِ غنیمت کو دولت ، امانت کو مال غنیمت اور زکوۃ کو تاوان سمجھا جائے ، علم دینی مقاصد کے علاوہ دنیوی مقاصد کے لیے حاصل کیا جائے ، آدمی اپنی اہلیہ کا اطاعت گزار بن جائے اور اپنی والدہ کی نافرمانی کرے ، وہ اپنے دوست کو مقرب بنائے اور اپنے والد کو دور رکھے ، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں ، قبیلے کا سب سے زیادہ احمق شخص قبیلے کا سردار بن جائے ، قوم کا ذمہ دار و منتظم ان کا سب سے زیادہ رذیل شخص ہو ، آدمی کی اس کے شر کے خوف کی وجہ سے عزت کی جائے ، گانے والیاں اور آلاتِ موسیقی عام ہو جائیں ، شراب نوشی کی جائے ، اور اس امت کے بعد والے لوگ اپنے پہلے لوگوں (یعنی سلف) پر لعن و طعن کریں تو اس وقت تم سرخ آندھیوں ، زلزلوں ، زمین میں دھنسنے ، چہروں کے مسخ ہو جانے ، آسمان سے پتھر برسنے اور دیگر نشانیوں کے اس طرح مسلسل آنے کا انتظار کرو جس طرح ہار کی ڈوری ٹوٹ جائے تو پھر موتی لگاتار گرتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب میری امت پندرہ (برے) کام کرے گی تو اس پر بلا نازل ہو گی ، آپ نے وہ کام شمار کیے لیکن علی ؓ نے یہ ذکر نہیں کیا کہ ’’ علم دینی مقاصد کے علاوہ حاصل کیا جائے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ اپنے دوست سے حسن سلوک کرے گا اور والد سے جفا کرے گا ۔‘‘ اور فرمایا :’’ شراب نوشی کی جائے اور ریشم پہنا جائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دنیا ختم نہیں ہو گی حتیٰ کہ میرے اہل بیت سے میرا ہم نام شخص عربوں کا بادشاہ بن جائے گا ۔‘‘ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے فرمایا :’’ اگر دنیا کا صرف ایک ہی دن باقی رہ گیا تو اللہ اس دن کو لمبا کرے گا حتیٰ کہ اللہ اس میں میرے اہل بیت سے ایک آدمی بھیجے گا جس کا نام میرے نام جیسا اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام جیسا ہو گا ، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ مہدی میری عترت ، فاطمہ ؓ کی اولاد سے ہو گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مہدی میری اولاد سے ہوں گے ، جو کہ کشادہ پیشانی اور بلند ناک والے ہوں گے ، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی ، وہ سات سال حکومت کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوسعید خدری ؓ مہدی کے قصے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آدمی اس کے پاس آئے گا تو وہ کہے گا : مہدی ! مجھے عطا کرو ، مجھے عطا کرو ، فرمایا : وہ اس کے کپڑے کو بھر دیں گے اور وہ شخص اسے اٹھانے سے قاصر رہے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ام سلمہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بادشاہ کی موت کے وقت اختلاف ہو جائے گا ، اہل مدینہ سے ایک آدمی نکل کر مکہ کی طرف بھاگ کھڑا ہو گا ، اہل مکہ سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے تو وہ اسے (اس کے گھر سے) باہر لائیں گے ، وہ ناپسند کرتا ہو گا ، لیکن وہ رکن (حجرِ اسود) اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کی بیعت کریں گے ، شام کی طرف سے (اس سے لڑنے کے لیے) اس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جائے گا ، لیکن اس لشکر کو مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیداء پر دھنسا دیا جائے گا ، جب لوگ یہ صورتِ حال دیکھیں گے تو شام کے ابدال (عبادت گزار) اور اعراق کے بہترین اشخاص اس کے پاس آئیں گے تو وہ اس کی بیعت کر لیں گے ، پھر قریش سے ایک آدمی ظاہر ہو گا جس کے ننہال کلب قبیلے سے ہوں گے ، وہ (کلبی) ان (بیعت کرنے والوں) کی طرف ایک لشکر بھیجیں گے تو وہ (بیعت کرنے والے) ان پر غالب آ جائیں گے ، اور یہ کلب کا لشکر ہو گا ، اور وہ (مہدی) ان میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق عمل کریں گے ، اسلام زمین پر ثابت و قائم ہو جائے گا ، وہ سات سال رہیں گے ، پھر وفات پا جائیں گے ، اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بلا کا ذکر کیا جو اس امت کو پہنچے گی ، حتیٰ کہ کوئی بھی آدمی ظلم سے کوئی جائے پناہ نہیں پائے گا ، اللہ میری اولاد اور میرے اہل بیت سے ایک آدمی مبعوث فرمائے گا ، اور اس کے ذریعے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح یہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی ، آسمان کے رہنے والے اور زمین کے باسی اس سے راضی ہو جائیں گے ۔ آسمان موسلا دھار بارش برسائے گا اور زمین اپنی تمام نباتات اگا دے گی حتیٰ کہ زندہ افراد فوت شدہ افراد کی زندگیوں کی خواہش کریں گے (کہ کاش وہ بھی زندہ ہوتے) وہ (مہدی) اس حالت (عدل و انصاف) میں سات ، آٹھ یا نو سال زندہ رہیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الحاکم ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وراء النہر سے حارث نامی شخص کا ظہور ہو گا ، وہ کھیتی کرنے والا ہو گا ، اس کے اول دستے پر منصور نامی شخص ہو گا ، وہ آلِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جگہ اور اختیار و اقتدار دے گا جس طرح قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اقتدار و اختیار دیا ، اس کی مدد کرنا یا اس کی بات ماننا ہر مومن پر واجب ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔